اہم خبریں

عدالت کے سہارے صدائے حق دبانے کی کوشش

زین العابدین ندوی دارالعلوم امام ربانی ، نیرل ۔ مہاراشٹر

آپ اس بات سے اندازہ لگایئے کہ حکومت کس قدر ہٹ دھرمی پر آمادہ ہے ،کہ وہ اپنے ناجائز فیصلہ کو نافذ کرنے کے لئے عدالت کا سہارا لیتے ہوئے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے ، اور ملک کے باوقار چیف جسٹس یہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے یہ مظاہرے بند کریں پھر کورٹ میں داخل عرضیوں پر سماعت ہو سکے گی ، اگر توہین عدالت نہ ہو تو یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ عدلیہ کا کام انصاف کا ساتھ دیتے ہوئے امن کی فضا ہموار کرنا ہے ، ناکہ ظلم کی حمایت کرتے ہوئے بے ایمانوں کا ساتھ دینا، حکومت کے ترکش کایہ آخر ی تیر ہے جسے وہ اس سے پہلے دوسرے معاملات میں چلا کر کامیابی حاصل کر چکی ہے ۔
عدلیہ کسی بھی ملک کا وہ مضبوط ستون ہوا کرتا ہے جس کے سامنے بڑے سے بڑے سپر پاور کو بھی سلنڈر ہونا پڑتا ہے ، اور ایسا بارہا دیکھا جاچکا ہے جس کے فیصلہ کی وجہ سے امت شاہ جی کو جیل کی ہوا کھانی پڑی ، لیکن چیف جسٹس کے حالیہ بیان سے عدالت کے کردار پر حرف آتا دکھائی دے رہا ہے ، ظلم وزیادتی کے خلاف خاص طور پر جب کہ ملک کا آئین خطرات سے وچار ہو رہا ہو تو ایسی صورتحال میں لوگوں کا احتجاج کرنا نہ صرف یہ کہ ضروری بلکہ ان کا فرض ہوتا ہے ، اور چیف جسٹس کا لوگوں سے اپنے حق سے دستبردار ہو جانے کا اعلان کہیں نہ کہیں تشویش کا سبب بنتا دکھائی دے رہا ہے، سوال یہ ہے کہ جسٹس بوگڑے صاحب کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ، ان مظاہروں اور احتجاجات کا آخر فیصلہ سے کیا تعلق ہے ؟ جب کہ اس سے پہلے بابری مسجد کے مسئلہ میں عدالت کے غیر منصفانہ فیصلہ کے بعد بھی عوام نے کوئی احتجاج نہیں کیا اور امن وشانتی کا ماحول بنائے رکھا ۔
بھارت واسیوں کو عدالت پر بھروسہ ہے اور وہ عدلیہ کے فیصلوں کا احترام بھی کرتے ہیں ، لیکن احترام کے یہ معانی بالکل نہیں کہ عدالت دن کو رات کہے تو ہم رات مان لیں اور رات کو دن کہے تو بلا سوچے سمجھے دن مان لیں ، اور عدلیہ کا وقار اسی وقت تک ملحوظ بھی رکھا جا سکتا ہے جب تک وہ خود عدل پر قائم ہو اور انصاف کی بولی بولتا ہو ، بصورت دیگر ایسے ایوان کو عدالت کہنا ہی مناسب نہیں ، کہیں ایسا تو نہیں کہ عدالت کی کاروائیاں بھی کسی غیر کے اشارہ پر انجام پا رہی ہیں ؟ اگر خدانخواستہ ایسا ہے تو ملک کو خانہ جنگی سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی ، عدالت تو وہ جگہ ہوتی ہے جہاں سے انصاف کے چشمے ابلتے ہیں ، مظلوموں کی مدد کی جاتی ہے اور ظالموں کا سرقلم کیا جاتا ہے ، لیکن اگر انصاف خانہ میں ہی ظلم کی کتاب لکھی جائے گی تو آپ ہی فیصلہ کریں ملک کی تصویر کیا ہوگی ؟ اور اس ملک میں بسنے والوں کی ذہنیت کا کیا عالم ہوگا ؟
عدالت میں عرضیاں داخل کیوں کی جاتی ہیں ؟ کیا اس لئے کہ ہمارے منہ بند کر دیئے جائیں ؟ ہمارے ہاتھ باندھ دیئے جائیں ؟ اور ہمیں ہمارے حق سے دستبردار ہو جانے کی اپیل کی جائے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر عرضیوں کی سماعت کے لئے احتجاجات بند کرنے کی بات کے کیا معنی ہیں ؟ عدالت کا کام یہ ہے کہ وہ حق اور ناحق کے درمیان منصفانہ فیصلہ کرے ، اگر ہم غلط ہیں تو ہمارے خلاف اور اگر ہم درست موقف پر ہیں تو ہمارے موافق غیر جانبدارانہ فیصلہ صادر کرے ، ورنہ موجووہ حکومت اور باوقار عدلیہ کے درمیان کیا فرق باقی رہے گا ؟ حکومت ہم سے ڈنڈوں لاٹھیوں اور گولیوں کے زور پر احتجاج بند کرنے کی بات کرتی ہے اور عدالت بھی اپنے وقار اور علو مرتبت کی بدولت احتجاج نہ کرنے کی اپیل کرے تو کیا فرق باقی رہا ؟ کان تو پکڑا ہی گیا خواہ آگے سے ہو یا پیچھے سے ، اس لئے عدالت اور اصحاب عدالت سے ہماری اپیل ہے کہ آپ بھارت کو مشکل خطرات سے نکالنے کا کام کیجئے ، اور آئین ہند اور بھارتیہ تہذیب کا خیال کیجئے ، اور حق کی صدا لگانے والوں کی حمایت کیجئے اور ظالم کو اس کے ظلم سے باز آنے کا فیصلہ صادر کیجئے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: