اسلامیات

عقیدہ نمبر 21۔ فرشتوں کا بیان

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 9 آیتیں اور3 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
ایمان کے باب میں آئے گا کہ چھ باتوں پر ایمان رکھنے سے آدمی مومن بنتا ہے، اور ان میں سے ایک بات فرشتوں پر ایمان رکھنا ہے، اس لئے فرشتوں کی تفصیل ذکر کی جا رہی ہے
عقیدۃ الطحاویۃ میں عبارت یہ ہے۔
۔و الایمان، ہو الایمان باللہ، و ملائکتہ، و کتبہ، و رسلہ، و الیوم الآخر، و القدر خیرہ و شرہ، و حلوہ و مرہ، (عقیدۃ الطحاویۃ، عقیدہ نمبر ۶۶، ص ۵۱)
ترجمہ۔ اور ایمان،یہ ہے کہ اللہ پر، اس کے فرشتے پر، اسکی کتابوں پر،اسکے رسولوں پر، آخرت کے دن پر، اور تقدیر پر ایمان ہو
اس عبارت میں ہے کہ چھ چیزوں پر ایمان لانے سے آدمی مومن بنتا ہے، ان میں سے ایک فرشتوں پر ایمان لانا بھی ہے
باقی تفصیل ایمان کی بحث میں دیکھیں
فرشتہ کی پیدائش نور سے ہے
فرشتے اللہ کی معصوم مخلوق ہیں جن کی پیدائش نور سے ہے
اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔
1۔عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ ﷺ خلقت الملائکۃ من نور، و خلق الجان من مارج من نار، و خلق آدم مما وصف لکم۔ (مسلم شریف، باب فی احادیث متفرقۃ، باب الزہد، ص ۵۹۲۱، نمبر ۶۹۹۲/ ۵۹۴۷)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں، اور جنات کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا گیا ہے، اور حضرت آدم ؑ کو اس چیز سے پیدا کیا جو تمہارے سامنے بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث میں ہے کہ فرشتے نور سے پیدا کئے گئے ہیں، اور جنات آگ سے پیدا کئے گئے ہیں۔
چار فرشتے بڑے ہیں ان کا تذکرہ ان آیتوں میں ہے
فرشتے بہت ہیں جن کی تعداد اللہ ہی کو معلوم ہے، ان میں چار فرشتے بڑے ہیں
حضرت جبرئیل علیہ السلام،
حضرت میکائیل علیہ السلام ،
حضرت اسرافیل علیہ السلام ،
اورحضرت عزرائیل علیہ السلام
حضرت جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام کا تذکرہ نیچے کی آیت میں ہے
حضرت جبرئیل علیہ السلام سب سے بڑے فرشتے مانے جاتے ہیں، اور ان کا کام نبیوں پر وحی لانا ہے
حضرت میکائیل علیہ السلام کا کام بارش برسانا ہے
یہ کام اللہ کے حکم سے انجام دیتے ہیں، اس لئے بارش برسانے کے لئے حضرت میکائیل ؑ سے مانگنا جائز نہیں ہے، صرف اللہ تعالی ہی سے بارش مانگی جائے گی، کچھ غیر مسلم بارش کے لئے دیوی کی پوجا کرتے ہیں، وہ یہ مانتے ہیں کہ بارش برسانا دیوی کے اختیار میں ہے، اس لئے وہ اس کے لئے دیوی، اور دیوتا کو پکارتے ہیں، یہ اسلام میں حرام ہے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
1۔و من کان عدو اللہ و ملائکتہ و رسلہ و جبریل و میکال فان اللہ عدو للکافرین۔ ( آیت۸۹، سور ت البقرۃ۲)
ترجمہ۔ اگر کوئی شخص اللہ کا، اس کے فرشتوں کا، اور رسولوں کا اور جبرئیل اور میکائیل کا دشمن ہے تو وہ سن رکھے کہ اللہ کافروں کا دشمن ہے
2۔قل من کان عدوا لجبریل فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ۔(آیت ۷۹، سورت البقرۃ۲)
ترجمہ۔ اے پیغمبر کہہ دیں کہ اگر کوئی شخص جبرئیل کا دشمن ہے تو ہوا کرے انہوں نے تو یہ کلام اللہ کی اجازت سے آپ کے دل پر اتارا ہے
ان دونوں آیتوں میں جبرئیل اور میکائیل علیہ السلام کا ذکر ہے
حضرت عزرائیل ؑ ]ملک الموت [کا تذکرہ
حضرت عزرائیل علیہ السلام کا کام لوگوں کو موت دینا ہے، یہ کام بھی وہ اللہ کے حکم سے کرتے ہیں، موت اور حیات دینا صرف اللہ کا کام ہے، البتہ اللہ کے حکم سے وہ اس کام کو انجام دیتے ہیں، اس لئے زندہ رکھنے کے لئے صرف اللہ سے دعا مانگی جا سکتی ہے، فرشتے سے نہیں
، اس کے لئے آیت یہ ہے
3۔قل یتوفاکم ملک الموت الذی وکل بکم ثم الی ربکم ترجعون۔ (آیت ۱۱، سورت السجدۃ ۲۳)
ترجمہ۔ کہہ دو کہ، تمہیں موت کا وہ فرشتہ پورا پورا وصول کر لے گا جو تم پر مقرر کیا گیا ہے، پھر تمہیں واپس تمہارے پرور دگار کے پاس لے جایا جائے گا
4۔حتی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا و ہم لا یفرطون۔ (آیت ۱۶، سورت انعام ۶)
ترجمہ۔ یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کے موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کو پورا پورا وصول کرلیتے ہیں، اور وہ ذرا بھی کوتاہی نہیں کرتے
اس آیت میں ہے کہ موت کا وقت آجاتا ہے تو ایک سکنڈ بھی تاخیر نہیں کرتا
،اس آیت میں ملک الموت کا ذکر ہے
حضرت اسرافیل علیہ السلام کا تذکرہ
حضرت اسرافیل ؑ صور پھونکنے پرمامور کئے گئے ہیں، یہ قیامت کے روز صور پھوکیں گے
اس کے لئے آ یتیں یہ ہیں
5۔و یوم ینفخ فی الصور ففزع من فی السماوات و من فی الارض۔ (آیت ۷۸، سورت النمل ۷۲)
ترجمہ۔اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو آسمان اور زمین کے سب رہنے والے گھبرا اُٹھیں گے
6۔ و نفخ فی الصور فصعق من فی السموات و من فی الارض الا من شاء اللہ ثم نفخ فیہ اخری فاذا ھم قیام ینظرون۔ (آیت ۸۶، سورت الزمر ۹۳)
ترجمہ۔ اور صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین میں جتنے ہیں وہ سب بیہوش ہو جائیں گے ، سوائے اس کے جسے اللہ چاہے، پھر دوسری بار پھونکا جائے گا تو وہ سب لوگ پل بھر میں کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے
2۔عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ﷺ ان صاحبی الصور بأیدیھما قرنان یلاحظان النظر متی یومران۔ (ابن ماجۃ شریف، کتاب الزہد، باب ذکر البعث، ص ۳۲۶، نمبر ۳۷۲۴) ۔
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ صور پھونکنے والے کے دونوں ہاتھوں میں دو سینگ ہیں، وہ ٹکٹکی لگائے ہوئے ہیں کہ کب ان کو صور پھونکنے کا حکم دیا جاتا ہے ] تاکہ وہ صور پھونکیں [۔
ان آیات اور حدیث میں صور پھونکنے والا فرشتہ میکائیل کا ذکر ہے
کراما کاتبین کا تذکرہ
کراما کاتبین، یہ دو فرشتے ہیں، ایک دائیں جانب اور دوسرے بائیں جانب، یہ دونوں ہمارے کئے ہوئے اعمال کو لکھتے ہیں، دائیں جانب والا فرشتہ نیک اعمال لکھتا ہے اور بائیں جانب والا ہمارے برے اعمال کو لکھتا ہے.، اس کے لئے آیت یہ ہے
7۔و ان علیکم لحافظین کراما کاتبین یعلمون ما تفعلون۔ (آیت ۰۱، سورت انفطار ۲۸)
ترجمہ۔ حالانکہ تم پر کچھ نگراں ]فرشتے [ مقرر ہیں وہ معزز لکھنے والے ہیں، جو تمہارے سارے کاموں کو جانتے ہیں۔
اس آیت میں کراما کاتبین فرشتے کا ذکر ہے
منکر نکیر کا تذکرہ
یہ دو فرشتے ہیں، جب آدمی کو قبر میں لٹایا جاتا ہے تو یہ دونوں فرشتے آتے ہیں، اور میت سے تین سوالات کرتے ہیں۔
اس کے لئے حدیث یہ ہے
3۔عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ اذا اقبر المیت۔ او قال احدکم۔ اتاہ ملکان اسودان ازرقان یقال لاحدہما المنکر و الآخر النکیر۔ (ترمذی شریف، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی عذاب القبر، ص ۸۵۲، نمبر ۱۷۰۱)
ترجمہ حضور ؐ نے فرمایا کہ میت کو قبر میں لٹایا جاتا ہے، راوی نے یہ فرمایا کہ تم میں سے کسی ایک کو لٹایا جاتا ہے۔تو کالے فرشتے آتے ہیں جنکی آنکھیں نیلی ہوتی ہیں، ان میں سے ایک کا نام منکر ہے، اور دوسرے کا نام نکیر ہے
اس حدیث میں منکر نکیر فرشتے کا ذکر ہے
فرشتے اللہ کے فرمان کے تابع ہوتے ہیں
8۔بل عباد مکرمون لا یسبقونہ بالقول و ہم بامرہ یعملون۔ (آیت ۶۲، سورت الانبیاء۱۲)
ترجمہ۔ بلکہ فرشتے تو اللہ کے بندے ہیں جنہیں عزت بخشی گئی ہے، وہ اس سے آگے بڑھ کر کوئی بات نہیں کرتے، اور وہ اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں
9۔ و الملائکۃ و ھم لا یستکبرون یخافون ربہم من فوقہم و یفعلون ما یومرون۔ (آیت ۰۵، سورت النحل ۶۱)
ترجمہ۔ اور سارے فرشتے اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں، اور وہ ذرا تکبر نہیں کرتے، وہ اپنے اس پروردگار سے ڈرتے ہیں جو ان کے اوپر ہیں، اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
ان آیتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ فرشتے نافرمانی نہیں کرتے بلکہ صرف اللہ کے حکم پر چلتے ہیں یہی ان کی فطرت ہے۔
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ انسان فرشتوں سے افضل ہے، اور حضور ؐ تو تمام فرشتوں سے، اور تمام نبیوں اور تمام رسولوں سے بھی افضل ہیں، اور اللہ کے بعد سب سے بڑا درجہ حضور ؐ کا ہے
اس کی تفصیل نور و بشر کے عنوان میں دیکھیں
اس عقیدے کے بارے میں 9 آیتیں اور3 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: