اسلامیات

عقیدہ نمبر 42۔ ایصال ثواب ایک مستحب کام ہے

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

کوئی نیک کام کر کے اس کا ثواب میت کو پہنچانے کو ایصال ثواب، کہتے ہیں
اس عقیدے کے بارے میں 11 آیتیں اور 14 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں۔
ایصال ثواب ایک مستحب کام ہے، کوئی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اور نہیں کرنا چاہے تو کوئی گناہ نہیں ہے
اس کام کرنے میں یہ 5 باتیں ضروری ہیں
1۔ اس میں ریا نمود، جس کو دکھلاوا کہتے نہ ہو، اگر لوگوں کے دکھلاوے کے لئے کیا تو چونکہ ثواب کے لئے نہیں کیا اس لئے ثواب نہیں ملے، اور جب کرنے والے کو ہی ثواب نہیں ملے گا، تو میت کو کیا ثواب پہنچائے گا، بلکہ بہتر یہ ہے کہ دائیں ہاتھ سے دے تو بائیں ہاتھ کو اس کی خبر نہ ہو، اتنا چھپا کر کرے
2۔ رسم و رواج کی پابندی نہ ہو، یہ نہ ہو کہ چونکہ اس کام کی رسم بن گئی ہے اس لئے یہ کیاجا رہا ہے
3۔مالی صدقہ کرنا ہو توغریبوں کو دے، کیونکہ انہیں کا حق بنتا ہے، اور انہیں کو دینے سے ثواب زیادہ ملے گا
4۔ اس میں فضول خرچی نہ ہو
5۔ ایصال ثواب کرتے وقت لوگوں کو بلانا اور جم گھٹا کرنا یہ بھی ٹھیک نہیں ہے
کیونکہ آدمی کی موت ہو چکی ہو تو اس کے لئے اعلان کرنا، اور لوگوں کو جمع کرنا بھی حدیث میں اچھا نہیں سمجھا گیا ہے تو ایصال ثواب کے لئے لوگوں کو جمع کرنا، ناچ اور گانے کا سما بنانا اور وہ سارے خرافات کرنا جو ہندؤوں کے میلوں میں ہوتے ہیں کیسے جائز ہو سکتے ہیں
اس کے لئے حدیث یہ ہے
۔ عن عبد اللہ عن النبی ﷺ قال ایاکم و النعی فان النعی من عمل الجاھلیۃ، قال عبد اللہ و النعی اذان با لمیت۔(ترمذی شریف، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی کراہیۃ النعی، ص ۹۳۲، نمبر ۴۸۹/ ابن ماجۃ شریف، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی النھی عن النعی، ص ۱۱۲، نمبر ۶۷۴۱)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ لوگوں کے درمیان موت کے اعلان سے بچا کرو، اس لئے کہ یہ جاہلیت کا عمل ہے، حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا کہ،نعی، کا ترجمہ ہے لوگوں کے درمیان موت کا اعلان کرنا۔
اس حدیث میں ہے کہ اہتمام کے ساتھ لوگوں میں موت کے اعلان کرنے سے منع کیا ہے، ہاں تھوڑا بہت جنازے کی اطلاع دے اس کی گنجائش ہے، لیکن جم گھٹا کرنا صحیح نہیں ہے،
یہ غمی کا موقع ہے، یہ اس کی آخری ملاقات ہے، اور اس پر نماز جنازہ بھی پڑھنا ہے اس کے با وجود بھی زیادہ جم گھٹا کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے تو ایصال ثواب جیسے چھپا کرکرنے کے کام میں آدھی دنیا کو جمع کرنا کیسے صحیح ہو گا ۔ ہاں بغیر خرافات کے لوگ جمع ہو کر کچھ پڑھ کر میت کوبخش دیں تو علماء نے اس کی گنجائش دی ہے
اس وقت کی افرا تفری
لیکن اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اس مستحب کام میں بہت افرا تفری ہے
ایک آدمی کے والد کا انتقال ہوا، اس میں چالیس روز تک لوگ آتے رہے، اور اس میں 40,000
چالیس ہزار پونڈ خرچ کروا دیا، اور اس آدمی کا دیوالہ نکل گیا، کیا مستحب کام میں اتنی زیادتی جائز ہے
میرے گاؤں میں کئی آدمیوں کا انتقال ہوا، انکے وارث کے پاس کفن کا بھی پیسہ نہیں تھا، لیکن لوگوں نے سودی قرض لینے پر مجبور کیا، اور اس نے بنیوں سے تین ہزار روپیہ قرض لیکر لوگوں کو کھانا کھلایا
ایسے موقع پر رشتہ دار لوگ پیچھے لگ جاتے ہیں، اور کچھ ذہین لوگ بھی ساتھ ہو جاتے ہیں، اور ایصال ثواب کے نام پراتنا تنگ کرتے ہیں کہ غریب کی چمڑی ادھیڑ لیتے ہیں،
فیا للآسف
ایصال ثواب کی 3 صورتیں ہیں
]۱[ مالی صدقہ کر کے ثواب پہنچانا
مثلا۔۔مال خیرات کر کے ثواب پہنچانا
۔۔کھانا کھلا کر ثواب پہنچانا
۔۔غریبوں کوجانور صدقہ کرکے ثواب پہنچانا
۔۔ قربانی کر کے ثواب پہنچانا
]۲[ بدنی اعمال کر کے ثواب پہنچانا
۔۔ مثلا،حج کر کے اس کا ثواب میت کو پہنچانا
۔۔ روزہ رکھ کر اس کا ثواب میت کو پہنچانا
۔۔نماز پڑھ کر اس کا ثواب میت کو پہنچانا
]۳[ پڑھ کر ثواب پہنچانا
۔۔مثلا،حضور ﷺکے لئے درود شریف پڑھنا
۔۔قرآن پڑھ کر میت کو ثواب پہنچانا
۔۔دعا کرکے کر میت کو ثواب پہنچانا
]۱[ مال خیرات کر کے ثواب پہنچانے سے میت کو ثواب ملتا ہے
اس کے لئے عقیدۃ الطحاویۃ میں عبارت یہ ہے،
۔و فی دعاء الاحیاء و صدقاتہم منفعۃ للاموات۔ (عقیدۃ الطحاویۃ، عقیدہ نمبر ۹۸، ص ۹۱)
ترجمہ۔ زندہ آدمی مردوں کے لئے دعا کرے، یا وہ صدقہ کرے اس سے مردوں کو فائدہ ہوتا ہے
۔و منھا: ان دعاء الاحیاء للاموات و صدقتھم عنہ نفع لھم فی علو الحالات۔ (شرح فقہ اکبر، مسئلۃ فی ان۔دعاء للمیت ینفع خلافا للمعتزلۃ،ص ۴۲۲)
ترجمہ۔ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ زندہ لوگ مردوں کے لئے دعا کرے، یا ان کی جانب سے صدقہ کرے تو حالات کی بلندی میں انکو نفع ہوتا ہے۔
اس عبارت میں ہے کہ میت کو مالی صدقات کا نفع ملتا ہے
اس کے لئے احادیث یہ ہیں
1۔أنبانا ابن عباسؓان سعد بن عبادۃ ؓ توفیت امہ و ھوا غائب عنھا فقال یا رسول اللہ ان امی توفیت و انا غائب عنھا أینفعھا شیء ان تصدقت بہ عنھا؟ قال نعم قال فانی أشہد ک ان حائطی المخراف صدقۃ علیھا۔ (بخاری شریف، باب اذا قال أرضی او بستانی صدقۃ للہ عن امی، ص ۶۵۴/ مسلم شریف، باب وصول ثواب الصدقات الی المیت، ص ۶۱۷، نمبر ۰۳۶۱/ ۹۱۲۴ )
ترجمہ۔ حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ سعد ابن عبادہ کی ماں کا انتقال ہوا، جبکہ سعد ابن عبادہ غائب تھے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ میں غائب تھا اس حال میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا، اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو انکو نفع ہو گا؟ آپ ؐ نے فرمایا ہاں، سعد ؓ نے کہا کہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ مخراف میں جو میرا باغ ہے، میں مان کے لئے اس کو صدقہ کرتا ہوں
2۔عن سعد بن عبادۃ انہ قال یا رسول اللہ ان ام سعد ماتت فأی الصدقۃ افضل؟ قال الماء قال فحفر بئر ا و قال ھذہ لام سعد۔ (ابو داود شریف، کتاب الزکوۃ، باب فی فضل سقی الماء، ص ۹۴۲، نمبر ۱۸۶۱)
ترجمہ۔ حضرت سعد ؓ نے کہا یا رسول اللہ ﷺ میری ماں کا انتقال ہو گیا تو کون سا صدقہ افضل ہے، آپ نے فرمایا، پانی، راوی کہتے ہیں حضرت سعد ؓ نے کنواں کھودا، پھر یہ کہا کہ، یہ سعد کی ماں کے لئے صدقہ ہے
ان احادیث میں ہے کہ دوسرے نے صدقہ کیا تو اس کا ثواب میت کو ملتا ہے
3۔عن عائشۃ ان رجلا اتی لنبی ﷺ فقال یا رسول اللہ! ان امی افتلتت نفسھا و لم توص، و اظنھا لو تکلمت تصدقت، أفلھا اجر ان تصدقت عنھا؟ قال نعم۔ (مسلم شریف، کتاب الزکوۃ، باب وصول ثواب الصدقۃ عن المیت الیہ، ص ۶۰۴، نمبر ۴۰۰۱، نمبر ۶۲۳۲)
ترجمہ۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایک آدمی حضور ؐ کے پاس آیا، اور کہا یا رسول اللہ میری والد ہ اچانک انتقال کر گئی ہیں اور وصیت نہیں کر پائیں، اور میرا خیال یہ ہے کہ اگر وہ بات کرتیں تو صدقہ ضرور کرتیں، اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کروں تو انکو اجر ملے گا؟آپ ؐ نے فرمایا!ہاں ] ملے گا [
4۔عن جابر بن عبد اللہ۔۔۔ نزل من منبرہ و اتی بکبش فذبحہ ر سول اللہ بیدہ و قال بسم اللہ و اللہ اکبر ھذا عنی و عمن لم یضح من امتی۔ (ابو داود شریف، کتاب الضحایا، باب فی الشاۃ یضحی بھا عن جماعۃ، ص ۹۰۴، نمبر ۰۱۸۲)
ترجمہ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے۔۔۔حضور ؐ منبر سے نیچے اترے، آپ کے سامنے ایک مینڈھا لایا گیا، اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کو ذبح کیا، اور فرمایا،بسم اللہ و اللہ اکبر ۔ یہ میری جانب سے ہے، اور میری امت میں جن لوگوں نے قربانی نہیں کی ان کی جانب سے ہے
5۔ قال رأیت علیا ؓ یضحی بکبشین فقلت لہ ما ھذا؟فقال ان رسول اللہ ﷺ اوصانی ان اضحی عنہ فانا اضحی عنہ۔ (ابو داود شریف، کتاب الضحایا، باب الاضحیۃ عن المیت، ص ۷۰۴، نمبر ۰۹۷۲)
ترجمہ۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی ؓ کو دیکھا کہ وہ مینڈھا ] بکرا [ ذبح کر رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ، مجھے حضور ؐ نے وصیت کی ہے کہ میں حضور ؐ کی جانب سے قربانی کیا کروں، تو میں یہ انکی جانب سے قربانی کر رہا ہوں۔
ان 5 احادیث سے ثابت ہوا کہ مالی صدقات کرے تو اس کا ثواب، میت کوپہنچتا ہے
البتہ اس میں شہرت، ریا نمود، دوسروں کو چڑانا نہ ہو اور نہ ہی رسم و رواج کی پابندی کی وجہ سے کرے
، اور نہ فضول خرچی کرے۔
یہ کام کبھی کبھار کر لے، اور اس کا ثواب میت کو پہنچا دے، کیونکہ یہ صرف مستحب ہے۔
]۲[ بدنی عمل کرکے میت کو ثواب پہنچا سکتے ہیں
اس کے لئے حدیث یہ ہے
6۔عن ابن عباس ؓ قال جاء رجل الی النبی ﷺ فقال أحج عن ابی قال نعم حج عن ابیک۔ (ابن ماجۃ شریف، کتاب المناسک،باب الحج عن المیت، ص ۰۲۴، نمبر ۴۰۹۲)
ترجمہ۔ ایک آدمی حضور ؐ کے پاس آیا، اور پوچھا کہ میں اپنے باپ کی جانب سے حج کروں؟، آپ نے فرمایا ہاں! اپنے باپ کی جانب سے حج کرو۔
7۔عن ابی الغوث بن حصین۔ رجل من الفروع۔ انہ استفتی النبی ﷺ عن حجۃ کانت علی ابیہ مات و لم یحج، قال النبی ﷺ حج عن ابیک، و قال النبی و کذالک الصیام فی النذر یقضی عنہ۔ (ابن ماجۃ شریف،کتاب المناسک، باب الحج عن المیت، ص ۰۲۴، نمبر۵۰۹۲)
ترجمہ۔ ابی غوث بن حصین سے روایت ہے کہ، باپ پر ایک حج تھا، اور انہوں نے حج نہیں کیا تھا، اور ان کا انتقال ہو گیا تھا، تو اس کے بارے میں فتوی پوچھا، تو آپ ؐ نے فرمایا کہ اپنے باپ کی جانب سے حج کرو ۔حضور ؐ نے یہ بھی فرمایا کہ نذر کا روزہ باقی ہو تو انکی جانب سے قضا کر سکتے ہو۔
حج کرنا، اور روزہ رکھنا بدنی عبادتیں ہیں، اس لئے ان دونوں حدیثوں سے معلوم ہوا کہ بدنی عبادت کرکے میت کو ثواب پہنچا سکتے ہیں
]۳[ قرآن پڑھ کر اور دعا کرکے میت کو ثواب پہنچا سکتے ہیں
لیکن اس کے لئے وقت متعین کرنا، جس میں زمانے کا دھمال ہو، ویڈیو بنایا جائے، ناچ اور گانے بھی ہوں، طبلہ اور ڈھولکی تو ہوں ہی، اور اس پر نئے انداز کا ڈانس بھی ہو تاکہ زمانے تک اس کی یاد یو ٹیوب you tube پر اور انٹرنیٹ پر رہے، یہ سب کہاں تک جائز ہیں، آپ خود ہی فتوی دے لیں،
اس کی دلیل یہ آیتیں ہیں
1۔و الذین جاؤ من بعدہ یقولون ربنا اغفر لنا و لاخواننا الذین سبقونا بالایمان۔ (آیت ۰۱، سورت الحشر۹۵)
۔ترجمہ۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہماری بھی مغفرت فرمایئے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں
2۔رب اغفر لی و لوالدی و لمن دخل بیتی مأمنا و للمومنین و للمؤمنات۔ (آیت ۸۲، سورت نوح۱۷)
۔ ترجمہ۔ میرے رب میری بھی بخشش فرما دیجئے، میرے والدین کی بھی، اور ہر اس شخص کی بھی جو میرے گھر میں ایمان کے ساتھ حالت میں داخل ہوا، اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی ] بخشش کر دیجئے [
3۔ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی النبی یا ایہا الذین آمنوا صلو علیہ و سلموا تسلیما۔ (آیت۶۵، سور ت الاحزاب ۳۳)
۔ ترجمہ۔ بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں، ائے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو، اور خود سلام بھیجا کرو۔
اس آیت میں ہے کہ اللہ اور فرشتے حضور ؐ پر درود بھیجتے ہیں اس لئے مومنوکو بھی حکم دیا گیا کہ حضور ؐ پر خود درود بھیجیں، اس لئے حضور ؐ پر خود درود بھیجنا چاہئے، پڑھنے میں یہ سب سے بڑی عبادت ہے
اس آیت میں حضور ؐ پر درود بھیجنے کے کا حکم دیا گیا ہے، اگر اس کا ثواب نہیں ملتا تو درود بھیجنے کا حکم کیوں دیتے!۔
پڑھ کر بخشنے کے لئے احادیث یہ ہیں
8۔عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال اذا مات الانسان انقطع عنہ عملہ الا من ثلاث الا من صدقۃ جاریۃ او علم ینتفع بہ او ولد صالح یدعوا لہ۔ (مسلم شریف، باب ما یلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ، ص ۶۱۷، نمبر ۱۳۶۱/۳۲۲۴)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ جب انسان مر جاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے، مگر تین عمل کا ثواب ملتا رہتا ہے ]۱[ صدقہ جاریہ کا ثواب، ]۲[ ایسا علم چھوڑا جس سے لوگ نفع اٹھاتے ہوں ]۳[ نیک اولا جو اس کے لئے دعا کرتی ہو اس کا ثواب، مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے
9۔عن معقل بن یسار قال قال رسول اللہ ﷺ أقرؤ (یٓس) علی موتا کم۔ (ابو داود شریف، باب القرأۃ عند المیت، ص ۷۵۴، نمبر ۱۲۱۳)
ترجمہ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنی میت پر یٓس شریف پڑھا کرو
10۔عن عثمان بن عفان قال کان النبی ﷺ اذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال استغفروا لاخیکم و اسألوا لہ بالتثبیت فانہ الانسان یسأل۔ (ابوداود شریف، باب الاستغفار عند القبر للمیت فی وقت الانصراف، ص ۰۷۴، نمبر ۱۲۲۳)
ترجمہ۔ حضرت عثمان بن عفان ؓ فرماتے ہیں کہ جب حضور ؐ میت کو دفن کرنے سے فارغ ہوتے تو قبر پر کھڑے رہتے اور کہتے، اپنے بھائی کے لئے استغفار کرو، اور ان کے لئے جواب دینے میں ثابت قدم رہنے کی دعا مانگو! اس لئے کہ ابھی فرشتے ان سے سوال کریں گے۔
11۔عن ابی ہریرۃ ؓ قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول اذا صلیتم علی المیت فاخلصوالہ الدعاء۔ (ابو داود شریف، باب الدعاء للمیت، ص ۷۶۴، نمبر ۹۹۱۳)
ترجمہ۔ حضور ؐ فرماتے ہیں کہ میت پر نماز جنازہ پڑھو تو ان کے لئے اخلاص کے ساتھ دعاکرو
12۔حدثنا صفوان حدثنی المشیخۃ انہم حضروا غضیف بن الحارث الثمالی حین اشتد سوقہ فقال ھل منکم احد یقرء یٓسن….فکانت المشیخۃ یقولون اذا قرئت عند المیت خفف عنہ بہا۔ (مسند احمد، مسند حدیث غضیب بن الحارث ؓ، ج ۵، ص ۵۷، نمبر ۱۲۵۶۱)
ترجمہ۔ غضیف بن الحارث الثمالی کی موت کا وقت آیا تو کہنے لگے تم میں سے کوئی یٓسین شریف پڑھ سکتا ہے۔۔۔ اس لئے کہ بوڑھے لوگ کہتے ہیں کہ اگر میت کے پاس یٓسن شریف پڑھی جائے تو اس کی برکت سے موت کی سختی کم ہو جاتی ہے۔
اس قول تابعی میں ہے کہ یٓسن شریف پڑھنے سے موت کی سختی کم ہو جاتی ہے۔
13۔عن عبد الرحمن بن العلاء بن اللجلاج عن ابیہ انہ قال لبنیہ: اذا ادخلتمونی قبری فضعونی فی اللحد و قولوا باسم اللہ و علی سنۃ رسول اللہ ﷺ و سنوا علی التراب سنا و اقرأوا عند رأسی اول البقرۃ و خاتمھا فانی رأیت ابن عمر یستحبھا ذالک۔ (سنن بیہقی، کتاب الجنائز، باب ما ورد فی قرأۃ القرآن عند القبر، ج ۴، ص ۳۹، نمبر ۸۶۰۷)
ترجمہ۔ ابن لجلاج ؒ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ جب مجھے قبر میں اتاردو اور مجھے لحد میں رکھ دو تو بسم اللہ علی سنۃ رسول اللہ، کہو، اور میرے اوپر مٹی ڈال دو پھر میرے سر کے پاس سورہ بقرہ کا شروع اور اس کا آخیر حصہ پڑھو، اس لئے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر اس عمل کو مستحب کہتے تھے۔
اس تابعی کے عمل سے معلوم ہوا کہ میت کے سراہانے میں سورہ بقرہ پڑھی جائے
ان 13 احادیث اور 3 آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ خیرات کا ثواب اور دعا اور استغفار کا ثواب میت کو ملتا ہے
ان میں سے سب سے بڑی بات یہ ہے کہ دعا اور درود کا اہتمام ہمیشہ کرے، اور باقی عمل کبھی کبھار کرے
لیکن ان میں یہی ہے کہ دن متعین نہ ہو، رسم و رواج نہ ہو، ریا اور نمود نہ ہو، فضول خرچی نہ ہو، اجتماع، ڈھول، طبلہ، ناچ، گانا اور وہ خرافات نہ ہوں جس سے ہندؤوں کا میلہ شرما جائے
مالی صدقات غریبوں کو دیا جائے، لٹیروں کو اور ذہین قسم کے مکاروں کو ہر گز نہ دیں۔
کچھ حضرات کی رائے ہے کہ ثواب نہیں پہنچا سکتے
اور کچھ حضرات کہتے ہیں کہ دعا کا ثواب تو پہنچتا ہے، کیونکہ یہ حدیث سے ثابت ہے
مالی صدقات کا ثواب نہیں پہنچتا
ان کی دلیل یہ ہے کہ ایک کا گناہ دوسرے کو نہیں پہنچتا
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
4۔ان لا تزر وازرۃ وزری آخری و ان لیس للانسان الا ما سعی (آیت ۹۳، النجم ۳۵)
ترجمہ۔ یعنی یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، اور یہ کہ انسان کو خود اپنی کوشش کوشش کے سوا کسی اور چیز کا بدلہ لینے کا حق پہنچتا۔
5۔ولا تکسب کل نفس الا علیہا و لا تزر وازرۃ وزر آخری۔ (آیت ۴۶۱، الانعام ۶)
ترجمہ۔ اور جو کوئی شخص کوئی کمائی کرتا ہے اس کا نفع اور نقصان کسی اور پر نہیں خود اسی پر پڑتا ہے، اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی اور کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
6۔کل نفس بما کسبت رہینۃ۔(آیت۸۳، سورت المدثر ۴۷)
ترجمہ۔ ہر شخص اپنے کرتوت کی وجہ سے گروی رکھا ہوا ہے
7۔لہا ما کسبت و علیہا ما اکتسبت۔ (آیت ۶۸۲، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ اس کو فائدہ بھی اسی کام سے ہوگا جو اس نے اپنے ارادے سے کرے، اور نقصان بھی اسی کام سے ہوگا جو اپنے ارادے سے کرے
8۔تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم۔(آیت ۱۴۱، سورت البقرۃ ۲)
9۔تلک امۃ قد خلت لھا ما کسبت و لکم ما کسبتم۔ (آیت ۴۳۱،سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ وہ ایک امت تھی جو گذر گئی، جو کچھ انہوں نے کمایا وہ ان کا ہے، اور جو کچھ تم نے کمایا وہ تمہارا ہے
10۔ثم توفی کل نفس ما کسبت و ھم لا یظلمون۔ (آیت ۱۸۲، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ پھر ہر ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہے پورا پورا دیا جائے گا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہو گا
ان 7آیتوں میں ہے کہ آدمی خود جو کام کرتا ہے اسی کا اس کو ثواب ملتا ہے،
اس سے وہ ثابت کرتے ہیں کہ میت کو دوسروں کے ایصال ثواب کرنے سے مالی ثواب نہیں ملتا ہے، بس جو اس نے اپنی زندگی میں کیا اسی کا ثواب اور عذاب ملے گا
ان تین وجہ سے جمہور ایصال ثواب کے قائل ہوئے
ان تین 3 وجہ سے جمہور اس بات کے قائل ہوئے ہیں کہ میت کو مالی اور قرآت کا ثواب ملتا ہے
1۔ اوپر 13 احادیث، اور 3 آیتیں گزریں جن سے پتہ چلتا ہے کہ میت کو بھیجا ہوا ثواب ملتا ہے، اگر یہ حدیثیں اور آیتیں نہ ہوتیں تو ہم بھی اس بات کے قائل ہوتے کہ میت کو ثواب نہیں ملتا ہے
2۔ اوپر کی آ یتوں سے اتنا پتہ چلتا ہے کسی کا گناہ دوسرے کو نہیں ملے گا، کیونکہ انصاف کا تقاضہ یہی ہے، لیکن دوسرے کا بھیجا ہوا ثواب بھی نہیں ملتا ہے، اس کا انکار اوپر کی آیت میں نہیں ہے، اس لئے ثواب مل سکتا ہے
3۔جمہور نے دوسرا جواب یہ دیا ہے کہ مرنے والا اپنا دوست بناتا ہے، یا اپنا رشتہ دار ہوتا ہے یا اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے ، یہ دوست بنانا، اور اولاد کی تربیت کرنا بھی ایک قسم کی نیکیاں کمانے کا سبب ہے اس لئے اس سبب بنانے کی وجہ سے اس کو ثواب ملے گا۔
اور سبب بنے گا تو اس کا گناہ ہو گا، اس کی دلیل یہ آیت ہے
11۔ لیحملوا اوزارہم کاملۃ یوم القیامۃ و من اوزار الذین یضلونہم بغیر علم الا ساء ما یزرون۔ (آیت ۵۲، سورت النحل ۶۱)۔ترجمہ۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن خود اپنے گناہوں کے پورے پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بوجھ کا ایک حصہ بھی جنہیں یہ کسی کے علم کے بغیر گمراہ کر رہے تھے، یاد رکھو کہ بہت بڑا بوجھ ہے جو یہ لاد رہے ہیں
14۔عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال من دعا الی ہدی کان لہ من الاجر مثل اجور من تبعہ لا ینقص ذالک من اجورہم شیئا، و من دعا الی ضلالۃ کان علیہ من الاثم مثل آثام من تبعہ لا ینقص ذالک من آثامہم شیئا۔ (ابو داود شریف، باب من دعا الی السنۃ، ص ۲۵۶، نمبر ۹۰۶۴)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ کوئی ھدایت کی طرف بلائے تو جس نے اس کی اتباع کی اس کا اجر بھی اس کو ملے گا، اتباع کرنے والوں کے اجر میں سے کچھ کم نہیں ہو گا۔ اور کسی نے گمراہی کی طرف بلایا، تو اس کا بھی گناہ ہو گا جس نے اس کی اتباع کی، اتباع کرنے والوں کا گناہ کچھ کم نہیں ہو گا
اس حدیث میں ہے کہ آپ کی رہنمائی کرنے سے کوئی کام کرے گا تو کرنے والے کا ثواب رہنمائی کرنے والے کو ملے گا۔ اسی طرح آپ کے گمراہ کرنے سے کوئی گناہ کرے گا تو اس کے گناہ کا عذاب گمراہ کرنے والے کو بھی ملے گا، کیونکہ یہ گمراہ کرنے کا سبب بنا ہے۔
اس آیت اور حدیث میں ہے کہ کوئی سبب بنتا ہے تو سبب بننے کی وجہ سے سبب بننے والوں کو اس کا ثواب، یا عذاب ملتا ہے، اور چونکہ ایمان لانے والا ایمان کے سبب سے ثواب کا مستحق بنا ہے، اس لئے جو ثواب پہنچائے گا، اس کا ثواب میت کو ملے گا۔
قبر پر خرافات سے ثواب نہیں ملتاہے
قبر پر جتنی نذر و نیاز چڑھاتے ہیں، یا ذبح کرتے ہیں، یا ہدیہ دیتے ہیں ان میں سے کسی کا ثبوت حدیث میں نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف میں احادیث ہیں، اور نہ اس کا ثواب ملتا ہے، بس شریعت کے مطابق ایصال ثواب کردے اتنے ہی کا ثواب میت کو ملتا ہے، اور وہی کرنا چاہئے۔
اس عقیدے کے بارے میں 11 آیتیں اور 14 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
بعض مجاوروں کی دکانیں
جتنی احادیث پیش کی جاتیں ہیں ان سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ قبروں پر جا کر میت کے لئے دعا کرے، اور کبھی کبھار چپکے سے غریبوں پر صدقہ کر دے، اور ایسا کرنا مستحب ہے
لیکن اس وقت یہ ہو رہا ہے کہ ان فتؤوں کی آڑ میں بعض مجاوروں نے بڑے بڑے قبے بنائے چمک دمک بلب لگائے ، اور ہر آنے والوں کو یہ ترغیب دیتے ہیں کہ یہ بزرگ آپ کی ہر مرادیں پوری کر دیں گے، اور اس سے اتنا فیض ہو گا کہ آپ کی زندگی سنور جائے گی، اور اس جھانسے میں آنے والوں سے بڑی بڑی رقمیں وصول کرتے ہیں اور ان کی جیب خالی کر دیتے ہیں، اور جو اس چکر میں پڑتا ہے اس کو غریب بنا دیتے ہیں، کہاں ہے کبھی کبھار قبر کی زیارت، اور کہاں یہ لوٹیروں کا کھیل،
پھر وہ اتنے ہی پر بس نہیں کرتے، ہر جمعرات کو قبر پر حاضری، عرس اور مختلف حیلوں سے لوگوں کو آنے کی دعوت دیتے ہیں، پھر عرس کے نام پر میلہ لگتا ہے، قوالی ہوتی ہے، رنڈیاں ناچتی ہیں، اور پوری رات وہ دھمال ہوتا ہے کہ ہندؤوں کے میلے بھی اس کے مقابلے میں ماند ہیں
کچھ لوگوں نے اتنی گنجائش دی تھی کہ قربستان سے فیض حاصل ہو گا، اور حدیث میں وہ خاص فیض یہ ہے کہ قبر کو اور اس کی ویرانی کو دیکھ کر آخرت یاد آئے گی، دنیا سے دل اچاٹ ہو جائے گا، اور یہاں یہ ہے کہ دنیا بالکل ننگی ہو کر سامنے آتی ہے، بلکہ مذہب کے نام پر اتنے اچھے انداز میں دنیا اور اس کی رونقیں سامنے آتی ہیں کہ ہر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس کو حاصل کرنے کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔
کہاں مستحب کے نام پر بزرگوں کی تھوڑی سی گنجائش، اور کہاں یہ ڈانس، ناچ، اور یوٹیوب
، you tube، انٹر نیٹ، TV، پر اس کا اشتہار اور خرافات کی بھر مار۔۔ کتنا فرق ہے!
فیا للآسف

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: