اسلامیات

عقیدہ نمبر 40۔قبر کے پاس ذبح کرنا ممنوع ہے

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

عقیدہ نمبر 40۔قبر کے پاس ذبح کرنا ممنوع ہے
جانور ذبح کر کے مسکین کو کھلانا صدقہ ہے، شریعت میں صدقہ کرکے اس کا ثواب میت کو پہنچانا جائز ہے، لیکن اس میں شرط یہ ہے کہ اللہ کے نام پر ذبح کیا ہو۔ اس میں بس اتنی سی بات ہے کہ جانور کو ذبح کرکے میت کو ثواب پہنوچانا ہے، لیکن اب تو اس میں بے پناہ ریا نمود داخل ہو گیا ہے
ذبح کرنے کی چار صورتیں ہیں
اس کی تفصیل آگے دیکھیں
اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور 3 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں۔
]۱[ پہلی صورت یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ کے نام پر ذبح کرے
اللہ کے نام پر ذبح نہیں کیا، یا تو کسی کا نام لیا ہی نہیں، یا نام لیا لیکن اللہ کے علاوہ کا نام لیا تو یہ گوشت حرام ہے، اس کا کھانا حرام ہے
۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے
1۔و لا تأکلو مما لم یذکر اسم اللہ علیہ و انہ لفسق۔ (آیت ۱۲۱، سورت الانعام ۶)
ترجمہ۔ اور جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، اس میں سے مت کھاؤ، اور ایسا کرنا سخت گناہ ہے
2۔حرمت علیکم المیتۃ و الدم و لحم الخنزیر و ما اہل لغیر اللہ بہ و المنخنقۃ و الموقوذۃ والمتردیۃ و النطیحۃ و ما اکل السبع الا ما ذکیتم و ما ذبح علی النصب۔ (آیت ۳، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ۔ تم پر مردارجانور، اور خون،،اور سور کا گوشت، اور وہ جانور حرام کر دیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جسے چوٹ مار کر ہلاک کیا گیا ہو، اور جو اوپر سے گر کر مرا ہو، اور جسے کسی جانور نے سینگ مار کر ہلاک کیا ہو، اور جسے کسی درندے نے کھا لیا ہو، مگر یہ کہ تم اس کے مرنے سے پہلے اس کو ذبح کر چکے ہو، اور وہ جانور بھی حرام ہے جسے بتوں کی قربانی گاہ پر ذبح کیا گیا ہو۔
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ کا نام نہ لیا ہو تو اس کو مت کھاؤ کیونکہ وہ حلال ہی نہیں ہے
]۲[دوسری صورت، قبر پر یا بتوں پر ذبح کرے
دوسری صورت یہ ہے کہ اللہ کے علاوہ مثلا بت والوں کو یا قبر والوں کوخوش کرنے کے لئے بتوں کے پاس یا قبر کے پاس ذبح کرے، اس صورت میں اللہ کا نام لیکر ذبح کیا ہو تب بھی حلال نہیں ہے، کیونکہ اللہ کے علاوہ کوخوش کرنے کے لئے ذبح کیا ہے
اس کے لئے یہ آیت ہے
3۔حرمت علیکم المیتۃ و الدم و لحم الخنزیر و ما اہل لغیر اللہ بہ و المنخنقۃ و الموقوذۃ والمتردیۃ و النطیحۃ و ما اکل السبع الا ما ذکیتم و ما ذبح علی النصب۔ (آیت ۳، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ۔ تم پر مردارجانور، اور خون،،اور سور کا گوشت، اور وہ جانور حرام کر دیا گیا ہے جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، اور جسے چوٹ مار کر ہلاک کیا گیا ہو، اور جو اوپر سے گر کر مرا ہو، اور جسے کسی جانور نے سینگ مار کر ہلاک کیا ہو، اور جسے کسی درندے نے کھا لیا ہو، مگر یہ کہ تم اس کے مرنے سے پہلے اس کو ذبح کر چکے ہو، اور وہ جانور بھی حرام ہے جسے بتوں کی قربانی گاہ پر ذبح کیا گیا ہو۔
4۔ یا ایھا الذین اٰمنوا ا نما الخمر و المیسر و الانصاب و الازلام رجس من عمل الشیطان۔ فاجتنبوہ لعلکم تفلحون (آیت ۰۹، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ۔ ائے ایمان والو! شراب، جوا،، بتوں کے تھان، اور جوئے کے تیر یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں لھٰذا ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ
ان آیتوں میں ہے کہ بتوں پر ذبح کیا گیا ہو تو وہ گوشت حرام ہے
اس حدیث میں بھی ہے کہ اللہ کے علاوہ کے لئے ذبح کیا گیا ہو تو وہ جائز نہیں ہے اس پر لعنت ہے
1۔عن عامر بن واثلۃ قال سأل رجل علیا ھل کان رسول اللہ ﷺ یسر الیک بشیء دون الناس فغضب علی حتی احمر وجھہ و قال ما کان یسر الی شیئا دون الناس غیر انہ حدثنی باربع کلمات و انا و ھو فی البیت فقال لعن اللہ من لعن والدہ و لعن اللہ من ذبح لغیر اللہ و لعن اللہ من اوی محدثا و لعن اللہ من غیر منار الارض۔ (نسائی شریف ، کتاب الضحایا، باب من ذبح لغیر اللہ عز و جل، ص ۴۱۶، نمبر ۷۲۴۴)
ترجمہ۔ کسی آدمی نے حضرت علی ؓ سے پوچھا کہ حضور ؐ نے لوگوں کو چھوڑ کر آپ کو کوئی رازکی بات بتائی تھی، تو حضرت علی ؓ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا، اور کہا کہ لوگوں کو چھوڑ کر مجھ سے کوئی راز کی بات نہیں کہی ہے،ہاں چار باتیں مجھے گھر میں کہی ہیں، جس نے والدین کو لعنت کی اللہ اس پر لعنت کرے، جس نے اللہ کے علاوہ کے لئے ذبح کیا اللہ اس پر لعنت کرے، جو نئی چیز پیدا کرنے والا ہے اس کو جو پناہ دے اس پر اللہ لعنت کرے، جو زمین کی نشان کو بدل دے اللہ اس پر لعنت کرے ] مجھے یہ چار باتیں خاص طور پرحضور ؐ نے بتائی ہیں [
اس حدیث میں ہے کہ جو اللہ کے علاوہ کے لئے ذبح کرے اس پر لعنت ہو۔
]۳[تیسری صورت یہ ہے کہ قبر کے پاس ذبح کرے
]۳[ تیسری صورت یہ ہے کہ اللہ کے نام پر ذبح کرے لیکن قبر کے پاس کرے تو یہ بھی مکروہ ہے
اس حدیث میں اس کا ذکر ہے
2۔عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ لا عقر فی الاسلام
قال عبد الرزاق: کانوا یعقرون عند القبر یعنی ببقرۃ او بشیء۔ (ابو داود شریف، کتاب الجنائز، باب کراہیۃ الذبح عند القبر، ص ۰۷۴، نمبر ۲۲۲۳/ مسند احمد، مسند انس بن مالک، ج ۴، ص ۱۵، نمبر ۰۲۶۲۱)
ترجمہ۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ اسلام میں عقر نہیں ہے
عبد الرزاق ؒ نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ قبر کے پاس گائے وغیرہ ذبح کیا کرتے تھے
اس حدیث میں ہے کہ اسلام میں عقر نہیں ہے، یعنی قبر کے پاس ذبح کرنا جائز نہیں ہے
قبر پر ذبح کرنے کا شائبہ بھی ہو تو وہ بھی منع ہے
قبر کے پاس ذبح کر کے لوگ شرک میں مبتلاء نہ ہو جائیں، اس لئے اتنا منع کیا ہے کہ قبر پر ذبح کرنے کا شائبہ بھی ہو تو اس کو منع کرتے ہیں
اس کے لئے حدیث یہ ہے
3۔حدثنی ثابت بن الضحاک قال نذر رجل علی عھد النبی و ان ینحر ابلا ببوانۃ، فقال النبی ﷺ ھل کان فیھا وثن من اوثان الجاھلیۃ یعبد؟ قالوا لا: قال ھل کان فیھا عید من اعیادھم؟ قالوا لا: قال النبی ﷺ اوف بنذرک فانہ لا وفاء لنذر فی معصیۃ اللہ ولا فیما لا یملک ابن آدم۔ (ابو داود شریف، کتاب الایمان و النذور، باب ما یومر بہ من وفاء النذر، ص ۰۸۴، نمبر ۳۱۳۳)
ترجمہ۔ ایک آدمی نے حضور ؐ کے زمانے میں بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی، حضور ؐ نے پوچھا زمانہ جاہلیت میں وہاں کوئی بت تو نہیں تھا جس کو لوگ پوجتے ہوں؟ لوگوں نے کہا نہیں تھا، پھر حضور ؐ نے پوچھا وہاں کوئی عید تو نہیں منائی جاتی تھی؟ لوگوں نے کہا نہیں منائی جاتی تھی، اس کے بعد نے فرمایا کہ اپنی نذر پوری کر لو، کیونکہ اللہ کے گناہ میں نذر کو پوری کرنا ٹھیک نہیں ہے، اور آدمی جس چیز کا مالک نہ ہو اس میں نذر پوری کرنا صحیح نہیں ہے
اس حدیث میں ہے کہ اگر وہاں جاہلیت میں عید بھی ہوتی تھی تب بھی وہاں جانور ذبح نہ کرو، کیونکہ اس طرح پھر بتوں کو پوجے گا، قبروں کو پوجے گا اور آہستہ آہستہ شرک میں مبتلاء ہو جائے گا
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ مجاور گوشت لینے کے لئے اور اس کے ساتھ روپیہ اور ہدیہ ہدایالینے کے لئے اس کی پوری ترغیب دیتے ہیں کہ باوا صاحب آپ کی مراد پوری کر دیں گے اس لئے وہ قبر کے پاس ہی جانور ذبح کرواتے ہیں اور ایک ناجائز کام میں لوگوں کو مبتلاء کرنے کی کوشش کرتے ہیں، عوام کو اس سے بچنا چاہئے
]۴[چوتھی صورت، اللہ کے نام پر کرے اور قبر سے دور کرے
]۴[ چوتھی صورت یہ ہے کہ اللہ کے نام پر جانور ذبح کرے اور قبر سے دور کرے، اس میں قبر والے کو خوش کرنے کی بھی نیت نہ ہو، صرف یہ نیت ہو کہ یہ گوشت غریبوں کو کھلاؤں گا، تو چونکہ اس نے قبر کے پاس بھی ذبح نہیں کیا، اور ذبح کرتے وقت صرف اللہ کا نام بھی لیا ہے، اس لئے یہ گوشت حلال ہے، لیکن میت کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتناگوشت غریب مسکین کوکھلائے گا
اس کا اصل طریقہ یہ ہے کہ قبر سے کافی دور جانور کو ذبح کر کے اس کا گوشت غریب اور مسکین میں تقسیم کرے، یا اس کو پکا کہ غریب اور مسکین کو کھلائے تو اس کھلانے کا ثواب میت کو پہنچے گا، یہی ایک صورت جائز ہے۔ اس میں ریاء نمود اور دکھاوا جتنا کم ہوگا اتنا زیادہ ثواب ملے گا، اور ریاء نمود جتنا زیادہ ہو گا اتنا ہی ثواب کم ملے گا،اور اگر صرف ریااور نمود ہو اور شہرت ہو تو کچھ بھی ثواب نہیں ملے گا
لیکن آج کل یہ ہو رہا ہے کہ غریب کے بجائے مالدار اور رشتہ دار لوگ اس کو زیادہ کھاتے ہیں، یا مجاور قسم کے لوگ لوٹنے کی کوشش کرتے ہیں، غریب کو تو بہت کم ملتا ہے۔عوام کو اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔
اس حدیث میں ہے کہ خیرات کرنے کا ثواب میت کو ملتا ہے
4۔أنبانا ابن عباسؓان سعد بن عبادۃ ؓ توفیت امہ و ھوا غائب عنھا فقال یا رسول اللہ ان امی توفیت و انا غائب عنھا أینفعھا شیء ان تصدقت بہ عنھا؟ قال نعم قال فانی أشہد ک ان حائطی المخراف صدقۃ علیھا۔ (بخاری شریف، باب اذا قال أرضی او بستانی صدقۃ للہ عن امی، ص ۶۵۴/ مسلم شریف، باب وصول ثواب الصدقات الی المیت، ص ۶۱۷، نمبر ۰۳۶۱/ ۹۱۲۴ )
ترجمہ۔ حضرت سعد بن عبادہ ؓ نے فرمایا، کہ میں غائب تھا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا، پھر پوچھا یا رسول اللہ میری ماں کا انتقال ہو گیا، اور میں غائب تھا،کیا ان کی جانب سے صدقہ کروں تو اس کو نفع ہوگا؟، آپ ؐ نے فرمایا کہ ہاں!سعد ؓ نے فرمایا کہ میں آپ ؐ کو گواہ بناتا ہوں کہ محراف کا میرا باغ میری ماں کے لئے صدقہ ہے
اس حدیث میں ہے کہ دوسرے کا صدقہ کیا ہوا میت کو ثواب ملتا ہے۔
پوری تفصیل ایصال ثواب میں دیکھیں
اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور 4 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: