اسلامیات

عقیدہ نمبر 27۔ اللہ کہاں ہیں

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اللہ کہاں ہیں اس بارے میں بڑا اختلاف ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس بارے میں مختلف آیتیں اور مختلف احادیث ہیں، اس لئے کسی ایک کو متعین کرنا مشکل ہے
اس لئے اس بارے میں 6 جماعتیں ہو گئی ہیں،
اس عقیدے کے بارے میں 38 آیتیں اور 6 حدیثوں میں آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
اللہ کے بارے میں چار باتیں یاد رکھنا ضروری ہے
]۱[ اللہ واجب الوجود ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہیں گے، وہ تمام چیزوں کا خالق ہے، اس میں فنا نہیں، اس لئے انکی ذات یا صفات میں فنا نہیں ہے
]۲[ وہ جہت سے پاک ہے، یعنی کسی جہت میں نہیں ہے، یعنی اوپر، یا نیچے، یا دائیں، یا بائیں نہیں ہے
]۳[ وہ کیفیت سے پاک ہے، یعنی انسانوں اور چیزوں میں جو مختلف کیفیات ہیں، اللہ میں یہ نہیں ہیں، کیونکہ اللہ تو خود کیفیت کو پیدا کرنے والا ہے، تو اللہ میں کیفیت کیسے ہو گی۔
]۴[ اللہ کی طرح کوئی چیز نہیں ہے، نہ صفات میں اس کی مثل ہے، اور نہ ذات میں کوئی مثل ہے
اس لئے کسی صفت کے بارے میں یہ ہے کہ وہ اللہ کی صفت کی طرح ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ لفظی طور پر وہ ہماری صفت کی طرح معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقی معنی میں وہ چیز ہی کوئی اور ہے، جس کا ہم ادراک نہیں کر سکتے، اور نہ اس کا شعور رکھ سکتے ہیں، اس لئے اللہ کی کسی بھی صفت کو مخلوقات کی صفات پر ہر گز قیاس نہ کریں۔
اس کی دلیل کے لئے یہ آیت، اور حدیث ہے
1۔لیس کمثلہ شیء و ھو السمیع البصیر۔ (آیت ۱۱، سورت الشوری ۲۴)
ترجمہ۔ کوئی چیز اللہ کے مثل نہیں ہے، اور وہی ہے جو ہر بات سنتا ہے، سب کچھ دیکھتا ہے
اس آیت میں ہے کہ اللہ کی طرح کوئی چیز نہیں ہے، تو ہم کیسے یہ قیاس کر سکتے ہیں کہ ہماری طرح وہ کرسی پر بیٹھے ہیں، یا ہماری طرح ان کے ہاتھ اور پاؤں ہیں، یا ہماری صفت کی طرح ان کی صفت ہے
1۔عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ قال اللہ: اعددت لعبادی الصالحین ما لا عین رأت و لا اذن سمعت و لا خطر علی قلب بشر، فاقروا ان شئتم (فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین)۔ (آیت ۷۱، سورت السجدۃ ۲۳) (بخاری شریف، کتاب بدء الخلق، باب جاء فی صفۃ الجنۃ و انھا مخلوقۃ، ص ۱۴۵،نمبر ۴۴۲۳/ مسلم شریف، کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا و اھلھا، باب صفۃ الجنۃ، ص ۸۲۲۱، نمبر ۴۲۸۲، نمبر ۲۳۱۷)
ترجمہ۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا، کہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے ایسی نعمت تیار ہیں کہ، کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہے، کسی کان نے سنا نہیں ہے، کسی انسان کے دل پر اس کا خیال بھی نہیں گزرا، اور اس کی دلیل کے لئے یہ آیت پڑھو (کسی متنفس کو کچھ پتہ نہیں ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان چھپا رکھا ہے)
اس حدیث میں ہے کہ جنت کی نعمتیں نہ آنکھ نے دیکھی ہے، اور نہ کان نے سنا ہے، اور نہ دل میں اس کاخیال گزرا ہے، جب جنت کی نعمتوں کا یہ حال ہے جو مخلوق ہیں، تو ہم اللہ کی ذات کا اور ان کی صفات کی کیفیت کا تصور کیسے کر سکتے ہیں، اس لئے اللہ کی ذات کہاں ہے، اور اس کی کیفیت کیا ہے، اس بارے میں اپنی رائے قائم نہ کریں اور نہ اپنے اور مخلوق پر قیاس کریں۔
]۱[ پہلی جماعت
پہلی جماعت کی رائے ہے کہ اللہ اپنی شان کے مطابق ہرجگہ موجود ہے
لیکن کس کیفیت سے موجود ہے، ذات کے ساتھ موجود ہے، یا علم و قدرت، و بصیرت کے ساتھ موجود ہے اس بارے میں وہ کچھ بحث نہیں کرتی، کیونکہ اللہ جہت اور کیفیت سے پاک ہے
ان کی دلیل یہ آیتیں ہیں
جو حضرات کہتے ہیں کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے، ان کی دلیل یہ آیتیں ہیں
1۔ھو معکم اینما کنتم و اللہ بما تعملون بصیر۔ (آیت ۴، سورت الحدید ۷۵)
ترجمہ۔ تم جہاں بھی اللہ تمہارے ساتھ ہے، تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو خوب دیکھ رہا ہے
2۔و لا ادنی من ذالک و لا اکثر الا ھو معہم این ما کانوا۔(آیت ۷، المجادلۃ ۸۵)
ترجمہ۔ اس سے کم ہوں یا زیادہ وہ جہاں بھی ہوں اللہ انکے ساتھ ہوتا ہے
3۔اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا۔ (آیت ۰۴، سورت التوبۃ ۹)
ترجمہ۔ جب حضور ؐ اپنے ساتھی حضرت ابو بکرؓ سے کہہ رہے تھے، غم مت کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہیں
4۔ فلا تہنوا و تدعوا الی السلم و انتم الاعلون و اللہ معکم۔ (آیت ۵۳, محمد ۷۴)
ترجمہ۔ ائے مسلمانوں تم کمزور پڑ کر صلح کی دعوت نہ دو،تم ہی سربلند رہو گے،اللہ تمہارے ساتھ ہے
5۔و اذا سألک عبادی فانی قریب۔ (آیت ۶۸۱، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ ائے حضور ؐ جب آپ سے میرا بندہ پوچھتا ہے، تو کہہ دو کہ میں بہت قریب ہوں
6۔و نعلم ما توسوس بہ نفسہ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید۔ (آیت ۶۱، قٓ ۰۵)
ترجمہ۔ اور انسان کے دل میں جو خیالات آتے ہیں ان تک سے ہم خوب واقف ہیں، اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں
اس آیت میں ہے میں انسان کے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں
7۔ و للہ المشرق و المغرب فاینما تولوا فثم وجہ اللہ ان اللہ واسع علیم۔ (آیت ۵۱۱، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کی ہیں اس لئے جس طرف بھی تم رخ کروگے، وہیں اللہ کا رخ ہو گا، بیشک اللہ بہت وسعت والا ہے، بڑا علم رکھنے والا ہے
ان 7 آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے، لیکن بغیر مکان اور بغیر کیفیت کے ہے
یہ جماعت ایک نکتہ بھی اٹھاتی ہے کہ اگر ہم اللہ کو عرش پر مستوی مان لیں، اور یہ کہیں کہ اللہ عرش پر مستوی ہے تو، یہ اشکال ہو گا کہ عرش بنانے سے پہلے اللہ کہاں تھے؟
]۲[ دوسری جماعت
دوسری جماعت کی رائے یہ ہے کہ اللہ اپنی شان کے مطابق عرش پر ہے
لیکن کس کیفیت سے ہے وہ اس کے بارے میں بحث نہیں کرتی، کیونکہ اللہ جہت سے اور کیفیت سے بالکل پاک ہے
وہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے 7 آیتوں میں کہہ دیا کہ اللہ عرش پر ہے تو ہم اس کو مان لیتے ہیں اور انکی آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں، اور اس کی کوئی تاویل کرنا مناسب نہیں سمجھتے
یہ حضرات اوپر کی 7 آیتیں جن میں ہے کہ اللہ ہر جگہ ہے یہ جواب دیتے ہیں کہ اللہ علم و بصیرت اور قدرت کے ساتھ ہر جگہ ہیں
انکی دلیل یہ 7 آیتیں ہیں
8۔الرحمن علی العرش استوی۔ (آیت ۵، سورت طہ ۰۲)
ترجمہ۔ وہ بڑی رحمت والا عرش پر استوا فرمائے ہوئے ہیں
9۔ ان ربکم اللہ الذی خلق السموات و الارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ۔ (آیت ۴۵، سورت الاعراف ۷)۔ترجمہ۔ یقینا تمہار پروردگار وہ اللہ ہے جس نے سارے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیا پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا،
10۔ ان ربکم اللہ الذی خلق السموات و الارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ۔ (آیت۳، سورت یونس۰۱)۔ترجمہ۔ یقینا تمہار پروردگار وہ اللہ ہے جس نے سارے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیا پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا،
11۔ اللہ الذی رفع السموات بغیر عمد ترونھاثم استوی علی العرش۔ (آیت۲، سورت الرعد ۳۱)۔ترجمہ۔ اللہ وہ جس نے ایسے ستونوں کے بغیر آسمانوں کو بلند کیا جو تمہیں نظر آسکیں پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا
12۔ الذی خلق السموات و الارض و ما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ۔ (آیت ۹۵، سورت الفرقان۵۲)۔ترجمہ۔ وہ اللہ جس نے چھ دن میں سارے آسمان اور زمین اور انکے درمیان کی چیزیں پیدا کیں،پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا۔
13۔ اللہ الذی خلق السموات و الارض و ما بینھما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش ۔ (آیت۴، سورت السجدۃ۲۳)۔ترجمہ۔ اللہ وہ ہے جس نے سارے آسمان اور زمین اور جو انکے درمیان میں ہیں چھ دن میں پیدا کیا پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا
14۔ ھو الذی خلق السموات و الارض فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش۔ (آیت ۴، سورت الحدید ۷۵)۔ترجمہ۔ وہی ہے جس نے سارے آسمان اور زمین کوچھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر استوا فرمایا
ان 7 آیتوں میں ہے کہ اللہ نے عرش پر استوا فرمایا
اس لئے یہ دوسری جماعت اس بات کی قائل ہوئی کہ اللہ عرش پر مستوی ہے، باقی کس انداز میں ہے یہ معلوم نہیں، بس اللہ کی شان کے مطابق مستوی ہے۔
لغت : استوی : عربی لفظ ہے، اس کا معنی ہے، سیدھا ہونا، قائم ہونا، قابو پانا، اور بعض اوقات اس کے معنی، بیٹھنے ، کے بھی ہوتے ہیں، یہ لفظ مشتبہات میں سے ہے اس لئے اللہ کے لئے اس کا کوئی معنی متعین کرنا مشکل ہے، کیونکہ وہ سیدھا کھڑے ہونے اور قائم ہونے سے پاک ہے، وہ کسی کیفیت سے بھی پاک ہے۔
عرش ایک بہت بڑی مخلوق ہے
15۔اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم۔ (آیت ۶۲، سورت النمل ۷۲)
ترجمہ۔ اللہ وہ جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے، اور جو عرش عظیم کا مالک ہے
16۔ لا الہ الا ھوعلیہ توکلت و ھو رب العرش العظیم۔ (آیت ۹۲۱، سورت التوبۃ ۹)
ترجمہ۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے
یہ آیتیں اور بہت سی آیتوں سے معلوم ہوا کہ عرش ایک بڑی اور عظیم مخلوق ہے، جس کو اللہ نے پیدا کیا ہے
کرسی
کرسی بھی اللہ کی ایک مخلوق ہے، لیکن عرش کے مقابلے پر کرسی کی حیثیت بہت کم ہے، جیسے صحرا میں ایک کڑا ڈال دیا گیا ہو، تو صحرا کے مقابلے میں لوہے کے حلقے کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، اسی طرح عرش کے مقابلے میں کرسی کی کوئی خاص حیثیت باقی نہیں رہتی۔۔ باقی یہ کیسی ہے اللہ ہی جانے
لیکن یہ کرسی پھر بھی اتنی بڑی ہے کہ تمام زمین اور آسمان کو گھیرے ہوئی ہے۔
اس آیت میں کرسی کا ثبوت ہے۔
17۔ وسع کرسیہ السماوات والارض و لا یودہ حفظہما و ہو العلی العظیم۔ (آیت، ۵۵۲سورت البقرۃ ۲) ترجمہ۔ اس کی کرسی نے سارے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوا ہے، اور ان دونوں کی نگہبانی سے اسے ذرا بھی بوجھ نہیں ہوتا اور وہ بڑا عالی مقام عظمت والا ہے۔
]۳[ تیسری جماعت
تیسری جماعت کی رائے یہ ہے کہ اللہ کائنات میں علم، قدرت، اور بصیرت کے ساتھ ہے، ذات کے ساتھ کائنات میں نہیں ہے، باقی کہاں ہے اس بارے میں وہ خاموش ہے
ان کی دلیلیں یہ ہیں
۔وہ فرماتے ہیں کہ کائنات اللہ ہی کا پیدا کردہ ہے، تو وہ کائنات میں کیسے ہوں گے
۔دوسری بات یہ ہے کہ کائنات فانی ہے، پس اگر اللہ کی ذات اس میں موجود ہو تو اللہ کی ذات بھی فانی ہو جائے گی، اس لئے یہ کہا جائے کہ علم و بصیرت کے اعتبار سے اللہ کائنات میں ہے

ان کی آیتیں یہ ہیں
18۔و کان اللہ بکل شیء محیطا۔ (آیت ۶۲۱، سورت النساء ۴)
ترجمہ۔ اور اللہ نے ہر چیز کو اپنی قدرت کے احاطے میں لیا ہوا ہے
19۔الا انہ بکل شیء محیط۔ (آیت ۴۵، سورت فصلت۱۴)
ترجمہ۔ یاد رکھو کہ اللہ ہر چیز کو احاطے میں لئے ہوئے ہے
20۔و اللہ بما یعلمون محیط۔ (آیت ۷۴، سورت الانفال ۸)
ترجمہ۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ سارے کو احاطے میں لئے ہوئے ہے
ان 3آیتوں میں ہے کہ اللہ سب چیز کو احاطے میں لئے ہے، اس لئے وہ علم کے اعتبار سے کائنات میں ہے، ذات کے اعتبار سے نہیں
21۔ یحی و یمیت و ہو علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۲، سورت الحدید۷۵)
ترجمہ۔ اللہ ہی زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے
22۔بلی انہ علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۳۳، سورت الاحقاف۶۴)
ترجمہ۔ وہ بیشک ہر چیز کی پوری قدرت رکھنے والا ہے
23۔تبارک الذی بیدہ الملک و ہو علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۱، سورت الملک ۷۶).ترجمہ۔ بڑی شان ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں ساری بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
24۔و یجعل من یشاء عقیما انہ علیم قدیر۔ (۰۵، سورت الشوری ۲۴)
ترجمہ۔ اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے، یقینا وہ بہت جاننے والا بھی، بہت قدرت والا بھی ہے
ان 7 آیات میں ہے کہ اللہ علم قدرت اور ملکیت کے اعتبار سے پوری کائنات کو گھیرے ہوا ہے۔
اس لئے یہ تیسری جماعت کہتی ہے کہ اللہ علم، قدرت، اور بصیرت کے اعتبار سے کائنات میں موجود ہے، ذات کے اعتبار سے نہیں
]۴[ چوتھی جماعت
چوتھی جماعت کی رائے یہ ہے کہ اللہ اپنی شان کے مطابق بلندی پر ہے۔یہ جماعت کوئی بڑی نہیں ہے
اللہ کتنی بلندی پر ہے، وہ اس بارے میں کوئی تعین نہیں کرتی، لیکن انکی شان کے لحاظ سے وہ بلندی پر ہے
انکی دلیل یہ آیتیں ہیں
25۔یخافون ربہم من فوقھم و یفعلون ما یومرون۔ (آیت ۰۵، سورت النحل ۶۱)۔ترجمہ۔ وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں، جو انکے اوپر ہیں اور وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے
26۔الیہ یصعد الکلم الطیب و العمل الصالح یرفعہ۔ (آیت ۰۱، سورت فاطر ۵۳)
ترجمہ۔ پاکیزہ کلمہ اسی کی طرف چڑھتا ہے، اور نیک عمل اس کو اوپر اٹھاتا ہے
27۔من اللہ ذی المعارج، تعرج الملائکۃ و الروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ۔ (آیت ۴، سورت المعارج ۰۷)
ترجمہ۔ وہ عذاب اللہ کی طرف سے آئے گا جو چڑھنے کے تمام راستوں کا مالک ہے، فرشتے اور روح القدوس اس کی طرف ایک ایسے دن میں چڑھ کر جاتے ہیں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے
28۔یدبر الامر من السماء الی الارض ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون۔ (آیت ۵، سورت السجدۃ ۲۳)
ترجمہ۔ وہ آسمان سے لیکر زمین تک ہر کام کا انتظام کرتا ہے، پھر وہ کام ایک ایسے دن میں اس کے پاس اوپر پہنچ جاتا ہے جس کی مقدار تمہاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال ہوتی ہے
ان 4 آیتوں میں اس کا اشارہ ہے کہ اللہ بلندی پر ہے
1۔عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال ینزل ربنا عز و جل کل لیلۃ الی سماء الدنیا حین یبقی ثلث اللیل الآخر۔ (ابو داود شریف، کتاب التطوع، باب ای اللیل افضل، ص ۷۹۱، نمبر ۵۱۳۱)۔ ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ ہمارا رب ہر رات میں، جب تین پہر باقی رہ جاتا ہے تو سماء دنیا کی طرف اترتا ہے
اس حدیث کے اشارے سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ بلندی پر ہے،
اس لئے اس چوتھی جماعت کی رائے یہ ہے کہ اللہ بلندی پر ہے، باقی کس کیفیت میں ہے اس بارے میں ہم بحث نہیں کرتے، بس اپنی شان کے مطابق ہے۔
]۵[ پانچویں جماعت
ا للہ اپنی شان کے مطابق آسمان پر ہے
یہ کوئی بڑی جماعت نہیں ہے بلکہ کچھ لوگوں کی رائے ہے اور یہ رائے اوپر کی رائے کے قریب قریب ہے
ان کی دلیل یہ حدیث ہے
2۔عن معاویۃ بن الحکم السلمی قال بینا انا اصلی مع رسول اللہ ﷺ۔۔۔قال و کانت لی جاریۃ ترعی غنما لی۔۔۔قال ائتنی بھا فأتیتہ بھا فقال لھا، این اللہ؟، قالت فی السماء، قال من انا قالت انت رسول اللہ، قال اعتقھا فانھامؤمنۃ۔ (مسلم شریف، کتاب المساجد، باب تحریم الکلام فی الصلاۃ و نسخ ما کان من اباحتہ۔ ص ۸۱۲، نمبر ۷۳۵ / ۹۹۱۱)
ترجمہ۔ ہم لوگ نماز پڑھ رہے تھے۔۔۔میرے پاس ایک باندی تھی، جو میری بکری چراتی تھی ۔۔۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ باندی کو میرے پاس لاؤ، تو ہم باندی کو حضور ؐ کے پاس لائے، تو آپ ؐ نے باندی سے پوچھا کہ، اللہ کہاں ہے؟، باندی نے کہا، آسمان میں، پھر پوچھا کہ میں کون ہوں، باندی نے کہا، آپ اللہ کے رسول ہیں،، حضور ؐ نے فرمایا کہ اس باندی کو آزاد کردو، یہ مومنہ ہے
اس حدیث میں ہے کہ باندی نے کہا کہ اللہ آسمان میں ہے، تو آپ ؐ نے اس کو قبول فرمایا۔
اس لئے اس جماعت کی رائے ہے کہ اللہ آسمان ہے، اب کس کیفیت میں ہے اس بارے میں وہ بحث نہیں کرتی، بس اس کی شان کے مطابق ہے۔
]۶[ چھٹی جماعت
چھٹی جماعت کی رائے یہ ہے کہ استوا علی العرش، اللہ کہاں ہے، اللہ کا چہرہ، اللہ کا ہاتھ، اللہ کا قدم، اللہ کی انگلی، اللہ کا نزول، یہ سب متشابہات میں سے ہیں، اس لئے انکے بارے میں یہ کہا جائے کہ ان کا معنی معلوم ہے، لیکن کیفیت معلوم نہیں، اس پر ایمان رکھنا واجب ہے،اور انکے بارے میں بحث کرنا بدعت ہے، اس لئے اس کے بارے میں چپ رہنا ہی بہتر ہے۔
انکے یہاں حضرت امام مالک ؒ کا یہ قول بہت مشہور ہے
۔سمعت یحی بن یحی یقول کنا عند مالک بن انس فجاء رجل فقال یا ابا عبد اللہ، الرحمن علی العرش الستوی (آیت ۵، سورت طہ) کیف استوی، قال فاطرق مالک رأسہ حتی علاہ الرحضاء ثم قال الاستوی غیر مجہول، و الکیف غیرمعقول،و الایمان بہ واجب، و السوال عنہ بدعۃ، و ما اراک الا مبتدعا، فامر بہ ان یخرج، قال الشیخ: و علی مثل ہذا درج اکثر علمائنا فی مسئلۃ الاستوی، و فی مسئلۃ المجی، و الاتیام، و النزول۔ (اسماء و الصفات، للبیہقی، کتاب الاعتقاد للبیہقی، باب القول فی الاستوی، ج ۱، ص ۶۱۱/ شرح فقہ اکبر، ص ۰۷)
ترجمہ۔ ہم مالک بن انس ؒ کے پاس موجود تھے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ ائے ابوعبد اللہ! رحمن تو عرش پر مستوی ہے، تو استوی کی کیفیت کیا ہے؟، حضرت مالک ؒ نے اپنا سر نیچا کیا، یہاں تک کہ ان پر پسینہ آگیا، پھر انہوں نے فرمایا استوی کا معنی مجہول نہیں ہے، اس کی کیفیت سمجھ میں نہیں آتا ، اس پر ایمان رکھنا واجب ہے، اور اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔ پھر فرمایا کہ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ آدمی بدعتی ہے، اس لئے اس آدمی کو نکال دینے کا حکم دیا۔شیخ فرماتے ہیں، ہمارے علماء نے، اللہ کے آنے کا، اتیام، کا، اور اترنے، کے معاملے کو بھی، اسی استوی میں ہی شامل کئے ہیں ] یعنی اس کے بارے میں بھی سوال کرنا بدعت ہے [
اس عبارت میں یہاں تک ہے کہ حضرت امام مالک ؒ نے استوی کے بارے میں سوال کرنے والے کو بدعتی کہا، اور اس کو کمرے سے نکال دیا
انکی دلیل یہ آیت ہے
29۔ ہو الذی انزل علیک الکتاب منہ آیات محکمات ہن ام الکتاب واخر متشابہات، فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ و ابتغاء تاویلہ و ما یعلم تاویلہ الا اللہ و الراسخون فی العلم یقولون امنا بہ کل من عند ربنا و ما یذکر الا اولوا لباب ۔(آیت ۷ سورت آل عمران ۳)،
ترجمہ۔ اے رسول وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے، جس کی کچھ آیتیں تو محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل بنیاد ہے، اور کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں، اب جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑ ے رہتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور ان آیتوں کی تاویلات تلاش کریں، حالانکہ ان آیتوں کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جن لوگوں کا علم پختہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ، ہم اس مطلب پر ایمان لاتے ہیں جو اللہ کو معلوم ہے، سب کچھ ہمارے رب ہی کی طرف سے ہے، اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں
اس آیت میں نصیحت کی گئی ہے کہ متشابہ الفاظ کے پیچھے نہ پڑیں، بلکہ ایسے موقع پر ان آیتوں پر ایمان رکھیں اور چپ رہیں ، اس لئے ہم، استوی،کی تحقیق میں نہیں پڑتے، بلکہ چپ رہتے ہیں
امام ابو حنیفہ ؒ کی رائے
اس بارے میں امام ابو حنیفہ ؒ کی رائے یہ ہے کہ، یوں کہا جائے کہ اس کا معنی معلوم ہے، لیکن کیفیت معلوم نہیں ہے، کیونکہ کیفیت کا علم ہمیں نہیں ہے، شرح فقہ اکبر جو امام ابو حنیفہ ؒ کی مشہور کتاب ہے
اس کی عبارت یہ ہے۔
۔و لہ ید و وجہ و نفس کما ذکرہ اللہ تعالی فی القرآن، فما ذکرہ اللہ تعالی فی القرآن من ذکر الوجہ و الید و النفس فہو لہ صفات بلا کیف،
و لا یقال: ان یدہ قدرتہ او نعمتہ لان فیہ ابطال الصفۃ و ہو قول اہل القدر و الاعتزال، و لکن یدہ صفتہ بلا کیف، وغضبہ و رضاہ صفتان تعالی بلا کیف۔ (شرح کتاب الفقہ الاکبر، ص ۶۶۔۸۶،)
ترجمہ۔ اللہ کے لئے ہاتھ، چہرہ، نفس، جیسا کہ قرآن میں اس کا ذکر ہے،] اس پر ایمان رکھے[ پس اللہ تعالی نے قرآن میں جو ذکر کیا ہے، چہرہ، ہاتھ، نفس، تو یہ اللہ کی صفت ہے، لیکن بغیر کیفیت کے ہے
اور یہ نہ کہا جائے، کہ اللہ کے ہاتھ کا مطلب، اس کی قدرت ہے، یا اللہ کی نعمت ہے، اس لئے کہ اس تاویل کرنے میں اللہ کی صفت کو باطل کرنا ہے، قدریہ اور معتزلہ جماعت کی رائے یہی ہے کہ،] اللہ کا ہاتھ کا مطلب اس کی قدرت یا اس کی نعمت ہے [ لیکن اصل بات یہ ہے کہ، اللہ کے ہاتھ کا مطلب ہے، اس کی صفت، لیکن بغیر کیفیت کے۔ اللہ کا غصہ، اور اللہ کی رضامندی دونوں اللہ کی صفتیں ہیں، لیکن بغیر کیفیت کے۔
اور شارحین نے، الرحمن علی العرش استوی کو بھی اسی میں داخل کیا ہے کہ استوی کا معنی معلوم ہے، لیکن کس کیفیت میں اللہ نے عرش پر استوی کیا ہے یہ معلوم نہیں ہے، اور نہ کسی آیت، یا حدیث سے اس کی کیفیت کا پتہ چلتا ہے، اس لئے یہ متشابہات میں سے ہے، اس لئے اس پر خاموش ہی رہنا چاہئے۔
امام غزالی ؒ کی رائے
امام غزالی ؒ نے فرمایا کہ استوی کا ترجمہ عرش پر مستقر ہونے، یا بیٹھنے کا نہیں ہے، بلکہ اس کا ترجمہ ہے
عرش کی حفاظت کی، عرش پر قبضہ کیا ، عرش کو باقی رکھا،
اگر، علی العرش استوی، کا ترجمہ، عرش کی حفاظت کی، عرش پر قبضہ کیا،، عرش کو باقی، رکھا، کیا جائے تو اس میں اللہ کی کیفیت نہیں آتی، اسلئے اس ترجمہ میں کیفیت کی بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے
ان کی عبارت یہ ہے
۔استوی کا مفہوم یہ بیان کیا ہے۔(علی العرش استوی) قہر، حفظ، و ابقی۔(قواعد العقاعد، ص ۷۶۱)،عرش پر مستوی ہوئے، یعنی اس پر قاہر ہوئے، اس کی حفاظت کی، اور اس کو باقی رکھا
، انہوں نے یہ ترجمہ نہیں کیا کہ اللہ عرش پر مستقر ہوئے، یا مستوی ہوئے۔
امام طحاوی ؒ کا مسلک
اما م طحاوی ؒ نے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ عرش اور کرسی حق ہے،لیکن اللہ عرش اور کرسی سے بے نیاز ہے
، انکی عبارت یہ ہے۔ و العرش و الکرسی حق، و ہو عزو جل مستغنی عن العرش و ما دونہ۔ (العقیدۃ الطحاویۃ، عقیدہ نمبر ۹۴۔ ۰۵، ص ۳۱
ترجمہ۔ عرش اور کرسی حق ہے، لیکن اللہ تعالی عرش اور کرسی سے بے نیاز ہے
یہ 6جماعتیں اور 4 بزرگوں کی رائیں آپ کے سامنے ہیں، آپ خود بھی غور کریں
یہ الفاظ بھی متشابہات میں سے ہیں
]۱[ استوی علی العرش کے علاوہ، یہ 9 الفاظ بھی متشابہات میں سے ہیں
ابھی اوپر آیت گزری۔لیس کمثلہ شیء ۔ (آیت ۱۱، سورت الشوری ۲۴)
ترجمہ۔ کوئی چیز اللہ کے مثل نہیں ہے،
اس لئے کہ اللہ کے ہاتھ، چہرہ وغیرہ ہمارے ہاتھ چہرہ کی طرح نہیں ہو سکتے، ان کا حقیقی معنی اللہ ہی کو معلوم ہے، اس لئے یہ الفاظ اور اعضاء متشابہات میں سے ہیں، اور متشابہات میں زیادہ گھسنے سے آیت میں منع فرمایا ہے، اس لئے ان الفاظ پر ایمان رکھے، اور زیادہ گھسنے سے احتراز کرے
مفسر حضرات نے موقع محل کے اعتبار سے ان الفاظ کا ترجمہ کیا ہے، جو حقیقی ترجمہ تو نہیں ہے، لیکن لوگوں کو سمجھانے کے لئے ان جملوں کا قریب قریب مفہوم بیان کرنے کی کوشش کی ہے
وہ نو اعضا یہ ہیں
]۱[ اللہ کا ہاتھ
]۲[ اللہ کا چہرہ، وجہ اللہ
]۳[ اللہ کا نفس
]۴[ اللہ کی آنکھ
]۵[ دائیں ہاتھ
]۶[ انگلی
]۷[ قدم
]۸[ اللہ کا اترنا
]۹[ حضرت آدم کو اپنی صورت پر پیدا کرنا
]۱[ اللہ کے ہاتھ کے لئے یہ آیتیں ہیں
30۔ و قالت الیہود ید اللہ مغلولۃ غلت ایدیہم و لعنوا بما قالوا بل یداہ مبسوطتان ینفق کیف یشاء۔ (آیت ۴۶ سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ۔ اور یہودی کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، ہاتھ تو خود انکے بندھے ہوئے ہیں، اور جو بات انہوں نے کہی ہے اس کی وجہ سے ان پر لعنت الگ پڑی ہے ورنہ اللہ کے دونوں ہاتھ پوری طرح کشادہ ہیں، وہ جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے
31۔ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ، ید اللہ فوق ایدیھم۔ (آیت ۰۱، الفتح ۸۴)
ترجمہ۔ اے پیغمبر جو لوگ تم سے بیعت کر رہے ہیں وہ در حقیقت اللہ سے بیعت کر رہے ہیں، اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے
32۔فسبحان الذی بیدہ ملکوت کل شیء۔ (آیت ۳۸، سورت یٓسین ۶۳)
ترجمہ۔ غرض پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی حکومت ہے
ان تین آیتوں میں اللہ کے ہاتھ کا ذکر ہے
]۲[ اللہ کاوجہ یعنی چہرہ کے لئے یہ آیتیں ہیں
33۔ و للہ المشرق و المغرب فاینما تولوا فثم وجہ اللہ ان اللہ واسع علیم۔ (آیت ۵۱۱، سورت البقرۃ ۲)۔ترجمہ۔ اور مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کی ہیں لھذا جس طرف بھی تم رخ کروگے وہیں اللہ کا رخ ہوگا بیشک اللہ بہت وسعت والا بڑا علم رکھنے والا ہے
34۔و ما تنفقوا من خیر فلانفسکم، و ما تنفقون الا ابتغاء وجہ اللہ (آیت ۲۷۲، سورت البقرۃ ۲)۔ترجمہ۔ اور جو مال بھی تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے فائدے کے لئے ہوتا ہے ، جبکہ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے سوا کسی اور غرض سے خرچ نہیں کرتے ہو
35۔و ما اٰ تیتم من زکوۃ تریدون وجہ اللہ فاولٰئک ھم المفلحون۔ (آیت ۹۳، سورت الروم ۰۳)۔ ترجمہ۔ اور جو زکوۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، تو جو لوگ بھی ایسا کرتے ہیں وہ ہیں جو اپنے مال کو کئی گنا بڑھا لیتے ہیں
ان تینوں آیتوں میں اللہ کے وجہ، یعنی چہرے کا ذکر ہے
]۳[ نفس کے لئے یہ آیت ہے
36۔تعلم ما فی نفسی و لا اعلم ما فی نفسک۔ (آیت ۶۱۱، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ۔ آپ وہ باتیں جانتے ہیں جو میرے دل میں پوشیدہ ہیں، اور میں آپ کی پوشیدہ باتوں کو نہیں جانتا۔۔۔ اس آیت میں نفس کا ذکر ہے
]۴[ آنکھ کے لئے یہ آیت ہے
37۔و لتصنع علی عینی۔ (آیت ۹۳، سورت طہ ٓ ۰۲)
ترجمہ۔ اور یہ سب اس لئے کیا تھا تاکہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔ یہ حضرت موسی ؑ سے کہا تھا
اس آیت میں عین، یعنی آنکھ کا ذکر ہے
]۵[ یمین کے، یعنی دائیں ہاتھ کے لئے یہ آیت ہے
38۔و السموات مطویات بیمینہ۔ (آیت ۷۶، سورت الزمر۹۳)
ترجمہ۔ اور سارے کے سارے آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے
]۶[ انگلی کے لئے یہ حدیث ہے
3۔ان قلوب بنی آدم کلھا بین اصبعین من اصابع الرحمن۔(مسند احمد، مسند عبد اللہ بن عمر بن العاص،ج ۱۱، ص ۰۳۱، نمبر ۹۶۵۶)
۔ ترجمہ۔ تمام ابن آدم کے دل رحمن کی انگلیوں میں ہیں
اس حدیث میں اللہ کی انگلیوں کا ذکر ہے
]۷[ قدم کے لئے یہ حدیث ہے
4۔عن ابی ہریرۃ۔۔۔یقال لجھنم ھل امتلأت و تقول ھل من مزید؟ فیضع الرب تبارک و تعالی قدمہ علیھا فتقول قط قط (بخاری شریف، کتاب سورۃ ق، اب قولہ و تقول ھل من مزید، ص ۸۵۸، نمبر ۹۴۸۴)
ترجمہ۔ جہنم سے پوچھا جائے گا کیا تم بھرگئی؟، تو جہنم کہے گی کہ اور بھی دیں، تو اللہ تعالی اس پر اپنے قدم کو رکھ دیں گے تو جہنم کہنے لگے گی، بس بس۔۔۔اس حدیث میں اللہ کے قدم کا ثبوت ہے۔
]۸[ اترنے کے لئے یہ حدیث ہے
5۔عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال ینزل ربنا عز و جل کل لیلۃ الی سماء الدنیا حین یبقی ثلث اللیل الآخر۔ (ابو داود شریف، کتاب التطوع، باب ای اللیل افضل، ص ۷۹۱، نمبر ۵۱۳۱)
۔ ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ ہمارا رب ہر رات میں، جب تین پہر باقی رہ جاتا ہے تو سماء دنیا کی طرف اترتا ہے۔۔۔ اس حدیث میں اللہ کے اترنے کا ثبوت ہے۔
]۹[ حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے
6۔ عن ابی ھریرۃ عین النبی ﷺ قال خلق اللہ آدم علی صورتہ طولہ ستون ذراعا۔(بخاری شریف، کتاب لاستئذان، باب بدء السلام، ص ۴۸۰۱ نمبر ۷۲۲۶/ مسلم شریف، کتاب الجنۃ و نعیمھا، باب یدخل الجنۃ اقوام أ فئدٹھم مثل أفئدۃ الطیر، ص ۴۳۲۱، نمبر ۱۴۸۲/ ۳۶۱۷)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم ؑ کو اپنی صورت پر پیدا کیا، ان کی اونچائی ساٹھ ہاتھ تھی
اس حدیث میں ہے کہ حضرت آدم کو اللہ نے اپنی صورت پر پیدا کیا ہے
یہ الفاظ متشابہات میں سے ہیں، اس کے اندر کے معنی نکالنے میں زیادہ نہ پڑیں۔
اس عقیدے کے بارے میں 38 آیتیں اور 6 حدیثوں میں آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: