اسلامیات

عقیدہ نمبر 23۔ حشر قائم کیا جائے گا

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 16 آیتیں اور2 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ہم مر گئے اس کے بعد برزخ میں زندہ نہیں کیا جائے گا، اور نہ حساب کتاب ہو گا، بلکہ مرنے کے بعد ہم مٹی ہو جائیں گے اور ختم ہو جائیں گے۔ دہریہ کا اور ناستک کا یہی عقیدہ ہے
اس پر اللہ نے فرمایا کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اس کو میدان قیامت میں اپنے کئے کا حساب دینا ہو گا، اور پھر اس کے لئے یا جنت ہو گی، یا جہنم ہو گی
حشر کا مطلب یہ ہے اللہ پاک قبر میں آدمی کو زندہ کریں گے، اور پھر اس کو میدان محشر تک پہونچائیں گے، اور وہاں حساب ہو گا
ان آیتوں میں اس کا ثبوت ہے
1۔یوم ینفخ فی الصور و نحشر المجرمین یومئذ زرقا۔ (آیت ۲۰۱، سورت طہ ۰۲)
ترجمہ۔ جس دن صور پھونکا جائے گا، اور اس دن ہم سارے مجرموں کو گھیر کر اس طرح جمع کریں گے کہ وہ نیلے پڑھے ہوں گے
2۔و یوم نحشر من کل امۃ فوجا ممن یکذب بآیاتنا فھم یوزعون۔ (آیت ۳۸، سورت النمل ۷۲)
۔ترجمہ۔اور اس دن کو نہ بھولو جب ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کی پوری فوج کو گھیر لائیں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتے تھے، پھر ان کی جماعت بندی کی جائے گی
3۔ یوم نسیر الجبال و تری الارض بارزۃ و حشرنا ہم فلم نغادر احدا وعرضوا علی ربک صفا لقد جئتمونا کما خلقنا کم اول مرۃ بل زعمتم ألن نجعل لکم موعدا۔(آیت ۸۴، سورت الکہف ۸۱)
ترجمہ۔ جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے، اور تم زمین کو دیکھو گے کہ وہ کھلی پڑی ہے اور ہم ان سب کو گھیر کر اکٹھا کر دیں گے، اور ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے، اور سب کو تمہارے رب کے سامنے صف باند کر پیش کیا جائے گا، آخر تم ہمارے پاس اسی طرح آگئے جس طرح ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اس کے بر عکس تمہارا دعوی یہ تھا کہ ہم تمہارے لئے یہ مقرر وقت ] محشر[ کبھی نہیں لائیں گے
ان آیات سے معلوم ہوا کہ قیامت قائم ہو گی،
مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا
مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، ان کو میدان قیامت میں لیجایا جائے گا، اور ان سے حساب لیا جائے گا
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
4۔ثم انکم یوم القیامۃ تبعثون۔ (آیت ۶۱، سورت المومنون ۳۲)
ترجمہ۔ پھر قیامت کے دن تمہیں یقینا زندہ کیا جائے گا
5۔ و انہ یحی الموتی و انہ علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۶، سورت الحج ۲۲)
ترجمہ۔اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
6۔و ھو یحی الموتی و ھو علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۹، سورت الشوری ۲۴)
ترجمہ۔ اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے
7۔ قال ن یحی العظام و ھی رمیم قل یحییہا الذی انشأھا اول مرۃ، و ھو بکل خلق علیم ۔ (آیت ۹۷، سورت یٓس ۶۳)
ترجمہ۔ کہتا ہے ان ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا، جبکہ وہ گل چکی ہوں گی، کہہ دو کہ: ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا، اور وہ پیدا کرنے کا ہر کام جانتا ہے
ان آیات میں ہے کہ مردوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا
اللہ تعالی میدان حشرکے مالک ہوں گے
6۔ مالک یوم الدین۔ (آیت ۳، سورت الفاتحہ ۱)
ترجمہ۔ جو بدلے کے دن کا مالک ہے ] یعنی میدان محشر کا مالک ہے
7۔لمن الملک الیوم للہ الواحد القہار۔ (آیت ۶۱، سورت غافر ۰۴)
ترجمہ۔ کس کی بادشاہی ہے آج؟ ] جواب ایک ہی ہو گا کہ [ صرف اللہ کی جو ایک ہے قہار ہے۔
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ محشر کے دن کا مالک ہیں، کوئی اور اس کا مالک نہیں ہو گا۔
محشر میں ہر شخص کا حساب ہو گا
محشر میں پورا پورا حساب ہو گا، اور زندگی میں جتنا خیر اور شر کیا تھا سب کا نامہ اعمال آدمی کے سامنے پیش کیا جائے، اور سب کا حساب کیا جائے گا،جو حساب میں کامیاب ہو گا، اللہ تعالی اس کو جنت عطا فرمائیں گے، جو نا کام ہو گا، اللہ تعالی اس کو جہنم میں ڈالیں گے
اسلئے آدمی کو کبھی نہیں سوچنا چاہئے کہ میرا حساب نہیں ہو گا، اس بھول میں نہیں رہنا چاہئے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
8۔ووضع الکتاب فتری المجرمین مشفقین مما فیہ و یقولو ن یا ویلتنا ما ل ھٰذا الکتاب لا یغادر صغیرۃ و لا کبیرۃ الا احصٰھا، ووجدو ما عملو حاضرا و لا یظلم ربک احدا۔ (آیت ۹۴، سورت الکھف۸۱)
ترجمہ۔ اور اعمال کی کتاب سامنے رکھ دی جائے گی، چنانچہ تم مجرموں کو دیکھو گے کہ وہ اس میں لکھی ہوئی باتوں سے خوف زدہ ہیں، اور کہہ رہے ہیں کہ، ہائے ہماری بربادی! یہ کیسی کتاب ہے جس نے ہمارا کوئی چھوٹا بڑا عمل ایسا نہیں چھوڑا جس کا پورا احاطہ نہ کر لیا ہو، اور وہ اپنا سارا کیا دھرا اپنے سامنے موجود پائیں گے، اور تمہار رب کسی پر کوئی ظلم نہیں کرے گا
9۔فاما من اوتی کتابہ بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا۔ (آیت ۸، سورت الانشقاق۴۸)
ترجمہ۔ پھر جس شخص کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے تو آسان حساب لیا جائے گا۔
10۔اقرأ کتابک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا۔ (آیت ۴۱، سورت الاسراء ۷۱)
ترجمہ۔ کہا جائے گا کہ لو پڑھ لو اپنا نامہ اعمال، آج تم خود اپنا حساب لینے کے لئے کافی ہو۔
11۔لیجزی اللہ کل نفس ما کسبت ان اللہ سریع الحساب۔ (آیت ۱۵، سورت ابراہیم ۴۱)
ترجمہ۔ تاکہ اللہ ہر شخص کو اس کے کئے کا بدلہ دے، یقینا اللہ جلد حساب چکانے والا ہے
12۔ و ان تبدوا ما فی انفسکم او تخفوہ یحاسبکم بہ اللہ۔ (آیت ۴۸۲، سورت البقرۃ۲)
ترجمہ۔ اور جو باتیں تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم ان کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے ان کا حساب لے گا
ان تمام آیتوں میں یہ ہے کہ اللہ قیامت میں حساب لیں گے
قیامت کے دن ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا
قیامت کے دن ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا، جو نیک لوگ ہوں گے اور جنتی ہوں گے، ان کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا، اور جو جہنمی ہوں گے ان کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
13۔ فاما من اوتی کتابہ بیمینہ فسوف یحاسب حسابا یسیرا و ینقلب الی اہلہ مسرورا، و اما ن أؤتی کتابہ وراء ظہرہ فسوف یدعوا ثبورا۔ (آیت ۸۔۲۱، سورت الا نشقاق۴۸)
ترجمہ۔ جس شخص کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا، اس سے تو آسان حساب لیا جائے گا، اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس خوشی مناتا ہوا واپس آئے گا، لیکن وہ شخص جس کو اس کا نامہ اعمال اس کی پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا، وہ موت کو پکارے گا
14۔فاما من اوتی کتابہ بیمینہ فیقول ھاؤم أقرؤکتابیہ۔ (آیت ۹۱، سورت الحاقۃ ۹۶)
ترجمہ۔ پھر س کو اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا: لو یہ میرا اعمال نامہ پڑھو
15۔و اما من اوتی کتٰبہ بشمالہ فیقول یٰلیتنی لم اوت کتٰبیہ۔ (آیت ۵۲، سورت لحاقۃ ۹۶).ترجمہ۔ رہا وہ شخص جس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہے گا: ائے کاش مجھے میرا اعمال نامہ دیا ہی نہ جاتا۔
ان آیتوں میں ہے کہ قیامت کے دن اعمال نامہ ہاتھ میں دیا جائے گا،
پل صراط قائم کیا جائے گا
میدان قیامت میں پل صراط قائم کیا جائے گا، اور لوگوں کو اس پر سے گزرنا ہو گا، جو نیک ہوں گے وہ اس پر سے گزر جائیں گے، اور جنت میں پہنچ جائیں گے، اور جو بد ہوں گے وہ اس پر سے نہیں گزر پائیں گے وہ جہنم میں گر جائیں گے۔
اس کے لئے آیت اور احادیث یہ ہیں
16۔وان منکم واردھا۔ (آیت ۱۷، سورت مریم ۹۱)
اور تم میں سے کوئی نہیں ہے جس کا اس پلصراط پر گزر نہ ہو
1۔ان ابا ہریرۃ اخبرہما…..و یضرب الصراط بین ظہرانی جہنم فاکون اول من یجوز من الرسل بامتہ۔ (بخاری شریف، کتاب الآذان، باب فضل السجود، ص ۰۳۱، نمبر ۶۰۸)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ جہنم کی پیٹھ پر پل صراط قائم کیا جائے گا، اور میں رسولوں میں سے سب سے پہلا ہوں گا، جو اپنی امت کو لیکر اس پر گزرے گا
2۔عن المغیرۃ بن شعبۃ قال قال رسول اللہ ﷺ شعار المومنین علی الصراط رب سلم سلم۔ (ترمذی شریف، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ما جاء فی شأن الصراط، ص ۴۵۵، نمبر ۲۳۴۲)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ پل صراط پر مومن کا شعار، رب سلم سلم،ہو گا
اس آیت اور دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ جہنم پر پل صراط قائم کیا جائے گا۔
اس عقیدے کے بارے میں 16 آیتیں اور2 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: