اسلامیات

عقیدہ نمبر 10 علم غیب صرف اللہ کو ہے

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 55 آیتیں اور 17 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
علم غیب صرف اللہ کو ہے، ہاں حضور ؐ کو غیب کی بہت ساری باتیں وحی کے ذریعہ ،یا معراج میں لیجا کر،یا جنت اور جہنم کو آپ کے سامنے کر کے بتائی گئیں ہیں جو کائنات میں سب سے زیادہ علم ہے،
اس لئے یوں کہا جائے کہ عالم الغیب صرف اللہ ہے، اور حضورؐ کو 7 طریقوں سے غیب کی بہت سی باتیں بتائی گئی ہیں جو اولین اور آخرین میں سے سب سے زیادہ ہیں
البتہ یہ علم جز ہے، کل علم نہیں ہے
ع بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
تمام نبیوں کو وحی کے ذریعہ غیب کی بہت ساری باتیں بتائی گئی ہیں، اسی لئے ان کو نبی کہا جاتا ہے، یعنی غیب کی باتیں بتانے والے۔
لیکن غیب کی باتیں بتانے کی وجہ سے وہ،عالم الغیب، نہیں ہو جاتے، کیونکہ اگر غیب کی باتیں بتانے سے وہ عالم الغیب ہو جائیں تو تمام نبیوں کو،عالم الغیب، ماننا پڑے گا،اس صورت میں تنہا حضور ؐ عالم الغیب نہیں رہیں گے۔۔ اس نکتہ پر غور کر لیں۔
علم غیب کی تین صورتیں ہیں
]۱[۔۔وہ علم غیب جو ذاتی ہے، اور ہر ہر چیز کو شامل ہے، اور ہمیشہ کے لئے شامل ہے، یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا، یہ علم لا انتہا ہے، اس کی کوئی حد نہیں ہے یہ علم غیب صرف اللہ کو ہے، کسی اور کو نہیں ہے۔ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
علم غیب اللہ کا علم ہے جس کی کوئی انتہاء نہیں ہے، اور حضور ﷺ کی تو انتہاء ہے، تو یہ بے انتہا والا علم حضور ؐ کو کیسے ہو سکتا ہے!
]۲[۔۔ علم غیب کی دوسری صورت یہ ہے کہ، غیب کی باتیں ہیں، غیب کی چیزیں ہیں، لیکن اللہ تعالی نے اپنے رسول کو بتائی۔ حضور ؐ کو اللہ تعالی نے جتنی باتیں بتائیں، وہ تو رسول اللہؐ کے لئے ثابت ہیں
یہ علم ایک تواللہ تعالی کا بتایا ہوا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ علم بعض ہے اللہ کا کل علم نہیں ہے
اس آیت میں ہے کہ غیب کی کچھ خبریں وحی کے ذریعہ سے آپ کو بتائی جا رہی ہے
۔ذالک من انباء الغیب نوحیہ الیک۔ (آیت ۴۴، سورت آل عمران ۳)
ترجمہ۔ یہ غیب کی کچھ خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعہ آپ کو دے رہے ہیں
]۳[۔۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ مثلا زید کے کھانے پینے، بیمار، شفا، اولاد، موت، حیات، نفع نقصان کا علم،کیا یہ علم حضور ؐ کو ہے؟
تو آگے 40 آیتیں اور 5 حدیثیں آرہی ہیں کہ یہ علم بھی اللہ کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے۔
]۱[۔۔وہ علم غیب جو ذاتی ہے، اور ہر ہر چیز کو شامل ہے
یہ علم غیب صرف اللہ تعالی کو ہے
]۱[۔۔ اللہ کا ذاتی علم غیب جو ہمیشہ کے لئے ہے، اور صرف اللہ ہی کو ہے،
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں۔
ان آیتوں میں حصر اور تاکید کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ علم غیب صرف اللہ کے پاس ہے
1۔ قل لا یعلم من فی السماوات والارض الغیب الا اللہ و ما یشعرون ایان یبعثون۔ ] آیت ۵۶، سورت النمل ۷۲)۔ترجمہ۔ آپ اعلان کر دیجئے کہ زمین اور آسمان میں اللہ کے سوا کسی کو علم غیب نہیں ہے، اور لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کب دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
2۔و عندہ مفاتیح الغیب لا یعلمہا الا ہو۔ (آیت۹۵، سورۃ الانعام۶)
ترجمہ۔اللہ ہی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، اللہ کے علاوہ ان کو کوئی نہیں جانتا۔
3۔وللہ غیب السماوات و الارض و الیہ یرجع الامر کلہ۔ (آیت ۳۲۱، سورت ھود۱۱)
ترجمہ۔ آسمان اور زمین میں جتنے پوشیدہ ہیں سب اللہ ہی کے علم میں ہیں، اور اسی کی طرف سارے معاملات لوٹائے جائیں گے۔
4۔تعلم ما فی نفسی و لا اعلم ما فی نفسک انک انت العلام الغیوب۔ (آیت ۶۱۱، سورت المائدۃ ۵)۔ترجمہ۔ میرے دل میں کیا ہے وہ آپ جانتے ہیں، اور میں آپ کی پوشیدہ باتوں کو نہیں جانتا،یقینا آپ کو تمام چھپی ہوئی باتوں کا پورا پورا علم ہے
نوٹ: یہاں انک اور انت سے حصر ہے کہ صرف تو ہی جانتا ہے، پھر علام مبالغے کا صیغہ ہے، کہ اللہ تعالی بہت جاننے والے ہیں، پھر غیوب بھی مبالغے کا صیغہ ہے کہ غیب کی ہر ہر چیز کو جاننے والے ہیں، اس لئے اس صفت کا مالک کوئی اور نہیں ہے۔
5۔لہ غیب السموات الارض۔ (آیت ۶۲، سورت الکہف ۸۱)
ترجمہ۔آسمانوں اور زمین کے ساری غیب کی باتیں اللہ ہی کے علم میں ہیں
6۔قل انما العلم عند اللہ و انما انا نذیر مبین۔ ( آیت۶۲، سورت الملک ۷۶)
ترجمہ۔ آپ اعلان کر دیجئے کہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اور میں تو صرف صاف صاف طریقے پر خبر دار کرنے والا ہوں
7۔قل لا یعلم من فی السماوات والارض الغیب الا اللہ۔ (آیت ۵۶، سورت النمل ۷۲)ترجمہ۔ آپ اعلان کر دیجئے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے علاوہ کسی کے پاس علم غیب نہیں ہے
8۔قالوا لا علم لنا انک انت علام الغیوب۔ (آیت ۹۰۱، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ۔ رسول کہیں گے، ہمیں کچھ علم نہیں ہے، غیب کی ساری باتوں کو جاننے والے تو صرف آپ ہی ہیں
9۔ان اللہ یعلم غیب السماوات و الارض واللہ بصیر بما تعملون۔ (آیت ۸۱، سورۃ الحجرات ۹۴)۔ترجمہ۔ اللہ آسمانوں اور زمین کے تمام چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے اچھی طرح دیکھ رہا ہے
10۔ان اللہ عالم الغیب السماوات و الارض انہ علیم بذات الصدور۔ (آیت ۸۳، سورت فاطر ۵۳)۔ترجمہ۔ اللہ آسمانوں اور زمین کے تمام چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے،بیشک وہ سینوں میں چھپی ہوئی باتوں کو خوب جانتا ہے۔
.11۔الم یعلموا ان للہ یعلم سرھم و نجواھم و ان اللہ علام الغیوب۔ (آیت ۸۷، سورت التوبۃ ۹)۔ترجمہ۔ کیا ان منافقوں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ اللہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو جانتا ہے اور یہ کہ غیب کی ساری باتوں کا پورا پورا علم ہے۔
12۔عالم الغیب و الشہادۃ ہو الرحمن الرحیم۔ (آیت ۲۲، سورت الحشر ۹۵)
ترجمہ، اللہ چھپی ہوئی اور کھلی باتوں کو جاننے والے ہیں وہی ہے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے
13۔عالم الغیب و الشہادۃ العزیز الحکیم۔ (آیت ۸۱، سورت التغابن۴۶)
ترجمہ۔، اللہ چھپی ہوئی اور کھلی باتوں کو جاننے والا ہے،وہی غالب ہے ، حکمت والا ہے۔
14۔الم یعلموا ان اللہ یعلم سرہم و نجوا ہم و ان اللہ علام الغیوب۔ (آیت۸۷، سورت التوبۃ۹)۔ترجمہ۔کیا ان منافقوں کو پتہ نہیں تھا کہ اللہ انکی تمام پوشیدہ باتوں اور سرگوشیوں کو جانتا ہے، اور یہ کہ انکو غیب کی سارتی باتوں کا پورا پورا علم ہے۔
15۔عالم الغیب و الشہادۃ وھو الحکیم الخبیر۔ (آیت۳۷، سورت الانعام۶)
ترجمہ۔، اللہ غائب اور حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے اور وہی بڑی حکمت والا ہے، پوری طرح با خبر ہے
16۔عالم الغیب الشہادۃ فتعالی عما یشرکون۔۔ (آیت ۲۹، سورت المومنون۳۲)
ترجمہ۔، اللہ غائب اور حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے، اس لئے وہ انکے شرک سے بہت بلند و بالا ہے
17۔عالم الغیب و الشہادۃ۔ (آیت ۶۴ سورت الزمر ۹۳)
ترجمہ۔، اللہ غائب اور حاضر ہر چیز کو جاننے والا ہے
18۔ثم تردون الی عالم الغیب و الشہادۃ فینبئکم بما کنتم تعملون۔۔ (آیت۸، سورت الجمعہ۲۶)۔ترجمہ۔،پھر تمہیں اس اللہ کی طرف لوٹایا جائے گا جسے تمام پوشیدہ اور کھلی باتوں کا پورا علم ہے، پھر وہ بتائے گا کہ تم کیا کچھ کیا کرتے تھے۔
19۔عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا۔۔ (آیت ۶۲، سورت الجن ۲۷)
ترجمہ۔ وہی اللہ سارے بھید جاننے والا ہے، چنانچہ وہ اپنے بھید پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔
20۔و للہ غیب السماوات الارض۔ (آیت ۷۷، سورت النحل ۶۱)
ترجمہ۔ آسمانوں اور زمین چھپی ہوئی باتوں کا علم صرف اللہ کو ہے
21۔تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک ما کنت تعلمھا انت و لا قومک من قبل ھذا۔ (آیت ۹۴، سورت ھود ۱۱).ترجمہ۔ یہ غیب کچھ باتیں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعہ بتا رہے ہیں، یہ باتیں نہ تم اس سے پہلے جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔
نوٹ: اس آیت میں اللہ خود فرما رہے ہیں کہ اے نبی تمہیں کچھ معلوم نہیں تھا، اور نہ آپ کی قوم کو معلوم تھا
اگر آپ کو علم غیب تھا تو تیئس سال میں قرآن کو آپ پر اتارنے کی ضرورت کیا تھا، وہ پہلے ہی سے آپ کو معلوم ہونا چاہئے
اس کی دلیل یہ آیت ہے۔
22۔انا نحن نزلنا علیک القرآن تنزیلا۔ (آیت۳۲، سورۃ الانسان ۶۷)
ترجمہ۔ آے پیغمبر! ہم نے ہی تم پر قرآن تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے
23۔و قرآنا فرقناہ لتقرأہ علی الناس علی مکث و نزلناہ تنزیلا۔ (آیت۶۰۱، سورۃ الاسراء۷۱)۔ترجمہ۔ اور ہم نے قرآن کے جدا جدا حصے بنائے تاکہ تم اسے ٹھہر ٹھہر کر لوگوں کے سامنے پڑھو، اور ہم نے اسے تھوڑا تھوڑا کرکے اتارا ہے۔
ان آیتوں میں ہے کہ آہستہ آہستہ آپ پر قرآن اتارا۔
ان 23 آیتوں میں ہے کہ علم غیب صرف اللہ کو ہے کسی اور کو نہیں ہے، اور وہی ہر چیز کو جانتا ہے، کسی اور کو یہ علم نہیں ہے جب ان آیتوں میں کسی اور کے لئے غیب ہونے کا صریح انکار ہے تو حضور ﷺ کے لئے علم غیب ثابت کرنا صحیح نہیں ہے
حضور ؐ سے با ضابطہ یہ اعلان کر وایا گیا کہ مجھے علم غیب نہیں ہے
اس کے لئے 8 آتیں یہ ہیں
24۔ قل لا یعلم من فی السماوات والارض الغیب الا اللہ و ما یشعرون ایان یبعثون۔ ] آیت ۵۶، سورت النمل ۷۲)
۔ترجمہ۔ آپ اعلان کر دیجئے کہ زمین اور آسمان میں اللہ کے سوا کسی علم غیب نہیں ہے، اور لوگوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہے کہ کب دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔
25۔قل لا اقول لکم عندی خزائن اللہ ولا اعلم الغیب۔ ( آیت ۰۵، سورت الانعام ۶)
ترجمہ۔ آے پیغمبر! ان سے کہو : میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ، کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں،اور نہ میں غیب کا پورا علم رکھتا ہوں ۔
26۔قل ما کنت بدعا من الرسل و ما ادری ما یفعل بی و لا بکم ان اتبع الا ما یوحی الی و ما انا الا نذیر مبین (آیت ۹، سورت الاحقاف۶۴)
۔ترجمہ ۔کہو کہ میں پیغمبروں میں سے کوئی انوکھا پیغمبر نہیں ہوں، مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، اور نہ معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، میں کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے
27۔و لا اقول لکم عندی خزائن اللہ و لا اعلم الغیب۔ (آیت ۱۳، سورت ہود ۱۱)
ترجمہ۔ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ، کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں،اور نہ میں غیب کی ساری باتیں جانتا ہوں۔
28۔قل انما الغیب للہ فانتظر انی معکم من المنتظرین۔ (آیت ۰۲، سورت یونس ۰۱)
ترجمہ۔ آپ ؐ کہہ دیجئے کہ غیب کی باتیں تو صرف اللہ کے اختیار میں ہیں، لہذا تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
29۔یسئلونک عن الساعۃ ایان مرساہا قل انما علمہا عند ربی لا یجلیہا لوقتہا الا ہوا۔ (آیت ۷۸۱، سورت الاعراف ۷)
ترجمہ۔ لوگ آپ ؐ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے، وہی اسے اپنے وقت پر کھول کر دیکھائے گا۔
30۔یسئلک الناس عن الساعۃ قل انما علمہا عنداللہ۔ (آیت ۳۶، سورت الاحزاب ۳۳)
۔ ترجمہ۔ لوگ آپ ؐ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہہ دیجئے کہ اس کا علم تو صرف میرے رب کے پاس ہے
31۔و لو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر و ما مسنی من لغوب۔ (آیت۸۸۱، سورۃ الاعراف ۷)
ترجمہ۔ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں اچھی اچھی چیزیں خوب جمع کرتا، اور مجھے کبھی کوئی تکلیف ہی نہیں پہنچتی
ان 8 آیتوں میں حضور ؐ سے یہ اعلان کروایا گیا ہے کہ،مجھے علم غیب نہیں ہے۔صرف اللہ کے پاس علم غیب ہے، تو پھر کیسے کہا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺ کو علم غیب ہے۔
حضور ﷺ سے اعلان کروایا گیا کہ میرے پاس جو علم ہے
وہ وحی کے ذریعہ سے ہے
میں اسی کی اتباع کرتا ہوں
ان 6 آیتوں میں حصر اور تاکید کے ساتھ ہے کہ میرے پاس جو بھی علم ہے وہ وحی کے ذریعہ ہے
32۔قل انما اتبع ما یوحی الی من ربی۔ (آیت ۳۰۲، سورت الاعراف ۷)
ترجمہ۔ آپ ؐ کہہ دیجئے میں تو صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر میرے رب کی جانب سے وحی کی جاتی ہے۔
33۔ان اتبع الا ما یوحی الی۔ (آیت ۰۵، سورت الانعام ۶)
ترجمہ۔میں تو صرف اس وحی کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے
34۔ان اتبع الا ما یوحی الی۔ (آیت ۵۱، سورت یونس ۰۱)
35۔ان اتبع الا ما یوحی الی و ما انا الا نذیر مبین (آیت ۹، سورت الاحقاف ۶۴)
36۔ و اتبع ما یوحی الیک۔ (آیت ۹۰۱، سورت یونس۰۱)
37۔ان ہو الا وحی یوحی۔ (آیت ۴، سورت النجم ۳۵)
ان 6 آیتوں میں حصر کے ساتھ حضور ؐ نے یہ بتایا کہ میرے پاس جو کچھ ہے وہ صرف وحی کے ذریعہ آیا ہوا ہے، میں اسی کی اتباع کرتا ہوں ، اس لئے علم غیب ثابت کرنے کے لئے بہت کچھ سوچنا ہو گا۔
اس کے باوجود علم غیب مانے تو اس کے لئے کوئی آیت ہو جس میں صراحت کے ساتھ یہ اعلان کیا گیا ہو کہ میں نے حضور ؐ کو تمام علم غیب عطائی طور پر دئے ہیں۔
ان پانچ باتوں کا علم کسی کو بھی نہیں ہے
اس آیت میں ہے کہ ان پانچ چیزوں کا علم تو اللہ کے علاوہ کسی کے پاس نہیں ہے۔
38۔ان اللہ عندہ علم الساعۃ و ینزل الغیث، و یعلم ما فی الارحام، و ما تدری نفس ما ذا تکسب غدا، و ما تدری نفس بای أرض تموت ان اللہ علیم خبیر۔(آیت ۴۳، سورۃ لقمان ۱۳) ترجمہ ۔ یقینا اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے،اور کسی متنفس کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا،، اور کسی متنفس کو یہ پتہ ہے انکو کس زمین میں موت آئے گی، بیشک اللہ ہر چیز کا مکمل علم رکھنے والا ہے، ہر بات سے پوری طرح با خبر ہے۔
اس آیت میں ہے کہ، ان پانچ چیزوں کا علم صرف اللہ کو ہے، کسی اور کو نہیں ہے
حضور سے اعلان کروایا گیا کہ، علم غیب ہوتا
تو مجھے کوئی نقصان ہی نہیں پہنچتا
39۔و لو کنت اعلم الغیب لاستکثرت من الخیر و ما مسنی من لغوب۔ (آیت۸۸۱، سورۃ الاعراف ۷) ۔ ترجمہ۔ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں اچھی اچھی چیزیں خوب جمع کرتا، اور مجھے کبھی کوئی تکلیف ہی نہیں پہنچتی۔
اس آیت میں ہے کہ،حضور ﷺسے کہلوا رہے ہیں کہ اگر مجھے علم غیب ہوتا تو خیر کی بہت سے چیزیں جمع کر لیتا، اور مجھے کوئی نقصان چھوتا بھی نہیں۔
حضور ؐسے اعلان کروایا گیا کہ، اللہ ہی کے پاس غیب کی کنجی ہے
اور صرف وہی غیب جانتا ہے
آیت یہ ہے
40۔و عندہ مفاتیح الغیب لا یعلمہا الا ہوا۔ (آیت۹۵، سورۃ الانعام۶)
ترجمہ۔اللہ ہی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، اللہ کے علاوہ ان کو کوئی نہیں جانتا۔
ان 40 چالیس آیتوں میں حضور ؐ یہ انکار کر رہے ہیں کہ مجھے علم غیب نہیں ہے تو پھر علم غیب کیسے ثابت کر دیا جائے۔
اور اگر عطائی طور پر علم غیب ہے تو ان آیتوں میں اس کا انکار نہیں ہو نا چاہئے۔
یا پھر کسی آیت میں صراحت کے ساتھ اس کا ذکر ہو کہ اللہ نے حضور ﷺ کو عطائی طور پر تمام علم غیب دیا ہے۔، جو تلاش کرنے کے بعد مجھے نہیں ملی۔
اور جن دو آیتوں سے علم غیب ثابت کرتے ہیں وہاں وحی کا ذکر موجود ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو وحی کے ذریعہ سے غیب کی بہت سی باتیں بتائی گئی ہیں۔
حضور ﷺ کوعلم غیب نہیں تھا،احادیث میں اس کا ثبوت
5 حدیثیں یہ ہیں
۔حضور ﷺ کی بیوی حضرت عائشہ ؓ پرمنافقین نے تہمت لگائی، جس کی وجہ سے تقریبا ایک ماہ تک حضور ؐ پریشان رہے، پھر حضرت عائشہ ؓ کی برأت میں سورہ نور کی آیتیں نازل ہوئیں تب حضور ؐ کو اطمینان ہوا۔ اگر حضور ؐ عالم الغیب تھے تو ایک ماہ تک پریشان ہونے کی ضرورت کیا تھی، آپ کو معلوم ہوجانا تھا کہ حضرت عائشہ بری ہیں۔ اس کے لئے حدیث یہ ہے۔
1۔عتبہ بن مسعود عن عائشہ ؓ رضی اللہ عنہا زوج النبی ﷺ حین قال لہا اہل الافک ما قالو۔۔۔۔و قد لبث شہرا لا یوحی الیہ فی شانی بشیء قالت فتشہد رسول اللہ ﷺ حین جلس ثم قال اما بعد یا عائشۃ انہ بلغنی عنک کذا کذا فان کنت بریءۃ فسیبرئک اللہ و ان کنت الممت بذنب فاستغفری اللہ و توبی الیہ….. و انزل اللہ تعالی(ان الذین جاؤ بالافک عصبۃ منکم ]آیت ۱۱، سورت النور ۸۱) (بخاری شریف، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، ص ۱۰۷، نمبر ۱۴۱۴/ مسلم شریف، کتاب التوبۃ، باب فی حدیث الافک و قبول التوبۃ، ص ۵۰۲۱، نمبر ۰۷۷۲/ ۰۲۰۷) حضرت عائشہ ؓ پر تہمت، اور انکی برأت کے بارے میں یہ بہت لمبی حدیث ہے۔ یہ اس کا مختصر ہے۔
ترجمہ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں، تہمت لگانے والوں نے جب کہا۔۔۔ایک مہینے تک میرے بارے میں کوئی وحی نہیں آئی، حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضور ؐ نے بیٹھ کر حمد و ثنا کی، پھر فرمایا، عائشہ!تمہارے بارے میں ایسی ایسی باتیں پہنچی ہیں، اگر تم بری ہو تو اللہ بری کر دیں گے، اور اگر تم نے گناہ کیا ہے تو اللہ سے معافی مانگ لو۔۔۔پھر اللہ نے یہ آیتیں اتاریں ]آ۱۱/س۸۱[ یقینا جو تہمت لگانے والے تھے وہ ایک جماعت تھی۔ الخ
اس حدیث میں دیکھیں کہ حضور ؐ کو اپنی چہیتی بیوی کے بارے بھی علم نہ ہو سکا کہ یہ بری ہیں یا نہیں اور ایک ماہ تک پریشان رہے۔ اگر آپ ؐ کو علم غیب ہوتا تو یہ پریشانی کیوں ہوتی۔
۔نماز جیسی اہم عبادت میں آپ بھول گئے، اور پھرفرمایا کہ میں بھی بھولتا ہوں، اور یہ بھی کہا کہ مجھے یاد دلا دیا کرو،اگر آپ عالم الغیب ہیں تو بھولنے کا کیا مطلب، پھر یاد کروانے کے لئے کیوں کہا۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور کو علم غیب نہیں تھا۔
اس کے لئے حدیث یہ ہے
2۔قال عبد اللہ صلی النبی ﷺ…..قال انہ لو حدث فی الصلوۃ شیء لنبأتکم بہ و لکن انما انا بشر مثلکم انسی کما تنسون فاذا نسیت فذکرونی۔ (بخاری شریف، کتاب الصلاۃ، باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان، ص ۰۷، نمبر ۱۰۴ / مسلم شریف، کتاب المساجد، باب السہو فی الصلاۃ والسجود لہ، ص ۲۳۲،نمبر ۲۷۵، / ۵۸۲۱)
ترجمہ۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ حضور ؐ نے نماز پڑھائی۔۔۔فرمایا اگر نماز میں کوئی تبدیلی ہوئی ہوتی تو میں تم لوگوں کو ضرور بتاتا، لیکن میں تمہاری طرح انسان ہوں، جس طرح تم لوگ بھولتے ہو میں بھی بھولتا ہوں، پس جب کبھی بھول جاؤں تو مجھے یاد دلا دیا کرو۔
اس حدیث میں ہے کہ میں بھول جاتا ہوں تو علم غیب کیسے ہوا۔
۔فیصلے جیسے اہم موقع پر ایک غیر سچے کو سچا مان لیں اور اس کے لئے فیصلہ بھی کر دیں، یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ غیب نہیں جانتے ہیں، ورنہ غیر سچے کو آپ ؐ سچا کیسے مان سکتے ہیں۔
3۔ان امہا ام سلمۃ زوج النبی ﷺ…..فخرج الیہم فقال: انما انا بشر و انہ یأتینی الخصم فلعل بعضکم ان یکون ابلغ من بعض فاحسب انہ صدق فاقضی لہ بذالک۔ (بخاری شریف، کتاب المظالم،باب اثم من خاصم فی باطل و ہو یعلمہ، ص ۶۹۳، نمبر ۸۵۴۲) ترجمہ۔ حضرت ام سلمہ سے روایت ہے۔۔۔ حضور ؐ لوگوں کے پاس آئے اور فرمایا میں ایک انسان ہوں، میرے پاس جھگڑے لیکر آتے ہیں، یہ بہت ممکن ہے کہ بعض دلیل پیش کرنے میں زیادہ ماہر ہو جس سے میں گمان کر لوں کہ یہ سچا ہے، اور اس کے لئے اس کا فیصلہ کردوں۔
، اس حدیث میں ہے کہ کبھی کسی کو اس کی باتوں سے سچا مان لیتا ہوں، تو پھر حضور کو علم غیب کیسے ہو گیا!۔
۔قیامت میں بھی حضور ﷺ کو علم غیب نہیں ہو گا، جس کی وجہ سے آپ ﷺ ایسے آدمی کو آپ مومن اور اپنا ساتھی سمجھ لیں گے جو بعد میں مومن نہیں رہے تھے ،
4۔حدیث یہ ہے۔ عن ابن عباس…..الا و انہ یجاء برجال من امتی فیوخذ بہم ذات الشمال فاقول یا رب أصیحابی فیقال انک لا تدری ما احدثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح و کنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم فیقال ان ہولاء لم یزالوا مرتدین علی اعقابہم منذ فارقتہم۔ (بخاری شریف، کتاب التفسیر، باب و کنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم۔ ص ۱۹۷، نمبر ۵۲۶۴/ مسلم شریف، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبینا ﷺ وصفاتہ، ص ۸۱۰۱، نمبر ۴۰۳۲/ ۶۹۹۵)
ترجمہ۔حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ۔۔۔قیامت میں میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے، انکے بد اعمالیوں نے اس کو گرفتار کر لیا ہوگا، میں ]حضور ؐ [ کہوں گا یہ میرے ساتھی ہیں، تو مجھ سے کہا جائے گا آپ کے بعد اس نے کیا کام کیا یہ آپ کو معلوم نہیں ہے، تو وہی بات کہوں گا جو ایک نیک بندے ] حضرت عیسی علیہ السلام [ نے کہی تھی ، آے اللہ جب آپ نے مجھے موت دی، تو آپ ہی اس پر نگراں رہے، پھر مجھ کو اطلاع دی جائے گی، کہ جب سے آپ ؐ ان لوگوں سے جدا ہوئے ہیں تو یہ اپنی ایڑیوں کے بل واپس لوٹ گئے تھے۔
شفاعت کبری کے وقت بھی آپ کو حمد یاد نہیں ہو گا،
اس وقت اللہ آپ کو حمد کا الہام کریں گے
5۔ اس کے لئے حدیث یہ ہے
5۔عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ یجمع اللہ تعالی الناس یوم القیامۃ۔۔۔فارفع رأسی فاحمد ربی بتحمید یعلمنیہ ربی۔ (مسلم شریف، کتاب الایمان،باب ادنی اہل الجنۃ منزلۃ فیھا، ص ۱۰۱، نمبر ۳۹۱/ ۵۷۴ / بخاری شریف، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی لما خلقت بیدی، ص ۵۷۲۱، نمبر ۰۱۴۷)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ لوگوں کو جمع کریں گے۔۔۔میں اپنا سر اٹھاؤں گا، پھر رب کی ایسی حمد کروں گا، جس کو اللہ مجھے سکھائیں گے
اس حدیث میں ہے کہ میں سجدے سے سر اٹھاؤں گا تو اللہ مجھے حمد کا الہام فرمائیں گے جس سے میں عجیب حمد کروں گا، جس سے معلوم ہوا کہ حضور ؐ کو علم غیب نہیں تھا۔
ان 5 حدیثوں سے معلوم ہوا کہ حضور ؐ کو علم غیب نہیں تھا، ہاں غیب کی کچھ باتوں کی آپ ؐکو خبر دی گئی ہے، جو اولین اور آخرین کے علم سے زیادہ ہے، یہ صحیح ہے۔
جو اللہ کے علاوہ کے لئے علم غیب مانے وہ کافر ہے
امام ابو حنیفہ ؒ کی رائے
امام ابو حنیفہ ؒ کی مشہور کتاب فقہ اکبر ہے، حضرت ملا علی قاری ؒنے اس کی شرح کی ہے، جس کا نام شرح فقہ اکبر ہے، اس میں ہے،کہ جو اللہ کے علاوہ کو عالم الغیب مانے وہ کافر ہے۔
شرح فقہ اکبرکی عبارت یہ ہے۔
ثم اعلم ان الانبیاء ﷺ لم یعلمواالمغیبات من الاشیاء الا ما علمہم اللہ تعالی احیانا۔
و ذکر الحنفیۃ تصریحا بالتکفیر باعتقاد ان النبی ﷺ یعلم الغیب لمعارضۃ قولہ تعالی،(قل لا یعلم من فی السماوات والارض الغیب الا اللہ۔ ] آیت ۵۶، سورت النمل ۷۲) کذا فی المسامرۃ۔ (شرح فقہ اکبر، مسئلۃ فی ان تصدیق الکاھن بما یخبر بہ من الغیب کفر، ص۳۵۲)
ترجمہ۔ پھر یہ جان لو کہ، انبیاء علیہم السلام غیب کی باتوں کو نہیں جانتے تھے، ہاں کبھی کبھار جتنا بتا دیا جاتا تھا اتنا جانتے تھے۔
حنفیہ نے اس بات کو صراحت سے لکھا ہے کہ جو اعتقاد رکھے کہ حضور ﷺ غیب کو جانتے تھے، وہ کافر ہے، کیونکہ اس کے خلاف میں اللہ تعالی کا قول ہے]آ۵۶/س۷۲[، آپ کہہ دیجئے کہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے علاوہ کسی کو غیب کا علم نہیں ہے۔
شرح فقہ اکبر کی اس عبارت میں ہے کہ جو یہ اعتقاد رکھے کہ حضور ؐ کو علم غیب تھا وہ کافر ہے۔
حضور ﷺ کو غیب کی بہت سی باتیں بتائی گئیں ہیں
جو اولین اور آخرین سے زیادہ ہیں
لیکن وہ جز علم ہے کل نہیں ہے
]۲[۔۔۔ علم غیب کی دوسری صورت یہ ہے کہ، غیب کی باتیں، غیب کی چیزیں ہیں، لیکن اللہ تعالی نے اپنے رسول کو بتائی ہیں۔ حضور ؐ کو اللہ تعالی نے جتنی باتیں بتائیں، وہ تو رسول اللہ ﷺ کے لئے ثابت ہیں۔ یہ علم ایک تواللہ تعالی کا بتایا ہوا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ علم بعض ہے اللہ کا کل علم نہیں ہے
لیکن یہ بعض علم بہت چھوٹا نہیں ہے، یہ علم بھی اتنا عظیم ہے کہ اولین اور آخرین کوجتنا علم دیا گیا ہے ان سے زیادہ ہے
حضور ﷺکو جو غیب کی باتیں بتائی گئی ہیں
اس کی 7 صورتیں ہوتی تھیں
]۱[۔۔وحی کے ذریعہ حضور ﷺ غیب کی باتیں بتائی جاتی تھیں
]۲[۔۔ انباء الغیب، یعنی غیب کی خبر دی گئی، اس کے ذریعہ غیب کی باتیں بتائی جاتی تھیں
]۳[۔۔ غیب کی بات ہے، حضور ﷺ پر اس کو ظاہر کی گئی ہے ۔ تفسیر ابن عباس میں ہے کہ یہ بعض علم غیب ہے، سب نہیں ہے۔
]۴[۔۔ غیب کی بات ہے، حضور ﷺ کو اس پر مطلع کیا گیا ہے، یہ بھی حضور ؐ کو دی گئی ہے۔ تفسیر ابن عباس میں ہے کہ یہ بعض علم غیب ہے، سب نہیں ہے۔
]۵[۔۔ غیب کی بہت ساری باتیں ہیں، جنکو حضور ﷺ کے سامنے کر دی گئی۔ جیسے معراج میں لیجا کر آپ ؐ کو بہت کچھ دکھلایا گیا،
]۶[۔۔ یا نماز میں جنت اور جہنم کی چیزیں دکھلائی گئیں
]۷[ ۔۔یا زمین کو آپ کے سامنے کر دی گئی، اور مشرق سے مغرب تک آپ نے دیکھ لی۔
یہ سب بھی بعض غیب ہیں، وہ تمام غیب نہیں ہیں جو اللہ تعالی کے لئے خاص ہیں
]۱[۔۔۔ وہ علم غیب جو و وحی کے ذریعہ دیا گیا ہے۔
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
41۔قل ما کنت بدعا من الرسل و ما ادری ما یفعل بی و لا بکم ان اتبع الا ما یوحی الی و ما انا الا نذیر مبین (آیت ۹، سورت الاحقاف۶۴)
ترجمہ ۔کہو کہ میں پیغمبروں میں سے کوئی انوکھا پیغمبر نہیں ہوں، مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، اور نہ معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، میں کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے
42۔و ما ینطق عن الہوی ان ہو الا وحی یوحی۔ (آیت۳۔۴، سور ت النجم ۳۵)
ترجمہ۔ اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے
]۲[۔۔۔وہ علم غیب جو و وحی کے ذریعہ دیا گیا ہے، جسکو انباء الغیب کہا گیا ہے ،
ان 3آیتوں میں یہ وضاحت ہے کہ غیب کی کچھ ہی خبروں کی آپ پر وحی کی گئی ہے،سب کی نہیں
43۔ ذالک من انباء الغیب نوحیہ الیک۔ (آیت ۴۴، سورت آل عمران ۳)
ترجمہ۔ یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعہ آپ کو دے رہے ہیں
44۔ذالک من انباء الغیب نوحیہ الیک و ما کنت لدیہم۔ (آیت ۲۰۱، سورت یوسف ۲۱) ترجمہ،یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعہ آپکو و دے رہے ہیں، اور آپ انکے پاس نہیں تھے
45۔تلک من انباء الغیب نوحیہ الیک۔ (آیت ۹۴، سورت ھود ۱۱)
ترجمہ۔ یہ سب غیب کی خبریں ہیں جو ہم وحی کے ذریعہ آپ کو دے رہے ہیں
ان آیتوں میں ہے کہ غیب کی کچھ باتیں ہیں جو وحی کے ذریعہ مجھے بتائی گئی ہیں اسی کو انباء الغیب کہا گیا
]۳[۔۔۔ تیسری صورت یہ ہے کہ۔ہے غیب کی بات، حضور ﷺ پر اس کو ظاہر کی گئی ہے۔
۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے
46۔عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا۔ الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ و من خلفہ رصدا، لیعلم ان قد ابلغوا رسالات ربہم و احاط بما لدیہم و احصی کل شیء عددا۔(آیت ۶۲۔۸۲، سورۃ الجن ۲۷)
ترجمہ۔ اللہ ہی غیب کی ساری باتیں جاننے والا ہے، چنانچہ وہ اپنے بھید پر کسی کو مطلع نہیں کرتا م سوائے کسی پیغمبر کے جسے اس نے ]اس کام کے لئے [ پسند فرمالیا ہو، ایسی صورت میں وہ اس پیغمبر کے آگے پیچھے کچھ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ اللہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام کو پہنچا دئے ہیں
اس آیت میں ہے کہ۔۔ آپ ؐ پر غیب کی باتیں ظاہر کی ہیں
]۴[۔۔۔ غیب کی باتیں ہیں، حضور ﷺ کو ان پر مطلع کیا گیا ہے، یہ بھی حضور ؐ کو دی گئی ہے۔
تفسیر ابن عباس میں ہے کہ یہ بعض علم غیب ہے، سب نہیں ہے۔
اس کی دلیل یہ آیت ہے۔
47۔ ما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب و لکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء۔ (آیت ۹۷۱، سورۃ آل عمران ۳)
ترجمہ۔ اور ایسا نہیں کر سکتا کہ تم کو براہ راست غیب کی باتیں بتا دے، ہاں وہ] جتنا بتانا مناسب سمجھتا ہے اس کے لئے [اپنے پیغمبر وں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔
اس آیت میں ہے۔۔ اللہ نے حضور کو غیب کی بعض باتوں پر مطلع کیا ہے
]۵[۔۔۔ پانچویں صورت یہ ہے کہ۔ غیب کی باتیں ہیں، لیکن حضور ؐ کے سامنے کر دی گئیں۔
اس کا ثبوت اس آیت میں ہے
48۔سبحٰن الذی بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ لنریہ من آیاتنا۔ (آیت ۱، سورت بنی اسرائیل ۷۱)
ترجمہ۔ پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصی تک لے گئی، جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں، تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں
اس آیت میں۔۔ اس کا ذکر ہے کہ آپ ؐ کو کائنات کی بہت ساری چیزیں دکھلائی گئیں ہیں
]۶[۔۔۔ چھٹی صورت آپ کے سامنے جنت اور جہنم کر دی گئی، جس کی وجہ سے حضور ؐ جنت اور جہنم کی بہت سی چیزیں دیکھ لی
6۔عن انس ؓ قال سألو النبی ﷺ حتی احفوہ بالمسئلہ فصعد النبی ﷺ ذات یوم المنبر فقال لا تسألونی عن شئی الا بینت لکم….. فقال النبی ﷺ ما رأئت فی الخیر و الشر کالیوم قط، انہ صورت لی الجنۃ و النار حتی رأئت ہما دون الحائط۔(بخاری شریف، کتاب الفتن، باب التعوذ من الفتن، ص۲۲۲۱، نمبر ۹۸۰۷)
ترجمہ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضور ؐ سے پوچھنا شروع کیا تو آپ ایک دن منبر پر چڑھے، اور کہا کہ جو کچھ تم پوچھوگے، میں تمکو اس کے بارے میں بتاؤں گا۔۔۔حضور ؐ نے فرمایا کہ آج کی طرح میں نے کبھی خیر اور شر کو نہیں دیکھا، میرے سامنے جنت اور جہنم کر دی گئی، یہاں تک کہ میں نے ان دونوں کو دیوار کے پیچھے دیکھا ۔
اس حدیث میں۔۔ہے کہ حضور ؐ کے سامنے جنت اور جہنم کر دی گئی اور آپ نے ان کو قریب سے دیکھا
]۷[ ۔۔یا دنیا اور آخرت کی کچھ چیزیں آپ کے سامنے کر دی گئی، اور آپ نے انکو دیکھ لی۔
7۔عن ابی بکر الصدیق قال اصبح رسول اللہ ﷺ ذات یوم۔۔۔۔فقال نعم عرض علی ما ہو کائن من امر الدنیا و امر الآخرۃ۔ (مسند احمد، مسند ابی بکر، ج ۱، ص ۰۱، نمبر ۶۱)،
ترجمہ۔ ایک دن صبح ہوئی۔۔۔آپ نے فرمایا کہ دنیا اور آخرت میں جو] بڑے بڑے معاملے[ ہونے والے ہیں وہ عرض کر دئے گئے
اس حدیث میں ہے۔۔دنیا اور آخرت میں جو بڑے بڑے معاملے ہونے والے ہیں وہ میرے سامنے کر دئے گئے، تو یہ صورت بھی ہے کہ حضور ؐ کے سامنے غیب کی کچھ باتیں ظاہرکر دی گئی، اور آپ ؐ نے ان کو دیکھ لیا، یہ غیب کی باتیں بتانے کی پانچویں صورتیں ہیں
لیکن آگے بتایا جائے گا کہ یہ غیب کی بعض باتیں ہیں، کل نہیں ہیں، اور وہ ہوبھی نہیں سکتی، کیونکہ اللہ کا علم تو لا منتہی ہے، تو وہ حضور ؐ کو کیسے دیا جا سکتا ہے، جن کی منتہی ہے۔
وہ آیتیں جن سے کلی علم غیب ہونے کا شبہ ہوتا ہے
کچھ حضرات ان احادیث سے علم غیب عطائی ثابت کرتے ہیں
بعض حضرات نے آیت میں تبیانا لکل شیء، سے استدلا کیا ہے کہ اس کتاب میں ہر چیز ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ حضور کو تمام کے علوم غیب دے دئے گئے۔
آیت یہ ہے
49۔و نزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیء و ھدی و رحمۃ وبشر ی للمسلمین (آیت ۹۸، سورت النحل ۶۱)۔ ترجمہ۔ اورہم نے تم پر یہ کتاب اتاری ہے تاکہ وہ ہر بات کو کھول کر بیان کرے، اور مسلمانوں کے لئے ہدایت، اور رحمت، اور خوشخبری ہو
تفسیر ابن عباس میں،تبیانا لکل شیء، کی تفسیر کی ہے، من الحلال، و الحرام،و الامر، و النہی، کہ اس کتاب ]قرآن [ میں حلال، حرام، امر، اور نہی، کی تفصیل ہے، تمام علم غیب نہیں ہے
تفسیر کی عبارت یہ ہے۔ (تبیانا لکل شی)من الحلال، و الحرام،و الامر، و النہی )
اس لئے اس آیت سے کلی علم غیب ثابت کرنا مشکل ہے
50۔ما کان حدیثا یفتری و لکن تصدیق الذی بین یدیہ و تفصیل کل شیء و ھدی و رحمۃ لقوم یومنون۔ (آیت ۱۱۱، سورت یوسف ۲۱)۔ترجمہ۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو جھوٹ موٹ گھڑ لی گئی ہو، بلکہ اس سے پہلے جو کتاب آچکی ہے اس کی تصدیق ہے، اور ہر بات کی وضاحت، اور جو لوگ ایمان لائے ان کے لئے ہدایت اور رحمت کا سامان ہے
بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ،اس آیت میں ہے کہ حضور پر قرآن اتارا، اور اس آیت میں ہے کہ تمام چیزوں کی تفصیل ہے تو حضور ؐ کو تمام چیزوں کا علم غیب ہو گیا۔
لیکن تفسیر ابن عباس میں ہے کہ یہاں تمام تفصیل سے مراد حلال اور حرام کی تفصیل ہے، تمام علوم غیبیہ نہیں ہیں، کیونکہ وہ تو اس کتاب میں ہے بھی نہیں۔ اور اللہ کا لا محدود علم اس کتاب میں کیسے ہو سکتا ہے
تفسیرابن عباس کی عبارت یہ ہے۔
تفسیر ابن عباس کی عبارت یہ ہے۔ (و تفصیل کل شیء) تبیان کل شیء من الحلال و الحرام۔ (تفسیر ابن عباس، آیت ۱۱۱، سورت یوسف ۲۱، ص)
51۔عالم الغیب فلا یظہر علی غیبہ احدا۔ الا من ارتضی من رسول فانہ یسلک من بین یدیہ و من خلفہ رصدا، لیعلم ان قد ابلغوا رسالات ربہم و احاط بما لدیہم و احصی کل شیء عددا۔(آیت ۶۲۔۸۲، سورۃ الجن ۲۷)
ترجمہ۔ اللہ ہی غیب کی ساری باتیں جاننے والا ہے، چنانچہ وہ اپنے بھید پر کسی کو مطلع نہیں کرتا م سوائے کسی پیغمبر کے جسے اس نے ]اس کام کے لئے [ پسند فرمالیا ہو، ایسی صورت میں وہ اس پیغمبر کے آگے پیچھے کچھ محافظ لگا دیتا ہے تاکہ اللہ جان لے کہ انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغام کو پہنچا دئے ہیں
اس آیت۔۔۔سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ، اللہ جن رسول سے راضی ہوتے ہیں ان پر غیب ظاہر کر دیتے ہیں، لہذا حضور ؐ پر غیب ظاہر کر دیا اس لئے وہ علم غیب جاننے والے بن گئے ۔
لیکن اس آیت سے استدلال درست نہیں ہے کیو نکہ اس آیت میں ہے قد ابلغوا رسالات ربہم،
کہ اس علم کو رسول پر ظاہر کرتے ہیں جو رسالت کے قبیل سے ہو، تمام علم غیب نہیں ہے، آپ خود بھی آیت پر غور کر لیں
تفسیر ابن عباس میں ہے کہ یہاں بھی غیب سے مراد بعض غیب ہے، اس کی عبارت یہ ہے۔ (فلا یظہر)فلا یطلع(علی غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول)الا من اختارمن الرسل فانہ یطلعہ علی بعض الغیب۔ (تفسیر ابن عباس، ص ۰۲۶، آیت ۵۲۔ ۶۲، سورت الجن ۲۷) اس تفسیر میں صاف لکھا ہوا ہے کہ اللہ بعض غیب پر مطلع کرتے ہیں۔ پورا علم غیب نہیں دے دیا۔
52۔ما کان اللہ لیطلعکم علی الغیب و لکن اللہ یجتبی من رسلہ من یشاء۔ (آیت ۹۷۱، سورۃ آل عمران ۳)
ترجمہ۔ اور ایسا نہیں کر سکتا کہ تم کو براہ راست غیب کی باتیں بتا دے، ہاں وہ] جتنا بتانا مناسب سمجھتا ہے اس کے لئے [اپنے پیغمبر وں میں سے جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے۔
اس آیت میں ہے۔۔ کہ اے اہل مکہ تم لوگوں کو اللہ غیب پر مطلع نہیں کرتا، ہاں اپنے رسول میں جنکو چاہتے ہیں انکو غیب کی کچھ باتوں کی اطلاع دے دیتے ہیں۔
تفسیر ابن عباس میں یہاں بھی ہے کہ یہ بعض غیب ہے جو حضور ؐ کو وحی کے ذریعہ بتایا گیا ہے، اس کی عبارت یہ ہے۔ (و ما کان اللہ لیطلعکم)یا اہل مکۃ (علی الغیب من رسلہ من یشاء) یعنی محمدا فیطلعہ علی بعض ذالک بالوحی۔ (تفسیر ابن عباس، ص ۰۸، آیت ۹۷۱، سورت آل عمران ۳) اس تفسیر میں دیکھیں،علی بعض ذالک بالوحی، عبارت ہے، کہ وحی کے ذریعہ غیب کی بعض باتوں کی حضور ؐ کو اطلاع دیتے ہیں، اس لئے یہ کل علم غیب نہیں ہے۔
53۔و لا رطب لا یابس الا فی کتاب مبین۔ (آیت ۹۵، سورت الانعام ۶)
ترجمہ۔ یا کوئی خشک، یا کوئی تر چیز ایسی نہیں ہے جو ایک کھلی کتاب میں درج نہ ہو۔
بعض حضرات نے کتاب مبین سے استدلال کیا ہے کہ کتاب مبین سے مراد قرآن کریم ہے، اور یہ حضور ؐ کو دیا گیا ہے، اس لئے حضور کو سارا علم غیب حاصل ہو گیا
لیکن یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں ہے، کیونکہ کتاب مبین سے مراد لوح محفوظ ہے، جو حضور ؐ کو نہیں دی گئی ہے، یہ صرف اللہ کے پاس ہے، اور اس میں سب چیز یں لکھی ہوئی یں
تفسیر ابن عباس میں یہاں لوح محفوظ، لکھا ہوا، اس کی عبارت یہ ہے (کتاب مبین) کل ذالک فی اللوح المحفوظ، مبین مقدارھا ووقتھا)
اور لوح محفوظ حضور ﷺ کو نہیں دی گئی ہے اس لئے حضور ؐ کو تمام علم غیب نہیں ہوا
وہ احادیث جن سے علم غیب پر استدلال کیا جاتا ہے
یہاں چار حدیثیں ہیں جن میں ما کان و ما یکون، کا ذکر ہے، یعنی جو کچھ ہو چکا ہے اور قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے حضور ؐ نے ان سبھی چیزوں کو صحابہ کے سامنے بیان کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ حضور ؐ کو خلق کی پیدائش سے لیکر جنت اور جہنم میں داخل ہونے تک کی غیب کی بات معلوم ہے، اور ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ، ما کان اور ما یکون، کا علم حضور ؐکو حاصل ہے
ان احادیث سے کچھ حضرات نے حضور ؐ کے لئے علم غیب ثابت کرنے کی کو شش کی ہے، لیکن غور سے دیکھیں گے تو یہ معلوم ہوگا کہ ان احادیث میں یہ ہے کہ حضور ؐ کو بڑے بڑے فتنے کی اطلاع دی گئی ہے، یا بڑے بڑے واقعات کی اطلاع دی گئی تھی جن کا ذکر حضور ؐ نے صحابہ کے سامنے کیا، کیونکہ علم غیب بے انتہاء ہے ان سب کو ایک دن میں کیسے بیان کیا ؟ اور بعض حدیث میں اس کی وضاحت ہے کہ حضور ؐ نے حضرت حذیفہ ؓ کے سامنے قیامت تک آنے والے فتنوں کا ذکر کیا ہے
اور ان احادیث سے سب علم غیب لے لیں تو یہ احادیث پچھلے 40 آیتوں کے خلاف ہو جائے گی، جن میں ذکر ہے کہ حضور ؐ کو علم غیب نہیں ہے
احادیث یہ ہیں
8۔عن حذیفۃ قال قام فینا رسول اللہ ﷺ مقاما ما ترک شیئا یکون فی مقامہ ذالک الی قیام الساعۃ الا حدث بہ حفظہ من حفظہ و نسیہ من نسیہ قد علمہ أصحابی ھٰؤلاء۔ (مسلم شریف، کتاب الفتن، باب اخبار النبی ﷺ فیما یکون الی قیام الساعۃ، ص ۱۵۲۱، نمبر ۱۹۸۲/ ۳۶۲۷)
ترجمہ۔ حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا حضور ؐ ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، قیامت تک جتنی باتیں اس جگہ ہونے والی ہیں اس کو بیان کیا،، کسی نے ان کو یاد رکھا، اور کسی انکو بھلا دیا، میرے یہ ساتھی اس بات کو جانتے ہیں
اس حدیث میں بھی ہے کہ قیامت تک جتنی باتیں ہونے والی ہیں انکو حضور ؐ نے بیان کیا
دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ، اس حدیث میں بڑے بڑے فتنے کا ذکر ہے، پورا علم غیب نہیں ہے، کیونکہ اسی حدیث کو دوسری سند سے بیان کیا ہے جس میں بڑے بڑے فتنے کا ذکر ہے،
وہ احادیث یہ ہیں
9۔ قال حذیفہ بن الیمان واللہ انی لاعلم الناس بکل فتنۃ ھی کائنۃ، فیما بینی و بین الساعۃ۔ (مسلم شریف، کتاب الفتن، باب اخبار النبی ﷺ فیما یکون الی قیام الساعۃ، ص ۱۵۲۱، نمبر ۱۹۸۲/ ۲۶۲۷)
ترجمہ۔ حضرت حذیفۃ بن یمان ؓ نے فرمایا کہ، میرے درمیان اور قیامت کے درمیان جتنے فتنے ہونے والے ہیں، خدا کی قسم میں لوگوں میں سے، انکو زیادہ جاننے والا ہوں ۔
اس لئے یہ پورا علم غیب نہیں ہے ان احادیث میں قیامت تک آنے والے بڑے بڑے فتنوں کا ذکر ہے۔
10۔عن حذیفۃ انہ قال اخبرنی رسول اللہ ﷺ بما ہو کائن الی ان تقوم الساعۃ فما منہ شیء الا قد سألتہ (مسلم شریف، کتاب الفتن، باب اخبار النبی ﷺ فیما یکون الی قیام الساعۃ، ص ۱۵۲۱، نمبر ۱۹۸۲/ ۵۶۲۷)
ترجمہ۔ حضرت حذیفہ ؓ فرماتے ہیں کہ قیامت تک جو کچھ ] فتنے [ ہونے والے ہیں حضور ؐ نے مجھ کو ان کی خبر دی ہے، اور ان میں سے ہر ایک کو میں نے پوچھ بھی لیا ہے
11۔حدثنی ابو زید ] یعنی عمر و بن اخطب [ قال صلی بنا رسول اللہ ﷺ الفجر و صعد المنبر فخطبنا حتی حضرت الظہر فنزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی حضرت العصر ثم نزل فصلی ثم صعد المنبر فخطبنا حتی غربت الشمس فاخبرنا بما کان و بما ھو کائن فاعلمنا أحفظنا۔ (مسلم شریف، کتاب الفتن، باب اخبار النبی ﷺ فیما یکون الی قیام الساعۃ، ص ۱۵۲۱، نمبر ۲۹۸۲/ ۷۶۲۷)
ترجمہ ۔ حضور ؐ نے ہم لوگوں کو فجر کی نماز پڑھائی اور منبر پر تشریف لے گئے اور ظہر تک ہمارے سامنے بیان کرتے رہے، پھر اتر کر نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف لے گئے، اور عصر تک ہمارے سامنے بیان کرتے رہے، پھر منبر سے اترے اور نماز پڑھائی، پھر منبر پر تشریف لے گئے اور آفتاب کے غروب ہو نے تک ہمارے سامنے بیان کرتے رہے،اس میں جو کچھ ہو چکے ہیں، اور جو کچھ ہونے والے ہیں ہم لوگوں کو سب بتایا، اور ہم نے ان کو جان لیا اور ان کو یاد بھی کر لیا۔
اس حدیث میں ہے کہ جو کچھ ہو چکا ہے، اور جو ہونے والے ہیں سب بتایا، اب ظاہر بات ہے کہ ایک دن میں علم غیب کی تمام باتیں نہیں بتا سکتے، بلکہ بڑے بڑے فتنے، اور بڑے بڑے واقعات ہی بتا سکتے ہیں، اسی لئے امام مسلم میں اس حدیث کو کتاب الفتن میں ذکر کیا ہے، اور اسی باب میں حضرت حذیفہ ؓ کی حدیث پہلے گزری جس میں ہے کہ اس میں بڑے بڑے فتنے کا ذکر ہے جو قیامت تک ہونے ہولے ہیں، حضور ؐ نے ان کا تذکرہ کیا ہے، اس میں تمام علم غیب نہیں ہے ۔
12۔سمعت عن عمر ؓ یقول قام فینا النبی ﷺ مقاما فأخبرنا عن بدء ا الخلق حتی دخل اہل الجنۃ منازلھم و اھل النار منازلھم حفظ ذالک من حفظہ و نسیہ من نسۂ۔ (بخاری شریف، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء فی قول اللہ تعالی (و ھو الذی یبدء الخلق ثم یعیدہ و ھو اھون علیہ)]آیت ۷۲، سورت الروم) ص ۲۳۵، نمبر ۲۹۱۳)
ترجمہ۔ حضرت عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے حضور ؐ کھڑے ہوئے، اور جب سے مخلوق پیدا ہوئی ہے وہاں سے لیکر جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں، اور جہنم والے جہنم میں داخل ہو جائیں وہاں تک کی خبر ہمیں دی، جو ان باتوں کو یاد رکھ سکے انہوں نے یاد رکھا، اور جو بھولنے والے تھے انہوں نے بھلا دیا۔
اس حدیث میں بھی بڑی بڑی خبریں، یا بڑے بڑے فتنے، یا بڑے بڑے واقعات حضور ؐ نے بتائے ، اس میں پورا علم غیب نہیں ہے، کیونکہ ایک دن میں پورا علم غیب بتانا نا ممکن ہے
13۔عن انس ؓ قال سألو النبی ﷺ حتی احفوہ بالمسئلہ فصعد النبی ﷺ ذات یوم المنبر فقال لا تسألونی عن شئی الا بینت لکم….. فقال النبی ﷺ ما رأئت فی الخیر و الشر کالیوم قط، انہ صورت لی الجنۃ و النار حتی رأئت ہما دون الحائط
قال قتادۃ یذکر ہذہ الحدیث عند ہذہ الآیۃ۔(یاایہا الذین آمنوا لا تسألوا عن اشیاء ان تبد لکم تسوکم و ان تسألو عنہا ھین ینزل القرآن ان تبد لکم عفا اللہ عنہا و اللہ غفور حلیم] آیت۱۰۱، سورت المائدۃ ۵) (بخاری شریف، کتاب الفتن، باب التعوذ من الفتن، ص۲۲۲۱، نمبر ۹۸۰۷)
ترجمہ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضور ؐ سے پوچھنا شروع کیا تو آپ ایک دن منبر پر تشریف لے گئے، اور فرمایا کہ جو کچھ تم پوچھوگے، میں تمکو اس کے بارے میں بتاؤں گا۔۔۔حضور ؐ نے فرمایا کہ آج کی طرح میں نے کبھی خیر اور شر کو نہیں دیکھا، میرے سامنے جنت اور جہنم کر دی گئی، یہاں تک کہ میں نے ان دونوں کو دیوار کے پیچھے دیکھا ۔
بعض حضرات نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ۔آپ کو علم غیب تھا، تب ہی تو آپ نے فرمایا کہ جو پوچھوگے سب بتاوں گا
دوسرے حضرات یہ جواب دیتے ہیں کہ خود اس حدیث میں ہے کہ اللہ نے جنت اور جہنم میرے سامنے کر دی جس کی وجہ سے میں بیان کرتا چلا گیا، اس لئے یہ علم غیب نہیں ہے، بلکہ یہ وحی ہے جو آپ پر بار بار نازل ہوتی تھی، یا اطلع علی الغیب ہے،، چنانچہ اسی حدیث میں یہ آیت ہے کہ قرآن کے نازل ہوتے وقت سوال پوچھوگے تو سب بات ظاہر کردی جائے گی، جس سے معلوم ہوا کہ آپ کو وحی کے ذریعہ بات بتا دی جاتی تھی۔
14۔عن ابی بکر الصدیق قال اصبح رسول اللہ ﷺ ذات یوم۔۔۔۔فقال نعم عرض علی ما ہو کائن من امر الدنیا و امر الآخرۃ، فجمع الاولون و الآخرون فی صعیدواحد ففظع الناس بذالک حتی انطلقوا الی آدم علیہ السلام۔۔۔و یقول اللہ عز و جل ارفع راسک یا محمد و قل یسمع و اشفع تشفع۔ (مسند احمد، مسند ابی بکر، ج ۱، ص ۰۱، نمبر ۶۱)،
ترجمہ ۔ ایک دن صبح ہوئی۔۔۔ تو حضور ؐ نے فرمایا کہ دنیا اور آخرت میں جتنی چیزیں ہونے والی ہے وہ مجھ پر پیش کی گئی، پس ایک میدان میں اول اور آخر کے تمام لوگوں کو جمع کیا گیا، پس لوگ گھبرا کر حضرت آدم ؑ کے پاس جائیں گے۔۔۔اللہ تعالی فرمائیں گے اے محمد اپنے سر کو اٹھائے، اور آپ کہئے بات سنی جائے گی، اور سفارش کیجئے تو سفارش قبول کی جائے گی
اس حدیث سے بھی بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ حضور ؐ کو علم غیب تھا، کیونکہ اس میں ہے کہ دنیا اور آخرت میں جتنی بات ہونے والی ہے، میرے سامنے سب پیش کر دی گئی، اس لئے آپ کو سب چیز کا علم غیب حاصل ہو گیا
دوسرے حضرات نے جواب دیا کہ۔اس پوری حدیث کودیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس حدیث میں بڑی بڑی چیزیں واضح کی گئی ہیں، اور خاص طور پر قیامت میں کس طرح حضرت آدم ؑ اور دوسرے انبیاء کے پاس لوگ جائیں گے، اور کس طرح آپ شفاعت کبری کریں گے، اس کا ذکر ہے۔ غیب کی تمام باتیں نہیں ہیں

15۔عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ أتانی اللیلۃربی تبارک و تعالی فی احسن صورۃ۔ قال احسبہ قال فی المنام۔ فقال یا محمد ہل تدری فیم یختصم الملاء الاعلی؟ قال قلت: لا، قال فوضع یدہ بین کتفی حتی وجدت بردھا بین ثدیی، او قال فی نحری۔ فعلمت ما فی السماوات و ما فی الارض قال یا محمد ھل تدری فیم یختصم الملاء الاعلی َ قلت نعم فی الکفارات، المکث فی المسجد بعد الصلوۃ۔ (ترمذی شریف، کتاب تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ صٓ، ص ۴۳۷، نمبر ۳۳۲۳، نمبر ۴۳۲۳، نمبر ۵۳۲۳)
ترجمہ ۔ حضور پاک ؐ نے فرمایا کہ آج رات اللہ تعالی اچھی صورت میں میرے پاس آئے۔۔راوی کہتے ہیں شاید یہ خواب کی بات تھی۔۔پھر اللہ نے کہا اے محمد آپ کو معلوم ہے کہ ملاء اعلی کے لوگ کس بارے میں جھگڑ رہے ہیں، میں نے کہا نہیں، تو اللہ نے اپنے ہاتھ کو میرے مونڈھے کے درمیان رکھا، یہاں تک کہ سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس ہوئی، آپ نے ثدی فرمایا یا نحری فرمایا، پس جو آسمان میں تھا اور جو زمین میں تھا اس کو جان لیا، اللہ نے پوچھا آئے محمد ؐآپ کو پتہ ہے کہ ملاء اعلی والے کس چیز میں سبقت کر رہے ہیں، میں نے کہا ہاں کفارات میں اور نماز کے بعد مسجد میں ٹھہرنے کا جو ثواب ہے اس بارے میں سبقت کر رہے ہیں ۔
یہاں تین حدیثیں ہیں،
حدیث نمبر ۳۳۲۳میں ہے۔۔ فعلمت ما فی السماوات و ما فی الارض۔
، حدیث نمبر۴۳۲۳ میں ہے۔۔فعلمت ما بین المشرق و المغرب۔
اور حدیث نمبر ۵۳۲۳، میں ہے۔۔فتجلی لی کل شیء و عرفت۔
بعض حضرات نے ان تین حدیث میں جو، فعلمت ما فی السماوات و ما فی الارض، یا،فعلمت ما بین المشرق و المغرب، یا ۔فتجلی لی کل شیء و عرفت، ہے اس سے ثابت کرتے ہیں کہ حضور ؐ کو تمام چیزوں کا علم غیب ہے
دوسرے حضرات اس حدیث کے بارے میں چار باتیں کہتے ہیں۔
1۔ یہ حدیث اوپر کی37 آیتوں کے خلاف ہے، جس میں ہے کہ مجھے علم غیب نہیں ہے۔
2۔دوسری بات یہ ہے کہ اسی حدیث میں, لا ادری، ہے،کہ مجھے معلوم نہیں ہے، توحضور ؐ کو علم غیب کیسے ہوا
3۔ تیسری بات ہے کہ آپ کوسارا علم غیب نہیں دیا گیاتھا، بلکہ خاص ملاء اعلی کے بارے میں کچھ راز کھولی گئی کہ ملأ اعلی کے لوگ کس بات میں سبقت کرتے ہیں تاکہ حضور اپنی امت کو بھی اس نیکیوں کو بتا سکیں
4۔، اور چوتھی بات یہ ہے کہ یہ حدیث خواب کی ہے،
اس لئے اس حدیث سے تمام چیزوں کا علم غیب ثابت کرنا مشکل ہے
16۔عن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ زوی لی الارض فرأئت مشارقہا و مغاربہا و ان امتی سیبلغ ملکہا ما زوی لی منہا۔ (مسلم شریف، کتاب الفتن، باب ہلاک ہذہ الامۃ بعضہم ببعض، ص ۰۵۲۱، نمبر ۹۸۸۲/ ۸۷۲۷)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ اللہ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ دیا، پس میں نے اس کے مشرق اور مغرب کو دیکھا، اور جہاں تک سمیٹی گئی میری امت وہاں تک پہنچ جائے گی
اس حدیث سے بھی علم غیب ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے
یہ ایک معجزہ کا ذکر ہے کہ آپ کے سامنے مشرق اور مغرب کی زمین کر دی گئی، اور آپ نے اس کو دیکھ لیا، لیکن اس حدیث میں وضاحت ہے کہ مشرق اور مغرب کی چیزوں کو دیکھا، صرف مشرق اور مغرب کی چیزوں کو دیکھنا یہ پوراعلم غیب نہیں ہے ، بلکہ یہ جز ہے جو آپ کو بتایا گیا ہے
دوسری بات یہ ہے کہ۔، اس میں زوی، ماضی کا صیغہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایک مرتبہ ایسا کیا گیا، ورنہ اگر آپ کو ہمیشہ علم غیب ہے تو آپ کے سامنے زمین کو کرنے کا مطلب کیا ہے، وہ تو ہر وقت آپ کے سامنے ہے ہی، اس لئے اس حدیث سے علم غیب ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ غیب کی بعض باتوں کو آپ کو بتائی گئی ہے۔۔ آپ خود بھی غور کر لیں۔

17۔ عن ابی ذر قال قال رسول اللہ ﷺ انی اری ما لا ترون و اسمع ما لا تسمعون۔ (ترمذی شریف، کتاب الزھد، باب ما جاء فی قول النبی ﷺ لو تعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا، ص ۰۳۵، نمبر ۲۱۳۲) ترجمہ۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ میں جو دیکھتا ہوں تم لوگوں کو اس کا پتہ نہیں ہے، اور میں جو سنتا ہوں تم نہیں سن سکتے۔
اس حدیث سے بعض حضرات نے علم غیب پر استدلال کیا ہے، لیکن اس حدیث سے بھی پورا علم غیب ثابت نہیں ہو تا ہے، بلکہ اللہ کا بعض علم غیب ہے، جو حضور کو بتایا گیا ہے۔
ان 10 دس آیت اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ؐ کو علم غیب تھا۔ لیکن بار بار عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ آیت اور احادیث 40 آیتوں اور 8 احادیث کے خلاف ہیں،
کیا اللہ کے علاوہ کسی اور کو زید کی ہر حالت کی خبر ہے
]۳[۔۔۔ اور غیب کی تیسری صورت یہ ہے کہ کیا آج زید کی ساری حالت، موت کی حیات کی، روزی کی، شفا کی نفع کی نقصان کی معلوم ہے تو اس بارے میں آیت بالکل صاف ہے کہ جب حضور کو اپنی حالت کاپتہ نہیں، تو دوسروں کی حالت کا پتہ کیسے ہو گا!
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
54۔ قل ما کنت بدعا من الرسل و ما ادری ما یفعل بی و لا بکم ان اتبع الا ما یوحی الی و ما انا الا نذیر مبین (آیت ۹، سورت الاحقاف۶۴)۔ترجمہ ۔کہو کہ میں پیغمبروں میں سے کوئی انوکھا پیغمبر نہیں ہوں، مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، اور نہ معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا، میں کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے۔
اس آیت میں حضور ؐ اعلان کر رہے ہیں خود میرا بھی پتہ نہیں کہ میرے ساتھ کیا ہو گا، اور تیرا بھی پتہ نہیں کہ تیرے ساتھ کیا ہو گا تو آج زید کا علم حضور ؐ کو کیسے ہو جائے گا۔
55۔تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک ما کنت تعلمھا انت و لا قومک من قبل ھذا۔ (آیت ۹۴، سورت ھود ۱۱).ترجمہ۔ یہ غیب کی کچھ باتیں ہیں جو ہم تمہیں وحی کے ذریعہ بتا رہے ہیں، یہ باتیں نہ تم اس سے پہلے جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔
نوٹ: اس آیت میں اللہ خود فرما رہے ہیں کہ اے نبی تمہیں کچھ معلوم نہیں تھا، اور نہ آپ کی قوم کو معلوم تھا تو زید کی ہر حال کا علم حضور ؐ کو کیسے ہو سکتا ہے
اس عقیدے کے بارے میں 55 آیتیں اور 17 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
ہندؤوں کا عقیدہ ہے کہ ان کی دیوی اور دیوتا کو علم غیب ہے
ہمارے یہاں کے ہندو کا یہ خاص عقیدہ ہے کہ اس کے رشی منی ] انکے بڑے ولی، جو مر چکے ہیں [ وہ غیب کی باتوں کو جانتے بھی ہیں، اور انکی حاجتوں کو سن کر مدد بھی کرتے ہیں، اسی لئے انکا بت بناتے ہیں اور اس کی پوجا کرتے ہیں، اور ان سے ضرورتیں بھی مانگتے ہیں۔
، اصل بات یہ کہ مسلمان کے علاوہ بہت ساری قوموں کا عقیدہ یہ ہے کہ انکے ولی، یا رہنما، علم غیب کو جانتے ہیں، اور وہ ہماری مدد بھی کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ اللہ کے ساتھ بتوں دیوی، دیوتاؤں اور اپنے الگ الگ معبودوں کی بھی پوجا کرتے ہیں اور ان سے مدد بھی مانگتے ہیں، اس لئے اللہ نے قرآن میں صاف کر دیا کہ اللہ کے علاوہ کوئی بھی غیب کا علم نہیں جانتا۔ تاکہ نہ اس کی عبادت کرے، اور نہ اس سے اپنی ضرورت مانگے
اس نکتہ پر غور کریں ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: