اسلامیات

عقیدہ نمبر 24 میزان حق ہے

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 12 آیتیں اور2 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
قیامت کے دن اعمال تولنے کے لئے میزان، یعنی ترازو قائم کیا جائے گا
اعمال تولنے کا میزان کس طرح کاہوگا اس کی تفصیل معلوم نہیں ہے، اس کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، لیکن قرآن اور حدیث سے یہ معلوم ہے کہ قیامت میں اعمال تولنے کے لئے میزان اور ترازو ہو گا
پچھلے زمانے میں فلسفہ والوں نے یہ اعتراض کیا تھا کہ اعمال کو جسم نہیں ہے تو کیسے تولے جائیں گے، لیکن اس زمانے میں بخار، اور دل کی ڈھرکنوں کو ناپتے ہیں، اور باریک سے باریک چیز ناپ لیتے ہیں، اس لئے اب یہ اعتراض نہیں رہا،
میزان میں اعمال تولے جائیں گے، اس کی دلیل یہ آیتیں ہیں۔
1۔ونضع الموازین القسط لیوم القیامۃ فلا تظلم نفس شیئا و ان کان مثقال حبۃ من خردل آتینا بہا و کفی بنا حاسبین ۔ (آیت، ۷۴، سورت الانبیاء ۱۲)
ترجمہ۔ اور ہم قیامت کے دن ایسی ترازویں لا رکھیں گے جو سرا پا انصاف ہو ں گی، چنانچہ کسی پر کوئی ظلم نہیں ہو گا
2۔ و الوزن یومئذ الحق فمن ثقلت موازینہ فأولائک ہم المفلحون، و من خفت موازینہ فاولائک الذین خسروا انفسہم بما کانوا باٰیٰتنا یظلمون ۔ (آیت ۸۔۹سورت الاعراف ۷)
ترجمہ۔ اور اس دن اعمال کا وزن ہونا اٹل حقیقت ہے، چنانچہ جن کی ترازو کے پلے بھاری ہوں گے وہی فلاح پانے والے ہوں گے، اور جن کی ترازو کے پلے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہیں جنہوں نے ہماری آیتوں کے ساتھ زیادتیاں کر کرکے خود اپنی جانوں کو گھاٹے میں ڈالا ہے
ان آیتوں میں میزان، یعنی ترازو کا ذکر ہے
1۔عن عائشۃ انہا ذکرت النار فبکت…..فقال رسول اللہ ﷺ اما فی ثلاثۃ مواطن فلا یذکر احدا احدا عند المیزان حتی یعلم أیخف میزانہ او یثقل۔ (ابو داود شریف، باب فی ذکر المیزان، ص ۲۷۶، نمبر ۵۵۷۴)
ترجمہ۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جہنم کا تذکرہ کیا تو وہ رونے لگی۔۔۔حضور ؐ نے فرمایا کہ تین موقع پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا، ایک ترازو کے وقت، یہاں تک کہ یہ جان لے کہ، اس کا وزن ہلکا ہوا ہے یا بھاری۔
اس حدیث میں میزان کا اور وزن اعمال کا تذکرہ ہے۔
اس عقیدے کے بارے میں 2آیتیں اور1 حدیث ہے، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: