اسلامیات

عقیدہ نمبر 19۔ خلافت کا مسئلہ

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 0 آیتیں اور 12 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
خلافت کا مسئلہ بھی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس میں امت کے دو طبقے الجھے ہوئے ہیں، اور اس وقت تو پورے عرب میں اتنے لڑ رہے ہیں کہ اس میں شام، عراق، یمن، لیبیا برباد ہو چکے ہیں
یہ مسئلہ صحابہ کے زمانے کا تھا، اس وقت نہ خلافت ہے اور نہ خلافت کا مسئلہ ہے، لیکن لوگ اسی زمانے کی بات کو پکڑے ہوئے ہیں اور اس کو بلا وجہ ہوا دے دے کر امتوں کے درمیان تفرقہ پیدا کر رے ہیں
کاش کہ ان باتوں کو بھلا دیا جاتا اور سب مل کر اپنے اپنے ملکوں کو ترقی دیتے تو کتنا اچھا ہوتا، اس وقت پورا یورپ مل کر فیصلہ کر لیتے ہیں اور مسئلے کو آسانی سے حل کر لیتے ہیں، لیکن مسلمان بیٹھ کر کوئی مسئلہ حل نہیں کر پاتے، بلکہ جب بھی بیٹھتے ہیں تو کوئی نیا جھگڑا پیدا کر کے اٹھتے ہیں
خلافت کے بارے میں اسلام کا نظریہ
اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ ملوکیت کی طرح کسی آدمی کو زبردستی تھوپ نہ دیا جائے، بلکہ جمہوریت باقی رہے اور مسلمان اتفاق رائے سے خود ہی اپنا خلیفہ منتخب کرے، البتہ مختلف موقع پر حضور ؐ نے اشارہ کیا کہ حضرت ابو بکر ؓ امت کے لئے زیادہ بہتر ہیں، ان میں انتظامی صلاحیت بہت اچھی ہے۔
خود حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ مجھے خلافت کی وصیت نہیں کی ہے
اس کے لئے احادیث یہ ہیں
1۔عن ابی جہیفۃ قال قلت لعلی ہل عندکم کتاب؟ قال لا: الا کتاب اللہ او فہم أعطیہ رجل مسلم او ما فی ہذہ الصحیفۃ قال قلت و ما فی ھذہ الصحیفۃ؟ قال العقل و فکاک الاسیر و لا یقتل مسلم بکافر۔ (بخاری شریف، باب کتابۃ العلم، ص ۴۲، نمبر ۱۱۱)
ترجمہ۔ ابو جہینہؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ سے پوچھا، کیا آپ کے پاس ] رسول اللہ ﷺ کا [ کوئی خط ہے، انہوں نے کہا نہیں!صرف میرے پاس قرآن ہے، یا ایک مسلمان کو جو سمجھداری دی جاتی ہے وہ ہے، یا جو اس صحیفے میں ہے، میں نے پھر پوچھا، اس صحیفے میں کیا ہے، فرمایا دیت کے احکام، قیدیوں کو چھڑانے کے احکام، اور یہ حکم کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا
اس حدیث میں سائل نے باضابطہ پوچھا ہے کہ،کیا خلافت کے بارے میں آپ کے پاس کوئی تحریر ہے تو انہوں نے انکار فرمایا کہ میرے پاس کوئی تحریر نہیں ہے۔
2۔عن عامر بن واثلۃ قال سأل رجل علیا ھل کان رسول اللہ ﷺ یسر الیک بشیء دون الناس فغضب علی حتی احمر وجھہ و قال ما کان یسر الی شیئا دون الناس غیر انہ حدثنی باربع کلمات و انا و ھو فی البیت فقال لعن اللہ من لعن والدہ و لعن اللہ من ذبح لغیر اللہ و لعن اللہ من اوی محدثا و لعن اللہ من غیر منار الارض۔ (نسائی ریف، کتاب الضحایا، باب من ذبح لغیر اللہ عز و جل، ص ۴۱۶، نمبر ۷۲۴۴)
ترجمہ۔ عامر بن واثلہ فرماتے ہیں کہ، ایک آدمی نے حضرت علی ؓ کو پوچھا، کیا حضور ؐ نے آپ کو چپکے سے کوئی بات کہی ہے، جو لوگوں کو نہ کہی ہو، تو حضرت علی ؓ کا چہرہ غصے سے لال ہوگیا، اور کہنے لگے کہ لوگوں کو چھوڑ کر مجھے چپکے سے صرف چار باتیں کہی ہیں، اس وقت میں اور حضور ؐ گھر میں تھے، حضور ؐ نے فرمایا کہ، جس نے اپنے والد پر لعنت کی اللہ اس پر لعنت کرے، جس نے اللہ کے علاوہ کے لئے ذبح کیا اللہ اس پر لعنت کرے،،دین میں نئی چیز پیدا کرنے والے کو جس نے اس کو پناہ دی ، اللہ اس پر لعنت کرے، اور جس نے زمین کے نشان کو بدل دیا، اللہ اس پر لعنت کرے
اس حدیث میں ہے میں خود سوال کرنے والے نے پوچھا کہ کیا آپ کو حضور ؐ نے کوئی خاص بات بتائی ہے تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ یہ چار باتیں بتائی اور کچھ نہیں بتایا، جس کا مطلب یہ تھا کہ خلافت کی وصیت کے بارے میں مجھے کچھ نہیں بتایا ہے
جب حضرت علی ؓ نے خود سختی سے فرمایا کہ میرے لئے خلافت کی وصیت نہیں کی ہے تو دوسرے لوگ کیوں شور مچاتے ہیں کہ حضرت علی ؓ خلیفہ اول ہیں، اور حضورؐنے ان کے لئے خلافت کی وصیت کی ہے
اس بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ سے بیعت کے بعد کبھی خلافت کا دعوی نہیں کیا، اور حضرت عثمان کی شہادت کے بعد جب لوگوں نے حضرت علی ؓ کو خلافت دینی چاہی تو انہوں نے صاف انکار کیا، اور بہت اصرار کے بعد اسکو قبول فرمایا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ خلیفہ بننا نہیں چاہتے تھے، صرف با دل نخواستہ امت کے فائدے کے لئے بہت اصرار کے بعد اس کو قبول کیا۔
اس لئے یہ شور مچانا کہ حضرت علی ؓ کے لئے خلافت کی وصیت کی تھی یہ ٹھیک نہیں ہے، اور خاص طور پر اس وقت چودہ سو سال گزر جانے کے بعد اس مسئلے کو لیکر مسلمانوں کو دو ٹکڑے کرنا تو اور بھی اچھا نہیں ہے۔ اس پر غور فرمائیں
3۔عن عائشہ قالت: ما ترک رسول اللہ ﷺ دینارا و لا درہما و لا شاۃ و لا بعیرا و لا اوصی بشیء۔ (مسلم شریف، باب ترک الوصیۃ لم لیس لہ شیء یوصی لہ، ص ۷۱۷، نمبر ۵۳۶۱/ ۹۲۲۴) ترجمہ۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا، حضور نے اپنی وراثت میں نہ دینار چھوڑا، نہ درہم چھوڑا، نہ بکری چھوڑی، نہ اونٹ چھوڑے، اور نہ کسی چیز کی وصیت کی
4۔عن الاسود بن زید قال ذکروا عند عائشۃ ان علیا وصیا فقالت متی اوصی الیہ؟ فقد کنت مسندتہ الی صدری۔ او قالت حجری۔ فدعابالطشت فلقد انخنث فی حجری و ما شعرت انہ مات فمتی اوصی الیہ؟ (مسلم شریف، باب ترک الوصیۃ لم لیس لہ شیء یوصی لہ، ص ۸۱۷، نمبر۶۳۶۱/ ۱۳۲۴)
ترجمہ۔ حضرت عائشہ ؓ کے سامنے تذکرہ ہوا کہ حضرت علی ؓ خلافت کے وصی ہیں، تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ یہ وصیت کب کی؟ حضور ؐ تو میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، یا یوں فرمایا کہ میری گود میں تھے،۔۔۔پھر طشت منگوایا، پھر میری گود میں جھک گئے، مجھے تو پتہ بھی نہیں چلا کہ آپ کا وصال ہو گیا، تو حضرت علی ؓ کو وصیت کب کی!
ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ حضور ؐ نے خلافت کی وصیت نہیں کی ہے
حضور ؐنے اشارہ کیا کہ میرے بعد ابو بکر ؓکو خلیفہ منتخب کر لیں تو بہتر ہے
حضور ؐ نے صراحت کے ساتھ خلیفہ بننے کے لئے کسی کا انتخاب نہیں فرمایا، لیکن کئی حدیثوں میں اشارہ کیا ہے کہ حضرت ابو بکر ؓکو امت منتخب کر لے تو یہ بہتر ہے
اس کے لئے احادیث یہ ہیں
5۔ عن محمد بن جبیر بن مطعم عن ابیہ ان امرأۃ سالت رسول اللہ ﷺ شیئا فامرھا ان ترجع الیہ فقالت یا رسول اللہ ارأیت ان جئت فلم اجدک؟ قال ابی: کانہا تعنی الموت، قال فان لم تجدنی فاتی ابا بکر (مسلم شریف،باب من فضائل ابی بکر، ص ۱۵۰۱، نمبر/ ۶۸۳۲/ ۹۷۱۶)
ترجمہ۔ ایک عورت نے حضور ؐ سے کچھ پوچھا تو آپ ؐ نے فرمایا کہ واپس آؤ، پھر پوچھا یا رسول اللہ اگر آپ نہ ہو تو کس کے پاس آؤں ؟میرے باپ نے اشارہ کیا کہ، عورت یہ پوچھ رہی تھی کہ آپ کے وصال کے بعد کس کے پاس آؤں؟ حضور ؐ نے فرمایا کہ اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس آنا۔
6۔ عن عائشۃ قالت قال لی رسول اللہ ﷺ فی مرضہ: ادعی لی ابا بکر أباک و اخاک حتی اکتب کتابا فانی اخاف ان یتمنی متمن و یقول قائل، انا اولی، و یأبی اللہ و المومنون الا ابا بکر۔(مسلم شریف،باب من فضائل ابی بکر، ص ۱۵۰۱، نمبر/ ۷۸۳۲/۱۸۱۶)
ترجمہ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ حضور ؐ نے اپنے مرض میں مجھ سے یہ فرمایا کہ اپنے والد ابو بکر، اور اپنے بھائی کو میرے پاس بلاؤ، تاکہ میں کوئی تحریر لکھ دوں، مجھے اس کا ڈر ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمناکرے، یا کہنے والا کہے کہ میں زیادہ بہتر ہوں ] یعنی خلافت کا میں زیادہ مستحق ہوں [لیکن اللہ اور مومنین ابو بکر کو ہی پسند کریں گے۔
اس حدیث سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے ]۱[ ایک تو یہ کہ حضور ؐ اپنے مرض میں جو خط لکھوانا چاہتے تھے وہ حضرت ابو بکر کی خلافت کے بارے میں لکھوانا چاہتے تھے، حضرت علی کے بارے میں نہیں، اسی لئے تو حضرت ابو بکر، اور ان کے بیٹے کو بلانے کے لئے کہا، ]۲[ اور دوسری بات یہ ہے کہ حضور ؐ نے تمنا ظاہر کی کہ اللہ اور مومنین حضرت ابو بکر کو ہی خلیفہ بنائیں گے، اور یہ تمنا پوری بھی ہوئی، تاہم کسی کے لئے خلیفہ بننے کی وصیت نہیں کی۔
7۔عن ابی موسی قال مرض النبی ﷺ فاشتد مرضہ فقال مروا ابا بکر فلیصل بالناس، قالت عائشۃ: انہ رجل رقیق اذا قام مقامک لم یستطیع ان یصلی بالناس قال مروا ابا بکر فلیصل بالناس فعادت فقال مری ابا بکر فلیصل بالناس فعادت فقال مری ابا بکر فلیصل بالناس فانکن صواحب یوسف، فاتاہ الرسول فصلی بالناس فی حیاۃ النبی۔ (بخاری شریف، باب اہل العلم و الفضل احق بالامامۃ، ص ۰۱۱، نمبر ۸۷۶)
ترجمہ۔ حضور ؐ کی مرض نے شدت اختیار کی تو آپ نے فرمایا کہ، ابو بکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، اس پر حضرت عائشہ ؓ نے کہا کہ وہ نرم دل آدمی ہیں، جب آپ کی جگہ پر کھڑ ے ہوں گے تو وہ لوگوں کو نماز نہیں پڑھا سکیں گے، اس پر بھی حضور ؐ نے فرمایا کہ ابو بکر ہی کو نماز پڑھانے کے لئے کہو، حضرت عائشہ ؓ نے دوبارہ وہی عذر پیش کیا، حضور ؐ نے پھر کہا کہ، ابو بکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، حضرت عائشہ ؓ نے پھر ابو بکر ؓ کا عذر پیش کیا، حضور ؐ نے پھر کہا کہ، ابو بکر کو نماز پڑھانے کے لئے کہو، تم لوگ حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ جو عورتیں سازشیں کر رہی تھیں، اس طرح کی ہو، حضرت ابو بکر ؓکے پاس رسول اللہ ؐ کا قاصد آیا، جس کی وجہ سے حضرت ابو بکر ؓ نے حضور ؐ کی زندگی میں لوگوں کی جماعت کرائی
اس حدیث میں حضور نے تین مرتبہ زور دیکر حضرت ابو بکرؓ کو نماز کی جماعت کروانے کے لئے فرمایا،جو اس بات کا اشارہ ہے کہ میرے بعد بھی حضرت ابو بکر ہی نماز پڑھائیں، اور امیر منتخب ہوں۔ اور اسی قسم کی احادیث کی بنیاد پر صحابہ نے حضرت ابو بکر ؓ کو خلیفہ منتخب کیا
لوگ بوڑھوں کی بات مان لیتے ہیں
ایک بات اور بھی یاد رہے کہ لوگوں میں مختلف طبیعت کے لوگ ہوتے ہیں، اس لئے وہ لوگ حکم ماننے میں عمر دراز اور بوڑھے لوگوں کی بات مان لیتے ہیں،حضرت علی ؓ علم کے پہاڑ تھے، اہل بیت میں سے تھے لیکن وہ جوان تھے، حضور کے وصال کے وقت ان کی عمر ۳۳ سال تھی، اس لئے دوسرے لوگ جلدی انکی بات نہیں مانتے، اور حضرت ابو بکرؓ کی عمر اس وقت ۱۶ سال تھی وہ بوڑھے تھے اس لئے لوگ ان کی بات مان لیتے، ان کو قوموں کا تجربہ بھی زیادہ تھا، اس لئے بھی لوگوں نے انکو منتخب کیا
اس نکتہ پر بھی غور کریں
اختلاف کے وقت خلفاء راشدین کی اتباع کریں
اس حدیث میں ہے کہ اختلاف کے وقت میں خلفاء راشدین کی اتباع کرنی چاہئے۔
8۔عن عرباض بن ساریۃ…..فقال قائل یا رسول اللہ ﷺ کان ہذہ موعظۃ مودع فما ذا تعہد الینا؟ فقال اوصیکم بتقوی اللہ و السمع و الطاعۃ و ان عبدا حبشیا فانہ من یعیش منکم بعدی فسیری اختلافا کثیرا فعلیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین المہدیین تمسکوا بھا و عضو علیہا بالنواجذ۔ (ابو داود شریف، کتاب السنۃ، باب فی لزوم السنۃ، ص ۱۵۶، نمبر ۷۰۶۴/ ترمذی شریف، نمبر۸۷۶۲)
ترجمہ۔ کہنے والوں نے کہا، اے اللہ کے رسول، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ آخری نصیحت ہے، تو آپ ہمیں کیا پیغام دیتے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ تقوی اختیار کرنے کی وصیت کرتا ہوں، اور یہ بھی وصیت کرتا ہوں کہ امیر کی بات سنو، اور ان کی اطاعت کرو چاہے حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، پھر فرمایا کہ جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا، اس وقت میری سنت اور ھدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو بہت مضبوطی سے پکڑنا۔
، اس حدیث میں ہے کہ میرے بعد بہت اختلاف ہوں گے، ایسے موقع پر خلفاء راشدین کی سنت کو پکڑنا چاہئے۔ اس لئے ان حضرات کو گالی نہیں دینی چاہئے۔
سب نے مل کر حضرت ابو بکر ؓ کو خلیفہ منتخب کیا
9۔فحمد اللہ ابو بکر و اثنی علیہ……فقال عمر بل نبیعک انت سیدنا و خیرنا و احبنا الی رسول اللہ ﷺ، فاخذ عمر بیدہ فبایعہ و بایعہ الناس۔ (بخاری شریف، کتاب فضائل الصحابۃ باب، ص ۶۱۶، نمبر ۸۶۶۳)
ترجمہ۔ حضرت ابو بکر ؓ نے حمد و ثنا کی۔۔۔حضرت عمر ؓ نے کہا کہ ہم آپ سے بیعت کرتے ہیں، آپ ہمارے سردار ہیں، ہم میں سب سے اچھے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ محبوب ہیں، حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا ہاتھ پکڑا اور ان سے بیعت کی، اور لوگوں نے بھی ان سے بیعت کی۔
اس حدیث میں ہے کہ تمام لوگوں نے خوشی سے حضرت ابو بکر ؓ سے بیعت کی ہے، اس لئے ان کو سب نے مل کر خلیفہ بنایا تھا، اور وہ متفقہ امیر تھے۔
اس لئے یہ کہنا کہ حضرت ابو بکر ؓ خلافت پر غاصب تھے، صحیح نہیں ہے
اور اس قول صحابی میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابو بکر ؓ ان صحابہ میں سے سب سے زیادہ اچھے تھے، اور حضور ؐ کے سب سے زیادہ قریب بھی تھے،، اور بوڑھے ہونے کی وجہ سے ہر طرح کا تجربہ بھی تھا اس لئے ان کو خلیفہ بنانا ہر اعتبار سے بہتر تھا
حضرت علی ؓ نے حضرت ابو بکر ؓ سے بیعت کی تھی
بعد میں حضرت علی ؓ نے بھی حضرت ابو بکر ؓ سے بیعت کر لی تھی، بخاری شریف میں اس کی پوری تفصیل موجود ہے
10۔عن عائشۃ۔۔۔استنکر علیؓ وجوہ الناس فالتمس مصالحۃ ابی بکر و مبایعتہ و لم یکن یبایع تلک الاشہر۔۔۔فقال علیؓ لابی بکرؓ موعدک العشیۃ للبیعۃ فلما صلی ابو بکرؓ الظھر رقی المنبر فتشھد و ذکر شان علیؓ و تخلفہ عن البیعۃ و عذرہ بالذی اعتذر الیہ ثم استغفر، و تشھد علیؓ فعظم حق ابی بکرؓ و حدث انہ لم یحملہ علی الذی صنع نفاسۃ علی ابی بکر ؓو لا انکارا للذی فضلہ اللہ بہ و لکنا نری لنا فی ھذ الامر نصیبافاستبد علینا فوجدنا فی انفسنا فسر بذالک ا لمسلمون و قالوا اصبت، و کان المسلمون الی علیؓ قریبا حین راجع الامر المعروف ( بخاری شریف، کتاب المغازی، باب غزوۃ خیبر، ص ۹۱۷، نمبر ۰۴۲۴)۔
ترجمہ ۔حضرت علی ؓ کو ایسا محسوس ہوا کہ لوگ میری طرف توجہ کم دے رہے ہیں، اس لئے حضرت ابو بکر ؓ سے صلح کی اور ان سے بیعت کرنے کی درخواست کی، انہوں نے ان چھ مہینوں میں بیعت نہیں کی تھی۔۔۔ حضرت علی نے فرمایا بیعت کے لئے شام کا وقت ٹھیک ہے، جب حضرت ابو بکر ؓ نے ظہر کی نماز پڑھی تو منبر پر بیٹھے، اور کلمہ شہاد ت پڑھا، اور حضرت علی ؓ کی شان بیان کی، اور اب تک بیعت سے پیچھے رہے اس کی وجہ بیان کی، اور حضرت علی ؓ نے جو عذر پیش کی اس کا بھی ذکر کیا پھر استغفار کیا۔اورحضرت علی ؓ نے کلمہ شہادت پڑھا، اور حضرت ابو بکر ؓکے حق کی عظمت بیان کی، اور یہ بھی کہا کہ میں نے جو کیا ہے وہ حضرت ابو بکر پر فوقیت کی وجہ سے نہیں کی ہے، اور اللہ نے حضرت ابو بکر ؓ کو فضیلت دی ہے مجھے اس کا انکار بھی نہیں ہے، لیکن میرا خیال تھا کہ اس معاملے] وراثت میں، یا خلافت میں [ میرا بھی کچھ حصہ ہے، لیکن مجھے وہ نہیں ملا جس کی وجہ سے میرا دل اچاٹ ہوا ] اور اب میں خوشی سے بیعت کے لئے آگیا ہوں [، اس سے مسلمان بہت خوش ہوئے، اور سب نے کہا کہ آپ نے بہت اچھا کیا، اور جب حضرت علی ؓ نے امر معروف کی طرف رجوع کیا تو لوگ حضرت علی ؓ کے بہت قریب آگئے۔
اس حدیث میں دو باتیں ہیں ]۱[ ایک تو حضرت علی ؓ نے بھی بعد میں حضرت ابو بکر ؓ سے بیعت کی۔
]۲[ حضرت علی ؓ نے حضرت ابو بکر ؓکی فضیلت کا اقرار کیا۔ اور حضرت ابو بکر ؓ نے بھی حضرت علی کی فضیلت کا اقرار کیا، یہ کتنی اچھی بات ہے
دونوں بڑے حضرات نے آپس میں صلح کر لی۔ اس لئے اب ہم لوگوں کو بھی اسی صلح پر راضی ہوجانا چاہئے
کیونکہ اگر ہم اسی کو پکڑے رہیں گے تو ہم دو ٹکڑوں میں بٹ جائیں گے، اور دوسری قومیں ہمیں پیس کر رکھ دے گی جو اس وقت ہو رہا ہے۔اور ہمیشہ کے لئے امت میں اختلاف باقی رہ جائے گا۔
خلیفہ متعین ہونے کے بعد بلا وجہ ان سے اختلاف کرنا جائز نہیں ہے
خلافت کے لئے بیعت کرنے کے بعد بلا وجہ ان سے اختلاف کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس سے فتنہ ہوگا، اس کے لئے حدیث یہ ہے
11۔عن عبد الرحمن بن عبد رب الکعبۃ…..و من بایع اماما فأعطاہ صفقۃ یدہ و ثمرۃ قلبہ فلیطعہ ان استطاع فان جاء آخر ینازعہ فاضربوا عنق الآخر۔ (مسلم شریف، کتاب الامارۃ، باب وجوب الوفاء ببیعۃ الخلیفۃ الاول فالاول، ص ۸۲۸، نمبر ۴۴۸۱/ ۶۷۷۴)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ جس نے امام سے بیعت کی اور اپنا ہاتھ دے دیا، اور اپنا دل بھی دیا، تو جتنا ہو سکے اس کی اطاعت کرنی چاہئے،اور اگر کوئی دوسرا آدمی خلافت لینے کے لئے جھگڑا کرنے لگے تو دوسرے کی گردن مار دو
اس حدیث میں ہے کہ خلیفہ تعین ہونے کے بعد ان کی پوری اطاعت کرنی چاہئے
اس لئے اتنا زمانہ گزرنے کے بعد بھی جو لوگ اختلاف کا معاملہ بار بار سامنے لاتے ہیں، یہ صحیح نہیں ہے، اس سے بلا وجہ مسلمانوں میں اختلاف ہو تا ہے، اور مسلمان دو ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے، اور دوسری قوموں کے سامنے ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی
پانچ خلیفوں کی خلافت کی مدت
حدیث میں یہ ہے کہ خلافت راشدہ کی مدت تیس 30 سال ہو گی
اس کے لئے یہ حدیث ہے۔
12۔عن سفینۃ قال قال رسول اللہ ﷺ خلافۃ النبوۃ ثلاثون سنۃ ثم یوتی اللہ الملک او ملکہ من یشاء۔
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ خلافت نبوت تیس ۰۳ سال ہے پھر اللہ اپنا ملک جس کو دینا چاہے دے گا
۔قال سعید قال لی سفینۃ امسک علیک ابا بکر سنتین، و عمر عشرا، و عثمان اثنی عشرا، و علی کذالک، قال سعید قلت لسفینۃ، ان ھٓولاء یزعمون ان علیا لم یکن خلیفۃ قال کذبت استاہ بنی الزرقاء، یعنی بنی مروان۔ (ابو داود شریف، کتاب السنۃ، باب فی الخلفاء، ص ۶۵۶، نمبر ۶۴۶۴)
ترجمہ۔ حضرت سعید فرماتے ہیں کہ پھر حضرت سفینہ ؓ نے اس کی تفصیل بتائی، کہ حضرت ابو بکر ؓ کی خلافت کے دو سال، حضرت عمر کے دس سال، حضرت عثمان ؓ کے بارہ سال، اس طرح حضرت علی ؓ ک کی بھی خلافت ہے، حضرت سعید نے حضرت سفینہ ؓ سے کہا کہ یہ مروانی لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ، حضرت علی ؓ خلیفہ نہیں تھے، تو حضرت سفینہ ؓ نے فرمایا کہ بنی زرقاء، یعنی بنی مروان جھوٹ بولتے ہیں
اس حدیث میں ہے کہ خلافت نبوت 30 سال ہوگی۔
اس عقیدے کے بارے میں 0 آیتیں اور 12 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
حضرت ابو بکر ؓ کی خلافت دو سال، تین ماہ، دس دن ہے
12 ربیع الاول ۱۱ ؁ھ، مطابق 7 جون 632 ؁ ء سے
۲۲ جمادی الآخری،13؁ ھ، مطابق23ا گست، 634 ؁ ء تک
حضرت عمر ؓ کی خلافت دس سال، چھ ماہ، چار دن،ہے
۲۲ جمادی الآخری13ھ مطابق 23، اگست 634؁ ء سے
26 ذی الحجۃ ۳23؁ھ، مطابق ۳ نومبر 644 ؁ ء تک
حضرت عثمان ؓ کی خلافت اگیارہ سال، اگیارہ ماہ، ۲۲ دن، ہے
۳ محرم 24ھ، مطابق ، ۹ نومبر 644؁ ء سے
تا25 ذی الحجۃ 35 ؁ ھ، مطابق ،24 جون 656 ؁ ء تک
حضرت علی ؓ کی خلافت چار سال آٹھ ماہ،25دن ہے
26 ذی الحجہ 35 ؁ ھ مطابق 25 جون 656؁ ء سے
تا 21 رمضان40ھ مطابق 28 جنوری 166ء تک
حضرت حسن ؓ کی خلافت چھ ماہ، تین دن ہے
۲۲ رمضان 40ھ مطابق 29جنوری 166ء سے
تا 25 ربیع الاول 41 ھ، مطابق 29 جولائی ،661ء تک
مجموعہ 30 تیس سال خلافت راشدہ کی مدت ہوئی۔۔۔۔۔ انٹرنیٹ سے یہ حوالہ لیا ہے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: