اسلامیات

عقیدہ نمبر 14۔شفاعت کا بیان

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور 8حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
قیامت میں دو قسم کی سفار شیں ہوں گی
]۱[ ایک شفاعت کبری، یہ صرف حضور ؐ کو دی جائے گی
]۲[ دوسری شفاعت صغری، یہ دوسرے انبیاء، اور صلحا کو بھی دی جائے گی
یہ تمام سفارش اللہ کی اجازت سے کر پائیں گے، بغیر اللہ کی اجازت کے کچھ نہیں ہو گا
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
1۔من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ۔ (آیت ۵۵۲، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ کون ہے جو اس کے سامنے اس کی اجازت کے بغیر کسی کی سفارش کر سکے
2۔ما من شفیع الا من بعد اذنہ ذالکم اللہ ربکم فاعبدوہ۔(آیت ۳، سورت یونس ۰۱)
ترجمہ۔ کوئی اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کی سفارش کرنے والا نہیں ہے
3۔و لا تنفع الشفاعۃ عندہ الا لمن اذن لہ۔ (آیت ۳۲، سورت سباء ۴۳)
ترجمہ۔ اللہ نے جس کو شفارس کی اجازت دی ہو اسی کی شفارس قبول ہو گی
4۔قل للہ الشفاعۃ جمیعا ۔ (آیت ۴۴، سورت لزمر ۹۳)
ترجمہ۔ آپ کہہ دیجئے کہ ساری شفارس اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
قیامت میں سفارش کرنے کی ۸ صورتیں ہیں
]۱[ شفاعت کبری، یہ شفاعت صرف حضور پاک ﷺ کو دی جائے گی
]۲[ مومن تو ہے، لیکن گناہ کی وجہ سے جہنم میں جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے اب اس کی سفارش کرکے جنت میں داخل کروایا جائے گا۔ یہ سفارش حضور ؐ کے لئے بھی ہو گی، اور انبیاء اور صلحا کے لئے بھی ہو گی
]۳[ آپ ﷺ کی سفارش سے بعض مومنین کو بلا حساب کے جنت میں داخل کر دیا جائے گا
]۴[ حضور ؐ کی سفارش کی وجہ سے جہنمی کا عذاب کم کر دیا جائے گا، جیسے حضور کی سفارش سے ابو طالب کا عذاب کم کیا جائے گا۔
]۵[ حضور ؐ کی سفارش کی تمام مومنین کو جنت میں داخل کیا جائے گا
]۶[ بعض اہل کبائر جو جہنم میں داخل ہو چکے ہیں،سفارش سے وہ جنت میں داخل کئے جائیں گے۔
]۷[ مومن تو ہے، لیکن اس کا گناہ، اور نیکی برا برا ہیں، اب اس کوسفارش کرکے جنت میں داخل کروایا جائے گا۔ یہ سفارش حضور ؐ کے لئے بھی ہو گی، اور انبیاء اور صلحا کے لئے بھی ہو گی
]۸[ جنتی کے درجات کو بلند کروانے کے لئے شفارس کی جائے گی یہ سفارش حضور ؐ کے لئے بھی ہو گی، اور انبیاء اور صلحا کے لئے بھی ہو گی
یہ 8آٹھ قسم کی سفارش ہو گی۔
شفاعت کبری
اس حدیث میں قیامت کے دن امت تمام انبیاء کے پاس جائیں گے کہ وہ کم سے کم حساب کتاب ہو جائے اس کے لئے اللہ سے سفارش کر دیں، لیکن تمام انبیاء انکار کر دیں گے، اور صرف حضور ؐ یہ سفارش کریں گے، تو چونکہ صرف حضور ؐ یہ سفارش کریں گے اس لئے اس کو سفارش کبری، کہتے ہیں
]۱[حضور ؐ کو شفاعت کبری دی جائے گی
اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔
1۔عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ یجمع اللہ الناس یوم القیامۃ فیقولون لو استشفعنا علی ربنا حتی یریحنا من مکاننا فیأتون آدم فیقولون انت الذی خلقک اللہ بیدہ و نفخ فہک من روحہ و امر الملائکۃ فسجدوا لک فاشفع لنا عند ربنا فیقول لست ھناکم و یذکر خطیئتہ، و یقول ائتو نوحا…..فأتونی فأستأذن ربی ۔۔۔۔ثم یقال لی: ارفع رأسک و سل تعطہ، و قل یسمع، و اشفع تشفع فارفع رأسی ۔ (بخاری شریف، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ و النار، ص ۶۳۱۱، نمبر ۵۶۵۶ص)
ترجمہ۔ حضور ﷺنے فرمایا کہ اللہ لوگوں کو قیامت کے دن جمع کریں گے، تو لوگ کہیں گے کہ کوئی ہماری سفارش کر لیتا تو ہم کو اس جگہ سے چھٹکارا مل جاتا،، لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے، اور کہیں گے اللہ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ہے، اور اپنی روح ڈالی ہے، اور فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آپ کو سجدہ کریں، اس لئے آپ اپنے رب کے پاس ہمارے لئے سفارش کریں، حضرت آدم فرمائیں گے کہ مجھے اس کی جر أت نہیں ہے، پھر وہ اپنی غلطیوں کو یاد کریں گے، پھر کہیں گے تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔۔۔ وہ لوگ میرے پاس آئیں گے، میں اپنے رب سفارش کرنے کی اجازت مانگوں گا۔۔۔پھر مجھ سے کہا جائے گا سر اٹھاؤ، مانگو، دیا جائے گا، کہو آپ کی بات سنی جائے گی، سفارش کرو سفارش قبول کی جائے گی، پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا۔ الخ
دوسری سفارشیں
]۲[ دوسری سفارش۔مومن تو ہے، لیکن گناہ کی وجہ سے جہنم میں جانے کا فیصلہ ہو چکا ہے اب اس کی سفارش کرکے جنت میں داخل کروایا جائے گا۔
یہ سفارش حضور ؐ کے لئے بھی ہو گی، اور انبیاء اور صلحا کے لئے بھی ہو گی
، اس کی دلیل یہ حدیث ہے
2۔ عن علی بن طالب قال قال رسول اللہ ﷺ من قرأ القرآن و استظہرہ فاحل حلالہ و حرم حرامہ ادخلہ اللہ بہ الجنۃ و شفعہ فی عشرۃ من اہل بیتہ کلہم وجبت لہ النار۔ (ترمذی شریف، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل القاری القرآن، ص ۳۵۶، نمبر ۵۰۹۲)
ترجمہ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے قرآن پڑھا، اور اس کو زبانی یاد کیا، اس کے حلال کو حلال کیا، اور حرام کو حرام کیا تو اللہ اس کو جنت میں داخل کریں گے، اور اس کے گھر والوں میں سے دس ایسے آدمیوں کے لئے سفارش قبول کریں گے جن کے لئے جہنم واجب ہو چکی تھی
اس حدیث میں ہے کہ جہنم والوں کے لئے بھی سفارش ہو گی، اور عام لوگ بھی اس کی سفارش کریں گے
]۳[ تیسری سفارش۔
آپ ﷺ کی سفارش سے بعض مومنین کو بلا حساب کے جنت میں داخل کر دیا جائے گا
۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے
3۔ عن ابی ہریرۃ ان النبی ﷺ قال یدخل من امتی الجنۃ سبعون الفا بغیر حساب فقال رجل یا رسول اللہ! ادع اللہ ان یجعلنی منہم قال اللہم اجعلہ منہم۔ (مسلم شریف، کتاب الایمان، باب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃ بغیر حساب، ص۱۱۱، نمبر ۶۱۲/۰۲۵)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بغیر حساب کے جنت میں داخل کئے جائیں گے، ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ میرے لئے دعا فرمائے کہ مجھے بھی اس میں داخل کر دے، تو آپ ؐ نے فرمایا کہ اے اللہ اس آدمی کو بھی اس میں سے کر دے۔
]۴[ چوتھی سفارش۔۔اس سفارش کی وجہ سے جہنمی کا عذاب کم کیا جائے گا
، اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔
4۔ عن ابی سعید الخدری، انہ سمع النبی ؐ ذکر عندہ عمہ فقال لعلہ تنفعہ شفاعتی یوم القیامہ فیجعل فی ضحضاح من النار یبلغ کعبیہ یغلی منہ دماغہ۔ (بخاری شریف، کتاب مناقب الانصار، باب قصۃ ابی طالب، ص ۲۵۶، نمبر ۵۸۸۳)
ترجمہ۔ حضور ؐ کے سامنے آپ کے چچا ابو طالب کا ذکر ہوا تو آپ ؐ نے فرمایا، قیامت کے دن میری سفارش سے آگ کے نچلے گڑھے میں رکھا جائے، یہ آگ اس کے ٹخنے تک پہنچے گی، جس سے اس کا دماغ کھولے گا
اس حدیث میں ہے کہ حضور ؐ کی سفارش سے جہنمی کا عذاب کم کر دیا گیا۔
]۵[ پانچویں سفارش۔ حضور ؐ کی سفارش سے مومنین کو جنت میں داخل کیا جائے گا
، اس کی دلیل یہ حدیثیں ہیں
5۔ عن انس بن مالک قال قال رسول اللہ ﷺ انا اول الناس یشفع فی الجنۃ و انا اکثر الانبیاء تبعا۔ (مسلم شریف، کتاب الایمان، باب فی قول النبی ﷺ انا اول الناس یشفع فی الجنۃ، ص ۵۰۱، نمبر ۶۹۱/ ۳۸۴)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ میں پہلا آدمی ہوں گا جو جنت کے لئے سفارش کرے گا، اور جتنے بھی نبی ہیں ان میں سے سب سے زیادہ میرے اتباع کرنے والے لوگ ہوں گے
6۔حدثنا انس بن مالک ان النبی ﷺ قال لکل نبی دعوۃ دعاہا لامتہ و انی اختبأت دعوتی شفاوۃ لامتی یوم القیامۃ۔(مسلم شریف، کتاب الایمان، باب اختباء النبی دعوۃ الشفاعۃ لامتہ ، ص۶۰۱، نمبر ۰۰۲/۴۹۴)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے اپنی امت کے لئے ایک دعا ہوتی ہے، اور میں قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کروں گا یہ دعا چھپا کر رکھا ہوں
ان دونوں حدیثوں کے اشارہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ؐ کی دعا سے آپ کی امت جنت میں داخل ہو گی
]۶[ چھٹی سفارش۔۔جو جہنم میں داخل ہو چکے ہیں انکو نکالنے کے لئے سفارش ہو گی
اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔
7۔عن عمران بن حصین ؓ عن النبی ﷺ قال یخرج قوم من النار بشفاعۃ محمد ﷺ فیدخلون الجنۃ یسمون الجہنمیین۔ (بخاری شریف، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ و النار، ص ۶۳۱۱، نمبر ۶۶۵۶ص)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ محمد ؐ کی سفارش سے کچھ قوم جہنم سے نکلے گی اور وہ جنت میں داخل ہو گی، اس کا نام جہنمی ہو گا۔
8۔عن ا نس بن مالک عن النبی ﷺ قال شفاعتی لاہل الکبائر من امتی۔ (ابو داود شریف، کتاب السنۃ،باب فی الشفاعۃ، ص ۰۷۶، نمبر ۹۳۷۴)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ، میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والے لوگوں کے لئے میری سفارش ہو گی
ان احادیث میں ہے کہ جہنم میں جو داخل ہو چکے ہیں حضور ؐ کی سفارش سے وہ جنت میں داخل ہوں گے
]۷[ مومن تو ہے، لیکن اس کا گناہ، اور نیکی برا برا ہیں، اب اس کو شفارس کرکے جنت میں داخل کروایا جائے گا۔ یہ سفارش حضور ؐ کے لئے بھی ہو گی، اور انبیاء اور صلحا کے لئے بھی ہو گی
]۸[ جنتی کے درجات کو بلند کروانے کے لئے شفارس کی جائے گی یہ شفارس حضور ؐ کے لئے بھی ہو گی، اور انبیاء اور صلحا کے لئے بھی ہو گی
اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور 8حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: