اسلامیات

عقیدہ نمبر 28۔ لوح‌ و قلم کیا چیز ہے

اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور2 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے لکھنے کے لئے قلم پیدا کیا، اور اس کو لکھنے کے لئے کہا، تو اس نے وہ تمام چیز یں لکھ دیں جو اس کو لکھنے کے لئے کہا گیا۔ لیکن اس کی کیفیت کیا ہے یہ معلوم نہیں ہے، یہ اللہ ہی جانے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
1۔ ن ٓ و القلم و ما یسطرون۔ (آیت ۱، سورت القلم ۸۶)
ترجمہ۔ ن، اے پیغمبر قسم ہے قلم کی، اور اس چیز کی جو وہ لکھ رہے ہیں
2۔اقرء و ربک الاکرم الذی علم بالقلم۔ (آیت ۴، سورت العلق ۶۹)
ترجمہ۔ پڑھو، اور تمہارا رب سب سے زیادہ کرم والا ہے، جس نے قلم سے تعلیم دی
1۔قال عبادہ بن الصامت لابنہ…..سمعت رسول اللہ ﷺ یقول، ان اول ما خلق اللہ تعالی القلم، فقال لہ اکتب فقال رب و ما ذا اکتب؟ قال اکتب مقادیر کل شیء حتی تقوم الساعۃ، یا بنی انی سمعت رسول اللہ ﷺ یقول من مات علی غیر ہذا فلیس منی۔ (ابو داود شریف، کتاب السنۃ، باب فی القدر، ص ۴۶۶، نمبر ۰۰۷۴/ ترمذی شریف، کتاب القدر، باب اعظام امر الایمان بالقدر، ص ۵۹۴، نمبر ۵۵۱۲)
ترجمہ۔ حضرت عبادہ ابن ثابت نے اپنے بیٹے سے کہا۔۔حضور ؐ سے میں نے کہتے ہوئے سنا، اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا، اس سے کہا کہ لکھو، قلم نے کہا میرے رب میں کیا لکھوں؟ اللہ نے فرمایا کہ،قیامت کے قائم ہونے تک ہر چیز کی تقدیر لکھو، پھر حضرت عبادہ بن صامت نے کہا، اے بیٹے میں نے حضور ؐ سے یہ سنا ہے جو اس تقدیر کے علاوہ پر مرے گا وہ مجھ میں سے نہیں ہے، یعنی مسلمان نہیں ہے۔
ان آیتوں اورحدیث سے پتہ چلا کہ قلم اللہ کی کوئی خاص چیز ہے جسکو سب سے پہلے پیدا کیا اور قیامت تک اور اس کے بعد آنے والی تمام باتوں کو لکھنے کا حکم دیا، اور قلم نے ان تمام باتوں کو لکھ دیا، لیکن یہ قلم ہمارے قلم کی طرح نہیں ہے، یہ کیسا ہے اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔
لوح کیا چیز ہے
لوح کا معنی تختی کے ہے، لیکن یہ کیسا لوح ہے اس کو اللہ ہی جانتا ہے۔ شیاطین اور جنات اس لوح تک نہیں پہنچ سکتے کہ اس میں تبدیل یا تحریف کر سکیں، اسی لوح میں قرآن کریم محفوظ تھا، اور ابھی بھی ہے، اس سے نکال کر کے حضور پاک ﷺ پر اتارا گیا جو آج ہمارے سامنے موجود ہے
3۔بل ہو قرآن مجید فی لوح محفوظ۔ (آیت۲۲، سورت البروج۵۸)
ترجمہ۔ بلکہ یہ بڑی عظمت والا قرآن ہے جو لوح محفوظ میں درج ہے
4۔انہ لقرآن کریم فی کتاب مکنون۔(آیت ۷۷، سورت الواقعہ ۶۵)
ترجمہ۔ یہ بڑا با وقار قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب میں پہلے سے درج ہے
2۔عن عمران ن حصین قال قال رسول اللہ ﷺ۔۔۔قال کان اللہ قبل کل شیء، و کان عرشہ علی الماء، و کتب فی اللوح ذکر کل شیء۔ (مسند احمد، حدیث عمران بن حصین، ج ۳۳، ص ۷۰۱، نمبر ۶۷۸۹۱)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ سب سے پہلے اللہ تھا، اور اللہ کا عرش پانی پر تھا، اور ہر چیز کا ذکر لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا۔
ان آیات اور حدیث سے پتہ چلا کہ قرآن لوح محفوظ میں تھا، وہاں سے پھر حضور ؐ پر اتارا گیا، اور یہ بھی پتہ چلا کہ لوح محفوظ میں ہر چیز کا ذکر ہے۔
اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور2 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: