اسلامیات

عقیدہ نمبر 20۔ولی کس کو کہتے ہیں

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور5 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو، شریعت پر پورا پورا عمل کرتا ہو، اور متقی اور پرہیز گار ہو، لوگوں کے ساتھ معاملات بہت اچھا رکھتا ہو، نماز کا پورا پابند ہو، روزہ رکھتا ہو، زکوۃ دیتا ہو،اور حرام کام سے مکمل بچتا ہو، اور خدا کا خوف ہو تو، اس کو،ولی، کہتے ہیں
اور جو لوگ شریعت کے پابند نہیں ہوتے اور ولایت کا دیکھاوا کرتے ہیں وہ ولی نہیں مکارہیں، آج کل تو بہت سے مادر زاد ننگے باوا کو بھی ولی سمجھنے لگے ہیں۔، اس کو سمجھا کریں
اس حدیث میں اس کی تفصیل ہے
1۔عن عبید بن عمیر۔۔۔ان رسول اللہ ﷺ قال فی حجۃ الوداع، الا ان أولیاء اللہ المصلون من یقیم الصلوات الخمس التی کتبت علیہ و یصوم رمضان و یحتسب صومہ یری انہ علیہ حق و یعطی زکاۃ مالہ یحتسبھا و یجتنب الکبائر التی نہی اللہ عنھا۔ (مستدرک للحاکم، کتاب الایمان، ج اول، ص ۷۲۱، نمبر ۷۹۱ / سنن بیہقی، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی استقبال القبلۃ بالموتی، ج ثالث، ص ۳۷۵، نمبر ۳۲۷۶)
ترجمہ۔حضور ؐ نے حجۃ الوداع میں فرمایا، سن لو! اللہ کے ولی وہ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں، پانچوں نمازیں جو اس پر فرض ہے اس کو قائم کرتے ہیں، رمضان کا روزہ رکھتے ہیں، وہ صرف اللہ کے لئے رکھتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ روزہ رکھنا اس پر اللہ کا حق ہے، اور صرف ثواب کے لئے اپنے مال کی زکوۃ دیتے ہیں، اللہ نے جس گناہ کبیرہ سے روکا ہے، اس سے بچتے ہیں
اس حدیث میں ہے کہ نماز پڑھتا ہو، روزہ رکھتا ہو، زکوۃ دیتا ہو اور گناہ کبیرہ سے بچتا ہو تو وہ ولی ہے، اور جو یہ کام نہیں کرتا ہے، اور گناہ کبیرہ سے نہیں بچتا ہے وہ ہر گز ولی نہیں ہے
1۔ الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم و لا ہم یحزنون، الذین آمنوا و کانوا یتقون، لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا و فی الآخرۃ لا تبدیل لکلمات اللہ ذالک ہو الفوز العظیم۔ (آیت ۲۶۔۴۶، سورت یونس ۰۱)
ترجمہ۔ یاد رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں۔ ان کو نہ کوئی خوف ہو گا، نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، اور تقوی اختیار کئے رہے، ان کے لئے خوشخبری ہے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔
اس آیت میں دو باتیں ہیں ]۱[ ایک تو یہ کہ ولی پر خوف اور غم نہیں ہو گا، ]۲[ اور دوسری بات یہ ہے کہ ولی وہ ہیں جو ایمان لائے اور زندگی بھر تقوی اختیار کرتے رہے، اس لئے جو مومن نہیں ہے، کافر ہے تو وہ ولی نہیں بن سکتا، اور جو تقوی اختیار نہیں کرتا، شریعت پر نہیں چلتا وہ بھی ولی نہیں بن سکتا ہے
2۔ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔ (آیت ۳۱، سورت الحجرات ۹۴)
ترجمہ۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سے سب سے زیادہ متقی ہو۔
اس آیت میں ہے کہ جو زیادہ متقی ہو گا اللہ کے نزدیک وہی زیادہ با عزت ہے
ولی کی علامت یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر خدا یاد آئے
جو شان و شوکت والا ہو، اور اس کو دیکھ کر دنیا یاد آئے وہ ولی نہیں ہے، وہ دنیا دار ہے، اور جس کی سادگی، پرہیز گاری، اور خوف خدا دیکھ کرآخرت یاد آنے لگے وہ اللہ کا ولی ہے
اس کے لئے حدیث یہ ہے
2۔عن ابن عباس عن النبی ﷺ قال ابراہیم سئل رسول اللہ ﷺ من اولیاء اللہ؟ قال الذین اذا رؤا ذکر اللہ۔ (سنن نسائی کبری، باب قول اللہ تعالی، الا ان اولیاء اللہ، ج ۰۱، ص ۴۲۱، نمبر ۱۷۱۱۱)
ترجمہ۔ حضور ؐ سے لوگوں نے پوچھا کہ اللہ کے ولی کون ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ جب اس کو دیکھو تو خدا یاد آنے لگے ] تو سمجھو کہ وہ اللہ کا ولی ہے [
3۔ان اسماء بنت یزید انہا سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: الا ینبأکم بخیارکم؟ قالوا بلی یا رسول اللہ قال خیارکم الذین اذا رؤوا ذکر اللہ عز و جل۔ (ابن ماجۃ شریف، کتاب الزہد، باب من لا یؤبہ لہ، ص ۱۰۶، نمبر ۹۱۱۴)
ترجمہ۔ حضرت اسماء بنت یزید نے کہا کہ،میں نے حضور ؐ کو کہتے ہوئے سنا، میں تمہیں بتلاؤں کہ تم میں سے اچھے لوگ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا، ہاں یا رسول اللہ!، آپؐ نے فرمایا، تم میں سے اچھے وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو دیکھو تو خدا یاد آجائے
ان احادیث میں ہے کہ جسے دیکھ کر خدا یاد آئے، وہ اچھے لوگ ہیں، اس لئے پیر ایسا اللہ والا ہو جس کو دیکھ کر خدا یاد آئے۔
جو شریعت کا پابند نہیں وہ ولی نہیں ہے
آج کل بہت سے لوگ ہیں جو ولی ہونے کا دعوی کرتے ہیں،لیکن وہ نہ نماز کے پابند ہیں، نہ روزے کے پابند ہیں، نہ زکوۃ دیتے ہیں، بلکہ لوگوں کو دھوکہ دیکر ان سے پونڈ وصول کرتے رہتے ہیں، ایسے لوگوں کو ولی نہیں سمجھنا چاہئے، اور اس کی جال سے بچنا چاہئے
کوئی ولی کتنا ہی بلند ہو جائے وہ نبی اور صحابہ سے افضل نہیں ہو سکتا
بعد کے ولی کا درجہ صحابہ سے بھی کم ہے، کیونکہ، صحابہ نے ایمان کے ساتھ حضور کو دیکھا ہے اور انکی مدد کی ہے، اور ولی نے حضورؐ کو نہیں دیکھا ہے، اس لئے بعد کے ولی صحابہ سے افضل نہیں ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ حضور نے تمام صحابہ کی بہت فضیلت بیان کی ہے، جو ولیوں کے لئے نہیں ہے، اس لئے بعد کے ولی کتنے ہی آگے کیوں نہ بڑھ جائیں وہ صحابہ کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا۔
بعض لوگ بعد کے ولیوں کی اتنی فضیلت بیان کرتے ہیں کہ ان کو صحابہ سے بھی آگے بڑھا دیتے ہیں، یہ صحیح بات نہیں ہے
اس کے لئے حدیث یہ ہے
4۔عن عبد اللہ بن مغفل المزنی قال قال رسول اللہ ﷺ اللہ اللہ فی اصحابی، اللہ اللہ فی اصحابی لا تتخذہم غرضا بعدی فمن احبہم فبحبی أحبہم و من ابغضہم فببغضی ابغضہم، و من آذاہم فقد آذانی و من آذانی فقد آذی اللہ تبارک و تعالی و من آذای اللہ فیوشک ان یأخذہ۔ (مسند امام احمد، باب حدیث عبد اللہ بن مغفل المزنی، ج ۶، ص ۲۴، نمبر ۶۲۰۰۲)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ، میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے ڈرو ، میرے اصحاب کے بارے میں اللہ سے ڈرو،میرے بعد انکو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنائیں، جو ان سے محبت کریں گے وہ میری وجہ سے محبت کریں گے، اور جو ان سے بغض کریں گے وہ میری وجہ سے بغض کریں گے، جس نے انکو تکلیف دی اس نے گویا کہ مجھے تکلیف دی، اور جس نے مجھے تکلیف دی تو اس نے گویا کہ اللہ کو تکلیف دی، اور جس نے اللہ کو تکلیف دی تو ہو سکتا ہے اللہ اس کو اپنے پکڑ میں لے لے
حضور ؐ نے بڑے درد کے ساتھ اپنے صحابی کے بارے میں فرمایا کہ انکو طعن و تشنیع کا نشانہ نہ بنا یا جائے۔
5۔سمعت جابر بن عبد اللہ یقول سمعت النبی ﷺ یقول لا تمس النار مسلما رأنی او رأی من رانی۔ (ترمذی شریف، باب ما جاء فی فضل من رای النبی ﷺ و صحبہ، ص ۲۷۸، نمبر ۸۵۸۳)
ترجمہ۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں،میں نے حضور ؐ سے کہتے ہوئے سنا ہے، جس نے مسلمان ہونے کی حالت میں مجھے دیکھا ہو، یا جس نے مجھے دیکھا ہو ] یعنی میرے صحابی کو [اس کو دیکھا ہو تو اس کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔
ان احادیث میں صحابہ کی فضیلت ہے جو ایک ولی کے لئے نہیں ہے، اس لئے ادنی صحابی بھی بعد کے تمام ولیوں سے افضل ہیں
ولی سے خارق عادت بات ثابت ہو جائے تو اس کو کرامت کہتے ہیں
نبی سے کوئی خارق عادت بات ظاہر ہو تو اس کو معجزہ، کہتے ہیں، اور ولی سے کوئی خارق ] عجیب [ بات ظاہر ہو تو اس کو کرامت، کہتے ہیں،اور غیر مسلم سے کوئی خارق عادت چیز ثابت ہو جائے تو اس کو استدراج، کہتے ہیں
ولی سے بھی خارق عادت چیز] یعنی کرامت [ ظاہر ہو سکتی ہے،
، لیکن یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ بہت سارے لوگ کرامت کا دعوی کرتے ہیں، لیکن اس میں کوئی حقیقت نہیں ہو تی، اس لئے اس زمانے میں اس سے چوکنا رہنا چاہئے۔
کرامات کے لئے یہ آیت موجود ہے
3۔ کلما دخل علیہا زکریا المحراب وجد عندھارزقا۔ (آیت ۷۳، سورت آل عمران ۳)
ترجمہ۔ جب بھی زکریا حضرت مریم ؓکے پاس ان کی عبادت گاہ میں جاتے ان کے پاس کوئی رزق پاتے۔
اس آیت میں ہے کہ حضرت مریم علہا السلام جو نبی نہیں تھیں، و لیہ تھیں انکے پاس بے موسم کا پھل ہوا کرتا تھا جو ایک کرامت ہے۔
جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتا وہ ولی نہیں بن سکتا
اس وقت دنیا میں بہت سارے وہ لوگ ہیں جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے ، ان میں توحید نہیں ہے، یا کفر میں مبتلاء ہیں یا شرک میں مبتلاء ہیں اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ میں ولی ہوں، پہنچا ہوا آدمی ہوں، وہ تپسیا ] مجاہدہ [بھی کرتے ہیں، وہ لوگوں کو تعویذ ] جنتر، منتر [ دیتے ہیں اور کبھی اللہ کے حکم سے اس کا فائدبھی ہوتا ہے، جس سے عوام سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ کے ولی ہیں، اور عوام اس کے معتقد ہوجاتے ہیں
لیکن یہ بات سمجھنا چاہئے کہ جب تک توحید نہ ہو، ایمان نہ ہو، اللہ کے تمام احکام پر عمل نہ کرتاہو وہ اللہ کا ولی نہیں ہے، یہ اس کے لئے ڈھیل ہے، استدراج ہے، ان کے ہاتھ میں کبھی بھی مرید نہیں ہونا چاہئے، اس سے بچنا چاہئے، بہت ممکن ہے کہ اس کے قریب ہونے کی وجہ سے آپ کا ایمان ختم ہو جائے
اس کے لئے آیت یہ ہے
4۔ الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیہم و لا ہم یحزنون، الذین آمنوا و کانوا یتقون، لہم البشری فی الحیوۃ الدنیا و فی الآخرۃ لا تبدیل لکلمات اللہ ذالک ہو الفوز العظیم۔ (آیت ۲۶۔۴۶، سورت یونس ۰۱)
ترجمہ۔ یاد رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں۔ ان کو نہ کوئی خوف ہو گا، نہ وہ غمگین ہوں گے، یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، اور تقوی اختیار کئے رہے، ان کے لئے خوشخبری ہے دنیوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی۔
اس آیت میں سب سے پہلی شرط ہے کہ وہ ایمان رکھتا ہو، اور دوسری شرط ہے کہ تقوی اختیار کرتا ہو تب ولی ہو گا، اس کے بغیر ولی نہیں بن سکتا۔ اس کا خیال رکھیں
اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور5 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: