اسلامیات

عقیدہ نمبر 43 ۔میت کا سننا

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور 7 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
مردے سنتے ہیں یا نہیں، یہ مسئلہ ایک دلدل ہے، یہاں مردے کے سننے کے سلسلے میں تین مسلک ہیں، اور تینوں کے پاس آیت اور حدیث کی دلائل ہیں
]۱[۔۔۔ ایک رائے یہ ہے کہ مردے نہیں سنتے
]۲[۔۔۔۔دوسری رائے یہ ہے کہ مردے سنتے ہیں
]۳[۔۔۔۔اورتیسری رائے یہ ہے کہ ہر بات کو تو نہیں سنتے، ہاں اللہ جس بات کو سنانا چاہتے ہیں وہ فرشتوں کے ذریعہ، یا کسی اور ذریعہ سے سنوا دیتے ہیں۔
نوٹ : جب میت کے سننے میں ہی اختلاف ہے، تو اس کی کیسے اجازت دی جا سکتی ہے کہ آدمی نبیوں اور ولیوں سے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے کہے، اور انکو حاجت روا کہہ کر پکارے !
]۱[۔جو حضرات کہتے ہیں کہ مردے نہیں سنتے ہیں
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
1۔ انک لا تسمع الموتی و لا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرین۔ (آیت ۰۸، سورت النمل ۷۲)
۔ترجمہ۔ یقینا تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ تم بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو، جب وہ پیٹھ پھیر کر چل کھڑے ہوں
2۔فانک لا تسمع الموتی و لا تسمع الصم الدعاء اذا ولوا مدبرین۔ (آیت۲۵، سورت الروم۰۳)
۔ترجمہ۔ اے پیغمبر! تم مردوں کو اپنی بات نہیں سنا سکتے، اور نہ تم بہروں کو اپنی پکار سنا سکتے ہو، جب وہ پیٹھ پھیر کر چل کھڑے ہوں۔
3۔و ما یستوی الاحیاء و لا الاموات ان اللہ یسمع من یشاء و ما انت بمسمع من فی القبور۔ ( آیت ۲۲، سورت فاطر ۵۳)
۔ ترجمہ۔ زندہ لوگ اور مردے برابر نہیں ہو سکتے، اور اللہ تو جسکو چاہتا ہے بات سنا دیتا ہے، اور تم ان کو بات نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہیں
ان 3آیتوں میں حضور ؐ سے یہ کہا کہ آپ مردے کو نہیں سنا سکتے، ہاں اللہ جس کو چاہے سنا سکتے ہیں
اس آیت، نمبر۲۲/۵۳سے ایک بزرگ نے یہ استدلال کیا ہے کہ ہم مردے کو نہیں سنا سکتے، ہاں اللہ جسکو چاہے سنا سکتے ہیں
حضرت عائشہ ؓ اسی بات کی قائل تھیں کہ مردے نہیں سنتے، اور حضور ؐ نے جو سنایا تھا وہ معجزہ کے طور پر صرف اسی وقت سنایا تھا، ہمیشہ نہیں سنا سکتا، اسی لئے اس حدیث میں، یسمع الآن، یعنی ابھی وہ سن رہے ہیں کا لفظ موجود ہے،چنانچہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ مردے نہیں سنتے ہیں، اور اس کے لئے (انک لا تسمع الموتی) والی آیت پڑھی۔
حدیث یہ ہے۔
1۔عن ابن عمر قال وقف النبی ﷺ علی قلیب بدر فقال ہل وجدتم ما وعد ربکم حقا؟ ثم قال انہم الآن یسمعون ما اقول، فذکر لعائشۃ فقالت انما قال النبی ﷺ انہم الآن لیعلمون ان الذی کنت اقول لہم ہوالحق، ثم قرأت (انک لا تسمع الموتی) (آیت ۰۸، سورت النمل۷۲) حتی قرأت الآیۃ۔ (بخاری شریف، کتاب المغازی، باب قتل ابی جہل، ص ۱۷۶، نمبر ۰۸۹۳/۱۸۹۳)
ترجمہ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ؐ بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے، اور کفار مکہ سے یہ کہا کہ تمہارے رب نے جو تم سے وعدہ کیا، کیو تم نے اس کو حق پایا؟پھر آپ نے ارشاد فرمایا کہ وہ ابھی میری بات سن رہے ہیں، اس کا تذکرہ حضرت عائشہ ؓ کے سامنے ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ، حضور ؐ نے فرمایا کہ ابھی جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ ابھی جانتے ہیں کہ میں جو کچھ کہہ رہا تھا وہ حق ہے۔ پھر حضرت عائشہ ؓ نے استدلال کے طور پر (انک لا تسمع الموتی)، والی آیت پڑھی جس میں ہے کہ آپ مردے کو نہیں سنا سکتے۔
اس حدیث میں حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ یہ نہیں ہے کہ مردے سنتے ہیں، بلکہ حضور ؐ نے یوں فرمایا کہ میں جو کچھ میں کہتا تھا،بدر کے کنویں والے ابھی یقین کر رہے ہیں کہ میں سچ کہتا تھا۔
اس کی تائیدحضرت قتادہ ؒ کی اس تاویل سے بھی ہوتی ہے۔
2۔عن ابی طلحہ ان نبی اللہ ﷺ امر یوم بدر۔۔۔ فقذفوا فی طوی من اطواء بدر۔۔۔فجعل ینادیھم باسمائھم و اسماء آباھم۔۔۔۔فقال عمر یا رسول اللہ ما تکلم من اجساد لا ارواح لھا، فقال رسول اللہ ﷺ و الذی نفس محمد بیدہ ما انتم بأسمع لما اقول منھم۔
قال قتادۃ أحیاھم اللہ حتی اسمعھم قولہ توبیخا و تصغیرا و نقمۃ و حسرۃ و ندما۔ (بخاری شریف، کتاب المغازی، باب قتل ابی جہل، ص ۱۷۶، نمبر ۶۷۹۳)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے جنگ بدر کے دن۔۔۔ کفار مکہ کے مردوں کو کنویں میں ڈلوا دیا۔۔۔ آپ ؐ نے اس کا اور اس کے باپ کا نام لیکر پکارا۔۔۔تو حضرت عمر ؓ فرمانے لگے جس جسم میں روح نہیں ہے، حضور آپ اس سے بات کر رہے ہیں؟تو آپ ؐ نے فرمایا کہ جس کے قبضے میں محمد ؐ کی جان ہے، جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو
حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ اللہ نے ان مردوں کو زندہ کیا تاکہ حضور ؐکی بات کو سن لے، ڈانٹنے کے طور پر، حقیر کرنے کے طور پر، سزا دینے کے طور پر، اور شرمندہ کرنے کے طور پر
حضرت قتادہ ؒ کی تاویل سے لگتا ہے کہ مردے توسنتے نہیں ہیں، لیکن کفار قریش کو اللہ نے زندہ کیا اور انکو شرمندہ کرنے کے لئے حضور ؐ کی بات کوسنایا، اس لئے یہ حضور ؐ کا ایک معجزہ ہے، عام حالات میں مردے نہیں سنتے۔
ان 3 آیت اور 2 حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مردے نہیں سنتے ہیں
]۲[۔جو لوگ کہتے ہیں کہ قبر والے سنتے ہیں
انکی دلیل یہ احادیث ہیں
3۔ان ابن عمر اخبرہ قال اطلع النبی ﷺ علی اہل القلیب فقال: وجدتم ما وعد ربکم حقا؟ فقیل لہ أتدعون أمواتا، فقال ما انتم باسمع منہم و لکن لا یجیبون۔ (بخاری شریف، باب ما جاء فی عذاب القبر، ص ۰۲۲، نمبر ۰۷۳۱)
ترجمہ۔ حضور ؐ بدر کے کنوں والوں کے پاس تشریف لائے اور کہا: تمہارے رب نے جوتم سے وعدہ کیا تھا، کیو تم نے اس کو حق پایا؟، آپ ؐ سے لوگوں نے پوچھا، کہ کیا آپ مردوں کو پکار طرہے ہیں؟تو آپ نے فرمایا کہ تم بھی اس سے زیادہ سننے والے نہیں ہو، لیکن وہ اب جواب نہیں دے سکتے۔
اس حدیث میں ہے کہ مردے سنتے ہیں۔
4۔عن انس ؓ عن النبی ﷺ قال العبد اذا وضع فی قبرہ و تولی و ذہب اصحابہ حتی انہ لیسمع قرع نعالہ اتاہ ملکان فأقعدانہ فیقولان لہ ما کنت تقول فی ہذا الرجل محمد ﷺ فیقول أشہد انہ عبداللہ و رسولہ۔ (بخاری شریف، باب المیت یسمع خفق النعال، ص ۳۱۲، نمبر ۸۳۳۱)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ بندہ جب قبر میں لٹایا جاتا ہے، اور اس کے ساتھی واپس آجاتے ہیں یہاں تک کہ جب مردہ جوتے کی آواز سنتا ہے تو اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، اور اس کو بیٹھاتے ہیں، اور پوچھتے ہیں کہ اس آدمی محمد ﷺ کے بارے میں تم کیا کہتے ہو، تو وہ جواب دیتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کا بندہ اور رسول ہیں۔
اس حدیث میں ہے کہ مردہ جوتے کی آواز سنتا ہے ،
5۔عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ ﷺ من صلی علی عند قبری وکل بھما ملک یبلغنی و کفی بھما امر دنیاہ و آخرتہ و کنت لہ شہیدا او شفیعا، ھذا اللفظ حدیث الاصمعی، و فی روایۃ الحنفی قال: عن النبی ﷺ قال من صلی علی عند قبری سمعتہ و من صلی علی نائیا ابلغتہ۔ (بیہقی]متوفی ۸۵۴[ فی شعب الایمان، باب فی تعظیم النبی ﷺ و اجلالہ و توقیرہ، ج ثانی، ص ۸۱۲، نمبر ۳۸۵۱)
ترجمہ۔ حضرت ابو ہریرۃ ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ؐ نے فرمایا، جو میری قبر کے پاس درود بھیجتا ہے تو اس پر اللہ فرشتے کو مقرر کرتے ہیں جو مجھے وہ درود پہنچا دے، اس کے لئے دنیا اور آخرت کی بھلائی کافی ہو جاتی ہے، اور میں اس کے لئے گواہ ہوں گا اور شفارسی ہوں گا،
حدیث کے یہ جملے حضرت اصمعی ؒسے منقول ہیں
، اور حضرت حنفی کی روایت میں یوں ہے۔حضور ؐ نے فرمایا۔کہ کوئی میری قبر کے پاس درود بھیجتا ہے تو میں اس کو سنتا ہوں، اور جو دور سے درود بھیجتا ہے تو وہ مجھکو پہنچا دیا جاتا ہے
اس حدیث میں ہے کہ میری قبر کے پاس درود بھیجے تو میں اس کو سنتا ہوں، اور دور سے درود بھیجے تو مجھے پہنچایا جاتا ہے۔
میں نے مکتبہ شاملہ سے بہت تلاش کی، کسی کتاب میں،عند قبری سمعتہ، کا لفظ نہیں ملا ، اور کئی محدثین نے اس کو ضعیف کہا ہے
]۳[۔جو لوگ کہتے ہیں کہ خود تو نہیں سنتے
، لیکن اللہ جتنا چاہے تو سنا دیتے ہیں
ان کے دلائل یہ ہیں
4۔ و ما یستوی الاحیاء و لا الاموات ان اللہ یسمع من یشاء و ما انت بمسمع من فی القبور۔ ( آیت ۲۲، سورت فاطر ۵۳)
۔ ترجمہ۔ زندہ لوگ اور مردے برابر نہیں ہو سکتے، اور اللہ تو جسکو چاہتا ہے بات سنا دیتا ہے، اور تم ان کو بات نہیں سنا سکتے جو قبروں میں پڑے ہیں
اس آیت میں ہے کہ قبروں میں جو لوگ ہیں ان کو اللہ چاہے تو سنا دیتے ہیں، حضور ؐ آپ نہیں سنا سکتے
6۔عن اوس ابن اوس قال قال النبی ﷺ ان من افضل ایامکم یوم الجمعۃ فاکثروا علی من الصلوۃ فیہ فان صلوتکم معروضۃ علی، قال فقالوا یا رسول اللہ!و کیف تعرض صلاتنا علیک و قد ارمت؟ قال یقولون بلیت۔ قال ان اللہ حرم علی الارض أجساد الانبیاء ﷺ۔(ابوداود شریف، باب فی الااستغفار، ص ۶۲۲، نمبر ۱۳۵۱/ ابن ماجۃ شریف، باب فی فضل الجمعۃ، ص ۲۵۱، نمبر ۵۸۰۱)
ترجمہ۔ آپ ؐ نے فرمایا کہ تمہارا سب سے اچھا دن جمعہ کا دن ہے، اس لئے اس دن مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجا کرو، اس لئے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ آپ تو بوسیدہ ہو چکے ہوں گے آپ پر ہمارا درود کیسے پیش کیا جائے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ شاید بلیت، کا لفظ کہا۔آپ ؐ نے فرمایا کہ اللہ نے زمین پر انبیاء کے جسم کو حرام کر دیا ] زمین انبیاء کے جسم کو نہیں کھا سکتی [
اس حدیث میں ہے کہ حضور ؐ پر درود شریف پیش کیا جاتا ہے، وہ دور سے نہیں سنتے، بلکہ سنایا جاتا ہے۔
7۔عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ لا تجعلوا بیوتکم قبورا و لا تجعلوا قبری عیدا و صلوا علی فان صلوتکم تبلغنی حیث کنتم۔ (ابو داود شریف، باب زیارۃ القبور، ص ۶۹۲، نمبر ۲۴۰۲)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ اپنے گھروں کو قبر کی طرح مت بناؤ، اور میری قبر کو عید کی طرح مت بناؤ، ہاں مجھ پر درود بھیجا کرو، اس لئے کہ تم کہیں بھی ہو تمہارا درود مجھ کو پہنچایا جاتا ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور براہ راست نہیں سنتے، بلکہ انکو سنایا جاتا ہے، اور ان پر درود پیش کیا جاتا ہے۔
ایک استاذ کی رائے
میرے ایک استاذ یہ فرماتے تھے کہ دونوں حدیثوں اور آیتوں کو ملانے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ مردہ خود تو نہیں سنتا، البتہ اللہ جس چیز کو سنانا چاہتا ہے، اس کو سنا دیا جاتا ہے۔ یہ اسلم طریقہ ہے، اور دونوں قسم کی آیتوں کو جامع ہے۔ و اللہ اعلم۔
اس عقیدے کے بارے میں 4 آیتیں اور 7 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: