اسلامیات

عقیدہ نمبر 22۔جنات کا بیان

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 8 آیتیں اور 2 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان سے پہلے اللہ نے جنات کو پیدا کیا تھا، لیکن مصلحت کی وجہ سے اللہ نے بعد میں انسان کو پیدا کیا، اور اس سے اس زمین کو آباد کیا
جن کی پیدائش آگ سے ہے
اس کے لئے یہ آیت ہے
1۔ و الجان خلقناہ من قبل من نار السموم۔(آیت ۷۲، سورۃ الحجر ۵۱)
ترجمہ۔ اور جنات کو اس سے پہلے لو کی آگ سے پیدا کیا ہے تھا
2۔خلق الجان من مارج من نار۔ (آیت ۵۱، سورت الرحمن ۵۵)
ترجمہ۔ اور جنات کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا ہے
اس آیت میں ہے کہ جنات کو آگ سے پیدا کیا گیا ہے
انسان کی پیدائش مٹی سے ہے
انسان کی پیدائش مٹی سے ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے۔
3۔ہو الذی خلقکم من طین ثم قضی اجلا۔ (آیت ۲، سورۃ الانعام ۶)
ترجمہ۔ وہی ذات ہے جس نے تم کو گیلی مٹی سے پیدا کیا، پھر ] تمہاری زندگی کی [ ایک وقت مقرر کر دی
اس آیت میں ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔
4۔و اللہ خلقکم من تراب ثم من نطفۃ ثم جعلکم ازواجا۔ (آیت ۱۱، سورۃ فاطر ۵۳)
ترجمہ۔ اور اللہ نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں جوڑے جوڑے بنایا
اس آیت میں بھی ہے کہ انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے۔
بعض جن نیک ہوتے ہیں اور بعض بد کار ہوتے ہیں
جن میں بعض نیک بھی ہوتے ہیں، اور بعض بد بھی ہوتے ہیں، البتہ چونکہ اس کی پیدائش آگ سے ہے، اس لئے اچھے کم اور برے زیادہ ہوتے ہیں
جن میں سے کچھ جن نیک ہوتے ہیں اس کی دلیل یہ آیت ہے
5۔ قل اوحی الی انہ استمع نفر من الجن فقالوا انا سمعنا قرآنا عجبا، یہدی الی الرشد فامنا بہ و لن نشرک بربنا أحدا۔ (آیت ۱۔۲، سورت الجن ۲۷)
ترجمہ۔ اے رسول کہہ دیں کہ میرے پاس وحی آئی ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے قرآن غور سے سنا، اور وہ اپنی قوم سے جا کر کہا کہ، ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے، جو راہ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے، اس لئے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، اور اب اپنے پر ور دگار کے ساتھ کسی کو عبادت میں ہر گز شریک نہیں مانیں گے
اس آیت میں ہے کہ کچھ جن ایمان لائے ۔
جنات اور انسان اللہ کی عبادت کے لئے پیدا کئے گئے ہیں
6۔ و ما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون۔ (آیت ۶۵، سورت الذاریات۱۵)
ترجمہ۔ جنات اور انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔
جنات انسان کو پریشان کرتا ہے
لیکن اتنا نہیں ہے جتنا آج کل کے زمانے میں اس میں غلو ہے
اس کے لئے احادیث یہ ہیں
1۔عن ابی ہریرہ عن النبی ﷺ قال ان عفریتا من الجن تفلت علی البارحۃ۔ لیقطع علی الصلاۃ فامکننی اللہ منہ۔ (بخاری شریف، کتاب الصلاۃ، باب الاسیر او الغریم یربط فی المسجد، ص ۰۸، نمبر ۱۶۴/ مسلم شریف، کتاب المساجد، باب جواز لعن الشیطان فی اثناء الصلاۃ، و التعوذ منہ، ص ۰۲۲، نمبر ۱۵/ ۹۰۲۱)
ترجمہ۔حضور ؐ نے فرمایا کہ کل رات ایک شریر جن نے مجھ پر حملہ کیا تاکہ میری نماز خراب کر دے، لیکن اللہ نے مجھ کو اس کو پکڑنے کی قدرت دی
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جنات انسان کو پریشان کر تے ہیں
2۔عن ابی عثمان قال أتت امرأۃ عمر بن الخطاب، قالت استھوت الجن زوجھا فامرھا ان تتربص اربع سنین۔ (دار قطنی، کتاب النکاح، باب المہر، ج ۳، ص ۷۱۲، نمبر ۳۰۸۳/۸۴۸۳)
ترجمہ۔ ایک عورت عمر بن الخطابؓ کے پاس آئی جس کے شوہر کو جن اڑا لے گیا تھا، تو حضرت عمر ؓ نے اس عورت کو چار مہینے تک عدت گزارنے کا حکم دیا
اس قول صحابی سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات انسان کو اڑا کر لیجا سکتے ہیں
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات انسان کو پریشان کرتے ہیں ۔
جنات کے ٹھیکے داروں سے چوکنا رہیں
لیکن آج کل صورت حال یہ ہے کہ عام طور پر تعویذ والوں کو اورجنات نکالنے والوں کو کچھ علم نہیں ہوتا، وہ اپنے استاد سے تعویذ کم اور مکاری زیادہ سیکھا ہوتا ہے، اس لئے جس تعویذ والے کے پاس آپ جائیں وہ بیچ بیچ کی بات کہتا ہے، مثلا کہے گا کہ، تم کو قریب کے لوگوں نے جادو کیا ہے۔ تم پر جنات کا اثر ہے، یعنی جنات ہے بھی اور نہیں بھی ہے
اب اس کی تعویذ دی اور دو ماہ میں کچھ نہیں ہوا اور آپ دوبارہ اس کے پاس گئے،تو کہہ دیتا ہے کہ میں نے دو جنات کو تو نکال دیا تھا، اب اس کے خاندان کے پانچ جنات نے دوبارہ حملہ کر دیا ہے، اب اس کو نکالنے کے لئے اور دو ماہ لگیں گے، اور مزید پانچ ہزار روپیہ لگے گا، اس طرح وہ کئی ماہ تک روپیہ کھینچتا رہتا ہے، اور عوام پریشان رہتا ہے اور ہوتا کچھ نہیں ہے، یہ بھی دیکھا گیا ہے تعویذ والے اتنا دل میں جنات کا خوف ڈال دیتے ہیں، وہ جلدی نکلتا بھی نہیں ہے، اس لئے ایسے لوگوں سے بہت بچنا چاہئے
شیطان کی پیدائش بھی آگ سے ہے
شیطان بھی جنات کے خاندان سے ہے اور اس کو بھی آگ سے پیدا کیا ہے، البتہ بہت عبادت کرنے کی وجہ سے وہ فرشتوں کے درمیان ہو گیا تھا، اور جب فرشتوں کو سجدہ کرنے کے لئے کہا تو شیطان نے بھی سمجھا تھا کہ مجھکو بھی سجدہ کرنے کے لئے کہا ہے، لیکن اس نے سجدہ نہیں کیا،اور دلیل یہ دی کہ میں میری پیدائش آگ ہے، اور میرا درجہ انسان سے زیادہ ہے، اس لئے میں انسان کو سجدہ نہیں کروں گا
اس کی دلیل یہ آیت ہے
7۔قال ما منعک الا تسجد اذ امرتک قال انا خیر منہ خلقتنی من نار و خلقتہ من طین۔ (آیت ۲۱،سورۃ الاعراف ۷)
ترجمہ۔ اللہ نے کہا، جب میں نے تجھے حکم دے دیا تھا تو تجھے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا؟ وہ بولا: میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا، اور اس کو ] آدم[ کو مٹی سے پیدا کیا
اس آیت میں ہے کہ شیطان کی پیدائش اگ سے ہے۔بعد میں اس کو ہمیشہ کے لئے دھتکار دیا گیا
انسان شیطان اور اس کے قبیلے کو نہیں دیکھ سکتا
اس کے لئے آیت یہ ہے
8۔انہ یراکم ھو و قبیلہ من حیث لا ترونہم۔ (آیت ۷۲، سورت الاعراف ۷)
ترجمہ۔ شیطان اور اس کا قبیلہ تمہیں وہاں سے دیکھتا ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے
اس آیت میں ہے کہ ہم شیطان کو نہیں دیکھ سکتے ہیں، اس لئے اس سے بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے
اس عقیدے کے بارے میں 8 آیتیں اور2 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: