اسلامیات

عقیدہ نمبر ۱۔ اللہ کی ذات

مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن

اس عقیدے کے بارے میں 61 آیتیں اور 4 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
اس وقت کچھ لوگ ناستک، بن رہے ہیں، یعنی وہ کہتے ہیں کہ خدا ہے ہی نہیں، یہ دنیا خود ہی پیدا ہوئی ہے، نہ حساب کتاب ہے، اور نہ قیامت ہے، اس لئے ہم کو اللہ پر یقین کرنے اور اس کی عبادت کرنے کی ضرورت نہیں، یہ مصیبت آسمانی تمام مذہب والوں کے لئے ہے، اس لئے میں نے ان آیتوں کو پیش کیا جس سے معلوم ہوا کہ اللہ ہے، اسی نے پوری کائنات کو پیدا کیا ہے، اور وہی سب کو ختم کرے گا، اور قیامت لائے گا، اور سب کا حساب لیا جائے گا، اور جو ایمان کے ساتھ جائے گا اس کو جنت دی جائے گی،اور جو بغیر ایمان کے مرے گا اس کوجہنم میں داخل کیا جائے
اس کتاب میں میں نے اس پر بھی زور دیاہے کہ موت، حیات، شفا، بیماری، روزی، بیوی، اولاد، یہ سب چیزیں دینے والا صرف اللہ ہے، اس لئے صرف اسی کی عبادت کرنی چاہئے، اور صرف اسی سے تمام ضروریات مانگنی چاہئے
اللہ کا ذاتی نام،اللہ، ہے، باقی نام صفاتی ہیں
لفظ, اللہ، اللہ کا ذاتی نام ہے، اور اس کے علاوہ جتنے بھی نام ہیں وہ سب صفاتی نام ہیں، یعنی اللہ کی صفت کی وجہ سے وہ نام بنا ہے، مثلا, رزاق، اس لئے اللہ کا نام ہے کہ اللہ روزی دینے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ کا ذاتی نام استعمال ہوا ہے
1۔قل اللہ خالق کل شیء و ھو الواحد القہار۔ (آیت ۶۱، سورت الرعد ۳۱)
ترجمہ۔کہو کہ اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ تنہا ہی ایسا ہے کہ اس کا اقتدار سب پر حاوی ہے۔
2۔ سبحانہ ہو اللہ الواحد القہار۔(آیت ۴، سورت الزمر ۹۳)
ترجمہ۔ اللہ پاک ہے، وہ ایک اور زبردست اقتدار کا مالک ہے!
ان دونوں آیتوں میں اللہ کے ذاتی نام استعمال ہوئے ہیں،
ان کے علاوہ اور بہت سی آیتیں ہیں جن میں اللہ کا ذاتی نام استعمال ہوا ہے
اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا
اللہ اس ذات کو کہتے ہیں جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیں گے، اس کی کوئی ابتداء نہیں ہے اور نہ اس کی کوئی انتہاہے۔
اس کی دلیل یہ آیت ہے
3۔ہُوَ الْأَوَّلِ و الآخر و الظاہر و الباطن و ھو بکل شیء علیم (آیت ۳، سورۃ الحدید:۷۵)ترجمہ،وہی اللہ اول بھی ہے، اور آخر بھی ہے، ظاہر بھی ہے، اور باطن بھی ہے اور وہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے
4۔کل شیء ہالک الا وجہہ۔ (آیت ۸۸، سورت القصص۸۲)
ترجمہ۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اللہ کی ذات کے

1۔حدیث میں ہے۔اللَّہُمَّ أَنْتَ الأَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ وَأَنْتَ الآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شیء،انت الظاہر فلیس فوقک شیء و انت الباطن فلیس دونک شیء) (مسلم شریف، باب الدعاء عند النوم، ص۹۷۱۱، نمبر:۳۱۷۲/ ۹۸۸۶)
ترجمہ۔ ائے اللہ آپ ہی اول ہیں، آپ سے پہلے کچھ بھی نہیں ہے، آپ آخر ہیں، آپ کے بعدکچھ نہیں ہے،آپ ظاہر ہیں آپ کے اوپر کچھ بھی نہیں ہے،آپ باطن ہیں آپ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے
ان آیتوں اور حدیث میں ہے کہ اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیں گے۔
اللہ کی ذات کبھی فنا نہیں ہوگی اور نہ اس کو موت آئے گی
اللہ کی ذات فنا سے پاک ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے۔،
5۔کل شیء ہالک الا وجہہ۔ (آیت ۸۸، سورت القصص۸۲)
ترجمہ۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اللہ کی ذات کے
6۔و توکل علی الحی الذی لا یموت۔ (آیت ۸۵، سورت الفرقان ۵۲)
ترجمہ۔ تم اس ذات پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے، جسے کبھی موت نہیں آئے گی
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ فنا اور موت سے پاک ہے
حیات کی چار قسمیں ہیں۔
]۱[ ایک اللہ کی حیات ہے، اس میں نہ فنا ہے اور نہ موت ہے، یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی
]۲[ حیات دنیوی ۔ یہ انسان اور جانور کی حیات ہے، انکی حیات ایک زمانے میں نہیں تھی، پھر اللہ کے پیدا کرنے سے ہوئی، اور پھر فنا ہو جائے گی، اور موت واقع ہو جائے گی۔
]۳[ حیات برزخی۔یہ قبر کی حیات ہے، اس کو حیات برزخی کہتے ہیں، یہ مرنے کے بعدشروع ہوتی ہے، اور قیامت تک رہے گی
]۴[ جنت اور جہنم کی حیات، یہ حیات جنت اور جہنم میں داخل ہونے کے بعد شروع ہو گی، اور ہمیشہ رہے گی،
ان سب کو حیات، کہتے ہیں، لیکن اس کی کیفیت میں بہت فرق ہے۔
اللہ کی طرح کوئی چیز نہیں ہے
زمین اور آسمان میں جتنی بھی چیزیں ہیں، ان میں سے کوئی بھی چیز اللہ کی ذات، یا اس کی صفات کی طرح نہیں ہیں، کیونکہ اللہ کی ذات واجب الوجود ہے، اور دنیا کی ساری چیزیں فانی ہیں، اس کی ذات اور صفات کی طرح کوئی چیز کیسے ہو سکتی ہے
اللہ کی طرح کوئی چیز نہیں، اس کی دلیل یہ آیت ہے
7۔لیس کمثلہ شیء وھو السمع البصیر۔(آیت ۱۱، سورت الشوری۲۴)
ترجمہ۔ کوئی چیز اللہ کے مثل نہیں ہے، اور وہی ہے جو ہر بات کو سنتا ہے، سب کچھ دیکھتا ہے
8۔لم یکن لہ کفوا احد۔ (آیت ۴،سورت اخلاص ۲۱۱)
ترجمہ۔ اور اللہ کے جوڑ کا کوئی بھی نہیں ہے
9۔اذ تأمروننا ان نکفر باللہ و نجعل لہ اندادا۔ (آیت ۳۳، سورت سبا ۴۳)
ترجمہ۔ جب تم تاکید کرتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کا معاملہ کریں اور اس کے ساتھ شریک مانیں
10۔فلا تجعلوا للہ اندادا و انتم تعلمون۔ (آیت ۲۲، سورت البقرۃ۲)
ترجمہ۔ اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤجب کہ تم یہ سب باتیں جانتے ہو
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ کی طرح کوئی چیز نہیں ہے
اللہ کی نہ اولاد ہے، نہ وہ کسی سے پیدا ہواہے
، اور نہ اس کے برابر کوئی ہے
اس لئے کسی کو اللہ کے برابر سمجھنا شرک ہے اس سے بہت بچنا چاہئے۔
عیسائیوں کا خیال ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں، مشرکین مکہ کہا کرتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں،لیکن قرآن نے بتایا کہ اللہ کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے،وہ بے نیاز ہے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں۔
11۔ قل ہو اللہ احد اللہ الصمد، لم یلد و لم یولد، ولم یکن لہ کفوا احد۔ (آیت ۱۔۳، سورت اخلاص۲۱۱)۔ترجمہ۔ آپ کہہ دیجئے کہ، اللہ ہر لحاظ سے ایک ہے، اللہ ہی ایسا ہے کہ سب اس کے محتاج ہیں، نہ کوئی اولاد ہے، اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور اس کے جوڑ کا کوئی بھی نہیں
12۔سبحانہ ان یکون لہ ولد لہ ما فی السماوات و ما فی الارض۔ (آیت ۱۷۱، سورت النساء ۴) ترجمہ۔ وہ اس بات سے باکل پاک ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے۔
13۔قالوا اتخذ اللہ ولدا سبحانہ ھو الغنی لہ ما فی السماوات و ما فی الارض۔ (آیت ۸۶، سورت یونس ۰۱)
۔ترجمہ۔ کچھ لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ اولاد رکھتا ہے، پاک ہے اس کی ذات وہ ہر چیز سے بے نیاز ہے
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ سے نہ کوئی پیدا ہوا ہے، اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا ہے، اور نہ اس کاکوئی مثل ہے
اللہ کو نہ نیند آتی ہے، اور نہ نیند انکے مناسب ہے۔
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
14۔اللہ لا الہ الا ہو الحی القیوم لا تأخذہ سنۃ و لا نوم (آیت ۵۵۲، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے جو ہمیشہ زندہ ہے، جو پوری کائنات سنبھالے ہوا ہے، جس کو نہ کبھی اونگھ لگتی ہے اور نہ نیند آتی ہے
2۔حدیث میں ہے۔ ان اللہ لا ینام و لا ینبغی لہ ان ینام۔ (مسلم شریف، باب فی قولہ علیہ السلام ان اللہ لا ینام، ص ۱۹، نمبر ۹۷۱/ ۵۴۴)
ترجمہ۔ اللہ سوتا نہیں ہے، اور اس کے لئے نیند مناسب بھی نہیں ہے
اس آیت اور حدیث میں ہے کہ اللہ کو نیند نہیں آتی، اور یہ اس کے لئے مناسب بھی نہیں ہے
اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
15۔الم تعلم ان اللہ علی کل شیء قدیر(آیت ۶۰۱، سورۃ البقرۃ ۲)۔
ترجمہ۔ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
16۔للہ ملک السماوات و الارض و ما فیہن و ھو علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۰۲۱، سورت المائدہ ۵)۔ترجمہ۔تمام آسمانوں اور زمین اور جو ان میں ہیں وہ سب اللہ ہی کی ملکیت میں ہیں، اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے
17۔این ما تکونو یأت بکم اللہ جمیعا ان اللہ علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۸۴۱، سورت البقرۃ ۲)۔ترجمہ تم جہاں بھی ہو گے اللہ تم سب کو اپنے پاس لے آئیگا، یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے
18۔فیغفر لمن یشاء و یعذب من یشاء و اللہ علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۴۸۲، سورت البقرۃ ۲) ترجمہ۔ اللہ جسکو چاہے گا اس کو معاف کر دے گا، اور جس کو چاہے گا عذاب دے گا، اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے
19۔و یعلم ما فی السماوات و ما فی الارض و اللہ علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۹۲، سورت آل عمران ۳) ترجمہ۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہر چیز کو جانتا ہے، اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
20۔و للہ ملک السماوات و الارض و اللہ علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۹۸۱، سورت آل عمران ۳)
ترجمہ۔ آسمانوں اور زمین کی سلطنت صرف اللہ کی ہے اور اللہ ہر چیز پرمکمل قدرت رکھتا ہے
اس طرح ۰۴ آیتوں میں فرمایا ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
21۔ذالکم اللہ ربکم لا الہ الا ھو خالق کل شیء فأعبدوہ۔(آیت ۲۰۱، سورت الانعام ۶)
ترجمہ۔ یہ اللہ ہے جو تم کو پالنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے، اس لئے اسی کی عبادت کرو۔
22۔قل اللہ خالق کل شیء و ھو الواحد القہار۔ (آیت ۶۱، سورت الرعد۳۱)
ترجمہ۔ کہہ دو صرف اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے، اور تنہا وہی ہے جن کا اقتدار سب پر حاوی ہے
23۔ذالکم اللہ ربکم خالق کل شیء لا الہ الا ہو۔(آیت ۲۶، سورت غافر ۰۴)
ترجمہ۔ یہ اللہ ہے جو تم کو پالنے والا ہے،وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے،
ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے اس لئے اللہ ہی سے اولاد مانگنا چاہئے،کسی پیر یافقیر سے نہیں مانگنا چاہئے، یہ شرک ہے اور اللہ تعالی اس سے ناراض ہوتے ہیں

اللہ تمام جہانوں کا مالک ہے
اس کی دلیل یہ آیتیں ہیں
24۔و للہ ملک السماوات و الارض و اللہ علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۹۸۱، سورت آل عمران ۳)
ترجمہ۔ تمام آسمانوں اور زمین کی ملکیت اللہ ہی کے لئے ہے، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
25۔و للہ ملک السماوات و الارض و ما بینہما۔ (آیت۷۱، سورت المائدہ۵)۔ ترجمہ۔ تمام آسمانوں اور زمین، اور جو ان دونوں کے درمیان ہیں اس کی ملکیت اللہ ہی کے لئے ہے،
26۔و للہ ملک السماوات و الارض و ما بینہما و الیہ المصیر۔ (آیت۸۱، سورت المائدہ۵)
ترجمہ۔ تمام آسمانوں اور زمین، اور جو ان دونوں کے درمیان ہیں اس کی ملکیت اللہ ہی کے لئے ہے، اور اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے
27۔سبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیء و الیہ ترجعون۔ (آیت ۳۸، سورت یٓس۶۳)
ترجمہ۔ پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ تمام چیزوں کی ملکیت ہے، اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے
ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ اللہ تمام چیزوں کا مالک ہے۔
حشر کا دن بہت بڑ ا دن ہے، اللہ اس دن کا بھی مالک ہے
اس کی دلیل یہ آیتیں ہیں ۔
28۔ مالک یوم الدین۔ (آیت ۳، سورت الفاتحہ ۱)
ترجمہ۔ جو بدلے کے دن کا مالک ہے
29۔قولہ الحق ولہ الملک یوم ینفخ فی الصور۔ (آیت۳۷، سورت الانعام ۶)
ترجمہ۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن بادشاہی اسی کی ہو گی
ان آیتوں میں ہے کہ قیامت کے دن کا مالک اللہ ہی ہے
اللہ جو ہر، عرض، جسم اور کیفیت سے پا ک ہے
اللہ جو ہر، عرض، جسم اور کیفیت سے پا ک ہے، کیونکہ یہ باتیں مخلوقات کے لئے ہیں، اور اللہ واجب الوجودہے، اس لئے وہ ان صفات سے پاک ہے ۔
اس کے لئے یہ آیت ہے
30۔لیس کمثلہ شیء وھو السمع البصیر۔(آیت ۱۱، سورت الشوری۲۴)
ترجمہ۔ کوئی چیز اس کے مثل نہیں ہے، اور وہی ہے جو ہر بات سنتا ہے، سب کچھ دیکھتا ہے
اس آیت میں ہے کہ اللہ کی طرح کوئی چیز نہیں ہے

اللہ تعالی جہت، اور مکان سے پاک ہے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
31۔ الا انہ بکل شیء محیط۔ (آیت ۴۵، سورت فصلت ۱۴)
ترجمہ۔ سن لو اللہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے
32۔و کان اللہ بکل شیء محیطا۔ (آیت ۶۲۱، سورت النساء ۴)
ترجمہ۔ اور اللہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے، اس لئے جہت کو بھی گھیرے ہوا ہے، اس لئے اللہ کے لئے کوئی جہت نہیں ہے۔
اللہ ہی ہر قسم کے تعریف کے لائق ہیں
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
33۔الحمد للہ الذی لہ ما فی السموات و ما فی الارض و لہ الحمد فی الآخرۃ و ہو الحکیم الخبیر۔ (آیت ۱، سورت سباء ۴۳)
ترجمہ۔ تمام تعریف اس اللہ کی ہے جس کی صفت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے، اور آخرت میں بھی تعریف اسی کی ہے، اور وہی ہے جو حکمت کا مالک ہے مکمل طور پر خبر رکھنے والا
34۔لہ ما فی السموات و ما فی الارض و ان اللہ لہو الغنی الحمید۔ (آیت ۴۶، سورت الحج ۲۲)
ترجمہ۔ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ہے، اور یقین رکھو کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو سب سے بے نیاز ہے بذات خود تعریف کے قابل ہے
35۔ و اعلموا ان اللہ غنی حمید۔ (آیت ۷۶۲،سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ اور یاد رکھو کہ اللہ ایسا بے نیاز ہے کہ ہر قسم کی تعریف اسی کی طرف لوٹتی ہے
36۔للہ ما فی السموات و ما فی الارض ان اللہ لہو الغنی الحمید۔ (آیت ۶۲، سورت لقمان ۱۳)
ترجمہ۔ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ہے، اور یقین رکھو کہ اللہ ہی وہ ذات ہے جو سب سے بے نیاز ہے بذات خود تعریف کے قابل ہے
ان آیتوں میں ہے کہ تمام تعریفیں صرف اللہ ہی کی ہیں
اللہ جھوٹ بولنے سے پاک ہے
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
37۔ وعد اللہ حقا و من اصدق من اللہ قیلا۔ (آیت ۲۲۱، سورت النساء ۴)
ترجمہ۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اللہ سے زیادہ بات کا سچا کون ہو سکتا ہے؟
38۔و من اصدق من اللہ حدیثا۔ (آیت ۷۸، سورت النساء ۴)
ترجمہ۔ اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ بات کا سچا ہو؟
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ سچا ہی سچا ہے، اس میں جھوٹ کا کوئی تصور نہیں ہے
کچھ لوگوں نے یہ منطقی بحث چھیڑ دی ہے کہ جھوٹ بولنا بھی ایک چیز ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے تو کیا اللہ جھوٹ پر بھی قادر ہے؟، اور بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر یہ بھی ایک چیز ہے، اس لئے کہہ دیا کہ اللہ جھوٹ پر بھی قادر ہے، لیکن بولتے نہیں ہیں۔
لیکن یہ بحث بھی منطقی ہے، اور جواب بھی منطقی ہے، صحیح بات یہ ہے کہ اللہ کی ذات ایسی ہے کہ اس میں نقائص کا تصور بھی نہیں ہے، اس لئے جھوٹ ہو یا نقائص کی کوئی اور چیز، اللہ ان تمام سے پاک ہیں۔یہ تو انسان اور جنات کا خاصہ ہے کہ اس میں اچھائی بھی ہے، اور نقائص بھی ہیں۔
اللہ ہر چیز کا سننے والا ہے، اور ہر چیز کو جاننے والا ہے
اللہ کے علاوہ کوئی ایسی ذات نہیں ہے جو ہر چیز کو سننے والی، اور ہر چیز کو جاننے والی ہو۔
ہندوؤں کا اعتقاد یہ ہے کہ ان کا بت انکی دعا کو سنتا ہے، اور اس کی حالت کو جانتا ہے، اسی لئے وہ بتوں کے سامنے اپنی ضرورت پیش کرتے ہیں، اور اس سے حاجت مانگتے ہیں،
مسلمان کو ایسا ہر گز نہیں کرنا چاہئے، یہ مدد طلب کرنے میں شرک ہے
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
39۔ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ (آیت ۷۲۱، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ ائے ہمارے رب ہماری خدمت قبول کر لے، صرف توہی بہت سننے والا، بہت جاننے والا ہے
40۔قل اتعبدون من دون اللہ ما لا یملک لکم ضرا و لا نفعا و اللہ ہو السمیع العلیم۔ (آیت۶۷، سورت المائدہ ۵)
۔ ترجمہ۔ائے پیغمبر ان سے کہو! کہ کیا اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو، جو نہ نقصان کا مالک ہے، اور نہ نفع کا مالک ہے، صرف اللہ ہی ہر بات کو سننے والا، اور ہر بات کو جاننے والا ہے
41۔قال ربی یعلم القول فی السماء و الارض و ہو السمیع العلیم۔ (آیت ۴، سورت الانبیاء ۱۲) ترجمہ۔پیغمبر نے کہا، آسمان اور زمین میں جو کچھ کہا جاتا ہے، میرا رب اس سب کو جانتا ہے، وہی بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے
42۔و الذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء ان اللہ ہو السمیع البصیر۔ (آیت ۰۲، سورت غافر ۰۴) ترجمہ۔ اللہ کے علاوہ جس کو تم پکارتے ہو وہ کچھ فیصلہ نہیں کر سکتا، صرف اللہ ہی بہت سننے والا بہت جاننے والا ہے
اللہ کی ذات بلند ہے، اورعظمت والی ہے
اللہ کی ذات بہت بلند ہے، اور بہت عظمت والی ہے، اس کی بڑائی کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے، یہ اعتقاد رکھنا چاہئے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
43۔و لا یودہ حفظہما و ہو العلی العظیم۔ ( آیت۵۵۲، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ اور زمین آسمان دونوں کی نگہبانی سے اللہ کو ذرا بھی بوجھ نہیں ہوتا، اور وہ بہت ہی بلند، اور عظمت والا ہے
44۔لہ ما السموات و ما فی الارض و ہو العلی العظیم۔ (ٓایت ۴، سورت الشوری ۲۴)
ترجمہ۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے،، اور وہ بہت ہی بلند، اور عظمت والا ہے
45۔و ان ما یدعون من دونہ ھوالباطل و ان اللہ ہو العلی الکبیر۔(آیت ۲۶، سورت الحج ۲۲)
ترجمہ۔ اور اللہ کے علاوہ جنکو بھی تم پکارتے ہو سب باطل ہیں، اور اللہ ہی کی شان اونچی ہے، رتبہ بھی بڑا ہے
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ کی ذات بہت بلند ہے، اور بہت عظمت والی ہے۔
اس لئے صرف اللہ ہی سے مانگنا چاہئے، اور اسی کی عبادت کرنی چاہئے
صرف اللہ ہی روزی دینے والا ہے
اس لئے اللہ کے علاوہ کسی سے روزی نہیں مانگنی چاہئے
ان آیتوں میں اس کی دلیل ہے
46۔ ان اللہ ھو الرزاق ذو القوۃ المتین۔ (آیت۸۵، سورت الذاریات ۱۵)
ترجمہ۔ یقینا اللہ ہی روزی دینے والا ہے، مستحکم قوت والا ہے
47۔ اللہ یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر۔ (آیت۶۲، سورت الرعد۳۱)
ترجمہ۔ جس کے لئے چاہتا ہے اللہ اس کی روزی میں وسعت دے دیتا ہے، اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگی کر دیتا ہے۔
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ ہی روزی دینے والا ہے، کسی اور کو اس کا اختیار نہیں ہے، اس لئے اللہ کے علاوہ کسی اور سے روزی نہیں مانگنی چاہئے۔
اللہ کے علاوہ کسی اور سے روزی نہیں مانگنی چاہئے
بعض غیر مسلموں کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ نے بعض ہستی کو روزی دینے کا مالک بنایا ہے، اس لئے وہ اس کی پوجا کرتے ہیں، اور اس سے روزی مانگتے ہیں، اور اپنی حاجت مانگتے ہیں
اللہ فرماتے ہیں کہ روزی دینے کا مالک خود میں ہوں، میں نے کسی کو روزی دینے کا مالک نہیں بنایا ہے، اس لئے مجھ سے ہی روزی مانگنا چاہئے
اس کے لئے یہ آیتیں یہ ہیں۔
48۔ان الذین تعبدون من دون اللہ لا یملکون لکم رزقا فابتغوا عند اللہ الرزق و اعبدوہ۔ (آیت ۷۱، سورت العنکبوت۹۲)
ترجمہ۔ اللہ کے علاوہ جن جن کی تم عبادت کرتے ہو وہ تمہیں رزق دینے کا اختیار نہیں رکھتا، اس لئے اللہ ہی کے پاس روزی تلاش کرو، اور اسی کی عبادت کرو
49۔یعبدون من دون اللہ ما لا یملک لہم رزقا من السموات و الارض شیئا و لا یسطیعون۔ (آیت ۳۷، سورت النحل ۶۱)
ترجمہ۔ اور یہ اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کو آسمانو ں اور زمین میں سے کسی طرح کے روزی دینے کا کوئی اختیار نہیں ہے، اور نہ اختیار رکھ سکتی ہے
اس آیت میں ہے کہ زمین اور آسمان میں اللہ کے علاوہ کوئی روزی دینے کا نہ مالک ہے اور نہ وہ روزی دے سکتا ہے۔
اس لئے اللہ کے علاوہ کسی ولی، یا نبی سے، یا پیر، فقیر سے روزی نہیں مانگنی چاہئے
اللہ کے علاوہ کوئی بھی کسی تکلیف کو دور کرنے کی قدرت نہیں رکھتا
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
50۔وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ہو۔ (آیت ۷۱، سورت الانعام ۶)
ترجمہ۔ اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اس کے سوا اسے دور کرنے والا کوئی نہیں ہے
51۔ فلا یملکون کشف الضر و لا تحویلا۔ (آیت ۶۵، سورت الاسراء۷۱)
ترجمہ۔ جنکو تم نے اللہ کے سوا معبود سمجھ رکھا ہے، نہ وہ تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ اس کو بدلنے کے مالک ہیں
52۔قل لا املک لنفسی نفعا و لا ضرا الا ما شاء اللہ۔(آیت ۸۸۱، سورت الاعراف۷)
ترجمہ۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنے لئے نقصان اور نفعے کا بھی مالک نہیں ہوں، ہاں اللہ جو چاہے
53۔قل لا املک لنفسی ضرا و لا نفعاالا ما شاء اللہ۔(آیت ۹۴، سورت یونس ۰۱)
ترجمہ۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنے لئے نقصان اور نفعے کا بھی مالک نہیں ہوں، ہاں اللہ جو چاہے
جب نبی کو بھی خود انکے لئے نفع اور نقصان کا اختیار نہیں دیا تو دوسروں کو کون سا اختیار ہو گا
54۔و ما بکم من نعمۃ فمن اللہ ثم اذا مسکم الضرفالیہ تجأرون۔(آیت ۳۵، سورت النحل ۶۱)۔ترجمہ۔اور تم کو جو نعمت بھی حاصل ہوتی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہوتی ہے، پھر جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی سے فریاد کرتے ہو
ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ اللہ کے علاوہ کوئی اور تکلیف دور نہیں کر سکتا۔
اس لئے کسی اور سے تکلیف دور کرنے کی التجا نہیں کرنی چاہئے
صرف اللہ ہی بچہ دینے والا ہے
اولاد دینا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لئے کسی اور سے اولاد نہیں مانگنی چاہئے، یا کسی قبر، یا پیر، یا دیوی دیوتا کے پاس اس کو مانگنے نہیں جانا چاہئے
ان آیتوں میں اس کا ثبوت ہے
55۔للہ ملک السموات و الارض یخلق ما یشاء یہب لمن یشاء اناثا و یہب لمن یشاء الذکور، او یزجھم ذکرانا و اناثا و یجعل من یشاء عقیما انہ علیم قدیر۔ (آیت ۰۵، سورت الشوری ۲۴)
ترجمہ۔ سارے آسمانوں اور زمین کی ملکیت اللہ ہی کے لئے ہے، وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، یا پھر ملا جلا کر لڑکے بھی دیتا ہے، اور لڑکیاں بھی دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے، یقینا وہ جاننے والا ہے اور قدرت والا ہے
اس آیت میں ہے کہ اللہ ہی اولاد دیتا ہے
56۔ فلما اثقلت دعوا اللہ ربھما لئن آتیتنا صالحا لنکونن من الشاکرین فلما آتا ہما صالحا جعلا لہ شرکاء فیما آتاہم، فتعٰلی اللہ عما یشرکون أیشرکون ما لا یخلق شیئا و ہم یخلقون، و لا یستطیعون لہم نصرا و لا انفسہم ینصرون۔ (آیت ۰۹۱۔۲۹۱،سورت الاعراف ۷)
ترجمہ۔ پھر جب وہ بوجھل ہو گئی تو میاں بیوی دونوں نے اپنے رب سے دعا کی کہ اگر تو نے ہمیں تندرست اولاد دی تو ہم ضرور بالضرور تیرا شکر ادا کریں گے، لیکن جب اللہ نے اس کو ایک تندرست بچہ دے دیا تو ان دونوں نے اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت میں اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھرانا شروع کر دیا، حالانکہ اللہ ان کی مشرکانہ باتوں سے کہیں بلند اور بر تر ہے ، کیا وہ ایسی چیزوں کو اللہ کے ساتھ خدائی میں شریک مانتے ہیں جو کوئی چیز پیدا نہیں کرتے بلکہ خود انکو پیدا کیا جاتا ہے؟، اور جو نہ ان لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں، اور نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں
اس آیت میں ہے کہ اللہ ہی اولاد دیتا ہے، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جب بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو انسان سمجھتا ہے کہ دوسری دیوی دیوتا نے دیا، یا دوسرے ولی یا فقیر نے دیا اور اس کی پوجا کرنے لگتا ہے، اور اس کو شریک ٹھہرا لیتا ہے
57۔ھو الذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء لا الہ الا ھو العزیز الحکیم۔ (آیت ۶، سورت آل عمران ۳)
ترجمہ۔ صرف خدا ہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ زبردست قدرت کا مالک ہے، اعلی درجے کی حکمت کا بھی مالک ہے
58۔ و الذین یدعون من دونہ لا یقضون بشیء ان اللہ ہو السمیع البصیر (آیت ۰۲، سورت غافر ۰۴)۔ترجمہ۔ اور اللہ کو چھوڑ کر جنکو یہ پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتے، یقینا اللہ ہی ہے جو ہر بات کو سنتا ہے، سب کچھ دیکھتا ہے
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ ہی دعا قبول کرنے والے ہیں، اور اللہ ہی اولاد دینے والے ہیں
بعض عورتیں اللہ کے علاوہ سے بچہ مانگتی ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے، اللہ ہی نے اس عورت کو پیدا کیا ہے، اور اللہ ہی بچہ دے گا، اسی سے مانگنا چاہئے، بعض سادھو ایسے موقع پر شرک تک کروالیتا ہے، اور غیروں کی پوجا کروا لیتا ہے، اس سے بچنا چاہئے۔
اللہ ہی شفا دیتا ہے
آدمی علاج کر سکتا ہے، لیکن شفا دینے کا اختیار صرف اللہ کو ہے، اس لئے صرف اللہ ہی سے شفا مانگے
کسی پیر یا ولی کو شفا دینے کا اختیار نہیں ہے، اس لئے ان سے شفا نہیں مانگنی چاہئے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں ۔
59۔و اذا مرضت فہو یشفین۔ (آیت ۰۸، سورت الشعراء۶۲)
ترجمہ۔ اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو صرف وہی مجھے شفا دیتا ہے
60۔وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ہوا۔ (آیت ۷۱، سورت الانعام ۶)
ترجمہ۔ اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اس کے سوا اسے دور کرنے والا کوئی نہیں ہے
61۔ فلا یملکون کشف الضر و لا تحویلا۔ (آیت ۶۵، سورت الاسراء۷۱)
ترجمہ۔ جنکو تم نے اللہ کے سوا معبود سمجھ رکھا ہے، نہ وہ تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ اس کو بدلنے کے مالک ہیں
اس کے لئے احادیث یہ ہیں
3۔عن عائشۃ قالت کان رسول اللہ ﷺ اذا اشتکی منامن انسان مسحہ بیمینہ ثم قال أذہب الباس رب الناس و اشف انت الشافی لا شفاء الا شفائک شفاء لا یغادر سقما۔ (مسلم شریف، کتاب السلام، باب استحباب رقیۃ المریض، ص۲۷۹، نمبر۱۹۱۲ /۷۰۷۵)
ترجمہ۔ ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا تو حضور اپنے دائیں ہاتھ سے اس کوچھوتے، پھر یہ دعا پڑھتے، انسان کے رب تکلیف کو دور کردیں، تو ہی شفا دینے والا ہے، اس لئے شفا دے دے، صرف تیری ہی شفا ہے، ایسی شفا جو بیماری کو نہ چھوڑے۔
4۔ عن عبد العزیز قال دخلت انا و ثابت علی انس بن مالک، قال ثابت یا ابا حمزۃ اشتکیتُ فقال انس: ألا أرقیک برقیۃ رسول اللہ ﷺ؟قال بلی، قال اللہم رب الناس مذہب الباس، اشف انت الشافی لا شافی الا انت، شفاء لا یغادر سقما۔ (بخاری شریف، باب رقیۃ النبی ﷺ، ص ۴۱۰۱، نمبر ۲۴۷۵)
ترجمہ۔ حضرت عبد العزیز ؒ فرماتے ہیں کہ میں اور ثابت ؓ حضرت انس بن مالک ؓ کے پاس آئے، حضرت ثابت نے کہا ائے ابو حمزہ میں بیمار ہوں، تو حضرت انس ؓ نے فرمایا کہ میں حضور ؐ کی تعویذ آپ پر نہ پڑھوں، حضرت ثابت ؒ نے فرمایا، ہاں!، حضرت انس ؓ نے کہا۔ائے انسانوں کے رب تکلیف دور کرنے والے، شفا دے دے، شفا دینے والا صرف تو ہی ہے، ایسی شفا جو بیماری کو نہ چھوڑے۔
اس دونوں حدیثوں میں ہے کہ شفاء دینے والی ذات صرف اللہ ہے،، اس لئے کسی اور سے شفاء نہیں مانگنی چاہئے،
اس وقت بہت سے لوگ شفا مانگنے کے لئے دیوی، دیوتاؤں، اور نہ جانے کیسے کیسے لوگوں کے پاس جاتے ہیں، اور وہ چکما دیکر پیسہ بھی لوٹتے ہیں، اور ایمان بھی خراب کرتے ہیں، اس سے بچنا چاہئے
اس عقیدے کے بارے میں 61 آیتیں اور 4 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: