اہم خبریں

عدالت سے فیصلے اب قانون کے مطابق نہیں آرہے ہیں، پانچ ایکڑ زمین کا تعلق سنی وقف بورڈ سے ہے: مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی

نئی دہلی: (ملت ٹائمز) اجودھیا تنازع سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ پر ملت ٹائمز سے بات کرتے ہوئے معروف عالم دین اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ کی مجلس عاملہ کے رکن مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہاکہ فیصلہ قانون اور آئین کے مطابق نہیں ہے ۔ یہ باہری دباؤ اور آستھا کی بنیاد پر ہے ۔ بابری مسجد ۔ رام مندر تناز ع کا فیصلہ سناتے ہوئے جس طرح عدلیہ نے ثبوت وشواہد کو نظر انداز کرکے بابری مسجدکی زمین رام مندر کی تعمیرکیلئے سونپ دی ہے وہ ایک بدنماداغ ہے اور واضح ہوگیاہے کہ اب عدلیہ بھی آزادنہیں ہے ۔
ایک سوال کے جواب میں مولانا نعمانی نے کہاکہ پانچ ایکڑ زمین کا تعلق سنی وقف بورڈ سے ہے ۔ سپریم کورٹ نے اسی کو دینے کا فیصلہ کیاہے ،اس لئے سنی وقف بوڈر کے اختیار میں ہے کہ وہ اسے قبول کرے یا مسترد کردے ،دوسرے لوگ کچھ نہیں کرسکتے ہیںالبتہ بہتر یہی ہوگا کہ سنی وقف بورڈ اس زمین کو قبول نہ کرے ۔ ریوویوپٹیشن کے بارے میں مولانا نعمانی نے کہاکہ 17نومبر کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہورہاہے جہاں یہ فیصلہ ہوناہے تاہم میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ریوویو پٹیشن کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہاہے کیوں کہ ان دنوں فیصلے قانون اور آئین کے مطابق نہیں آرہے ہیں اور اب عدلیہ سے کسی بھی طرح کے انصاف کی امید نہیں رہ گئی ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: