اسلامیات

عقیدہ نمبر 16۔ رسول ﷺکی گستاخی

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 3 آیتیں اور 2 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
رسول کی گستاخی کی تین صورتیں ہیں
]۱[ حضور ؐ کو کھلی گالی دیتا ہو، اور سمجھانے سے بھی باز نہ آتا ہو
]۲[ حضور ؐ کو کھلی گالی تو نہ دیتا ہو، لیکن ایسا جملہ استعمال کرتا ہو جس سے حضور ؐ کی توہین ہوتی ہو
]۳[ آدمی مسلمان ہے، اس نے کوئی مبہم جملہ استعمال کیا ہے، اب دوسرے مسلک والوں نے، یا دوسرے مذہب والوں نے، اس جملے کو توڑ مڑور کر یہ نکالا کہ اس نے حضور ﷺ کی گستاخی کی ہے
]۴[ غیر مسلم کے ملکوں میں بسے ہوئے ہیں وہاں کسی غیر مسلم نے ایسی حرکت کی جس سے حضور کی توہین ہوتی ہو، تو اب کیا کریں
ہر ایک کی تفصیل آگے دیکھیں
حضور ﷺ کی گستاخی بہت بڑا وبال ہے
حضور ﷺ کو گالی دینا بہت بڑا وبال ہے، بلکہ کسی بھی نبی کو گالی دینا بہت بڑا وبال ہے، اس سے ایمان سلب ہو جاتا ہے
قرآن میں نبیوں کی عزت کرنے اور اس کی اطاعت کرنے بہت تاکید آئی ہے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
1۔ ان الذین یوذون اللہ و رسولہ لعنہم اللہ فی الدنیا و الآخرۃ و اعد لھم عذابا مھینا۔ (آیت ۷۵، سورت الاحزاب ۳۳)
ترجمہ۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں، اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے، اور ان کے لئے ایسا عذاب تیار کر رکھا ہے جو ذلیل کرکے رکھ دے گا
2۔یا ایھا الذین آمنوالا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی و لا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم و انتم لا تشعرون ۔ (آیت ۲، سورت الحجرات ۹۴)
ترجمہ۔ اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند مت کیاکرو، اور نہ ان سے بات کرتے ہوئے اس طرح زور سے بولا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں، اور تمہیں پتہ بھی نہ چلے۔
3۔لتؤمنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ و توقروہ و تسبحوہ بکرۃ و اصیلا۔ (آیت ۹، سورت الفتح ۸۴)
ترجمہ۔ تاکہ ائے لوگو!تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اور اس کی مدد کرو، اور انکی تعظیم کرو، اور صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہو
ان آیتوں میں تاکید کی گئی ہے کہ حضور کی ادنی گستاخی نہ ہو، بلکہ ہر وقت انکے لئے تعظیم کا جملہ نکلے
نبی اور رسول کی گستاخی تو دور کی بات ہے، کسی صحابی کی گستاخی بھی جائز نہیں ہے، وہ بھی بہت بڑا گناہ ہے
]۱[ حضور ﷺ کو کھلی گالی دیتا ہو، اور سمجھانے سے بھی باز نہ آتا ہو
پہلی صورت۔۔حضور ؐ کو کھلی گالی دیتا ہو اور سمجھانے کے باوجود بھی باز نہ آتا ہو تو اب یہ کافر اور مرتد ہو گیا، کیونکہ ایمان کے چھ جز میں سے ایک جز رسول پر ایمان لانا ہے، اور جب اس نے رسول کو گالی دی تو اب رسول پر اس کا ایمان نہیں رہا، اس لئے اب یہ مرتد ہو گیا اب اس کو قتل کیا جائے گا
میں نے،کھلی گالی، کا لفظ کیوں استعمال کیا
یہاں کھلی گالی دیتا ہو، کا لفظ اس لئے استعمال کر رہا ہوں کہ۔ کچھ کتابیں میرے سامنے سے گزریں، جن میں دیکھا کہ ایک مسلک والے نے دوسرے مسلک والے کی کتابوں سے عبارت لی، پھر اس کو توڑ مڑوڑ کر یہ مطلب بنایا کہ، انہوں نے حضور ؐ کی گستاخی کی ہے، اور اس کو اتنا پھیلایا کہ لوگوں کو یقین ہونے لگا کہ یہ گستاخ رسول ہیں، اور یہ کافر ہیں، اور ان کے بارے میں یہاں تک لکھ دیا کہ، جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے ] و من شک فی کفرہ و عذابہ کفر [ ۔(در مختار، کتاب الجہاد،، باب المرتد، مطلب مھم: فی حکم ساب الانبیاء، ج ۶، ص ۷۵۳)
ترجمہ۔ کہ جو ان گالی دینے والے کے کفر میں اور اس کے عذاب میں شک کرے، وہ بھی کافر ہے۔
میں نے اس مسلک والے سے پوچھا، اور اس کی کتابیں دیکھی تو پتہ چلا کہ وہ مسلک والے قطعا حضور ؐ کی گستاخی نہیں کرتے، اور نہ اس مصنف نے گستاخی کی ہے، ہاں بعض باتیں جو آیت اور حدیث میں نہیں ہیں، دوسرے مسلک والے اس کو منوانا چاہتے ہیں، لیکن چونکہ وہ حدیث میں نہیں ہیں، اس لئے مصنف صاحب اس کو نہیں مانتے، اس لئے دوسرے مسلک والوں نے ہنگامہ کھڑا کیا، اور اس کو گستاخ سول کہہ کر، کافر قرار دیا، اور یہاں تک لکھ دیا کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے
اب آپ ہی انصاف سے بتائے کہ کہاں ہے، حضور ؐ کو گالی دینا، اور کہاں ہے قرآن اور حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے دوسرے مسلک والوں کی بات نہ ماننا، ان دونوں باتوں میں کتنا بڑا فرق ہے
اس فتوے سے مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت کے دو ٹکڑے ہوگئے
اس لئے میں اپنے عنوان میں یہ قید لگا رہا ہوں کہ حضور ؐ کو کھلی گالی دیتا ہو، اور سمجھانے کے باوجود نہ مانتا ہو تب وہ آدمی مرتد ہو گا، اس طرح توڑ مڑوڑ کر بات بنانے سے اور گستاخ رسول قرار دینے سے وہ کافر نہیں ہو گا۔
دوسری مثال یہ ہے کہ
اخبار اور ٹیلی ویزن میں آیا کہ ایک لڑکا کالج میں پڑھتا تھا، اس کی زبان سے کوئی بات نکل گئی، اس کا مقصد حضور ؐ کو گالی دینا نہیں تھا، اور نہ اس کی گستاخی کرنا مقصود تھا، لیکن اس کے ساتھیوں نے اس کی باتوں کو توڑ کر یہ بنایا کہ، اس نے رسول ؐ کی گستاخی کی، اس طالب علم نے بار بار انکار کیا، کہ میرا یہ مقصد ہر گز نہیں تھا کہ میں حضور ؐ کی گستاخی کروں، لیکن ساتھیوں نے ایک نہیں مانی، اور اس کو مار مار کر قتل کر دیا، اس بات کو میڈیا والوں نے بہت اچھالا، اور دوسری قوموں کو یہ تأثر دیا کہ، مسلمان بہت سخت ہوتے ہیں، اور ذرا ذرا سی بات مسلمان کو ہی قتل کر دیتے ہیں، یہ مذہب والے اتنے خراب ہوتے ہیں، اور یہ بات یورپ کے ملکوں میں کئی مہینے تک چلتی رہی
اس لئے میری گزارش ہے کہ جب تک صاف طور پر یہ پتہ نہ چلے کہ واقعی اس نے جان بوجھ کر حضور ؐ کو گالی دی ہے، یا حضور ؐ کی گستاخی کی ہے، اس وقت تک اس پر کفر کا فتوی نہ لگائیں، اس سے بڑا انتشار ہوتا ہے، اور خود مسلمان دو ٹکڑوں میں بٹ جاتے ہیں، اور ایک دوسرے کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھتے۔
تیسری مثال
ایک مسلک والا اہل بیت کا پورااحترام کرتا ہے، اس کی محبت کو ایمان کا جز مانتا ہے، اس کو اپنے سر پر بیٹھاتا ہے، اور ان کے بارے میں ادنی توہین کا قائل نہیں ہے
لیکن دوسرے مسلک والے کے گمان میں ہے کہ جس طرح ہم لوگ کہتے ہیں اس طرح احترام نہیں کرتا، یا اہل بیت کو اس طرح نہیں مانتا جس طرح ہم مانتے ہیں ، اب اس کی وجہ سے اس کو کافر مانتے ہیں، گستاخ اہل بیت مانتے ہیں ، اور اس کے پیچھے نماز تک نہیں پڑھتے
تو اس طرح کی الزام تراشی کی وجہ سے وہ مرتد نہیں ہو گا، اور وہ واجب القتل نہیں ہو گا، بلکہ یہ تحقیق کرنی پڑے گی کہ واقعی وہ حضور ؐ کو گالی دیتا ہے، یا اس کی گستاخی کرتا ہے، اور جان بوجھ کر، سمجھتے ہوئے ایسا کر رہا ہے،، تب جا کر وہ مرتد ہو گا، اسی لئے میں نے عنوان میں یہ لکھا، کہ وہ حضور ؐ کو کھلی گالی دیتا ہو اور سمجھانے سے باز نہ آتا ہو، کیونکہ آج کل یہ رواج چل پڑا ہے کہ، ہماری بات نہیں مانتے ہیں تو آپ گستاخ رسول ہیں، یا گستاخ اہل بیت ہیں
اور سمجھانے کے بعد باز نہ آتا ہو، یہ اس لئے لکھا کہ، بعض مرتبہ آدمی جاہل ہوتا ہے اس کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ، کس جملے سے حضور ؐ کی گستاخی ہوتی ہے، اس لئے اس کو پہلے سمجھایا جائے کہ اس جملے سے گستاخی ہوتی ہے، اور آپ نے یہ جملہ کہا ہے اس سے حضور ؐ کی گستاخی ہوئی ہے، اب سمجھانے کے بعد بھی گستاخی کرتا ہے تو اب یہ کافر شمار کیا جائے گا
کھلی گالی دینے والے کو قتل کیا جائے گا،
اس کی دلیل یہ احادیث ہیں
1۔ حدثنا ابن عباس ان اعمی تشتم النبی ﷺ وتقع فیہ فینہاھا فلا تنتہی ویزجرھا فلا تنزجر،فلما کانت ذات لیلۃ جعلت تقع فی النبی ﷺ و تشتمہ فاخذ المغول فوضعہ فی بطنہا….. فقال النبی ﷺ الا اشہدوا ان دمہا ھدر۔ (ابو داود شریف، کتاب الحدود، باب الحکم فیمن سب النبی ﷺ، ص ۳۱۶، نمبر ۱۶۳۴)
ترجمہ۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ ایک نابینا آدمی حضور ؐ کو گالی دیتا تھا اور ان کی برائی بیان کرتا تھا، اس کو روکا، لیکن وہ نہیں رکے، اس کو ڈانٹا لیکن اس نے نہیں مانا، ایک رات کا واقعہ ہے کہ وہ حضور ؐ کی برائی بیان کر رہا تھا، اور انکو گالی دے رہا تھا،تو ایک چھری لی اور اس کے پیٹ میں دھنسا دیا۔۔۔ تو حضور ؐ نے فرمایا کہ لوگو گواہ رہو، اس کاخون معاف ہے ] یعنی مارنے والے سے قصاص نہیں لیا جائے گا [
اس حدیث میں، فینہاھا فلا تنتہی ویزجرھا فلا تنزجر،ترجمہ۔، اس کو روکا، لیکن وہ نہیں رکے، اس کو ڈانٹا لیکن اس نے نہیں مانا۔سے یہ بھی پتہ چلا کہ گالی دینے والے کو روکنے سے بھی نہ مانے تب وہ کافر، اور مرتد بنے گا۔ کسی مبہم جملے سے وہ مرتد نہیں بنے گا
2۔عن علی ان یہودیۃ کانت تشتم النبی ﷺ و تقع فیہ فخنقھا رجل حتی ماتت فابطل رسول اللہ ﷺ دمھا۔ (ابو داود شریف، کتاب الحدود، باب الحکم فیمن سب النبی ﷺ، ص ۳۱۶، نمبر۲۶۳۴)
ترجمہ۔ حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت حضور ؐ کو گالی دیتی تھی اور اس کی برائی بیان کرتی تھی، اس لئے ایک آدمی نے اس گلا گھونٹ دیا جس سے وہ مر گئی تو حضور ؐ نے اس کے خون کو معاف کر دیا۔
ان دونوں حدیثوں میں حضور ؐ کو کھلی گالی دینے والوں کو جس نے مارا اس کے قصاص کو معاف کر دیا۔
حضور ﷺکو کھلی گالی دینے سے کافر ہوجائے گا،
حضور ؐ کو گالی دینے کے بعد وہ کافر ہو جائے گا لیکن اس کی توبہ قبول کی جائے گی یا نہیں اس بارے میں دو رائیں ہیں
]۱[ ایک رائے یہ ہے کہ اب اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، اب اس کو قتل کیا جائے گا، اکثر حضرات اسی طرف گئے ہیں
]۲[ دوسری رائے یہ ہے کہ اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی، اور اس کو توبہ کرنے کے لئے تین دن کی مہلت دی جائے گی،اور ان تین دنوں میں توبہ کر لے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا ، اس کا حکم مرتد کی طرح ہے، اس کو بھی توبہ کرنے کے لئے تین دن کی مہلت دی جاتی ہے،
]۱[ جو حضرات کہتے ہیں کہ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی، ان کی دلیل در مختار کی یہ عبارت ہے
۔و کل مسلم ارتد فتوبتہ مقبولۃ، الا الکافر بسب نبی) من الانبیاء فانہ یقتل حدا و لا تقبل توبتہ مطلقا ۔۔۔ومن شک فی عذابہ و کفرہ کفر۔(در مختار، کتاب الجہاد،، باب المرتد، مطلب مھم: فی حکم ساب الانبیاء، ج ۶، ص ۶۵۳)
ترجمہ۔ ہر مسلمان جو مرتد ہو جائے اس کی توبہ قبول ہے، لیکن جو حضور ؐ کو یا کسی اور نبی کو گالی دینے کی وجہ سے کافر بنا ہے، اس کی توبہ قبول نہیں ہے) ، وہ حد کے طور پر قتل کیا جائے گا، اور کبھی اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے۔۔۔اگے یہ عبارت بھی ہے، جو اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
اس عبارت سے استدلال کرتے ہوئے ایک جماعت نے فرمایا کہ اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہے
نوٹ: آگے آرہا ہے کہ حد لگانے کے لئے اسلامی حکومت ہونا ضروری ہے، اور قاضی فیصلہ کرے تب حد لگائی جائے گی، ورنہ عوام حد لگانے جائے گی تو انتشار ہو گا، اور میڈیا پر وہ جگ ہنسائی ہو گی کہ برداشت سے باہر ہو گا ۔
]۲[ دوسری رائے یہ ہے، کہ، حضور ؐ کو گالی دینے والا کافر تو ہے، لیکن اگر وہ توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی، اور اگر اس نے توبہ کرلی تو اب حد نہیں لگائی جائے گی، البتہ اس کو تنبیہ کی جائے گی کہ آئندہ وہ ایسا نہ کرے، اور کچھ سزا بھی دی جائے گی
اس کی دلیل در مختار ہی کی یہ دوسری عبارت ہے
۔من سب الرسول ﷺ فانہ مرتد و حکمہ حکم المرتد و یفعل بہ ما فعل بالمرتد) و ھو ظاہر فی قبول توبتہ کما مر عن الشفاء۔ (در مختار، کتاب الجہاد،، باب المرتد، مطلب مھم: فی حکم ساب الانبیاء، ج ۶، ص ۰۶۳)
ترجمہ۔ کسی نے رسول ﷺ کو گالی دی ] تو وہ کافر ہو جائے گا[ اور اس کا حکم مرتد کا حکم ہے، اس عبارت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ، کہ اس کی توبہ قبول کی جائے گی، جیسا کہ شفاء کتاب سے، یہ بات ابھی گزری
در مختار کی تیسری عبارت
۔و لکن صرح فی آخر الشفاء بان حکمہ کالمرتد،و مفادہ قبول التوبۃ کما لا یخفی(در مختار، کتاب الجہاد،، باب المرتد، مطلب مھم: فی حکم ساب الانبیاء، ج ۶، ص ۷۵۳۔۹۵۳)
ترجمہ۔ الشفاء، کتاب میں اس بات کی تصریح ہے کہ، گالی دینے والے کا حکم مرتد کی طرح ہے، اس کا فائدہ یہ ہو گا، کہ اس کی توبہ قبول کی جائے گی، جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔
در مختار کی چوتھی عبارت
۔قالوا و یستتاب منھا فان تاب نکل، و ان ابی قتل، فحکموا لہ بحکم المرتد مطلقا، و الوجہ الاول اشھر و اظھر ھ: (در مختار، کتاب الجہاد،، باب المرتد، مطلب مھم: فی حکم ساب الانبیاء، ج ۶، ص ۸۵۳)
ترجمہ۔علماء نے فرمایا کہ، گالی دینے والے سے کہا جائے کہ تم توبہ کرو، اگر اس نے توبہ کر لی ] تو اب حد تو نہیں لگے گی [ لیکن عبرات ناک سزا دی جائے گی، اور اگر توبہ کرنے سے انکار کیا تو قتل کیا جائے گا، علماء نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس گالی دینے والے کا حکم مطلقا مرتد کے حکم کی طرح ہے۔ لیکن پہلی رائے زیادہ مشہور بھی ہے اور زیادہ ظاہر بھی ہے
ان تین عبارتوں میں ہے کہ حضور ؐ کو گالی دینے والا بھی توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی
ایک بزرگ کو دیکھا کہ،دوسرے مسلک والے کی مبہم عبارت لی اور اس کو توڑ مڑور کر یہ ثابت کیا کہ یہ گستاخ رسول ہے، اور یہ فتوی بھی لگا دیا کہ اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہے بلکہ اس کے کافر ہونے میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
اس فتوے سے مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت دو ٹکڑوں میں بٹ گئی، اور کافر اور مسلمان ہونے کا جھگڑا کھڑا ہو گیا، اور بے پناہ انتشار پھیل گیا۔ اس پر افسوس ہی کر سکتے ہیں اور کیا کریں گے!
جنکے یہاں گستاخ رسول کی توبہ ہے
انکے یہاں تین دنوں تک توبہ کی مہلت دی جائے گی
جن حضرات کے یہاں حضور ؐ کو گالی دینے والے کی توبہ قبول کی جائے گی،، تو اس کو توبہ کرنے کے لئے تین دن کی مہلت دی جائے گی۔ کیونکہ وہ مرتد کی طرح ہے
حضرت عمرؓ تین دن مہلت دینے پر سختی کرتے تھے
1۔لما قدم علی عمر فتح تستر۔ وتستر من ارض البصرۃ۔ سألھم ھل من مغریۃ؟قالوا رجل من المسلمین لحق بالمشرکین فاخذناہ،قال ما صنعتم بہ؟ قالوا قتلناہ،قال: قال افلا ادخلتموہ بیتا واغلقتم علیہ بابا و اطعمتموہ کل یوم رغیفا ثم استبتموہ ثلاثا۔فان تاب والا قتلتموہ ثم قال اللھم لم اشھد ولم آمر ولم ارض اذا بلغنی (مصنف ابن ابی شیبۃ،۰۳ ماقالوا فی المرتد کم یستتاب،ج سادس، ص ۴۴۴، نمبر ۴۴۷۲۳/ سنن للبیہقی، باب من قال یحبس ثلاثۃ ایام، ج ثامن، ص ۹۵۳، نمبر ۷۸۸۶۱)
ترجمہ۔ جب حضرت عمر کے پاس تستر کی فتح کی خبر آئی۔ تستر یہ بصرہ کا علاقہ ہے۔حضرت عمر ؓ نے پوچھا کہ مغرب کا کوئی آدمی ہے؟ لوگوں نے کہ مسلمان کا ایک آدمی مشرک ہو گیا تھا، تو ہم نے اس کو پکڑ لیا، حضرت عمر ؓ نے پوچھا اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟، لوگوں نے کہا ہم نے اس کو قتل کر دیا۔تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ، اس کو گھر میں نہیں بند کر دیتے، اور اس کو ہر روز روٹی کھلاتے، پھر تین دنوں تک اس سے توبہ کا مطالبہ کرتے، اگر توبہ کر لیتا توچھوڑ دیتے، ورنہ اس کو قتل کر دیتے، پھر حضرت عمر ؓ نے فرمایا اللہ گواہ رہنا، میں نے نہ ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، اور جب اس کے قتل کی بات پہنچی تو میں اس سے راضی بھی نہیں ہوں۔
2۔عن علیؓ قال یستتاب المرتد ثلاثا (مصنف ابن ابی شیبۃ،۰۳ ماقالوا فی المرتد کم یستتاب، ج سادس، ص ۴۴۴، نمبر ۷۴۷۲۳/ سنن للبیہقی، باب من قال یحبس ثلاثۃ ایام، ج ثامن، ص ۹۵۳، نمبر ۷۸۸۶۱)
ترجمہ۔ حضرت علی ؓ مرتد سے تین دنوں تک توبہ کرنے کا مطالبہ کرتے تھے
ان صحابی کے قول میں ہے کہ تین دن سے پہلے قتل کرنے پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اے اللہ نہ میں اس میں حاضر ہوں اور نہ میں نے اس کا حکم دیا اور نہ میں اس سے راضی ہوں۔جس سے معلوم ہوا کہ تین دن تک مہلت دینا ضروری ہے۔تین دنوں کے بعد بھی اپنے قول پر اڑا رہے تب جا کر اس کو قتل کیا جائے گا
]۲[ ایسا جملہ استعمال کرتا ہو جس سے حضور ؐ کی توہین کا شبہ ہوتا ہو
دوسری صورت یہ ہے کہ۔حضور ؐ کو کھلی گالی تو نہ دیتا ہو، لیکن ایسا جملہ استعمال کیا ہو جس سے حضور ؐ کی توہین کا شبہ ہوتا ہو، چونکہ یہ مبہم جملہ ہے، ایسا بھی ممکن ہے کہ وہ توہین کرنا چاہتا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ توہین نہیں کرنا چاہتا، بلکہ نادانی میں یہ جملہ منہ سے نکل گیا ہے، اس کو پتہ ہی نہیں ہے کہ میں نے توہین کی ہے یا نہیں، اس لئے اس سے پوچھا جائے گا کہ اس سے کیا مراد ہے، اگر اس نے کہا کہ اس سے توہین کرنا مقصود ہے تب تو وہ کافر ہو جائے گا، کیونکہ رسول ؐ کی توہین کی ہے۔ اور اگر اس نے کہا کہ، اس جملے سے میرا مقصد توہین کرنا نہیں ہے، بلکہ مجھے تو پتہ بھی نہیں ہے کہ یہ جملہ، حضور ؐ کے لئے توہین کی چیز ہے تو، اس کو معاف کردیا جائے گا، لیکن اس کو تنبیہ کی جائے گی کہ آئندہ اس قسم کے جملے استعمال نہ کریں، کیونکہ یہ جملہ بھی خطرے سے خالی نہیں ہے
میں نے یہ تفصیل اس لئے لکھی ہے کہ، کئی مرتبہ دیکھا کہ، آدمی پر شبہ والے جملے سے الزام لگایا، وہ آدمی بار بار انکار کر رہا ہے کہ میں نے توہین نہیں کی، اور نہ توہین کا ارادہ ہے، مجھے تو اس کا پتہ بھی نہیں ہے، لیکن لوگ اس کے پیچھے لگ گئے، اور اس کو قتل کر کے چھوڑا، یا اس کو اتنامارا کہ اس کی حالت خراب کر دی، اور یہ سارا یو ٹیوب پر ڈال دیا، اور دنیا اس حرکت پر افسوس کرتی رہی
افسوس یہ ہے کہ کچھ لوگ الزام تراشی پر لگے ہوئے ہیں، ہر جملے کو توہین رسالت بتا کر کفر کا فتوی دے دیتے ہیں، اور اس پر پورا ہنگامہ کرتے ہیں
]۳[ تیسری صورت یہ ہے کہ۔۔آدمی مسلمان ہے، اس نے کوئی مبہم جملہ استعمال کیا ہے، اب دوسرے مسلک والوں نے، یا دوسرے مذہب والوں نے، اس جملے کو توڑ مڑور کر یہ نکالا کہ اس نے حضور ﷺ کی گستاخی کی ہے
چونکہ یہ مسلمان ہے، اس لئے غالب گمان یہی ہے کہ اس نے حضور ؐ کی توہین نہیں کی ہو گی یا کسی نبی، یا کسی ولی کی توہین نہیں ہو گی، کیونکہ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ وہ نہ حضور ؐ کی توہین کرے، نہ کسی نبی کی توہین کرے، اور نہ کسی اہل بیت، یا کسی ولی کی توہین کرے، اس لئے انہوں نے یا تو نا دانی میں یہ بات کہی ہو گی، اس کو پتہ ہی نہیں ہے کہ میں نے نبی، یا ولی کی توہین کی ہے، یا اس جملے سے گستاخی ہوتی ہے، یا پھر کسی نے اس کے جملے سے غلط مطلب نکال کر اس کو بدنام کرنے کی کو شش کی ہے، اس لئے اس کہنے والے سے پوچھیں کہ اس جملے سے آپ کا مطلب کیا ہے، اگر وہ کہے کہ، اس سے توہین کرنے کا ارادہ نہیں تھا، تو اس کو چھوڑ دیا جائے گا، کیونکہ اس نے جان کر توہین ہی نہیں کی ہے، البتہ اس کو تنبیہ کی جائے گی کہ آیندہ ایسا جملہ استعمال نہ کریں
اس طرح کا رویہ اختیار کرنے سے بہت سارے ہنگامے ختم ہو جائیں گے، اور یہ جو روزانہ مسلکوں میں اختلاف ہوتا ہے وہ بہت کم ہو جائے گا
]۴[غیر مسلم ملک میں رسول کی گستاخی
چوتھی صورت یہ ہے کہ۔۔غیر مسلم کے ملکوں میں بسے ہوئے ہیں وہاں کسی غیر مسلم نے ایسی حرکت کی جس سے حضور کی توہین ہوتی ہو، تو اب کیا کریں
آگے مرتد کی سزا میں تفصیل آرہی ہے کہ، حد لگانے کے لئے تین شرطیں ضروری ہیں
]۱[ اسلامی حکومت ہو تب ہی حد لگائی جائے گی، اگر اسلامی حکومت نہ ہو تو حد نہیں لگائی جائے گی
]۲[ شرعی قاضی حد لگانے کا فیصلہ کرے تب حد لگائی جائے گی
]۳[ شرعی قاضی کی نگرانی میں حد لگائی جائے گی
، حد لگانے کے لئے مجرم کو عوام کے حوالے نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اس سے انتشار ہو گا، یوں بھی اس وقت پوری دنیا میں ہیومن رائٹس جاری ہے۔ اس لئے میڈیا والے ایسی باتوں کو بہت اچھالتے ہیں
اس لئے جہاں اسلامی حکومت نہیں ہے وہاں حد نہیں لگائی جائے گی، ہاں وہاں کسی نے گالی دی ہے، یا حضور ؐ کی توہین کی ہے، تو مناسب انداز میں حکومت سے تعزیر کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔
اگرغیر مسلم ملک میں کسی غیر مسلم نے حضور ؐ کی توہین کی تو یہ بھی توہین ہے اور اچھی بات نہیں ہے، لیکن اس کے لئے احتجاج کا طریقہ یہ ہے کہ متحد ہو کر اس ملک کے قانون کی رعایت کرتے ہوئے احتجاج کریں، اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ اس کو مناسب سزا دے، اور تعزیر کرے تاکہ آئندہ کوئی اس قسم کی گستاخی نہ کرے
یہ صورت ہر گز نہ کریں کہ اس آدمی کو ہمارے حوالے کریں تاکہ ہم اس کو سزا دیں گے، کیونکہ اس صورت میں مجرم کا خاندان اور اس کے ہم نوا لڑ پڑیں گے، اور انتشار ہو جائے گا، اور کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اختلاف اتنا بڑھ جائے کہ آپ کواس ملک سے نکلنا پڑے اور پھر کہیں جگہ نہ ملے
یا زیادہ ہنگامہ کرنے کی وجہ سے وہاں کا میڈیا والا آپ کو متشد د والی قوم تصور کرنے لگے اور آپ کی تصویر خراب ہو جائے، اس لئے یہ نہ کریں، بلکہ اس ملک کے قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کریں۔اور تعزیر کا مطالبہ کریں جو جائز صورت ہے
گستاخ رسول اس دور میں ایک بڑا مسئلہ ہے
گستاخ رسول،اس دور میں ایک بڑا مسئلہ ہے، اس سے بھی دنیا میں بڑا انتشار ہو رہا ہے۔
کئی کتابوں کومطالعہ کرتے وقت دیکھا کہ ایک مسلک والا حضو ر ؐ کو رسول مانتا ہے، انکی پوری عزت کرتا ہے لیکن مثلا، آیت، لا اعلم الغیب، کی وجہ سے اتنا تو مانتا ہے کہ آپ کو بعض علم غیب دیا گیا تھا، لیکن ذرے ذرے کا علم دیا گیا جو صرف اللہ کی صفت ہے وہ نہیں مانتا،یا آیت، لا املک لکم ضرا و لا نفعا، کی وجہ سے حضور ؐ کو مختار کل نہیں مانتا، تو یہاں آیت کی وجہ سے حضور ؐ میں ایک صفت کو نہیں مانتا، کیونکہ اللہ نے خود ہی ان صفات کی نفی کی ہے، اب دوسرے مسلک والے مصر ہیں کہ اس نے گستاخی کی، اور گویا کہ یہ مرتد ہو گیا ، اور اس کے ماننے والے سب مرتد ہو گئے، اور سب کو مرتد والی سزا دی جائے، اور اس پر اتنا اصرار کیا کہ قوم کی قوم دو ٹکڑے ہوگئی۔۔۔۔۔ یہ بہت بڑی بے انصافی ہے، کہ آیت سے صحیح استدلال کرنے والوں کو گستاخ اور مرتد قرار دے رہیں
یہ تو بہت بری بات ہے کہ ایک گروہ مسلمان ہے، لیکن اپنے زعم کی بنا پر اس کو مرتد قرار دیا، اور یہ بھی لکھ دیا کہ جو اس میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ اور یہ حوالہ نقل کر دیا۔ و من شک فی عذابہ و کفرہ کفر۔ (رد المحتار، کتاب الجہاد، باب المرتد، مطلب مطلب مہم فی حکم ساب الانبیاء، ج ۶، ص ۶۵۳،) کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔
اس لئے گستاخ رسول، یا مرتد کا فتوی دیتے وقت یہ ضروری ہے کہ واقعی اس نے حضور ؐ کو گالیاں دی ہو، اور تین دن سمجھانے کے باوجود بھی توبہ نہ کرتا ہو تب اس کو مرتد قرار دیا جائے گا، صرف ایک مسلک کے شک کی بنیاد پر یا اپنی سوچ کی بنیاد پر مرتد، اور گستاخ رسول قرار نہیں دیا جائے گا،۔اس کا خیال رکھیں
کچھ لوگوں نے اس کا خیال نہیں رکھا اور مسلمانوں کی درمیان نفرت کی آگ بھڑکا دی، جس کی وجہ سے اسلام کے کسی کام کے لئے یہ آپس میں نہیں مل پائے، اور لڑ لڑ کر تباہ ہو گئے، اس وقت شام، عراق، مصر، لیبیا، یمن، افغانستان کے مسلمان آپس ہی میں لڑ لڑ کر پورا پورا ملک تباہ ہو گیا۔
اس لئے کسی مسلمان کے لئے گستاخی کا فتوی دینے سے پہلے بہت سوچنے کی ضرورت ہے
اس عقیدے کے بارے میں 3 آیتیں اور 2 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: