زبان و ادب

عربی شاعری کے تنقیدی رجحانات

مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ وجھارکھنڈ، پھلواری شریف، پٹنہ

=========================================================نقد کے معنی عربی میں اظہار عیوب اور نقائص اور ’’ تمییز الجید من الردی‘‘ کے آتے ہیں ، اس اعتبار سے دیکھیں تو نقد ذم کے ساتھ خاص ہے ۔ بخلاف تقریظ اور مدح کے ، لیکن ادبا کی اصطلاح میں ادب وشعر کی توضیح وتشریح اس انداز میں کرنا کہ ادبی شہ پارے غیر ادبی تخلیقات سے ممیز وممتاز ہوجائیں اور ان تشریحات کی روشنی میں ان پرمعیاری اورغیر معیاری ادب کا حکم لگایا جا سکے تنقید کہلاتا ہے ، اسی لیے توضیح وتشریح اور نقد میں فنی ، موضوعی اور دیگر خصائص حسن وعیب کا ذکر کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے ۔ اردو میں عام طور پر نقد کے لیے تنقید کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے ، جس کا ماخذ یونانی لفظ (CRITICISM) ہے ، جس کے معنی فیصلہ کرنے کے ہیں۔
تنقید کا یہ عمل تخلیق کو سنوارنے اور تخلیقی جوہر کو نکھارنے کے لیے ضروری ہے ، اسی لیے نقادوں کا خیال ہے کہ عظیم تخلیقات، ممتاز تنقیدی شعور کے بغیروجود پذیر نہیں ہو سکتیں، تخلیق کار کا تنقیدی شعور جتنا بالیدہ ہوگا، تخلیقی شعور اسی قدر وسعت اور گہرائی لیے ہوئے ہوگا، واقعہ یہ ہے کہ تنقیدی شعور کے بغیر تخلیقی سوتے خشک ہوجاتے ہیں اور ادب فکر واظہار کی سطح پر آگے نہیں بڑھ پاتا ، ایسے میں ادیب پرانی فکر ، پرانی روایت کے گرد گردش کرتا رہتا ہے ، ایسا ادب پر کشش نہیں ہوتا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پرانی چیزیں نقل کی جا رہی ہیں ۔
عربی شاعری اس لئے معیاری ہے کہ عرب شعراء کے یہاں تخلیقی شعور کے ساتھ تنقیدی شعور بھی پورے طور پر موجود ہے ،البتہ عہد جاہلیت میں تنقید کے جو رجحانات ملتے ہیں ، ان میں شعراء کے اقوال اور ذوق کو بنیادی حیثیت حاصل تھی اس کے لیے نہ کوئی اصول مقررتھا اور نہ ہی متعین تنقیدی پیمانے، شعراء کے درمیان برتری کی جو جنگ جاری رہتی تھی ، اس میں ایک دوسرے کی خامیوں پر رائے زنی کی جاتی تھی ، کبھی اس رائے زنی میں فنی نقائص وعیوب بھی سامنے آجاتے تھے ، لیکن عموما بس اقوال ہی ہوتے تھے اور قاری وسامع کی پسند، نا پسند ہی معیاری اور غیر معیاری تخلیق کے لیے کافی ہوا کرتی تھی، ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس دور میں تنقید کا پیمانہ صرف ذوق تھا ، کبھی دوسرے عیوب بھی بنیاد بنتے تھے ، لیکن ان کی حیثیت شاذ تھی۔
عصر جاہلی میں اس کا م کے لئے سوق عکاظ میں باضابطہ سرخ رنگ کاخیمہ نصب ہوتا، نابغہ ذبیانی فیصل ہوتا، شعراء آتے اور اپنا کلام سنا جاتے، نابغہ اس پر رائے زنی کرتا ، اور اپنا فیصلہ سناتا ، ایک بار اعشیٰ میمون اور حسان بن ثابت نے بھی اس خیمے میں اپنا کلام پیش کیا ، نابغہ نے اعشیٰ کے اشعار کو سراہا اور حسانؓ بن ثابت کے بارے میں کہا کہ اگر اعشیٰ کا کلام میرے سامنے نہ آتا تو میںتمہارے بارے میں جن وانس کے بڑے شاعر ہونے کا اعلان کرتا، حضرت حسانؓ کو غصہ آگیا اور فرمایا میں تم سے اور تمہارے باپ سے بڑا شاعر ہوں ، نابغہ نے کلام کی فنی خوبیوں اور خامیوں پر بات نہیں کی ، صرف اتنا کہا کہ تم اعشیٰ کے اس شعر کے مقابل شعر نہیں کہہ سکتے ۔
فاِنَّکَ کَاللیلِ المُذیِ ھُو مُدْرِکِی
واِنْ ظَنَنْتَ اَن المُتَنائی عَینُکَ وَاسع
اسی طرح ایک موقع سے امرؤ القیس اور علقمہ بن عبدہ دونوں بڑے شاعر ہونے کے دعوے دار تھے ،حَکم امرؤ القیس کی بیوی ام جندب کو بنایا گیا ، ام جندب کی تجویز پر دونوں نے گھوڑے کی تعریف میں قصیدہ کہا۔ امرؤ القیس کے قصیدہ کا مطلع تھا ۔
خَلِیْلِی مَرابی علیٰ اُمّ جُنْدُبِ
نَقْضِی لِبانات الفُوأدِ المُعَذّبِ
علقمہ بن عبدہ التمیمی نے اسی قافیہ وردیف میں قصیدہ کہا ، جس کا مطلع تھا:
ذَھَبْتُ مِنَ الھِجْرَانِ فِی غَیْرِ مَذْھبِ
وَلَمْ یَکُ حَقاً کُلَّ ھٰذا التجّنبِ
ام جندب نے فیصلہ دیا کہ علقمہ بڑا شاعر ہے ، اس لیے کہ امرؤ القیس گھوڑے کو مارمار کر بھگاتا ہے اور علقمہ کی فکر میں گھوڑا ہوا کی طرح بھاگتا ہے۔ ام جندب نے جس شعرکی بنیاد پر علقمہ کو بڑا کہا وہ درج ذیل ہے۔
فِلِسوطِ الھوب وللسَاقِ دُرَّۃُ ٗ
ولِلزجر منہ وقعُٗ اخرج مِنعَبِ
فاَدْرَکَھُنَّ ثَانِیاً مِن عِنانِہِ
یَمُرّ کَمُرّ الرائحِ المُتَحَلِّبِ
ظاہر ہے یہ تنقید فنی نہیں، فکری ہے، حالانکہ ادبی تنقید میں فیصلہ کرتے وقت فکر وفن دونوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے ، لیکن عہد جاہلیت کے تنقیدی نمونے ہمیں اس سے خالی نظر آتے ہیں ۔
جاہلی شعراء میں زہیر بن سلمیٰ حضرت عمرؓ کی نظر میں اس لیے ممتاز تھا کہ وہ اپنے مدحیہ اشعار میں مبالغہ سے گریز کرتا تھا اور واقعتا جو اوصاف ممدوح میں ہوتے اسی کا ذکر کرتا ، حضرت عمر ؓ کے نزدیک اس کے ممتاز ہونے کی ایک وجہ اس کے کلام کی روانی بھی تھی ۔ فرمایا :

’’اِنَّہ اَشْعَرُ الشُّعَرَائِ لِانّہُ کَانَ لَا یُعاظِلُ فِی الکَلَامِ وَکَانَ یتجّنب وَحْشِیَ الشِعْرِ وَلَمْ یَمْدَحُ اَحداً الا بِمَا ھُو فیہ۔
اس دور میں جو تنقیدیں کی گئیں ان میں بعض اتنی مبہم ہیں کہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ مثلا ربیعہ الحذار الاسدی زبرقان کے اشعار پر تنقید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تمہارے اشعار گرم گوشت کی طرح نیم پختہ اور نیم خام ہیں ، نہ پورا پک سکا کہ اسے کھا لیا جائے اور نہ کچا ہی ہے کہ کسی دوسرے کام میں لایا جا سکے ۔
شِعْرُکَ کُلھُمْ لَمْ یَنْضَجْ فَیُوْکَلْ وَلَا تَرَکَ نیئاً فَیَنْتَفَعُ
ابن عبدہ کے اشعار کو وہ ایک ایسے گھڑے کی طرح قرار دیتا ہے ، جس کا ڈھکن اتنی مضبوطی سے بند ہے کہ پانی کا کوئی قطرہ بھی اس سے باہر نہیں آسکتا ۔
تنقید کے متعین پیمانے نہ ہونے کے با وجود واقعہ یہ ہے کہ دو ر جاہلی کی شاعری فن کی پختگی کے اعتبارسے اعلیٰ شاعری کی بہترین مثال ہے ، فنی اعتبار سے یہ دور فکر کی بلندی ، منظر کشی اور فنی اعتبار سے بام عرج پر پہونچا ہوا نظر آتا ہے، طہٰ حسین کو یقین نہیں آتا کہ تنقیدی پیمانے نہ ہونے کے باوجود عرب ایسی شاعری کس طرح کرتے تھے، چنانچہ ان کا خیال ہے کہ جاہلی قصائد اکثر بعد کے گڑھے ہوئے ہیں۔
دور جاہلیت کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ شعراء کے نام ان کی شاعری کی خصوصیات کے اعتبار سے رکھتے تھے ، مہلہل بن ربعہ اس لیے مہلہل تھا کہ اس کی شاعری میں لطافت کا عنصر غالب تھا اور غریب ونامانوس الفاظ سے اجتناب کرتا تھا ، ھلھلہ کے معنی کپڑے کے باریک بُننے کے آتے ہیں ، اس لیے اس مناسبت سے وہ مہلہل کہلایا، نابغہ نے اشعار کی فصاحت کی وجہ سے نابغہ نام پایا ، مثالوں کی کثرت کی وجہ سے کعب غنوی ، ’’کعب الامثال‘‘ ہو گیا ، اور گھوڑے کی تعریف کے غلبہ نے طفیل غنوی کو ’’طفیل الخیل‘‘ بنادیا ، اوباش رندبلا نوش اور شاہی خاندان سے تعلق کی وجہ سے امرؤ القیس،’’ الملک الضلیل‘‘ ہو گیا ۔
دور جاہلیت میں تنقیدی پیمانے نہ ہونے کے باوجود تنقیدی شعور بہت پختہ تھا، اسی وجہ سے وہ الفاظ کے غلط استعمال ، قافیہ کے حسن وقبح کو فورا پکڑتے تھے ، مشہور شاعر طرفہ نے مسیب بن علس کے ایک شعر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اونٹ کی اونٹنی بنادیا ، معاملہ صرف یہ تھا کہ اس نے اونٹ کی صفت کے طور پر’’ صعیدیہ‘‘ کا لفظ استعمال کر لیا تھا ۔
اسی طرح نابغہ نے ایک شعر میں ’’ الاسود‘‘ کے قافیہ کے ساتھ ’’بالید‘‘ باندھا تھا ، جس میں ایک پرپیش تھا اور دوسرے پر زیر ، عربی تنقید کے اعتبار سے یہ اقواء تھا جو مناسب نہیں سمجھا جاتا ہے ، چنانچہ جب مدینہ میں ایک لڑکی نے اسے سنایا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اس واقعہ کو وہ اتنی اہمیت دیتا تھا کہ کہنے لگا : میں مدینہ سے پلٹا تو سب سے بڑا شاعر تھا۔
اس پورے دور کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ نثر میں تنقید کا وجود نہیں ہے ، ساری توجہ فخروحماسے ، معلقات ، قصائد، تمثیلی ، غنائی اور قصصی اشعار پر مرکوز رہی ، نثر قابل اعتنا نہیں تھا ۔ جنسی غزل جسے نسیب اور تشبیب بھی کہا جاتا ہے پر زور صرف کیا جاتا رہا، جو جاہلی معاشرے کی عکاس اورشعراء کے ذاتی جذبات واحساسات کی ترجمان ہوتے ، اس دور کے نامور شعرامیں امرؤ القیس ، عنترہ بن شداد ، مہلہل بن ربیعہ تغلبی، عمر و بن کلثوم تغلبی، طرفہ بن العبد ، لبید بن ربیعہ، درید بن الصمۃ ، اعشی، لبید ، طفیل الغنوی، اوس بن حجر، ابو داؤد الایادنی، خنسائ، جلیلہ، سعدی بن الشمرول، شبامہ بن غدیر، مسیب بن علس ، اوس بن حجر ، زہیر بن ابی سلمہ ، نابغہ ذبیانی، عروۃ بن الورد، مرقش الاکبر، امیہ بن ابی الصلت کے نام لیے جا سکتے ہیں ، یہ مختلف اصناف سخن کے نامور شعراء ہیں
دور جاہلی کا اختتام طلوع اسلام سے ہوتا ہے ، اسلام نے زندگی گذارنے کے لیے جو صالح قدریں فراہم کیں ، وہ زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہیں ، ادب وشاعری اور تنقید کے بھی اس نے اصول دنیا کو دیے ، قرآن کریم میں شعراء کے سلسلے میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :
وَالشُعْرَائُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاؤوْن ۔ اَلَمْ تَرَ اَنَّھُمْ فِیْ کُلِّ وَادٍ یَّھَیْمُوْن۔ وَاَنَّھُمْ یَقُوْلَوْنَ مَا لَا یَفْعَلُوْن (الشعرائ: ۲۳۶۔۲۳۴)
شاعروں کی پیروی وہ کرتے ہیں جو بہکے ہوئے ہوں ،کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ایک ایک بیابان میں سر ٹکراتے پھرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں۔
علامہ جار اللہ زمخشری اپنی مشہور ومعروف تفسیر کشاف میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وَمَعْنَاہُ اَنْ لَا یَتَّبِعَھُمْ عَلیٰ بَاطِلِھِمْ وَکِذْبِھِمْ وَفُضُوْلِ قَوْلِھِمْ وَمَا ھُم عَلَیْہِ مِنَ الھجاء ومَزِیْق الاَعْراض وَالْقَدْحِ فِیْ الاَنْسابِ وَمَدْحِ مَنْ لَا یَسْتَحِقُّ المَدْحَ وَلَا یَسْتَحْسِنُ ذَلکَ مِنْھُمْ وَلَا یَطْرَب عَلی قَوْلِھم اِلا الغاؤوُن۔ (ص۲؍۱۳۵)

’’اس کے معنی یہ ہیں کہ شعراء کی باطل گوئی ، کذب بیانی ، فضول گوئی ، ہجو، آبروریزی ، نسب میں عیب جوئی ، نا اہل کی مدح وغیرہ میں ان کی اتباع اور اسے مستحسن صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں ؛جو بہکے ہوئے ہیں ۔‘‘
ادب وشاعری میں ان خرابیوں کی وجہ سے ہی بقول حضرت عائشہ ؓ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک یہ ابغض الحدیث تھا ، مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ پیٹ کا پیپ سے بھر جانا بہتر ہے اس بات سے کہ تمہارا پیٹ شعر سے بھر جائے ۔(لِان یَّمْلِی جَوْفَ اَحَدِکُمْ قیحا خَیْرُ لَّہُ مِنْ اَن یَّمْتَلِی شِعْرا) مسند احمد کی ایک روایت میں جس کے اسناد پر محدثین نے کلام کیا ہے ، یہ بھی ہے کہ جس نے عشاء کے بعد شعر گوئی کی اس کی اس رات کی نماز قبول نہیں ہوتی ’’وَمَنْ قَرَضَ بَیْتَ شِعْرِ بَعْدَ العِشَاء لَمْ تُقْبَلْ صَلوٰۃُ تِلْکَ اللَّیْلَۃِ‘‘ اور اسی وجہ سے قرآن کریم نے نبی کے شایان شان شاعری کو نہیں قرار دیا ۔ وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہُ (یٰسین) ہم نے ان کو نہ شعر سکھایا اور نہ یہ ان کے لیے مناسب ہے۔
خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع سے ارشاد فرمایا نہ میں شاعر ہوں اور نہ ہی مجھے یہ زیب دیتا ۔ (اِنِّی لستُ بِشَاعِرٍ وَلَا یَنْبَغِی لِی)
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سارا ادبی وشعری سرمایہ اور ساری تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں اسلام کے منافی ہیں ، قرآن کریم نے شعراء کی مذمت کے معا بعد ان شعراء کا استثناء کیا ہے جو ان صفات سے مزین نہیں ہیں ، بلکہ وہ اللہ کو یاد کرنے والے اور ایمان وعمل صالح کی صفت سے مزین ہیں اور وہ ادب وشعر کا استعمال مظلومی کے بعد انتقام کے لیے کرتے ہیں ۔
اِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَکَرُو اللّٰہَ کَثِیْراوَّانْتَصَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا (الشعرائ:۲۳۷)
سوائے ان کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا اور اپنی مظلومی کے بعد انتقام لیا ۔
علامہ جار اللہ زمخشری لکھتے ہیں:
اُسْتُثْنَی الشُعَرَاء المؤمنون الصالحون الَّذِیْنَ یَکْثُرُوْنَ ذِکْرَ اللہِ وَتِلَاوَۃَ الْقُرْآنِ وَکَان ذالک اَغْلَبَ عَلَیْھِمْ مِنَ الشِّعْرِ وَاِذَا قَالُوْ شِعْراً
ان مؤمینین صالحین شعراء کو مستثنیٰ قرار دیا گیا جو بکثرت اللہ کا ذکر اور تلاوت کرتے ہیں ، اور یہ چیز ان کے اوپر شعر کے مقابلے
قَالُوْہ فِیْ تَوحِیْدِ اللہ وَالثنائِ عَلَیْہِ وَالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ وَالزُھْدِ وَالأدابِ الحَسَنَۃِ وَصُلَحَائِ الْاُمَّۃِ وَمَا لا باْسَ بِہِ مِنَ المَعَانِی الَّتی لَا یَتَلَطّخُوْنَ فِیْھَا بِذَنْبٍ وَلَا یَتَلبّسُوْنَ بِشَائِنَۃٍ وَلَامَنْقَصَۃٍ وَکَانَ ھِجَاؤھُم عَلیٰ سَبِیْل الانتصارِ مِمَّنْ یَھجُو ھُمْ (کشاف۳؍۱۴۵)
میں غالب رہتی ہے اور جب وہ کوئی شعر کہتے ہیں تو وہ توحید الٰہی ، اس کی ثنا، حکمت وموعظت دنیا سے بے رغبتی، آداب حسنہ ، صحابہ ، صلحاء امت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں کہتے ہیں اور ایسا شعر کہتے ہیں ،جس میں گناہ کی آمیزش نہیں ہوتی اور نہ ہجو اور مذمت کا شائبہ ہوتا ہے اور ان کے ہجو کے اشعار ان لوگوں سے انتقام کے طور پر ہوتے ہیں۔
ان خصوصیات کے ساتھ جو اشعار کہے جاتے ہیں اس کے بارے میں آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ زبان کا جہاد ان کے قلوب کو نیزوں کی طرح چھلنی کرتا ہے۔
وَالّذی نَفْسِی بِیَدِہِ لَکَانَ مَا تَرمُونَھُم بِہ نَضْح النُبُلِ
قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے کہ زبان کا جہاد ان کے قلوب کو نیزوں کی طرح چھلنی کرتا ہے۔
ایک اور موقع سے ارشاد فرمایا :
خَلِّ عَنْہ یَا عُمَرُ! فَھِیَ اُسْرَعُ مخصومٍ مِن نُضُحِ النُبُلِ
عمر! اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ نیزہ کے زخم سے زیادہ سریع الاثر ہے۔
ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی ہجو کا حکم دیا اور فرمایا :
اُھجو قریشَا ، فَاِنّہ اَشَدُّ عَلَیْھِمْ مِنْ رَشْقِ النُبُلِ۔
قریش کی ہجو کرو اس لیے کہ یہ ان کے لیے نیزے کے زخم سے زیادہ سخت ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّ مِنَ الْبَیَانِ سِحْرَا۔ وَاِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِکْمَۃً۔
بے شک بعض بیان جادو کا اثر رکھتا ہے اور بعض شعر پر از حکمت ہوتا ہے۔
ان روایات واحادیث سے شعر کی تاثیر اور غیر معمولی اثر کا پتہ چلتا ہے ، اور اس کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تنقید میں اس کی توضیح ہونی چاہیے کہ اس ادب نے سماج کو کس قدر متاثر کیا اور اس کے کس قدر دور رس اثرات مرتب ہوئے۔
عہد اسلامی اور عہد نبوی میں شاعری کا زور تھا ، قصے اور مسامرۃ کی مجلسیں بھی منعقد ہوتی تھیں ، مرثیہ خوانوں اور حدی خوانوں کا بھی اپنا سُر اور لے تھا اور ان کے ذریعہ بھی مقفع مسجع عبارتیں وجود میں آجاتی تھیں، لیکن ان کی طرف توجہ کم تھی اور تنقید کی کسوٹی جس درجہ کی بھی تھی اس پر اسے نہیں پرکھا جاتا تھا ، البتہ شعر وشاعری وجہ

تفاخر بھی تھا اور وجہ تنازع بھی، عشق وہجر کے قصے وصال کی باتیں ، محبوبہ کے فراق کی بے کلی وبے بسی کا اظہار، شاعری کے ذریعہ ہی ہوتا تھا اس لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعار پر تنقید مقصدیت کے اعتبار سے کیا ، اور شاید پہلی بار ادب برائے ادب کے بجائے ادب برائے زندگی کا تصور سامنے آیا۔
اس نقطہ نظر سے دیکھیں تو ایک آدمی بڑا شاعر ہو سکتا ہے ، اس کی شاعری میں فنی پہلوبھی غالب ہے ، لیکن وہ مقصدی شاعری نہیں ہے ، بلکہ اس نے فحش اور عریاں مضامین کو نظم کر دیا ہے ، اس لیے ہم انہیں فن کے اعتبار سے ممکن ہونے کے باوجود مقصدیت سے دور ہونے کی وجہ سے اس پرادبی شہہ پارے کا حکم نہیں لگا سکتے ، بہ تفریق پہلی بار آقاصلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے سامنے آتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیہ بن صلت کے اشعار اس کی بہن فارعہ کی زبانی سن کر ارشاد فرمایا : اس کا شعر ایمان لے آیا، لیکن اس کے قلب نے کفر کیا (آمنَ شِعْرُہُ کَفَرَ قَلْبُہ)
ان ارشادات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اسلام بنیادی طور پر شعر وادب کا مخالف نہیں ہے ،مقصد نیک نہ ہوتو شاعری شیطان کا آلۂ طرب ہے اور مقصد نیک ہو تو وہ تائید الٰہی کا ذریعہ ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے جو تنقیدی اصول سامنے آتے ہیں ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کلام میں چرب زبانی ، بے جا تکلف ، فخریہ اور متکبرانہ جملے سے احتراز ، سادگی، سنجیدگی ، سہل نگاری ، ایجاز اور لوگوں کی ذہنی سطح سے قریب تر الفاظ کا انتخاب ہونا چاہیے، اسی لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کَفَاکَ اللّہ مَا اَھَمَّکَ (اللہ تعالیٰ تمہاری ضرورت پوری کرے) عَصِمَکَ اللّٰہُ مِنَ الْمَکَارہْ (اللہ تمہیں برائیوں سے بچائے ) جیسے جملوں کو سن کر ھٰذِہٖ الْبَلَاغَۃکہہ کر بلیغ ہونے کی سند عطا فرمائی ۔ بہت مسجع عبارت جو نفس مطلب تک پہونچنے میں مخل ہو کو ناپسند فرمایا (اسَجْعَاً کَسَجْعِ الکھّانَۃِ (کیاکاہنوں کی طرح مسجع عبارت میں بات کرتے ہو۔) بے جا تکلف وتصنع کو بھی پسند نہیں فرمایااور اسے ہلاکت کا سبب قرار دیا ۔ ھَلَکَ المُتَنَطِّعُوْنَ (بناوٹ سے باتیں کرنے والے ہلاک ہوئے) اور اِیَّاکَ وَالتَشَادُقَ (کلام میں بے جا تکلف سے بچو) کہہ کر واضح کر دیا کہ یہ کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے ۔
ان اصولوں کی روشنی میں جن حضرات کی شاعری سامنے آئی، انہیں بارگاہ رسالت سے پسندیدگی کی سند ملی ، حمزہ بن عبد المطلب ، علی بن ابی طالب، کعب بن مالک ، حسان بن ثابت، عبد اللہ رواحہ، عبیدہ بن الحارث عہد نبوی کے ممتاز شعراء میں شمار ہوتے ہیں۔
اس پورے دور کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور کی شاعری پرمقصدیت غالب ہے ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو حق کے موافق ہے وہ خوب ہے اور جو حق کے مخالف ہے اس میں کوئی خیر نہیں۔
اِنّھا الشِعْرُ کَلَام’‘ مؤلف’‘ فَمَا وافقَ الحَقُّ مِنْہُ فَھُوَ حَسَن’‘ ومَالَمْ یُوَافِقِ الحَقَّ مِنْہُ فَلَا خُیْرَ فِیْہِ۔
فرمایا شعر کلام ہی ہے ، کلام اچھا بھی ہوتا ہے اور برا بھی (اِنَّمَا الشِّعْرُ کَلَام فَمِنَ الکَلامِ خَبِیْث’‘ وطیب) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی وجہ سے صحابہ کرام میں ادبی ذوق، صالح قدروں کے ساتھ پروان چڑھا ، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ دینی علوم کے ساتھ اشعار کی بہترین پارکھ اور نسب کی بڑی جانکارتھیں، خود بھی فصیح گفتگو کرتی تھیں ، موسیٰ ابن طلحہ کا بیان ہے:
مَارَأیتُ اَحَداً اَفْصَحُ مِنْ عَائِشَۃَ میں نے عائشہ ؓ سے زیادہ فصیح کسی کو نہیں دیکھا ۔
ہشام بن عروۃ فرماتے ہیں:
مَا رَأیْتَ اَحَداً مِنَ النَّاسِ اَعْلَمُ بِالْقُرآنِ وَلَا بِفَرِیْضَۃٍ وَلَا بِحَلَالٍ وَحَرَامٍ وَلَا بِشِعْرٍ وَلَا بِحَدِیْثِ الْعَرَبِ وَلَا النَسَبِ مِنْ عَائِشَۃَ۔ میںنے لوگوں میں سے کسی کو حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ قرآن میراث، حلال وحرام، شعر، واقعات عرب اور نسب کا جانکار نہیں دیکھا۔
خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی طرف بھی بہت سے اشعار منسوب ہیں ، طبری میں حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ نے اس کی تردید کی ہے ان کا خیال ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے کبھی کوئی شعر نہیں کہا ، لوگ دروغ گوئی سے کام لیتے ہیں ۔ مَا قَالَ اَبُو بَکَرٍ شِعْراً قَطُّ وَلٰکِنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ عَلَیْہِ اس بات سے قطع نظر ان کا ذوق شعری انتہائی بالیدہ تھا اور شعراء کے ما بین معرکہ کی روداد یں اور اشعار انہیں کثرت سے یاد تھے، کئی موقعوں پر انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اشعار سنائے اور اس معرکہ کی پوری روداد سناڈالی۔
حضرت عمر فاروق کا موقف شاعری کے سلسلے میں دوسرے صحابہ کرام کی بہ نسبت زیادہ واضح تھا ، انہوں نے اپنے صاحب زادہ کو نصیحت کیا تھا کہ ادبی ذوق میں نکھار پیدا کرنے کے لیے اچھے اشعار یاد کرو، کیونکہ اس کے بغیر ادبی ذوق نہیں نکھرتا۔

وَاحْفَظْ مَحَاسِنَ الْشِعْرِلِحُسْنِ اَدَبِکَ وَمَنْ لَمْ یَحْفَظْ مَحَاسِنَ الشِّعْرِ لَمْ یُوَدِّ حَقّاً وَلَمْ یُحْسِن اَدَبَاً۔(تاریخ القصۃ والنقد:۱۱۶)
وہ چاہتے تھے کہ لوگ اشعار یاد کریں اس کے رموز ونکات سے واقفیت بہم رکھیں ، کیونکہ اس سے اخلاق بلند ہوتا ہے، رائے درست ہوتی ہے اور علم الانساب کی معرفت بھی اس کے ذریعہ ہوتی ہے ، انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کو اپنے دور خلافت میں لکھا ۔
’’مُرْ مِنْ قَوْمِکَ بِتَعَلُّمِ الْشِعْرِ فَاِنَّہُ یَدُلُّ عَلَی مَعَالِ الْاَخْلَاقِ وَصَوَابِ الرَایِ وَمَعْرِفَۃِ الَانْسَابِ‘‘(تاریخ القصۃ والنقد : استاذ السباعی ، بیومی مطبوعۃ مصر ۱۹۵۶،۱۱۶)
یہ حضرت عمرؓ کی تنقیدی بصیرت ہی کی بات ہے کہ انہوں نے نابغہ ذبیانی کو اشعر العرب اور زہیر بن ابی سلمیٰ کو اشعر الشعراء کاخطاب دیا؛ کیوں کہ ان کے خیال میں زہیر تعقیدات ، غرابت الفاظ اور مدح بے جا سے اجتناب کرتا ہے ۔ (’’اِنَّہُ یُعَاظِلُ بَیْنُ الْقُوْلِ وَلَا یَتَّبَعَ حُوشَی الکَلامِ وَلَا یَمْدَحُ الرَجُلَ اِلّا بِمَا ھُوَ فِیْہِ۔(الشعر والشعراء اول :۷۶، العمدہ اول:۹۸)اس سلسلے کی تفصیلات ابو الفرج اصفہانی کی کتاب ’’الاغانی‘‘ اور ابن قتیبہ کی کتاب ’’الشعروالشعراء ‘‘میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
اسی طرح حضرت حسانؓ، ابو ذوئب الھذلی کو زندہ شاعروں میں بڑا شاعر سمجھتے تھے اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے حطیہ کو اشعر الشعراء کا خطاب دیا تھا ، دیگر صحابہ کرام میں حضرت عثمان غنیؓ کی فصاحت وبلاغت اور الفاط کی مو ز ونیت ضرب المثل تھی ، حضرت علیؓ نثر ونظم دونوں کے مرد میدان تھے ، مشہور مؤرخ اورناقد حسن زیات کے بقول وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ فصیح اللسان واقع ہوئے تھے ، ان کے بعض اشعار حدیثوں میں مذکور ہیں ، جس سے ان کے تخیل کی بلندی اور حسن الفاظ کے انتخاب کا پتہ چلتا ہے ، جنگ خیبر میں آپ کا یہ رجزیہ شعر بہت مشہور ہوا۔جس کا مفہوم ہے کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ، میں خوفناک گھنے جنگل کے شیرکی طرح ہوں۔
اَنَاالذی سَمَتْنِی اُمِّی حیدرۃً
کَلَیْثِ غاباتٍ کریہِ النَظْرَۃِ
(خلفاء راشدین اول: ۳۳۵ معین الدین ندوی)
ان تفصیلات کی روشنی میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عہد میں تنقید صرف ذوقی چیز نہیں رہ گئی تھی؛ بلکہ تنقید کی بنیادیں سامنے آنے لگی تھیں ، فکر کی پاکیزگی، مقصدیت ، الفاظ کے دروبست ، تنافر حروف اور غرابت الفاظ سے اجتناب بحر کے اعتبار سے رواں ، جدت خیال وغیرہ کو بھی اشعار پر حکم لگاتے وقت سامنے رکھا جانے لگاتھا، اس سلسلے میں عہد جاہلیت میں حضرت حسان کے پسندیدہ شعر پر حضرت خنساؓ کی مشہور تنقید کتابوں میں ملتی ہے ۔ حضرت حسانؓ کا شعر تھا۔
لَنَا الجَفَنَاتُ الغُرّ یَلْمَعْنَ فِی الضُحیٰ
وَاَسْیَافُنَا یَقْطُرْنَ مِنْ نجدۃٍ دماً
اس ایک شعر میں حضرت خنساء نے سات کمیاں نکالیں ، انہوں نے کہا کہ جفنات کے بجائے جفان اور غر کے بجائے بیض کہنے سے معنی میں وسعت پیدا ہو جاتی ، کیونکہ جفنات جمع قلت اور غر صرف پیشانی کی صباحت سے عبارت ہے ، اسی طرح ضحی کے بجائے دجیٰ اسیاف کے مقابلے میں سیوف یقطرن کے بجائے یسلن اور دم کے بجائے دماء کا استعمال زیادہ مناسب تھا ، یلمعن عارضی چمک کو کہتے ہیں اس لیے یشرقن مناسب تھا ، کیونکہ اشراق میں زیادہ پائیداری ہے ۔
ان تنقیدی اصولوں کے سامنے آنے سے بڑا فائدہ یہ ہو اکہ عربی شاعری تعقیدات ، فحش استعارے کنایے ، اور ثقیل اور گنجلک اسلوب سے بڑی حد تک پاک ہو گئی، اور اشعار کی تنقید میں ان پیمانوں کا خیال رکھا جانے لگا۔
اموی دور میں نقد شعر میں تھوڑی پیش رفت ہوئی، بقول احمد امین : تنقید نے ادب کے شانہ بشانہ ترقی کی ،اسی دور میں جریر وفرزدق اور اخطل اپنی باہمی رقابت اور ایک دوسرے سے آگے بڑھ جانے اور دوسرے کو نیچا دکھانے کی غرض سے عربی شاعری کو نئے الفاظ وتعبیرات سے مالا مال کر رہے تھے ، لوگوں میں اچھے شعر کو سمجھنے اور اس سے لطف اٹھانے کا خصوصی ملکہ پیدا ہو رہا تھا،اور تنقید کے اصول ومبادی سامنے آنے لگے تھے۔ عرب تنقید نگاروں نے عہد جاہلی سے لیکر عہد اموی تک فن تنقید میں جو مراحل آئے اسے المرحلۃ التاثریہ سے تعبیر کرتے ہیں، عہد عباسی سے عربی تنقید میں نیا مرحلہ شروع ہوتاہے ، جسے المرحلۃ التعلیلیہ کہاجاتا ہے، یہ مرحلہ اس اعتبار سے ممتاز ہے کہ اس دور میں تنقید کے اصول واضح طور پر مرتب کیے گیے ، منہجی اور غیر منہجی تنقید کے نمونے سامنے آئے ، اس مرحلہ کو آگے بڑھانے میں جن لوگوں نے نمایاں حصہ لیا ، ان میں محمد ابن سلام الجمحی ابن قتیبہ، ابن معتز اور قدامہ بن حعفر کے نام سر فہرست ہیں ۔

ابن سلام الجمحی (م۲۳۱ھ) نے پہلی بار متقدمین اور معاصرین کی تنقیدی آرا وافکار کو اپنی کتاب ’’طبقات فحول الشعرائ‘‘ میں پیش کیا ، اور شعراء کے دس طبقات مقرر کیے اور ان کے اشعار کو فن کی کسوٹی پر پرکھ کر عملی تنقید کی بنیاد ڈالی ، مسئلہ انتحال کو بھی پہلی بار ابن سلام نے ہی اٹھایا۔
ابن قتیبہ (م۲۷۶ھ) نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور اپنی کتاب ’’الشعروالشعراء ‘‘میں نقد شعر کے قواعد وضع کیے اور اشعار کو چار زمرے میں تقسیم کیا ، اور معیار حسن لفظی اور معنوی کو قرار دیا ، انہوں نے لکھا کہ پہلی قسم ان اشعار کی ہے جس میں حسن لفظی اور معنوی دونوں ہوتا ہے، دوسری قسم ان اشعار کی ہے جن میں حسن لفظی تو ہے ، لیکن معنی غیر معیاری ہیں ، تیسری قسم میں مضمون تو معیاری ہوتے ہیں لیکن الفاظ میں ترسیل کی کمی ہوتی ہے اورجن اشعار میں لفظ ومعنی دونوں معیاری ہوں تو وہ شعرکی چوتھی قسم ہے۔
اسی دور میںابو العباس مبرد (۲۸۶۔۲۱۰) کی کتاب ’’کامل‘‘ ابن معتز کی کتاب ’’البدیع‘‘ اور ابن طبا طبا کی کتاب ’’عیار الشعر‘‘ سے تنقید میں فنی معیار کی اہمیت اور عربی زبان وادب کے محاسن تفصیل سے سامنے آئے۔
تیسری صدی ہجری کے نصف اخیر میں ارسطو کی کتاب Rhetoricsکا ترجمہ’’ الخطابۃ‘‘ اور Poeticsکا ترجمہ ’’کتاب الشعر‘‘کے نام سے سامنے آیا ، جس نے پہلی بار عربی تنقید میں فلسفیانہ عنصر کی شمولیت کا دروازہ کھولا، گوجا حظ نے عربی تنقید پر اس کے اثرات سے انکار کیا ہے اور لکھا ہے کہ عربوں نے ارسطوکے خیالات کو سمجھا ہی نہیں اور اس کے افکار کی باریکیوں تک عربوں کی رسائی نہیں ہو سکی۔
لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قدامہ بن جعفر (م۳۳۷) کی کتاب ’’نقد الشعر‘‘ میں یونانی فلسفہ کا عنصر غالب ہے اور اسے عربی شاعری پر منطبق کرنے کی انہوں نے مسلسل کوشش کیں ، اس طرز عمل سے تنقید کے فن اور منہج کو کافی نقصان پہونچا ، سید قطب نے قدامہ کی اس کوشش کو تنقید کے اعتبار سے ناکام قرار دیا ہے ، ان کے نزدیک ابن بشر الآمدی اور ابو الحثم جرجانی کی خدمات قدامہ بن جعفر سے زیادہ وقیع ہیں۔
ابن بشر الآمدی(۳۷۱) اور علی بن عبد العزیز الجرجانی (م۳۹۲ھ) نے بالترتیب اپنی کتاب ’’الموازنۃ بین الطائیین‘‘ ابی تمام والبحتری اور الوساطۃ بین المتنبی وخصومہ کے ذریعہ فنی منہج کی بازیافت کی ، جس سے تعبیری ومعنوی قدروں کی اہمیت سامنے آئی، الفاظ کے محاسن وعیوب اور معانی سے بحث کرکے پسند ونا پسند کا ایک معیار قائم کیا۔ اس کے با وجود ایک زمانے تک صورت حال یہ رہی کہ نقادان فن اور علماء بلاغت میں تمیز نہیں کیا جاتا تھا، تنقیدی آرا بلاغت کے عام مباحث کے ساتھ اس طرح خلط ملط ہو گئے تھے کہ ان میں حد فاصل کھینچنا مشکل تھا، ابو ہلال عسکری کی کتاب الصنا عین اور عبد القاہرجرجانی (م۱۰۷۸ھ) کی کتاب دلائل الاعجازاوراسرار البلاغۃ کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے ۔ ابن رشیق القیروانی (م۴۶۳ھ) کی ’’العمدۃ فی صناعۃ الشعر ونقدہ‘‘ ادبی تنقید اور بلاغت کو ایک ساتھ جمع کرنے کی عمدہ کوشش ہے شوقی ضیف کے بقول ابن رشیق نے قدیم نقاد ان فن کی آرا اور تعلیقات کی تلخیص اس کتاب میںعمدہ انداز میں پیش کیا ہے ۔
ابن خلدوں کے بقول:
ھُوَ الکِتَابُ الذّی اِنْفَرَدَ بِصَنَاعَۃِ الشِعْرِ واِعطائِ حَقِّھا وَلَم یَکْتُبْ فِیْھا اَحَد’‘ قَبْلہٗ وَلَا بَعْدَہٗ مِثْلَہُ۔
یہ کتاب صنعت شعری اور اس کی تفصیلات پر ایسی کتاب ہے جو اس سے پہلے اور بعد کسی نے نہیں لکھی ۔
ابن رشیق کے بعد چھٹی صدی ہجری تک اس میدان میں سنا ٹا نظر آتا ہے ، ساتویں صدی ہجری میں ابن اثیر (۶۳۷ھ) کی کتاب ’’المثل السائر فی ادب الکاتب والشاعر‘‘ سامنے آئی اس کتاب نے تنقید کے سمندر کے پر سکون سطح میں تھوڑا تموج پیدا کیا ، حازم القرطاجنی کی کتاب منھاج البلغاء وسراج الادباء بھی قابل قدر کوشش ہے، جس نے تنقید کو روبہ زوال ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس زوال پذیر دور کا اختتام اور عربی تنقید کی نشأۃ ثانیۃ شیخ حسین المرصفی کی کتاب ’’الوسیلۃ الادبیۃ للعلوم العربیۃ‘‘ ، سے ہوئی ، نحو وصرف ، بیان وبدیع ، شعر ونثر پر مشتمل ان کے یہ لکچرز زبان وادب سیکھنے میں بڑے معاون ثابت ہوئے اور المنہج النقدی والتقلیدی کو حیات نو عطا ہوئی ، انہوں نے قدامہ کی تعریف شعرانہ الکلام الموزون المقفی میں وسعت پیدا کیا اور فرمایا :
اِنَّ الشِعْرَ ھُوَ الکَلَامُ البَلِیْغُ المَبْنِیُ عَلی الاِسْتِعَارَۃِ وَالاَوْصَافِ الْمُفَصّلِ بِاَجْزَائِ متفقۃٍ فِی الوَزَنِ وَالروی مستقل کل جزؤ منھا فی غرضہ ومقصدہ عما قَبَلہ وَبَعْدَہ الجارِی عَلیٰ اَسَالِیْبِ العَرَبِ المَخْصُوصَۃِ بِہِ

شعر وہ موثر کلام ہے جو استعارہ کے ساتھ وزن وروی کے اندر تمام متفقہ صفات مشتمل ہو اور اس کا ہر حصہ اپنے غرض وغایت مین جو اس سے پہلے یا بعد میں ہو عرب کے خاص اسلوب پر منطبق ہو تا ہو، مستقل ہو۔
روایتی ادب کو نئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ سمجھ کر’’ مدرسۃ الدیوان‘‘ وجود میں آیا جس کے بانی عبد الرحمن شکری ، عبد القادر مازنی اور عباس محمود ہیں ، ان حضرات نے مغربی ادب کے مطالعہ کے بعد جدید کلاسیکی شعراء پر سخت تنقیدیں کیں اور’’ اَلَا یَا طَائِرَ الْفِرْدَوْسِ اِنّ الشعر وِجْد ان’‘ ‘‘ کے ذریعہ نئی کلاسیکی شاعری سے بغاوت کا اعلان کردیا۔
یہی وہ دور ہے جس میں میخائیل نعیمہ ’’کتاب الغربال‘‘ لے کر میدان میں آئے اور انہوں نے موضوعی منہج کے بجائے ذاتی منہج کو پروان چڑھایا اور اس کی اساس، نقاد کی قوت تمیزی اور ذوق شعری کو قرار دیا، اس تجدیدی رجحان کو مدرسۃ الدیوان ، جماعت اپولو اور مہجر سے مربوط شعراء نے پروان چڑھایا۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی میں نت نئے افکار کے سامنے آنے، اشتراکیت کے بال وپر پھیلانے اور وجودیت کے عملی انداز میں زیر بحث آنے سے ایک نیا تنقیدی منہج سامنے آیا ،جس کے نتیجے میں تفسیری، تقییمی اور توجیہی مذاہب سامنے آئے، اور الگ الگ انداز میں تنقیدی رجحان کو اپنایاجانے لگا ، اس دور میں یحیٰ حقی ، زکی مبارک ، طٰہٰ حسین کے نام خاص طور پر لیے جا سکتے ہیں، ان حضرات کی تنقیدوں میں مغربی اور فرانسیسی ادب کے تنقیدی اصولوں کو برتنے کے ساتھ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا جذبہ بھی شامل نظر آتا ہے:
عربی شاعری کے پورے تنقیدی سرمایے پر نظر ڈالنے سے ہم اس نتیجے پر پہونچتے ہیں کہ شروع ہی سے عربی تنقیدمیں عملی اور نظری تنقید کے نمونے ملتے ہیں ۔ گو نظری تنقید زیادہ ترقی یافتہ شکل میں عربی میں موجود ہے ، چوتھی اور پانچویں صدی ہجری میں قدامہ بن حعفر ابن المعتزوغیرہ نے جو کتابیں لکھیں ان سب میں عربی تنقید کے نظریات زیر بحث آئے ہیں ، عملی تنقید پر کتابیں عربی میں کم لکھی گئی ہیں، لیکن تذکرے تراجم شعراء ، وغیرہ میں جو تنقیدی بحثیں نظر یاتی کی گئی ہیں ، اس نے تنقید کو اصولی انداز بخشا۔
عربی شاعری میں بھی اردو شاعری کی طرح نت نئے تجربے کیے گیے ، رمزیہ شاعری ، نثری شاعری ،آزاد شاعری کے نمونے سامنے آنے لگے تو تنقید کو نئی جہت اور نئے رجحانات کو سامنے رکھ کر اپنے کام کو آگے بڑھانا پڑا اور نقادوں نے الشعر الحر ، شعر تفعیلیہ الشعر المنثور کے نام سے اسے متعارف کرایا ، لیکن جس طرح آزاد غزل ونظم اردو ادب میں پابند شاعری کا مقابلہ نہ کر سکی، عربی کے بڑے بڑے ادباء شعراء اور نقاد نے اسے بھی یک سر مسترد کر دیا ۔
اس باب میں عجیب وغریب تجربے کیے گیے ، ناز ک الملائکہ ، بدر شاکر ایسا ب ، عبد الوہاب البائی، نزاد قیالی ، علی احمد با کثیر ، محمد فریداور ابو حدید اور نے اس طرح کے تجربات کو جاری رکھا اور بعض نے شاعری کو اہرام کی شکل دیدی پہلے مصرع میں ایک رکن ، دوسرے میں دو اور چوتھے پانچویں مصرعے میں چار چار رکن کے ذریعہ الشعر الحر کا ملغوبہ تیار کیا ، جس نے قبول عام حاصل نہیں کیا ۔
مہجری شعراء وادباء نے الرابطہ القلمیۃ (سن تاسیس ۱۹۲۰) اور العصبۃ الاندیسیۃ (۱۹۳۰ئ) کے نام سے ادبی انجمن قائم کرکے عربی زبان وادب، تنقید اور دوسرے اصناف کو عرب سے باہر پروان چڑھایا ، ان انجمنوں کے ذریعہ عربی کو پھیلنے کے لیے نئی بستیاں ملیں اور عربی کی نئی آبادیاں وجود میں آئیں۔
ہندوستان میں عربی ادب سے متعلق پہلی تنقیدی کتاب تذکرہ کی شکل میں سامنے آئی ، تذکرۃ الشعراء کے نام سے مولوی کریم الدین پانی پتی (و۱۸۷۱ئ) نے اسے مرتب کیا تھا اور ۱۸۴۷ء میں مطبع العلوم مدرسہ دہلی سے اشاعت پذیر ہوئی تھی ، یہ کتاب اصلا ڈاکٹر اشپر نگر (و۱۸۹۳ئ) پرنسپل مدرسہ دہلی اور سکریٹری اردو سوسائٹی کی تحریک پر فرائد الدھر کے نام سے عربی میں تیار کی گئی تھی ، جس کی اشاعت نہیں ہو سکی ، تذکرہ شعراء ادب اسی کا اردو ترجمہ ہے ، ڈاکٹر زبید احمد کی دو کتابیں ایک کنٹری بیوشن آف انڈیاٹوعر بک لٹریچر اور ادب العرب کا شمار بھی ہندوستان میں لکھی گئی پرانی کتابوں میں ہوتا ہے ، ادب العرب ۱۹۲۶ء میں الٰہ آباد سے شائع ہوئی تھی ، ڈاکٹر سید ابو فضل پروفیسر عثمانیہ یونیورسیٹی حیدر آبا دکی مختصر لیکن اہم کتاب تاریخ ادب شاعری، پروفیسر عبد الصمد صارم کی کتاب ’’شعر العرب‘‘ اسی سلسلۃ الذھب کی کڑی ہے جو ۱۹۶۴ء میں لاہور سے شائع ہوئی ان علاوہ ڈاکٹر مقتدیٰ حسن ازہری کی کتاب مختصر تاریخ ادب عربی ، پروفیسر خالد حامدی کی کتاب ’’عربی زبان وادب ایک تاریخی مطالعہ‘‘، پروفیسر عبد الحلیم ندوی کی کتاب عربی ادب کی تاریخ اپنے مشمولات کے اعتبار سے تاریخ اور تذکرے پر مشتمل ہے ، لیکن شعراء کے بیان میں تنقیدی افکار بھی جابجا ان کتابوں میںملتے ہیں ، پروفیسر سید احتشام ندوی کی دو کتابیں ’’عربی تنقید کا ارتقاء اور فن موازنہ‘‘ کا

ارتقاعربی تنقید کے حوالے سے اہم کتاب ہے ، علی گڈھ سمینار کے مقالات کا مجموعہ النقد الادبی العربی بین القدیم والحدیث مرتبہ پروفیسر سید کفیل احمد قاسمی ، پروفیسر محمد صلاح الدین العمری اور ڈاکٹر شمس کمال انجم کی ’’جدید عربی شاعری ہندوستان میں عربی ادب کے تنقیدی رجحانات اور جدید شعراء کے افکار وخیالات کی عملی تنقید کا مظہر ہیں ، مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی کتاب الادب العربی بین عرض ونقد بھی ہندوستان میں لکھی گئی کتابوںمیں خاصی اہمیت کی حامل ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ عربی شاعری میں جو تنقیدی رجحانات اور جو اصول تنقید پائے جاتے ہیں ، ان کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ مختلف زبانوں کے تنقیدی افکار وآرا سے عربی تنقید نے بھر پور استفادہ کیا ہے اور یہ ارتقا کی بلندی پر پہونچ گئی ہے ۔
ایک مسئلہ عربی میںتنقید کی تدریس کا رہ جاتا ہے، اس معاملہ میں سب سے پہلے ضروری ہے کہ طلبہ میں ادبی ذوق اور شعر سمجھنے کی صلاحیت پیدا کی جائے ، اشعار کی خواندگی درست ہوجائے ، تو معنی کی تفہیم آسان ہوتی ہے ، بلکہ بعض دفعہ صرف خواندگی کی درستگی سے کلام کے عیوب کھل کر سامنے آجاتے ہیں ، نابغہ کے اشعار جس میں اقواء کا عیب در آیا تھا ، ایک لڑکی نے اسے اس طرح پڑھ دیا کہ نابغہ فوری اس عیب کی طرف متوجہ ہو گیا ، ہمارے یہاں بہت سارے داخلی وخارجی وجوہات کی وجہ سے ذوق ہی نہیں بن پاتا، جب ذوق بن جائے تو عربی تنقید کے مختلف مکاتب فکرسے طلبہ کو واقفیت بہم پہونچائی جائے اور نقاد ان فن کی خصوصیات اور ہر مکتب فکر کے مابہ الامتیاز وجوہ واسباب کی معلومات بہم پہونچائی جائے ۔
یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ تنقید کے مدارج اور اس کی عہد بعہد ترقی کے علم کے بغیر عربی زبان وادب سے واقفیت مکمل طور پر نہیں ہو سکتی ، طلبہ جب ان مراحل سے گذر جائیں تو انہیں مختلف قسم کے ادبی شہہ پاروں کے نقد کی عملی مشق بھی کرانی چاہیے اور ان اصولوں اور قواعد سے بھی واقفیت بہم پہونچانی چاہیے جن پر قدیم وجدید عربی تنقید کی بنیاد ہے ۔ تنقیدی بصیرت طلبہ میں کس درجہ پیدا ہوئی، اس کے لیے معروف عرب شعراء کے کلام کا موازنہ ان سے کروایا جائے اور ایک کو دوسرے پر ترجیح کی شکل میں وجہ ترجیح پر بھی زور دیا جائے ، جب طلبہ محاسن شعری کا ادراک کرکے اشعار کو عملی تنقید کی سان پر چڑھا سکیں تو سمجھنا چاہیے کہ اب ان کے اندر تنقیدی شعور پیدا ہو گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: