اسلامیات

عقیدہ نمبر 12۔ وسیلہ

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

وسیلہ ایک بڑا ہنگامہ خیز مضمون ہے، اس میں کئی فریق ہیں اور ہر ایک اپنی رائے کی طرف دلیلیں دیتے ہیں، اس لئے اس کی تفصیل سنیں
اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور 10 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
وسیلہ کی 5 صورتیں ہیں
]۱[ ۔۔۔ پہلی صورت۔دعاء اللہ ہی سے مانگے، لیکن یوں کہے کہ یا اللہ تو اس دعاء کو حضور کے طفیل میں قبول کر لے، تو اس کی گنجائش ہے، لیکن ہمیشہ اس کی عادت نہ بنائے، کیونکہ کچھ ہی حدیثوں میں اس کا ذکر ہے، باقی قرآن اور حدیث میں جتنی دعائیں ہیں ان میں واسطہ کا ذکر نہیں ہے، بلکہ براہ راست اللہ سے مانگنے کا ذکر ہے۔
]۲[۔۔۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی نیک کام کرے اور اس کو اپنے درجات کی بلندی کے لئے وسیلہ بنائے، یہ بہت بہتر ہے، آیت میں اس کی ترغیب دی گئی ہے۔
]۳[۔۔۔تیسری صورت یہ ہے کہ کسی زندہ آدمی سے درخواست کرے کہ آپ میرے لئے دعا کریں کہ میرا فلاں کام ہو جائے، یا مجھے فلاں نیکی مل جائے، یہ درست ہے، بہت سی احادیث میں ہے کہ صحابہ نے حضور سے دعا کی درخواست کی۔
]۴[۔۔۔چوتھی صورت یہ ہے کہ کسی نبی، یا ولی سے کہے کہ آپ دعاء کریں کہ اللہ یہ کام کر دے یہ کسی زندہ ولی یا نبی سے کہے تو بالکل جائز ہے،،لیکن جو نبی، یا ولی وفات پا چکے ہیں ان سے یہ کہیں کہ آپ میرے لئے دعا کریں اس بارے میں کوئی آیت یا حدیث مجھے نہیں ملی ، بلکہ یہ ملتا ہے، کہ موت کے بعد آدمی کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، اور دعا کرنا بھی ایک عمل ہے، اس لئے وہ دعا نہیں کر سکیں گے،
دوسری بات یہ ہے کہ مردے سنتے ہیں یا نہیں اسی میں اختلاف ہے، تو ان سے کیسے کہا جائے گا کہ آپ میرے لئے دعا کریں ۔اس لئے یہ صورت بھی جائز نہیں ہے۔،
]۵[ ۔۔۔ پانچویں صورت یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور سے مانگے، اور یوں کہے کہ اے ولی، یا اے نبی تو دعا قبول کر لے، یہ ناجائز ہے، کیونکہ اللہ کے علاوہ سے مانگنا ہوا جو ناجائز ہے۔
پانچوں کی دلیلیں آگے آرہی ہیں
]۱[ دعا اللہ ہی سے کرے لیکن کسی کے طفیل کا واسطہ دے
دعا اللہ ہی سے کرے لیکن کسی کے طفیل کا واسطہ دے تو یہ جائز ہے،
لیکن چونکہ دو چار حدیثوں میں ہی وسیلہ کے ساتھ دعا مانگنے کا ذکر ہے، باقی سیکڑوں حدیثوں میں بغیر وسیلے کے براہ راست اللہ ہی سے دعا مانگی گئی ہے اس لئے قرآن اور حدیث والی دعا مانگے تو وہ زیادہ قبول ہو گی
]۱[۔۔۔وسیلہ کی پہلی صورت یہ ہے کہ اللہ ہی سے دعا کرے اور کہے کہ یا اللہ فلاں کے طفیل میں اس دعا کو قبول کر لے، یا یہ کام کر دے۔ یہ جائز ہے، لیکن ہمیشہ ایسا نہ کرے
اس کے لئے احادیث یہ ہیں ۔
1۔ عن عثمان بن حنیف ان رجلا ضریر البصر اتی النبی ﷺ….قال فامرہ ان یتوضاء فیحسن و ضوۂ و یدعوا بہذ الدعاء اللہم انی أسألک و اتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمۃ انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی ہذہ لتقضی لی اللہم فشفعہ فی۔ (ترمذی شریف، کتاب الدعوات، باب، ص ۶۱۸، نمبر ۸۷۵۳/ ابن ماجۃ شریف، باب ما جاء فی صلوۃ الحاجۃ، ص ۷۹۱، نمبر ۵۸۳۱)
ترجمہ۔ ایک کم نظر آدمی حضور حضور ؐ کے پاس آیا۔۔۔حضور ؐ نے حکم دیا کہ اچھی طرح وضو کرو اور یہ دعا پڑھو۔ اے اللہ آپ کے نبی محمد ؐ جو نبی رحمت بھی ہیں، ان کے واسطے سے سوال کرتا ہوں اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اور اس ضرورت کے بارے میں اپنے رب کی طرف آپ کے واسطے سے متوجہ ہوتا ہوں تاکہ اے اللہ ا ٓپ میری ضرورت پوری کر دیں اور حضور ؐ کو میرے بارے میں سفارشی بنا دیجئے
اس حدیث میں دو باتیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ مانگا صرف اللہ ہی سے، البتہ حضور ؐ کا واسطہ دیا، اتنا جائز ہے۔
2۔ عن عمر بن الخطابؓ قال قال رسول اللہ ﷺ لما اقترف آدم الخطیءۃقال یا رب اسألک بحق محمد لما غفرت لی، فقال اللہ یا آدم و کیف عرفت محمدا و لم أخلقہ؟ قال یا رب لانک لما خلقتنی بیدک و نفخت فی روحک رفعت رأسی فرأیت علی قوائم العرش مکتوبا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ فعلمت انک لم تضف الی اسمک الا احب الخلق الیک فقال اللہ: صدقت یا آدم انہ لاحب الخلق الی ادعنی بحقہ فقد غفرت لک و لو لا محمد ما خلقتک۔ (مستدرک للحاکم، کتاب توارخ المتقدمین من الانبیاء و المرسلیین، باب و من کتاب آیات رسول اللہ ﷺ التی ھی دلائل النبوۃ، ج ۲، ص ۲۷۶، نمبر ۸۲۲۴)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا جب حضرت آدم علیہ السلام نے غلطی کی تو کہا۔اے اللہ میں محمد ؐ کے حق سے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ میری لغزش کو معاف کر دیں، اللہ نے پوچھا اے آدم محمد کو میں نے ابھی پیدا بھی نہیں کیا ہے آپ نے اس کو کیسے پہچانا؟ حضرت آدم ؑ نے فرمایا کہ اے اللہ جب آپ نے مجھکو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا، اور میرے اندر روح ڈالی تو میں اپنا سر اٹھایا تو عرش پر میں نے لکھا ہوا دیکھا ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ،۔ تو میں سمجھ گیا کہ آپ اپنے نام کے ساتھ اسی کو رکھتے جو مخلوق میں سب سے زیادہ آپ کو محبوب ہو، تو اللہ نے فرمایا آدم! تم نے صحیح کہا، وہ مخلوق میں سے سب سے زیادہ مجھے محبوب ہیں، آپ نے انکے طفیل میں مجھ سے دعا کی، اس لئے میں نے آپ کو معاف کر دیا، اگر محمد ؐ نہ ہوتے تو میں تمکو پیدا بھی نہ کرتا۔
3۔ عن عباس کانت یہود خیبر تقاتل غطفان فکلما التقوا ھزمت یہود خیبر فعاذت الیہود بھذ الدعاء، اللھم انا اسئلک بحق محمد النبی الامی الذی و عدتنا ان تخرجہ لنا فی آخر الزمان۔ (مستدرک للحاکم باب بسم اللہ الرحمن الرحیم، من سورت، ج ۲، ص ۹۸۲، نمبر ۲۴۰۳)
ترجمہ۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہود قبیل غطفان سے جنگ کیا کرتے تھے، اور ہوتا یہ تھا کہ جب بھی مقابلہ ہوتا تو خیبر کے یہود شکست کھا جاتے، تو یہود یہ دعا پڑھ کر دعا مانگنے لگے،] اے اللہ نبی امی محمد ؐ کے طفیل سے ہم آپ سے مانگتے ہیں جس کا آپ نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ انکو آ خری زمانہ میں مبعوث کریں گے۔
اس حدیث میں ہے کہ حضور کے واسطے سے دعا مانگی گئی ہے
صحابی کے وسیلے سے دعا مانگی
اس کے لئے عمل صحابی یہ ہے
4 ۔ عن انس ابن مالک ان عمر بن الخطاب ؓ کان اذاقحطوا استسقی بالعباس بن عبد المطلب فقال اللہم انا کنا نتوسل الیک بنبینا ﷺ قتسقینا و انا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال فسقون۔ (بخاری شریف، باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطوا،ص ۲۶۱، نمبر ۰۱۰۱)
ترجمہ۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ جب بھی قحط ہو تا تو حضرت عمر ؓ عباس بن عبد المطلب کے وسیلے سے بارش کے لئے دعا مانگتے، اور یوں دعا کرتے، ہم اپنے نبی کے وسیلے سے آپ سے دعا مانگا کرتے تھے تو آپ بارش دے دیتے تھے، اب ہم ہمارے نبی کے چچا کے وسیلے سے دعا مانگتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ اس سے بارش ہو جاتی تھی
اس قول صحابی میں ہے کہ ہم حضور ؐ کے وسیلے سے دعا مانگتے تھے، اور اب انکے چچا حضرت عباس ؓکے وسیلے سے دعا مانگتے ہیں۔
یہاں یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ صحابہ ؓ نے حضرت عباسؓ جو زندہ تھے ان کا وسیلہ دیکر دعا مانگی، جو وفات پا گئے تھے ان کا وسیلہ دیکر کے دعاء نہیں مانگی، حضور ؓ انتقال کر گئے تھے، اس لئے ان کا وسیلہ دیکر دعا نہیں مانگی،
5۔اوس بن عبد اللہ قال قحط اھل المدینۃ قحطا شدیدا فشکوا الی عائشۃ فقالت انظروا قبر النبی ﷺفاجعلوا منہ کوی الی السماء حتی لا یکون بینہ و بین السماء سقف قال ففعلوا فمطرنا مطراحتی نبت العشب۔ (سنن دارمی، باب ما اکرم اللہ نبیہ بعد موتہ، ج ۱، ص ۷۲۲، نمبر ۳۹)
ترجمہ۔ اوس بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ مدینے میں قحط ہوا تو لوگوں نے حضرت عائشہ ؓ کے سامنے شکایت کی، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ حضور ؐ کی قبراور آسمان کے درمیان کھڑکی کھول دو، تاکہ قبر اور آسمان کے درمیان چھت نہ رہے، لوگوں نے ایسا ہی کیا، تو اتنی بارش ہوئی کہ گھاس اگ گئے
اس عمل صحابی میں ہے کہ حضور ؐ کی قبر کے پاس کھڑکی کھولی تو بارش ہوئی جس سے وسیلے کے جواز کا پتہ چلتا ہے
6۔عن مالک الدار قال و کا ن خازن عمر علی الطعام، قال اصاب الناس قحط فی زمن عمر فجاء رجل الی قبر النبی ﷺ فقال یا رسول اللہ! استسق لامتک فانھم قد ہلکوا فأتی الرجل فی المنام فقیل لہ ائت عمر فأقرۂ السلام و اخبرہ انکم مسقیون۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، باب ما ذکر فی فضل عمر بن الخطاب، ج ۶، ص ۹۵۳، نمبر ۲۰۰۲۳/ ۳۹۹۱۳)
ترجمہ۔ مالک ابن دار فرماتے ہیں کہ کھانے پر حضرت عمر کا ایک خزانچی تھا، عمر کے زمانے میں قحط ہوا، ایک آدمی حضرت عمر کے زمانے میں حضور ؐ کی قبر کے پاس آیا، اور کہا، یا رسول اللہ اپنی امت کے لئے آپ اللہ سے بارش مانگئے، وہ ہلاک ہو چکے ہیں، اس آدمی کو خواب میں آیا اور اس کو یہ کہا کہ، عمر ؓ کے پاس جاؤ اور اس کو سلام کہنا، اور ان کو یہ بتا دینا کہ بارش ہو گی۔
اس عمل صحابی میں ہے کہ صحابی نے حضور ؐ کی قبر کے پاس، ان سے یہ درخواست کی آپ اللہ سے امت کے لئے بارش مانگیں

2 حدیث، اور 4 عمل صحابی سے معلوم ہوا کہ مانگے اللہ ہی سے لیکن یوں کہے کہ فلاں کے طفیل میں یہ دعا قبول کر لے تو یہ جائز ہے، کیونکہ حدیث میں اس کا ذکر ہے
لیکن چونکہ قرآن اور حدیث کے اورتمام دعاؤوں میں وسیلے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ براہ راست اللہ سے مانگنے کا ذکر ہے، اس لئے براہ راست اللہ سے مانگنا اچھا ہے، البتہ کبھی کبھار وسیلہ کا ذکر کر لے تو یہ جائز ہے، کیونکہ اوپر کی حدیث میں بھی کبھی کبھار ہی وسیلے سے دعا مانگی ہے
آپ خود بھی غور کر لیں
نیک اعمال کرکے اس کا وسیلہ پکڑے
یہ سب سے بہتر طریقہ ہے۔
]۲[۔۔۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی نیک کام کرے اور اس کو اپنے درجات کی بلندی کے لئے وسیلہ بنائے، یہ بہت بہتر ہے، اس آیت میں اس کی ترغیب دی گئی ہے۔
1۔یا ایہا الذین آمنوا اتقوا اللہ و ابتغوا الیہ الوسیلۃ۔ (آیت ۵۳، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ : اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو۔
وسیلہ سے یہاں ہر وہ نیک عمل مرادہے جو اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بن سکے
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کے لئے نیک اعمال کرو اور اس کو قربت کا وسیلہ بناؤ۔ اس آیت کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ نیک لوگوں کے وسیلے سے دعا مانگو۔
ہاں پہلے کچھ حدیثیں گزریں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وسیلہ سے دعا مانگنا جائز ہے
بعض حضرات نے یہاں یہی مطلب لینے کی کوشش کی ہے، کہ نیک لوگوں کے وسیلے سے دعا مانگو، اور اس پر بھی زیادتی یہ کی کہ خود بزرگ سے ہی دعا مانگنے لگے۔
تفسیر ابن عباس میں اس آیت کی تفسیر میں یوں لکھا۔ (و ابتغوا الیہ الوسیلۃ) الدرجۃ الرفیعۃ و یقال اطلبوا الیہ القرب فی الدرجات بالاعمال الصالحۃ۔ یعنی اعمال صالحہ کر کے اللہ کی قربت حاصل کیا کرو۔ دوسری تفسیروں میں بھی اسی قسم کے الفاظ ہیں۔ اس لئے اس آیت سے بزرگوں سے مدد مانگنے کا ثبوت نہیں ہوتا۔ ہاں اوپر دو حدیثیں حدیث گزری، جن سے اتنی گنجائش نکلتی ہے کہ کبھی کبھار اپنی دعا میں یوں کہہ لے کہ یا اللہ فلاں کے طفیل میں میری دعا قبول کر لے، تو اس کی گنجائش ہے۔ اس میں بھی یہی ہے کہ اللہ ہی سے مانگے، البتہ یوں کہہ لے کہ اے اللہ اس بزرگ کی لاج رکھ لے اور میری دعا تو قبول کرلے
یا اس بزرگ کے طفیل میں یا اللہ میری دعا قبول کر لے، تو اس کی گنجائش ہے

دوسری آیت یہ ہے
2۔اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربہم الوسیلۃ۔ (آیت ۷۵، سورت الاسراء ۷۱)
ترجمہ : جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے پروردگار تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون اللہ کا زیادہ قریب ہو جائے۔
اس آیت میں اللہ تعالی نے کفار مکہ کو اس بات پر تنبیہ کی ہے کہ جو لوگ فرشتوں اور جنات کو پوجتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیں نجات دے دیں گے، یا کوئی مدد کریں گے، تو یہ خیال غلط ہے، کیونکہ ان فرشتوں اور جنات کا تو حال یہ ہے کہ وہ خود اللہ کے محتاج ہیں، اور نیک کام کر کے اللہ کی قربت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو جب وہ خود محتاج ہیں تو ان پوجنے والوں کو کیا دیں گے، اس لئے ان کفار مکہ کو چاہئے کہ براہ راست اللہ ہی سے مانگیں۔
تفسیر ابن عباس میں اس آیت کی تفسیر یوں ہے۔ (اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربہم الوسیلۃ) یطلبون بذالک الی ربہم القربۃ و الفضیلۃ
۔جن فرشتوں اور جنوں کو یہ کفار مکہ پوجتے ہیں وہ خود اپنے رب کی قربت اور فضیلت تلاش کر رہے ہیں تو یہ ان پجاریوں کو کیا دیں گے۔
اس لئے اس آیت سے بھی بزرگوں سے مدد مانگنے کا مفہوم نہیں نکلتا۔ ہاں کوئی زبردستی کھینچ تان کرے، اور بزرگوں کی تفسیر کو نظر انداز کر کے بزرگوں سے مدد مانگنے کا مطلب نکالے تو یہ اس کی مرضی ہے۔
زندہ آدمی سے دعا کے لئے کہے یہ جائز ہے

]۳[۔۔۔۔ تیسری صورت یہ ہے کہ زندہ آدمی سے دعا کرنے کے لئے کہنا، یا اس سے مدد مانگنا، یا اس کا وسیلہ دیکر اللہ ہی سے مانگنا جائز ہے۔
اس کے لئے یہ آیت ہے
3۔و لو انہم اذ ظلمو انفسہم جآء وک فاستغفروا اللہ و استغفرلھم الرسول لوجداا اللہ توابارحیما۔ (آیت ۴۶، سورت النساء ۴)
ترجمہ۔ اور جب ان لوگوں ] منافقوں [ نے اپنی جانو پر ظلم کیا تھا، اگر یہ اس وقت تمہارے پاس آکر اللہ سے مغفرت مانگتے، اور رسول بھی ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتے تو یہ اللہ کو بہت معاف کرنے والا، اور بڑا مہربان پاتے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ زندہ آدمی سے دعا کے لئے کہنا جائز ہے
4۔و ما کان اللہ لیعذبھم و انت فیہم۔ (آیت ۳۳، سورت الانفال ۸)
ترجمہ۔ اے پیغمبر اللہ ایسا نہیں ہے کہ ان کو اس حالت میں عذاب دے جب آپ ان کے درمیان موجود ہوں۔
اس آیت سے پتہ چلا کہ نیک آدمی زندہ ہو تو اس سے فائدہ ہوتا ہے

کسی زندہ آدمی سے دعا کے لئے کہنا جائز ہے
7۔عن عبد اللہ بن عمر بن العاص انہ سمع النبی ﷺ یقول۔۔۔ثم سلوا لی الوسیلۃ فانھا منزلۃ فی الجنۃ لا تنبغی الا عبد من عباد اللہ و ارجوا ان اکون انا ھو۔ (مسلم شریف، کتاب الصلاۃ، باب استحباب القول مثل ما یقول المؤذن، ثم یصلی علی النبی ﷺ ثم یسأل اللہ لہ الوسیلۃ، ص ۳۶۱، نمبر ۴۸۳، نمبر ۹۴۸)
ترجمہ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر بن عاص نے حضور ؐ کو کہتے سنا۔۔۔پھر میرے لئے وسیلہ مانگو، اس لئے کہ یہ جنت میں ایک جگہ جو اللہ کے بندے میں سے ایک ہی کے لئے ہے، اور مجھے امید ہے کہ وہ آدمی میں ہی ہوں گا ] جس کو یہ جگہ ملے گی [

8۔ عن عمر انہ استأذن النبی ﷺ فی العمرۃ فقال ای اخی اشرکنا فی دعائک و لا تنسانا۔ (ترمذی شریف، کتاب الدعوات، باب، ص ۲۱۸، نمبر ۲۶۵۳)
ترجمہ۔ حضرت عمر ؓ نے حضور سے عمرے کی اجازت مانگی، تو حضور ؐ نے فرمایا میرے بھائی! اپنی دعا میں مجھے شریک کرنا، اور مجھے بھولنا نہیں،
ن دونوں حدیثوں میں حضور ؐ نے اپنی امتی سے دعا کے لئے کہا ہے، جو زندہ تھے، یا جب وہ زندہ رہیں گے ، اس لئے یہ جائز ہے

9۔ سمع انس بن مالک یذکر ان رجلا دخل یوم الجمعۃ من باب کان وجاہ المنبر و رسول اللہ ﷺ قائم یخطب فاستقبل رسول اللہ ﷺ قائما فقال یا رسول اللہ ہلکت الاموال و انقطعت السبل فادع اللہ یغیثنا قال فرفع رسول اللہ یدیہ۔ (بخاری شریف، کتاب الاستسقاء، باب الاستسقاء فی المسجد الجامع، ص ۲۶۱، نمبر ۳۱۰۱)
ترجمہ۔ حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جمعے کے دن دروازے سے داخل ہوا جو منبر کے سامنے تھا، اور حضور ؐ کھڑے ہو کر خطبہ دے رہے تھے، وہ حضور ؐ کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا، یا رسول اللہ مال ہلاک ہو گیا، راستہ چلنا مشکل ہو گیا، اللہ سے بارش کی دعا کیجئے، راوی فرماتے ہیں کہ حضور ؐ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دعا کے لئے اٹھایا۔
اس حدیث میں حضور ؐ جو زندہ تھے ان سے دعا کرنے کی درخواست کی ہیں۔

کسی زندہ آدمی سے وسیلہ پکڑنا، اس کے لئے عمل صحابی یہ ہے
10۔ عن انس ابن مالک ان عمر بن الخطاب ؓ کان اذاقحطوا استسقی بالعباس بن عبد المطلب فقال اللہم انا کنا نتوسل الیک بنبینا ﷺ قتسقینا و انا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال فسقون۔ (بخاری شریف، باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطوا،ص ۲۶۱، نمبر ۰۱۰۱)
ترجمہ۔ حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں کہ جب بھی قحط ہوتے تو حضرت عمر ؓ عباس بن عبد المطلب کے وسیلے سے بارش کے لئے دعا مانگتے، اور یوں دعا کرتے، ہم اپنے نبی کے وسیلے سے آپ سے دعا مانگا کرتے تھے تو آپ بارش دے دیتے تھے، اب ہم ہمارے نبی کے چچا کے وسیلے سے دعا مانگتے ہیں، راوی کہتے ہیں کہ اس سے بارش ہو جاتی تھی
اس قول صحابی میں ہے کہ ہم حضور ؐ کے وسیلے سے دعا مانگتے تھے، اور اب انکے چچا حضرت عباس ؓکے وسیلے سے دعا مانگتے ہیں۔

اس عمل صحابی میں ہے کہ زندہ آدمی سے وسیلہ طلب کیا، اور انکے واسطے سے دعا مانگی ۔
ان سب حدیثوں، اورعمل صحابی میں اس بات کی بھی وضاحت ہے کہ ان میں اللہ ہی سے دعا مانگی گئی ہے، کسی آدمی سے ضرورت پوری کرنے کے لئے نہیں کہا، البتہ زندہ آدمی کا وسیلہ لیا ہے
اس لئے کسی مردہ آدمی سے یوں کہنا کہ آپ یہ کام کر دیجئے، یا آپ شفا دے دیجئے، یا آپ اولاد دیجئے، یا بارش برسا دیجئے یہ ہر گز جائز نہیں ہے

مجاوروں کی زیادتی
ان احادیث سے صرف اتنی بات ثابت ہوئی کہ کبھی کبھار کسی کے وسیلے سے دعا مانگ لے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن ہمارے مجاور حضرات کو سال بھر کا خرچ نکالنا ہے، اپنی بیوی اور بچوں کو بھی پالنا ہے، اپنا رعب بھی جمانا، اپنا رتبہ بھی بڑھانا ہے، اور اپنی شہرت بھی حاصل کرنی ہے اس لئے وہ اس چھوٹی سی گنجائش کا فائدہ اٹھا کر صاحب قبر کے سلسلے میں بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں ان کی کرامات بتاتے ہیں ، اور فیض حاصل کرنے کے نام پر، اور حاجات پوری کروانے دینے کے نام پر اچھی طرح رقم وصول کرتے ہیں، اور خوب اپنی جیب بھرتے ہیں
پھر ایسے ایسے فضائل بیان کرتے ہیں کہ یہ بار بار آئے اور بار بار ان سے وصول کیا جا سکے، بلکہ بعض مرتبہ بہت سی خرافات میں مبتلاء کر دیتے ہیں، اور آدمی پھنس کر رہ جاتا ہے، اس بارے میں عورتیں زیادہ پھنستی ہیں، اور وہ زیادہ خرافات میں مبتلاء ہوتی ہیں، اس لئے بہت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے
اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور 10 حدیثوں میں آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: