اسلامیات

عقیدہ نمبر 41۔ ماتم کرنا حرام ہے

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 3 آیتیں اور 5 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں۔
اچانک غم آجائے اور آنسو نکل جائے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے،
لیکن اس میں دو باتیں ہیں، ایک تو یہ کہ ایسے موقع پر زبان سے کوئی بات نہ نکلے جو بے صبری ظاہر کرتی ہو، یا اللہ کو کوسنا ہو
اور دوسری بات یہ ہے کہ اس میں شور مچانا نہ ہو، کپڑا پھاڑنا نہ ہو، اس کو واویلا کہتے ہیں یہ جائز نہیں ہے
اور زمانہ دراز کے بعد بھی غم کو بار بار یاد کرنا، اور لوگوں کو بتانا کہ مجھے بہت غم ہے، اور پھر سینہ پیٹنا، اور شور مچانا یہ بھی جائز نہیں ہے
مصیبت کے وقت قرآن نے صبر کرنے کو کہا ہے
اسلام کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ مصیبت پر شور مچائے اور وایلا کرے، بلکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر مصیبت آجائے تو اس پر صبر کرے اور اللہ سے عافیت مانگے۔
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
1۔ یا ایہا الذین آمنوا استعینوا بالصبر و الصلوات ان اللہ مع الصابرین، و لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء و لکن لا تشعرون و لنبونکم بشیء من الخوف و الجوع و نقص من الاموال و الانفس و الثمرات و بشر الصابرین، الذین اذا اصابتہم مصیبۃ قالوا انا للہ و انا الیہ راجعون اولٰئک علیہم صلوت من ربہم و رحمۃ و اولائک ہم المہتدون۔ (آیت۳۵۱۔ ۷۵۱، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ اے ایمان والو! صبر اورنماز سے مدد حاصل کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے، اور جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہو گئے ان کو مردہ نہ کہو، دراصل وہ زندہ ہیں مگر تم کو ان کی زندگی کا احساس نہیں ہوتا، اور دیکھو ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے، کبھی بھوک سے، اور کبھی مال و جان اور پھلوں کی کمی کر کے، اور جو لوگ ایسے حالات میں صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنا دو، یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو مصیبت پہنچتی ہے تو یہ کہتے ہیں کہ،، ہم سب اللہ ہی کے ہیں، اور ہم کو اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جن پر انکے رب کی طرف سے خصوصی عنایتیں ہیں اور رحمت ہے اور یہی لوگ ہیں جو ھدایت پر ہیں۔
اس آیت میں تین مرتبہ صبر کرنے کی تاکید کی گئی ہے، اور یہ بھی فرمایا کہ جو صبر کرتے ہیں ان پر صلوات اور رحمتیں نازل کی جاتی ہیں اور وہی اصل میں ہدایت پر ہیں۔
2۔و استعینوا بالصبر و الصلواۃ و انہا لکبیرۃ الا علی الخاشعین۔ (آیت ۵۴، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو، نماز بھاری ضرور معلوم ہوتی ہے مگر ان لوگوں کو نہیں جو خشوع، یعنی دھیان اور عاجزی سے پڑھتے ہیں
3۔یا ایہا الذین آمنوااصبروا و صابروا و رابطوا و اتقوا اللہ لعلکم تفلحون۔ (آیت ۰۰۲، سورت آل عمران ۳)
ترجمہ۔ اے ایمان والو! صبر اختیار کرو، اور مقابلے کے وقت ثابت قدمی دکھاؤ، اور سرحدوں کی حفاظت کے لئے جمے رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں کامیابی نصیب ہو
ان تینوں آیتوں میں صبر کرنے کی بار بار تلقین کی ہے، اسلئے واویلا کرنا، اور شور مچانا بالکل ٹھیک نہیں ہے
رشتہ دار کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے
اس حدیث میں ہے کہ رشتہ دار کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے، اس لئے بلا وجہ شور نہیں مچانا چاہئے
اس کے لئے حدیث یہ ہے
1۔ فقال عبد اللہ بن عمر لعمر بن عثمان الا تنہی عن البکاء فان رسول اللہ ﷺ قال ان المیت لیعذب ببکاء اہلہ۔ (بخاری شریف، باب قول النبی ﷺ یعذب المیت ببعض بکاء اہلہ علیہ اذا کان النوح من سنتہ، ص ۶۰۲، نمبر ۶۸۲۱)
ترجمہ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓنے عمر بن عثمان سے کہا آپ رونے سے نہیں روکتے!کیونکہ حضور ؐ نے فرمایا کہ، گھر والے روتے ہیں تو اس کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب ہوتا ہے
اس حدیث میں ہے کہ گھر والے کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے، اس کے باوجود پتہ نہیں بعض لوگ کیوں ہر سال سینہ پیٹ پیٹ کر روتے ہیں اور میت کو زیادہ عذاب ہونے میں اضافہ کرتے ہیں
واویلا کرنا ممنوع ہے
ایک ہے خود بخود آنسو آجائے یہ جائز ہے، کیونکہ آدمی اس میں مجبور ہے، اور دوسرا ہے کہ خواہ مخواہ شور مچا رہا ہے اور گلے پھاڑ رہا ہے یہ ناجائز ہے، ان آحادیث میں واویلا کرنے سے منع کیا گیا ہے
اس کے لئے حدیث یہ ہے
2۔عن عبد اللہ ؓ قال قال النبی ﷺ لیس منا من لطم الخدود و شق الجیوب و دعا بدعوی الجاہلیۃ۔ (بخاری شریف، باب لیس منا من شق الجیوب ، ص۷۰۲، نمبر۴۹۲۱/ مسلم شریف، باب ضرب الخدود و شق الجیوب و دعا بدعوی الجاہلیۃ، ص ۸۵،نمبر ۳۰۱/ ۵۸۲ )
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ، جو گال پرطمانچہ مارے، اور دامن پھاڑے ، اور زمانہ جاہلیت میں جس قسم بکواس کرتے تھے اس قسم کے بکواس کرے، تو وہ مجھ میں سے نہیں ہیں، یعنی یہ کام مسلمانوں کا نہیں ہے
3۔ قال وجع ابو موسی…..قال انی بری ممن بری منہ محمد ﷺ ان رسول اللہ ﷺ بری من الصالقۃ و الحالقۃ و الشاقۃ۔ (بخاری شریف، باب ما ینہی من الحلق عند المصیبۃ، ص ۷۰۲، نمبر ۶۹۲۱/ مسلم شریف، باب ضرب الخدود و شق الجیوب و دعا بدعوی الجاہلیۃ، ص ۸۵،نمبر ۳۰۱/ ۸۸۲)
ترجمہ۔ حضرت ابوموسی ؓ نے فرمایا۔۔۔جس سے محمد ﷺ بری ہیں میں بھی اس سے بری ہوں، رسول اللہ ﷺ اس عورت سے جو چیخے چلائے، بال نوچے، اور کپڑا پھاڑے ان سے بری ہیں
خود بخود آنسو نکل جائے تو یہ معاف ہے
اس کے لئے حدیث یہ ہے
4۔قال انس لقد رأیتہ یکید بنفسہ بین یدی رسول اللہ ﷺ فدمعت عینا رسول اللہ ﷺ فقال تدمع العین و یحزن القلب، و لا نقول الا ما یرضی ربنا، انا بک یا ابراہیم لمحزونون۔ (ابو داود شریف، کتاب الجنائز، باب البکاء علی المیت، ص ۸۵۴، نمبر ۶۲۱۳)
ترجمہ۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم ؓ کو دیکھا کہ حضور ؐ کی گود میں اپنی جان اللہ کو سپرد کررہے تھے، تو حضور ؐ کی آنکھوں میں آنسوآگیا،] تو کسی نے کہا کہ حضور ؐ آپ بھی روتے ہیں؟[ تو آپ نے فرمایا کہ آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، دل مغموم ہے، لیکن جس سے میرا رب راضی ہو میں وہی کہتا ہوں،اے ابراہیم ؓ میں تمہاری وجہ سے غمگین ہوں
اس حدیث میں دیکھیں کہ خود بخود آنسو نکل گیا تو یہ معاف ہے
5۔حدثنی اسامۃ بن زید…. فرفع الی رسول اللہ الصبی و نفسہ تتقعقع قال حسبت انہ قال کانھا شن فاضت عیناہ فقال سعد یا رسول اللہ ما ھذا؟ فقال ھذہ رحمۃ جعلہا اللہ فی قلوب عبادہ و انما یرحم اللہ من عبادہ الرحماء۔ (بخاری شریف، باب قول النبی ﷺ یعذب المیت ببعض بکاء اہلہ علیہ، ص ۵۰۲، نمبر ۴۸۲۱)
ترجمہ۔ حضور ؐ کے پاس بچی لائی گئی، وہ آخری سانس لے رہی تھی، راوی کہتے ہیں، میرا گمان ہے کہ وہ پرانے مشک کی طرح تھی، حضور ؐ کی آنکھیں بہ پڑیں، حضرت سعد ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ یہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ یہ رحمت ہے، اللہ نے اپنے بندے کے دل میں اس کو رکھا ہے، جو لوگ رحم کرنے والے ہیں اللہ ایسے بندوں پر رحم کرتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شدت غم کی وجہ سے خود بخود آنسو نکل گیا، اور زبان سے کوئی غلط سلط جملہ نہیں نکلا تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اس عقیدے کے بارے میں 3 آیتیں اور 5 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: