اہم خبریں

عشرۂ ذی الحجہ کے فضائل و احکام

از قلم : محمد اظہر الدین قاسمی استادِ حدیث و فقہ جامعہ اسلامیہ مدینۃ العلوم معماری ،پوربا بردھمان ،مغربی بنگال.

ربِ کریم نے سال کے کچھ ایام اور اوقات کو دوسرے ایام کے بالمقابل کچھ خصوصیات عطا فرمائی ہیں، انہیں ایامِ مخصوصہ میں عشرۂ ذی الحجہ بھی ہے، قرآنِ کریم کی سورۃ الفجر میں جن دس راتوں کی قسم کھاکر رب العزت نے اس رات کی فضیلت و عظمت کو دوچند کیا ہے ، اکثر حضراتِ مفسرین کے نزدیک ان دس راتوں سے مراد عشرۂ ذی الحجہ ہی ہے، چنانچہ تفسیر ابنِ کثیر میں ہے : الليالي العشر المراد بها عشر ذى الحجة كما قاله ابن عباس و ابن الزبير و مجاهد و غير واحد من السلف والخلف (١) یعنی دس راتوں سے مراد ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں، جیسا کہ عبد اللہ بن عباسؓ، عبد اللہ بن زبیرؓ، حضرتِ مجاہدؒ اور دیگر مفسرین کی رائے ہے، یہ دس راتیں ذی الحجہ کےشروع کی ہیں(٢)، نبیِ آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان دس راتوں کی اہمیت و فضیلت واضح کرتے ہوئے فرمایا : عن ابن عباس – رضي الله عنه – قال : قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – : ما من أيام العمل الصالح فيهن أحب إلى الله من هذه الأيام العشر، فقالوا يا رسول الله! ولا الجهاد في سبيل الله؟ فقال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – : ولا الجهاد في سبيل الله إلا رجل خرج بنفسه و ماله فلم يرجع من ذلك بشيئ(٣) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :کہ عشرۂ ذی الحجہ کے مقابلے میں نیک عمل اللہ تعالی کو کسی بھی دن محبوب نہیں ہے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اللہ کے راستہ میں جہاد بھی اس سے افضل نہیں ہے؟، جواب ملا کہ اور نا ہی اللہ کے راستے میں جہاد، ہاں اگر کوئی شخص جہاد فی سبیل اللہ کے لئے نکلا اور خدا کے کلمے کی بلندی کے لیے اپنی جان اور اپنے مال سب کو قربان کردیا، تب تو اس کا یہ عمل اللہ تعالی کو زیادہ محبوب ہوگا، ان دس ایام کی فضیلت اس سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ ربِ کریم نے اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے ایک اہم رکن حج کی ادائیگی کا وقت انہیں دس ایام کے اندر رکھا ہے، قرآنِ کریم اور حدیثِ مبارک سے اس عشرہ کی فضیلت معلوم ہوگئی، جب اس عشرہ کی اتنی فضیلت ہے کہ اللہ تعالٰی نے اپنی کتابِ مقدس میں اس کی قسم کھائی، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عشرہ کے عمل کو سب سے زیادہ محبوب بتلایا تو ہمیں اور آپ کو یہ جاننا چاہیے کہ اس عشرہ میں کرنے کے کام کون کون سے ہیں؟ اس میں کئے جانے والے کام حسبِ ذیل ہیں :
(١) ناخن اور بال نہ تراشنا :
جوں ہی ماہِ ذی الحجہ شروع ہوتا ہے تو سب سے پہلا حکم رب العزت کی طرف سے یہ متوجہ ہوتا ہے کہ جو لوگ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ تراشیں، جیسا کہ سننِ ابنِ ماجہ میں ہے : عن أم سلمة – رضي الله عنها – قالت قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – مَن رأى منكم هلالَ ذي الحجَّةِ، فأرادَ أن يضحِّيَ، فلا يقربنَّ له شَعرا ولا ظفرا . حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو ذی الحجہ کا چاند نظر آجائے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ اپنےبال اور ناخن نہ تراشے(٢٢٧).
اسی طرح کی روایت کے پیشِ نظر فقہائے کرام رحمہم اللہ نے ارشاد فرمایا کہ قربانی کا ارادہ رکھنے والے کے لیے مستحب ہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد سے لیکر قربانی کرنے تک نہ تو اپنے ناخن تراشے اور نہ ہی بدن کے کسی حصے کے بال کٹوائے؛ بلکہ قربانی کرنے کے بعد مذکورہ عمل کرے؛ لیکن یہ عمل صرف مستحب ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایسا کرنا بہتر ہے، اگر کوئی شخص ان ایام میں ناخن تراش لے یا بال کٹوا لے تو اس سے قربانی میں کوئی فرق نہیں پڑیگا،
واضح رہے کہ ذی الحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد ناخن یا بال نہ تراشنا یہ صرف ان لوگوں کے حق میں مستحب ہے جو قربانی کا ارادہ رکھتے ہوں، نہ کرنے والے کے حق میں دونوں عمل برابر ہے.
بال اور ناخن کاٹنے سے روکنے کی حکمت :
شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب زید مجدہ العالی فرماتے ہیں کہ ہمارے حضرت ڈاکٹر عبد الحی صاحب قدس اللہ سرہ نے فرمایا کہ اس میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالی ان لوگوں کو جو پیسے کی کمی کی وجہ سے حج نہیں کرسکے، کیا ان کو حج کی برکت سے محروم فرما دینگے؟ اللہ تعالی کی شانِ رحیمی سے یہ بہت بعید ہے کہ کسی آدمی کو صرف پیسے نہ ہونے کی وجہ سے محروم فرمادیں، چنانچہ اللہ تعالی نے ایک چھوٹا سا عمل بتلادیا کہ تمہیں حج کو جانے والوں کی مشابہت اختیار کرنی پڑیگی، وہ یہ کہ جیسے حاجی حضرات بال اور ناخن نہیں کاٹتے تو تم بھی یہ مشابہت اختیار کرلو اور بال و ناخن نہ کاٹو، جب تم نے مشابہت پیدا کرلی تو اس طرح ان حاجیوں سے اپنا رشتہ جوڑ لیا، لہذا جب اللہ تعالی عرفات کے میدان میں حاجیوں پر رحمت کی بارش برسائیں گے تو اس کا کوئی چھینٹا تم تک بھی ضرور پہنچے گا،
تیرے محبوب کی یارب شباہت لیکر آیا ہوں : حقیقت اس کو تو کر دے میں صورت لیکر آیا ہوں. (اصلاحی خطبات جلد :١٢٥/٢)
(٢) عشرۂ ذی الحجہ کا روزہ :
عشرۂ ذی الحجہ کا دوسرا عمل جو کرنے کا ہے وہ ہے ان ایام میں روزہ رکھنا، حضرتِ ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ما من أيام أحب إلى الله أن يتعبد له فيها من عشر ذى الحجة يعدل صيام كل يوم منها بصيام سنة و قيام كل ليلة منها بقيام ليلة القدر (٥)
کوئی دن ایسا نہیں ہے جس میں عبادت اللہ تعالی کے نزدیک عشرۂ ذی الحجہ سے زیادہ پسندیدہ ہو کیونکہ عشرۂ ذی الحجہ کے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے اور اس کی ہر رات کی عبادت شبِ قدر کی عبادت کے برابر ہے،
مذکورہ بالا ارشاد سے عشرۂ ذی الحجہ کی کتنی عظیم الشان فضیلت معلوم ہوئی کہ اگر کوئی شخص ان دنوں میں ایک روزہ رکھے تو ایک سال روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا، دو روزے رکھے تو دو سال کے روزوں کا ثواب ملےگا اور اگر کوئی آخرت میں بلندیِ مقام کے حصول کا متمنی ہو دسویں تاریخ کو چھوڑ کر باقی نو ایام کے روزے رکھ لے تو نو سال کے روزوں کے برابر ثواب ملے گا اور کسی ایک رات میں عبادت کرنے کا ثواب شبِ قدر میں عبادت کرنے کے برابر ملے گا،اللہ اکبر، کیا کہنے ربِ کریم کے فضل و کرم کا ،سچ کہا ہے کسی کہنے والے نے : رحمتِ حق بہانہ می جوید، بہا نمی جوید
کہ اللہ تعالی اپنی رحمت بندوں کو دینے کے لئے بہانہ ڈھونڈتے ہے، اس کے مطابق عمل کا مطالبہ نہیں کرتے.
(٣) یومِ عرفہ کا روزہ :
یوں تو ذی الحجہ کے شروع کے نو دنوں میں سے کسی دن بھی روزہ رکھنا بڑے ثواب کا حامل ہے؛ لیکن خاص کر نو ذی الحجہ یعنی عرفہ کے دن روزہ رکھنا اور بھی بڑے اجر و ثواب کا کام ہے، چنانچہ حضرتِ ابو قتادہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نقل کرتے ہیں کہ نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قال له رَجُلٌ: أرَأَيتَ صيامَ عَرَفةَ؟ قال: أحتسِبُ عندَ اللهِ أنْ يُكفِّرَ السَّنةَ الماضيةَ والباقيةَ، (٦)
ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : عرفہ کے روزے کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ جواباً ارشاد فرمایا کہ مجھے اللہ تعالی کی کریم ذات سے یہ امید ہے کہ عرفہ کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کو مٹا دیگا،
کتنا بڑا ثواب ہے اس دن روزہ رکھنے کا؛ اس لئے تمام مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا ضرور اہتمام کرنا چاہئے.
(٤) تکبیرِ تشریق
عشرۂ ذی الحجہ میں چوتھا کام تکبیرِ تشریق کہنا ہے، یومِ عرفہ یعنی نویں ذی الحجہ کی فجر سے لے کر تیرھویں ذی الحجہ کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد مردوں پر بآوازِ بلند اور عورتوں پر آہستہ آواز سے تکبیرِ تشریق کہنا ضرور ہے، مردوں کے لئے آہستہ آواز سے تکبیرِ تشریق پڑھنا خلافِ سنت ہے) رد المحتار جلد ٢ /١٧٨(
لیکن ہمارے یہاں ایسی الٹی گنگا بہنے لگی ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں شریعت نے کہا ہے کہ آہستہ آواز سے کہو، ان چیزوں میں تو لوگ شور مچا کر بآوازِ بلند پڑھتے ہیں، مثلاً دعا کے بارے میں قرآنِ مجید میں فرمایاکہ :ادعوا ربكم تضرعا و خفية (سورة الأعرف:55)
یعنی اپنے پروردگار کو آہستہ اور تضرع کے ساتھ پکارو، چنانچہ عام اوقات میں آہستہ آواز سے دعا کرنا افضل ہے؛ لیکن اس میں تو لوگ شور مچاکر دعا کرتے ہیں اور تکبیرِ تشریق بلند آواز سے پڑھنے کا حکم ہے؛ لیکن اس اس میں پڑھتے وقت آواز ہی نہیں نکلتی اور آہستہ سے پڑھنا شروع کر دیتے ہیں.
تکبیرِ تشریق واجب ہی اس لئے کیا گیا ہے کہ اس سے اسلام کی شان و شوکت کو مظاہرہ ہو اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جبکہ بلند آواز سے یہ تکبیریں پڑھی جائیں :الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد.
(٥) قربانی
ربِ کریم نے ہر صاحبِ نصاب عاقل، بالغ اور مقیم مسلمان پر ایامِ قربانی (١٢،١١،١٠ ذی الحجہ) میں مخصوص جانوروں (اونٹ، گائے، بیل، بھینس، بکرا، بکری اور دنبہ) کی قربانی کو ضروری قرار دیا ہے، قربانی کی ابتداء بایں طور ہوئی کہ اللہ تعالی کے پیارے نبی حضرتِ ابراھیم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کو خواب میں دکھایا گیا کہ وہ اپنے لختِ جگر نورِ نظر حضرتِ اسمعیل علیہ الصلاۃ والسلام کو ذبح کر رہے ہیں، نبی کا خواب بھی اللہ تعالی کی جانب سے حکم اور وحی ہوتا ہے؛ اس لئے انہوں نے حکمِ ربانی کی بجا آوری کے لیے اپنے جگر پارے سے پوچھا کہ بیٹا! میں نے خواب میں تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھا ہے، بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرتِ اسمعیل علیہ الصلاۃ والسلام آخر ایک جلیل القدر نبی کے فرزندِ ارجمند تھے، وہ سمجھ گئے اور اپنے والدِ بزرگوار سے یوں گویا ہوئے کہ : ابا جان! آپ کو جو بھی حکم ملا ہے، اسے کر گزریئے ،إن شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں کی جماعت میں سے پائینگے، چنانچہ حضرتِ ابراھیم علیہ الصلاۃ والسلام اپنے لختِ جگر کو قربان کرنے کے مضبوط ارادے سے منی کی جانب روانہ ہوئے، شیطان مردود نے تین مرتبہ راستہ روک کر حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام کو حکمِ ربانی کی تعمیل کرنے سے روکا؛ لیکن حضرتِ ابراھیم علیہ الصلاۃ والسلام آخر کار اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے؛ اس لئے شیطانِ ملعون ان کو اپنے بہکاوے میں نہ لاسکا، بالآخر جس کام
کا حکم ملا تھا اس کی انجام دہی کے لیے اپنے لختِ جگر کو لٹا دیا اور گردن پر چھری پھیرنے ہی والے تھے کہ اللہ تعالی نے اپنا مقرب فرشتہ حضرتِ جبرئیل امین علیہ السلام کو پیغام لے کر بھیجا کہ ابراہیم! آپ نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، میرا مقصد صرف اور صرف آپ کا امتحان اور آزمائش تھا، سو آپ اس میں کامیاب ہوچکے،
اللہ رب العزت نے حضرتِ اسمعیل علیہ الصلاۃ والسلام کے بدلے جنت سے ایک دنبہ اتارا اور اسے ہی قربان کرنے کا حکم دیا اور مخصوص قسم کے جانوروں کی قربانی کو قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کے لئے لازم اور ضروری قرار دے دیا، اس مضمون کو ربِ کریم نے سورۃ الصافات میں اس طرح بیان کیا ہے :
فلما بلغ معه السعي قال يبني إني أرى فى المنام أني أذبحك فانظر ماذا ترى، قال يآ أبت افعل ما تؤمر، ستجدني إن شاء الله من الصابرين، فلما أسلما و تله للجبين، و ناديناه أن يآ إبراهيم قد صدقت الرؤيا إنا كذلك نجزي المحسنين، إن هذا لهو البلآء المبين، و فديناه بذبح عظيم، و تركنا عليه فى الآخرين. (٨)
قربانی کی فضیلت (٦):
یہ امت تو سب امتوں سے عظیم الشان ہے، اس کو اس کارِ خیر سے کیسے محروم کیا جاتا،اللہ تعالی نے اس امت پر بھی قربانی کو ضروری قرار دے دیا اور نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی عظمت و اہمیت کو خوب واضح کیا، چنانچہ ارشاد فرمایا : عن عائشة – رضي الله تعالى عنها – قالت قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – : ما عمِلَ ابنُ آدمَ من عملٍ يومَ النَّحرِ أحبَّ إلى اللهِ من إهِراق الدَّمِ وإنّهُ ليأتي يومَ القيامةِ بقرونِها وأشعارِها وأظلافِها وإنّ الدَّمَ ليقعُ منَ اللهِ بمَكانٍ قبلَ أن يقع بالأرضِ فطِيبوا بِها نفسًا.(٩).
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ بقر عید کے دن کوئی بھی نیک عمل اللہ تعالی کو جانور کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے، قربانی کرنے والا اپنے قربان کردہ جانوروں کے سینگوں، بالوں اور کھروں کو لے کر آئیگا( اور یہ چیزیں ثوابِ عظیم ملنے کا ذریعہ بنیں گی ) نیز فرمایا کہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے قبل ہی اللہ تعالی کے یہاں شرفِ قبولیت حاصل کرلیتا ہے؛ لہذا خوشدلی سے قربانی کرو،
ایک دوسری حدیث میں نبیِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
عن علي – رضي الله تعالى عنه – قال قال رسول الله – صلى الله عليه وسلم – : يا فاطمةُ قومي فاشهدي أُضحِيَتَك فإنّ لك بأوَّلِ قطرةٍ تقطُرُ من دمِها مغفرةً لكلِّ ذنبٍ أما إنّه يُجاءُ بلحمِها ودمِها تُوضعُ في ميزانِك سبعين ضِعفًا قال أبو سعيدٍ يا رسولَ اللهِ ﷺ هذا لآلِ محمَّدٍ خاصَّةً فإنّهم أهلٌ لما خُصُّوا به من الخيرِ أو للمسلمين عامَّةً قال لآلِ محمَّدٍ خاصَّةً وللمسلمين عامَّةً
حضرتِ علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے فاطمہ! اٹھو اور اپنی قربانی کے پاس حاضری دو؛ کیونکہ اس کے خون سے جونہی پہلا قطرہ گریگا، تمہارے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے، نیز وہ جانور خون اور گوشت کے ساتھ لایا جائیگا اور پھر اسے ستر گنا کرکے تمہارے میزان میں رکھا جائے گا، حضرتِ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے( یہ عظیم الشان فضیلت سن کر بے ساختہ) عرض کیا : یا رسول اللہ! یہ فضیلت آلِ محمد کے لیے خاص ہے؛ کیونکہ وہ اس کارِ خیر کے زیادہ مستحق ہیں یا آلِ محمد اور تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ فضیلت آلِ محمد کے لیے بطورِ خاص ہے اور تمام مسلمانوں کے لیے بھی عام ہے، (١٠)
اس روایت سے دو عظیم فضلیت معلوم ہوئی، ایک یہ کہ خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی تمام گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں، دوسری یہ کہ قیامت کے دن اس جانور کا خون اور گوشت لایا جائیگا اور ستر گنا وزنی کرکے میزان میں رکھا جائے گا، قربانی کرنے کی یہ اتنی بڑی فضیلت ہے کہ ہر آدمی کو یہ عمل خوش دلی سے انجام دینا چاہیے، اگر کسی پر واجب نہیں پھر بھی ان فضیلتوں کو حاصل کرنے سے پیچھے نہیں رہنا چاہیئے،
ایک تیسری حدیث میں قربانی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
عن زيد بن أرقم – رضي الله عنه – قال قالَ أصحابُ رسولِ اللهِ ﷺ: يا رسولَ اللهِ ما هذِهِ الأضاحيُّ؟ قالَ: سُنَّةُ أبيكم إبراهيم قالوا: فما لَنا فيها يا رسولَ اللهِ؟ قالَ: بِكُلِّ شعرةٍ حسنةٌ قالوا: فالصُّوفُ؟ يا رسولَ اللهِ قالَ: بِكُلِّ شعرةٍ منَ الصُّوفِ حسَنةٌ.
حضرتِ زید بن ارقم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ قربانی کیا ہے؟ فرمایا : تمہارے باپ حضرتِ ابراھیم علیہ الصلاۃ والسلام کی سنت ہے، صحابۂ رام نے پوچھا، اس میں ہمارا کیا فائدہ ہے؟ جواب ملا کہ قربانی کے جانور کے ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملےگی، پوچھا یا رسول اللہ! جن جانوروں کے بدن پر اون ہوتے ہیں، اس اون کا کیا حکم ہے؟، نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اون کے ہر بال کے عوض ایک نیکی ملے گی
حدیثِ مذکور میں کس قدر عظیم ثواب بیان کیا گیا ہے کہ قربانی کردہ جانور کے ہر بال کے بدلے ثواب، اللہ اکبر کبیرا.
ربِ کریم امتِ مسلمہ کو قدردانی کی توفیق عطا فرمائے.

Tags

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114
Back to top button
Close