اسلامیات

عشق و وارفتگی کا پاکیزہ سفر

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی خادم تدریس جامعہ نعمانیہ، وی کوٹہ، آندھرا پردیش

اس فانی دنیا میں ہم انسان مسافر ہیں، ہم میں سے ہر ایک اپنی منزل (آخرت)کی طرف رواں دواں ہیں، اس سفر آخرت کے علاوہ بھی چرخ کہن کے نیچے ہمارے اسفار ہوتے رہتے ہیں ان اسفار میں ایک ایسا سفر بھی ہے جسے "عشق و وارفتگی” کا سفر کہا جاتا ہے اور وہ مبارک سفر "حج بیت اللہ”و "زیارت گنبد خضرا”کا سفرِ” حرمین شریفین ” ہے۔
دنیا میں یہ واحد ایسا سفر ہے جس کے لئے کارگاہ گِل کے ہر مومن و مسلم ماہئ بےآب کی طرح تڑپتا رہتا ہے، یہ ایسا پاکیزہ اور مقدس ترین سفر ہے کہ جس کی راہ کے خار بھی مسافران حرمین شریفین کے لئے پھول اور گلدستے ہوتے ہیں!
*کتنی تسکین ہے وابستہ تیرے نام کے ساتھ*
*نیند کانٹوں پہ بھی آجاتی ہے آرام کے ساتھ*
اور ایسا کیوں نہ ہو؟ وہ مسافر تو حقیقت میں "ضیوف الرحمٰن” (اللہ تعالیٰ کے مہمان)ہوتے ہیں، کتنا خوش نصیب ہیں وہ حضرات جو اللہ کے مہمان ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ تمام کلمہ گو کو دنیا و آخرت دونوں جہاں میں اپنا مہمان بننے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)
یہ "ضیوف الرحمٰن” بننے والے خوش نصیب ہر سال ہوتے آرہے ہیں، تالا بندی کے بعد امسال یہ پاکیزہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے، دنیا جہان سے مسلمانان عالم حرمین شریفین کے لئے پابہ رکاب ہوچکے ہیں،بحکم خدا وندی سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی صدائے حق پر لبیک کہنے والوں کا تانتا لگ چکا ہے، کسے پتہ تھا کہ بے آب و گیاہ”غير ذي زرع ” کی سرزمین سے ایک پکار پر اطراف عالم سے لوگ جوق در جوق "بیت اللہ” کے اردگرد جمع ہوتے رہیں گے، وہ صدائے ابراہیم علیہ السلام قرآنی الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں:
*وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْکَ رِجَالًا وَّ عَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ﴿ۙ الحج:27﴾*
اور لوگوں میں حج کا اعلان بھی کردو ، تمہارے پاس لوگ پیدل اور اونٹنیوں پر دور دراز راستے سے پہنچیں گے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حج کے اعلان کا حکم فرمایا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا : اے میرے پروردگار ! میری آواز کہاں تک پہنچے گی ؟ ارشاد ہوا : اعلان کرنا تمہارا کام ہے اورآواز پہنچانا میرے ذمہ ہے ؛ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ابو قُبَیس کی پہاڑی پر چڑھے اور آواز لگائی ، اے لوگو ! اللہ نے تم کو اس گھر کے حج کا حکم دیا ہے ؛ تاکہ وہ تمہیں اس کے ذریعہ جنت میں پہنچائے اور دوزخ کے عذاب سے نجات عطا فرمائے ؛ لہٰذا تم لوگ حج کیا کرو ، اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان تمام لوگوں تک یہ آواز پہنچادی ، جو آئندہ پیدا ہونے والے تھے ، انھوں نے جواب میں کہا : ’’ لبیک اللّٰہم لبیک ‘‘ تو جتنی روحوں نے جواب دیا اور جتنی بار جواب دیا ، وہ سارے لوگ اتنی ہی بار حج کی سعادت حاصل کریں گے۔ (آسان تفسیر قرآن مجید)
آج زیارت حرمین شریفین اور حج جیسے مہتم بالشان فریضے کی ادائیگی کے لئے جانے والوں کی سنہری فہرست میں انہیں پاک روحوں کا نام اندراج ہے جنہوں نے کل صدائے ابراہیم علیہ السلام پر لبیک کی صدا لگائی تھی، ربا! میرے اور تمام مسلمانان عالم کو بھی اس صدائے ابراہیم علیہ السلام پر لبیک کہنے والوں کی فہرست میں شامل فرما۔ آمین
اس مبارک سفر پر جانے والوں سے بس اتنا درخواست ہے کہ جب آپ وہاں اپنے لئے دعا مانگیں تو مسلمانان عالم اور خصوصاً ہندی مسلمانوں میں اس سیہ کار کو ضرور یاد رکھیں، کیونکہ وہاں ہر دعا مقبول ہوتی ہے کہنے والے نے سچ کہا ہے اور ہم بھی آپ سے یہی کہتے ہیں
*سنا ہوں ہر دعا عرفات میں مقبول ہوتی ہے*
*وہاں جب تم دعا مانگو ہمیں بھی یاد کرلینا*

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: