اسلامیات

عقیدہ نمبر 7۔حضو ر ﷺ قبر میں زندہ ہیں

مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن

اور یہ زندگی دنیا سے بھی اعلی ہے
آپ کا جسم اطہر قبر میں بالکل محفوظ ہے
اس عقیدے کے بارے میں 11 آیتیں اور 20 حدیثیں ہیں آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
حضور ؐ قبر میں زندہ ہیں، اور یہ حیات برزخی ہے، یہ حیات دنیا سے بھی اعلی ہے، اور حضور کے جسم کو مٹی نے نہیں کھایا ہے، آپ کا جسم قبر میں بالکل محفوظ ہے
حضور ؐ قبر میں زندہ ہیں اس کی دلیل یہ احادیث ہیں
1۔عن ابی درداء قال قال رسول اللہ ﷺ اکثروا الصلاۃ علی یوم الجمعۃ فانہ مشہود تشہدہ الملائکۃو ان احدا لن یصلی علی الا عرضت علی صلاتہ حتی یفرغ منھا قال قلت بعد الموت؟قال و بعد الموت ان اللہ حرم علی الارض ان تأکل اجساد الانبیاء۔ فنبی اللہ حی یرزق۔ (ابن ماجۃ شریف، باب ذکر وفاتہ و دفنہ ﷺ ص ۴۳۲، نمبر ۷۳۶۱)
ترجمہ۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ جمعہ کے دن میرے اوپر کثرت کے ساتھ درود بھیجا کرو اس لئے کہ جمعہ کا دن حاضر ہونے کا دن ہے، اس دن فرشتے حاضر ہوتے ہیں،جو بھی آدمی درود بھیجتا ہے مجھ پر ضرور پیش کیا جاتا ہے جب تک کہ وہ درود شریف سے فارغ نہ ہو جائے، میں نے کہا کہ آپ کی موت کے بعد بھی درود پیش کیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں موت کے بعد درود پیش کیا جائے گا، اللہ نے زمین پر اس بات کو حرام کر دیا ہے کہ وہ نبیوں کے جسم کو کھائے، اللہ کے نبی زندہ رہتے ہیں، اور انکو روزی دی جاتی ہے۔
اس حدیث میں دو باتیں ہیں، ایک تو یہ کہ انبیاء کے جسم کو مٹی نہیں کھاتی ]۲[ دوسری یہ کہ نبی علیہ السلام قبر میں زندہ ہیں اور ان کوروزی دی جاتی ہے۔ ]۳[ اور تیسری بات یہ ہے کہ حضور ﷺ پر سلام پیش کیا جاتا ہے
2۔عن اوس ابن اوس قال قال النبی ﷺ…..فان صلوتکم معروضۃ علی، قال فقالوا یا رسول اللہ!و کیف تعرض صلاتنا علیک و قد ارمت؟ قال یقولون بلیت۔ قال ان اللہ حرم علی الارض أجساد الانبیاء ﷺ۔(ابوداود شریف، باب فی الااستغفار، ص ۶۲۲، نمبر ۱۳۵۱/ ابن ماجۃ شریف، باب فی فضل الجمعۃ، ص ۲۵۱، نمبر ۵۸۰۱)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے، لوگوں نے پوچھا کہ ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا؟ آپ تو بوسیدہ ہو چکے ہوں گے ] شاید راوی نے ارمت کی جگہ بلیت، کہا۔حضور ؐ نے فرمایا کہ اللہ نے زمین پرنبیوں کے جسموں کو حرام کر دیا کہ وہ کھائے۔
اس حدیث میں دو باتیں ہیں، ایک تو یہ کہ انبیاء پر درود شریف پیش کیا جاتا ہے، اور دوسری بات یہ ہے کہ زمین پر نبیوں کے جسم کو کھانا حرام کر دیا گیا ہے۔
3۔عن ابی ھریرۃ عن النبی ﷺ قال من صلی علی عند قبری سمعتہ و من صلی علی نائیا ابلغتہ۔ (بیہقی فی شعب الایمان، باب فی تعظیم النبی ﷺ و اجلالہ و توقیرہ، ج ثانی، ص ۸۱۲، نمبر ۳۸۵۱)۔ترجمہ۔ حضور پاک سے روایت ہے کہ جو میری قبر کے پاس درود بھیجتا ہے میں اس کو سنتا ہوں، اور جو دور سے درود بھیجتا ہے، مجھکو وہ درود پہنچا دیا جاتا ہے
اس حدیث میں ہے کہ میری قبر کے پاس درود بھیجے تو میں اس کو سنتا ہوں، اور دور سے درود بھیجے تو مجھے پہنچایا جاتا ہے۔
4۔قال قال رسول اللہ ﷺ حیاتی خیر لکم تحدثون و نحدث لکم، و وفاتی خیر لکم تعرض علی اعمالکم فما رأیت خیرا حمدت اللہ و ما رأیت من شر استغفرت اللہ لکم۔ (مسند البزار، باب زاذان عن عبد اللہ، ج ۵، ص ۸۰۳)
ترجمہ۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ میری زندگی تم لوگوں کے لئے بہتر ہے، کہ تم لوگ بات کرتے ہو اور میں تم لوگوں سے بات کرتا ہوں، اور میری وفات تمہارے لئے بہتر ہے، کہ تمہار ے اعمال مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں، جب میں اس میں کوئی اچھی بات دیکھتا ہوں تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں، اور جب بری بات نظر آتی ہے تو میں تمہارے لئے استغفار کرتا ہوں۔
اس حدیث میں ہے کہ حضور قبر میں زندہ ہیں اور آپ پر امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ اور یہ بھی پتہ چلا کہ حضور ﷺ حاضر ناظر نہیں ہیں ورنہ اعمال پیش کئے جانے کی ضرورت کیا ہے۔
۔اس حدیث میں بھی ہے کہ مجھے لوگوں کا سلام پہنچایا جاتا ہے۔
5۔عن عبد اللہ قال قال رسول اللہ ﷺ ان للہ ملائکۃ سیاحین فی الارض یبلغونی من امتی السلام۔ (نسائی شریف، کتاب السہو، باب التسلیم علی النبی ﷺ، ص ۹۷۱، نمبر ۳۸۲۱)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ زمین میں پھرنے والے اللہ کے فرشتے ہیں جو میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔

۔اس حدیث میں ہے کہ سلام کا جواب دینے کے لئے زندہ کیا جاتا ہے
6۔عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال ما من احد یسلم علی الا رد اللہ علی روحی حتی ارد علیہ السلام۔ (ابوداود شریف، باب زیارۃ القبور، ص ۵۹۲، نمبر ۱۴۰۲)
ترجمہ۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ جب بھی کوئی مجھے سلام کرتا ہے تو اللہ مجھ پر میری روح لوٹا دیتے ہیں تاکہ میں اس کے سلام کا جواب دے سکوں
اس حدیث میں ہے کہ مجھے زندہ کیا جاتا ہے۔
7۔عن انس بن مالک، ان رسول اللہ ﷺ قال أتیتُ و فی روایۃ ھداب۔ مررتُ۔ علی موسی لیلۃ أسری بی عند الکثیب الاحمر، و ھو قائم یصلی فی قبرہ۔ (مسلم شریف، باب من فضل موسی علیہ السلام، ص ۴۴۰۱، نمبر ۵۷۳۲/ ۷۵۱۶)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ میں آیا، اور حضرت ھداب کی روایت میں ہے کہ، معراج کی رات میں میں کثیب احمر کے پاس حضرت موسی ؑ کی قبر کے سامنے سے گزر ہوا، تو دیکھا کہ وہ اپنی قبر میں کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے۔
اس حدیث میں ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے، جس کا مطلب یہ ہو ا کہ وہ اپنی قبر میں زندہ ہیں۔
شہداء زندہ ہیں تو نبی کا درجہ ان سے بلند ہے اس لئے وہ بھی زندہ ہیں
1۔و لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات، بل احیاء و لکن لا تشعرون۔ (آیت ۴۵۱، نمبر البقرۃ ۲)۔ ترجمہ۔ جو اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں انکو مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، مگر تم کو ان کی زندگی کا احساس نہیں ہوتا۔
اس آیت میں یہ بھی ہے کہ شہید زندہ تو ہیں لیکن انکی زندگی کس طرح کی ہے، اس کا تم شعور نہیں کر سکتے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حیات برزخی ہے۔
چونکہ ہمیں قبر کی حیات کاشعور نہیں ہے، اس لئے بہت تحقیق میں نہیں پڑنا چاہئے
2۔ ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون o فرحین بما أتاھم اللہ من فضلہ و یستبشرون بالذین لم یلحقوا بھم من خلفھم الا خوف علیھم و لا ھم یحزنون o یستبشرون بنعمۃ من اللہ و فضل و ان اللہ لا یضیع اجر المؤمنین o (آیت ۹۶۱۔۱۷۱،سورۃ آل عمران ۳)
ترجمہ۔ اور اے پیغمبر جو اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں انہیں ہر گز مردہ نہ سمجھنا بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس روزی ملتی ہے، اللہ نے انکو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر خوش ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ شہادت میں شامل نہیں ہوئے، ان کے بارے میں اس بات پر خوشی مناتے ہیں کہ جب وہ ان سے آکر ملیں گے تو نہ انکو کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔
اس آیت میں ہے کہ شہداء زندہ ہیں اور رزق دئے جاتے ہیں تو انبیاء بدرجہ اولی قبر میں زندہ ہوں گے اور روزی دئے جاتے ہوں گے۔
8۔عن مسروق قال سألنا عبد اللہ ھو ابن مسعود عن ھذہ الآیۃ (ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون)(آیت ۹۶۱،آل عمران ۳،) قال اما انا قد سألنا عن ذالک فقال أرواحھم فی جوف طیر خضر لھا قنادیل معلقۃ بالعرش تسرح من الجنۃ حیث شائت ثم تأوی الی تلک القنادیل۔ (مسلم شریف، کتاب الامارۃ، باب بیان ان ارواح الشہداء فی الجنۃ و انھم احیاء عند ربھم یرزقون، ص ۵۴۸، نمبر ۷۸۸۱/ ۵۸۸۴)
ترجمہ۔ حضرت مسروق ؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے میں نے اس آیت کے بارے میں پوچھا (کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ مت سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزی ئے جاتے ہیں)، حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ میں نے اس آیت کے بارے میں حضور سے پوچھا تھا، تو حضور ؐ نے فرمایا تھا کہ شہداء کی روحیں سبز پرندے کے پیٹ میں ہوتے ہیں، عرش کے نیچے انکی قندیلیں لٹکی ہوتی ہیں، وہ جنت میں جہاں چاہتی ہیں چلی جاتی ہیں، پھر ان قندیلوں میں واپس آجاتی ہیں۔
چار چیزوں کے اعتبار سے حضورؐ دنیا میں بھی زندہ ہیں
رسول اللہ ﷺ کوظاہری موت واقع ہوئی ہے البتہ برزخی حیات ہے، جس میں نبی کو روزی دی جاتی ہے، البتہ تین چیزوں میں نبی کو دنیا میں بھی زندہ شمار کیا جاتا ہے۔ ]۱[ انکی بیوی کا نکاح نہیں ہو گا، کیونکہ نبی ابھی بھی زندہ ہیں۔]۲[ ان کی وراثت تقسیم نہیں ہو گی۔ ]۳[ مٹی اس کے جسم کو نہیں کھاتی ہے۔ ]۴[ اور حضور ؐ کی زندگی اتنی قوی ہے کہ آپ کے بعد اب کوئی نبی نہیں آئیں گے، آپ خاتم النبیین ہیں
عام لوگ بھی قبر میں زندہ کئے جاتے ہیں
عام لوگ بھی قبر میں زندہ ہیں، اور یہ حیات برزخی ہے، اس میں ان کو عذاب اور ثواب بھی ہوتا ہے
البتہ عام لوگوں میں اور انبیاء اور شہداء میں فرق یہ ہے کہ عام لوگوں کا جسم مٹی کھاجاتی ہے، وہ سڑ گل جاتا ہے، اور انبیاء اور شہداء کا جسم ویسے ہی زمین میں باقی رہتا ہے، جیسا دفن کے وقت تھا ، ان کو کھانا پینا دیا جاتا ہے، اور ان کی زندگی دنیا کی زندگی سے بہت اعلی ہے،
لیکن چونکہ آیت میں ہے، و لکن لا تشعرون۔ (آیت ۴۵۱سورت البقرۃ ۲) کہ تم کو اس کا شعور نہیں ہے،اس لئے اس بارے میں زیادہ بحث نہیں کرنی چاہئے، بس حدیث اور آیت میں جتنا ہے اسی پر اکتفا کرنا چاہئے
عام لوگ بھی قبر میں زندہ کئے جاتے ہیں اس کے لئے احادیث یہ ہیں
9۔عن ابی ایوب ؓ قال خرج النبی ﷺ و قد وجبت الشمس، فسمع صوتا فقال یہود یعذب فی قبورھا۔ (بخاری شریف، کتاب الجنائز، باب التعوذ من عذاب القبر، ص ۰۲۲، نمبر ۵۷۳۱) ترجمہ۔ حضور ؐ سورج کے غروب کے وقت نکلے تو کوئی آواز سنی، تو آپ نے فرمایا کہ یہود کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے
اس حدیث میں ہے کہ یہود کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ یہ حیات برزخی ہے۔
10۔حدثنی ابنۃ خالد بن سعید ابن العاصی انہا سمعت النبی ﷺ و ھو یتعوذ من عذاب القبر۔ (بخاری شریف، کتاب الجنائز، باب التعوذ من عذاب القبر، ص ۱۲۲، نمبر۶۷۳۱)
ترجمہ۔ خالد بن سعید فرماتے ہیں کہ میں نے حضور ؐ کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنا۔
اس حدیث میں ہے کہ حضور ؐ قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے، جس سے معلوم ہوا کہ یہ حیات برزخی ہے۔
قبر میں روح اور جسم دونوں کو عذاب، یا ثواب ہوتا ہے
اس کے لئے احادیث یہ ہیں
11۔عن البراء بن عازب قال خرجنا مع النبی ﷺ فی جنازۃ۔۔۔قال فتعاد روحہ فی جسدہ، فیاتیہ ملکان فیجلسان فیقولا لہ من ربک فیقول ربی اللہ۔۔۔تعاد روحہ و یاتیہ ملکان فیجلسانہ فیقولان من ربک؟ فیقول ہا ہا لا ادری۔(مسند احمد، حدیث البراء بن عاذب، ج ۵، ص ۴۶۳، نمبر ۳۶۰۸۱/ ابو داود شریف، باب المسألۃ فی القبر و عذاب القبر ۲۷۶، نمبر ۳۵۷۴)
ترجمہ۔ حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ ہم حضور ؐ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے۔۔۔آپ نے فرمایا کہ مردے کے جسم میں روح لوٹا دی جاتی ہے، پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، وہ دونوں فرشتے مردے کو بیٹھاتے ہیں، اور پوچھتے ہیں تمہارا رب کون ہے، وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے۔۔۔مردے کی روح لوٹائی جاتی ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اس کو بیٹھاتے ہیں، پھر پوچھتے ہیں تمہارا رب کون ہے، مردہ کہتا ہے، ہائے مجھے چھ پتہ نہیں ہے
اس حدیث میں ہے کہ قبر میں ہر آدمی کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے اور فرشتہ اس سے سوال کرتے ہیں، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جسم اور روح دونوں کو عذاب، یا ثواب ہوتا ہے، صرف روح یا صرف جسم کو نہیں۔
12۔عن عبد اللہ بن عمر ؓ ان رسول اللہ ﷺ قال ان احدکم اذا مات عرض علیہ مقعدہ بالغداۃ و العشی ان کان من اہل الجنۃ فمن اہل الجنۃ و ان کان من اہل النار فمن اہل النار فیقال ہذا مقعدک حتی یبعثک اللہ الی یوم القیامۃ۔ (بخاری شریف، کتاب الجنائز، باب المیت یعرض علیہ مقعدہ بالغداۃ و العشیء، ص ۱۲۲، نمبر ۹۷۳۱)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایک جب مرتا ہے تو صبح اور شام جنت میں اس کی رہنے کی جگہ پیش کی جاتی ہے، اگر وہ جنت والوں میں ہے تو جنت کی جگہ، اور اگر وہ جہنم والوں میں ہے تو جہنم کی جگہ پیش کی کی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ قیامت میں اٹھائے جانے تک تیری یہ جگہ ہے۔
اس حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ قبر میں زندہ ہے
13۔انہ سمع ابا سعید الخدری ؓ یقول قال رسول اللہ ﷺ اذا وضعت الجنازۃ فاحتملہا الرجال علی اعناقہم فان کانت صالحۃ قالت قدمونی قدمونی و ان کانت غیر صالحۃ قالت یا ویلہا این یذہبون بہا؟یسمع صوتہا کل شیء الا الانسان و لو سمعہا الانسان لصعق۔ (بخاری شریف، کتاب الجنائز، باب کلام المیت علی الجنازۃ، ص ۱۲۲، نمبر ۰۸۳۱)۔ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ جب جنازہ رکھا جاتا ہے، اور لوگ اس کو اپنے کندھے پر لیجا رہے ہوتے ہیں، تو اگر وہ نیک ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلدی لے چلو، اور اگر وہ گناہ گار ہے تو کہتا ہے ہائے افسوس تم کہاں لیجا رہے ہو، اس کی آواز انسان کے علاوہ سب سنتے ہیں، اور اگر انسان سن لے تو سب بیہوش ہو جائے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عام انسان بھی قبر میں زندہ کیا جاتا ہے، اور یہ حیات برزخی ہے، دنیاوی نہیں ہے۔
اس حدیث میں ہے کہ رشتہ داروں پر ہمارے اعمال پیش کئے جاتے ہیں
14۔سمع انس بن مالک یقول قال النبی ﷺ ان اعمالکم تعرض علی اقاربکم و عشائر کم من الاموات فان کان خیرا استبشروا بہ و ان کان غیر ذالک قالوا اللہم لا تمتھم حتی تہدیھم کما ھدیتنا۔ (مسند احمد، کتاب مسند انس بن مالک، ج ۳، ص ۳۴۶، نمبر ۲۷۲۲۱)
ترجمہ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے اعمال تمہارے مردے رشتہ داروں پر پیش کئے جاتے ہیں، اگر عمل اچھا ہوتا ہے تو اس سے انکو خوشی ہوتی ہے، اور اگر اعمال اچھے نہیں ہوتے، تو کہتے ہیں کہ اے اللہ جس طرح مجھے ہدایت دی اس کو بھی ہدایت دینے سے پہلے موت نہ دینا۔
ان 14 احادیث، اور 2 آیتوں سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ قبر میں زندہ ہیں، اور یہ بھی پتہ چلا کہ ان کا جسم بھی محفوظ ہے، ان کو مٹی نے نہیں کھایا ہے ۔
یہ حیات برزخی ہے، لیکن دنیا سے بہت اعلی ہے
یہ حیات برزخی ہے اس کی دلیل یہ آیتیں ہیں
3۔حتی اذا جاء احدہم الموت قال رب ارجعون، لعلی اعمل صالحا فیما ترکت کلا انہا کلمۃ ھو قائلھا و من وراۂم برزخ الی یوم یبعثون۔ (آیت ۰۰۱، سورت المومنون ۳۲)۔ترجمہ۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکر کھڑی ہوگی تو وہ یہ کہے گا کہ: میرے رب مجھے واپس بھیج دیجئے تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں جا کر نیک عمل کروں، ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہی بات ہے جو زبان سے کہہ رہا ہے، اور ا ن مرنے والوں کے سامنے عالم برزخ کی آڑ ہے جو اس وقت تک قائم رہے گی جب تک انکو دوبارہ زندہ کرکے نہ اٹھایا جائے
اس آیت میں ہے کہ مرنے والے برزخ میں ہوتے ہیں ، اور بداعمال لوگ دنیا میں واپس آنے کی گزارش کریں گے لیکن انکو یہاں آنے نہیں دیا جائے گا۔
4۔ وحاق بآل فرعون سوء العذاب النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا و یوم تقوم الساعۃ ادخلوا أل فرعون اشد العذاب۔ (آیت ۶۴، سورت غافر ۰۴)
ترجمہ۔ اور فرعون کے لوگوں کو بدترین عذاب نے آگھیرا، آگ ہے جس کے سامنے انہیں صبح شام پیش کیا جاتا ہے، اور جس دن قیامت آجائے گی اس دن حکم ہوگا کہ فرعون کے لوگوں کو سخت ترین عذاب میں داخل کردو۔
اس آیت میں ہے کہ عذاب کا معاملہ عالم برزخ میں ہو گا، اس لئے یہ حیات برزخی ہے۔
5۔ولو تری اذ الظالمون فی غمرات الموت و الملائکۃ باسطوا أیدیہم اخرجو انفسکم الیوم تجزون عذاب الہون بما کنتم تقولون علی اللہ غیر الحق۔ (آیت ۳۹، سورت الانعام ۶)
ترجمہ۔ اور اگر تم وہ وقت دیکھو تو بڑا ہولناک منظر نظر آئے گا جب ظالم لوگ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے کہہ رہے ہوں گے اپنی جانیں نکالو، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا، اس لئے کہ تم جھوٹی باتیں اللہ کے ذمے لگاتے تھے 6۔و من اہل المدینۃ مردوا علی النفاق لا تعلمہم سنعذبہم مرتین ثم یردون الی عذاب عظیم۔ (آیت ۱۰۱، سورت التوبۃ ۹)
ترجمہ۔ اور مدینے کے باشندوں میں بھی منافق ہیں، یہ لوگ منافقت میں اتنے ماہر ہو گئے ہیں کہ تم انہیں نہیں جانتے، انہیں ہم جانتے ہیں، ان کو ہم دو مرتبہ سزا دیں گے، ] ایک روح نکالتے وقت، اور دوسرا قبر میں [پھر ان کو ایک زبردست عذاب کی طرف دھکیل دیا جائے گا۔
7۔و یثبت اللہ الذین آمنوا بالقول الثابت فی الحیوۃ الدنیا و فی الآخرۃ و یضل اللہ الظلمین و یفعل ما یشاء۔ (آیت ۷۲، سورت ابراہیم ۴۱) ۔ترجمہ۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں اللہ ان کو اس مضبوط بات پر دنیا کی زندگی میں بھی جماؤ عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی ] یعنی قبر میں بھی [۔
8۔ان الابرار لفی نعیم، و ان الفجار لفی جحیم۔ (آیت ۳۱، سورت الانفطار۲۸)
ترجمہ۔ یقین رکھو کہ نیک لوگ بڑی نعمتوں میں ہوں گے، اور بدکار لوگ ضرور دوزخ میں ہوں گے۔
ان 6 آیتوں سے پتہ چلا کہ انسان کو قبر میں زندہ کیا جاتا ہے، پھر اس کو سزا دی جاتی ہے، یا نعمت دی جاتی ہے۔ اور پہلے 14 حدیثوں سے بھی یہی ثابت کیا گیا تھا۔
دنیوی اعتبار سے حضور ﷺ کا انتقال ہو چکا ہے
البتہ آپ ؐ قبر میں جسد اطہر کے ساتھ زندہ ہیں، جو دنیوی حیات سے بھی اعلی ہے
حضور ؐ کا دنیوی انتقال ہو چکا ہے، اس کی دلیل یہ آیت ہے
15۔ان عائشۃ ؓ اخبرتہ قالت اقبل ابو بکر…..فقال اما بعد فمن کان منکم یعبد محمدا ﷺ فان محمدا قد مات، و من کان یعبد اللہ فان اللہ حی لا یموت، قال اللہ تعالی۔ (و ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل أفاین مات او قتل أنقلبتم علی أعقابکم، و من ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا و سیجزی اللہ الشاکرین)آیت ۴۴۱، سورۃ آل عمران ۳) (بخاری شریف، باب الدخول علی المیت بعد الموت اذا أدرج فی اکفانہ، ص ۹۹۱، نمبر ۱۴۲۱ /ابن ماجۃ شریف، باب ذکر وفاتہ و دفنہ ﷺ، ص ۲۳۲، نمبر ۷۲۶۱)
ترجمہ۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں، کہ حضرت ابو بکر ؓ باہر سے تشریف لائے۔۔۔پھر فرمایا کہ اما بعد تم میں سے جو محمد ؐ کی عبادت کرتا ہو، تو محمد ﷺ کا انتقال ہو چکا ہے، اور جو اللہ کی عبادت کرتا ہو، تو اللہ زندہ ہے اس کو کبھی موت نہیں آئے گی، پھر آیت پڑھی (محمد ؐ ایک رسول ہی تو ہیں، ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، بھلا اگر ان کا انتقال، یا انہیں قتل کر دیا جائے تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤگے، اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا وہ اللہ کو ہر گز نقصان نہیں پہونچا سکتا، اور جو شکر گزار بندے ہیں اللہ ان کو ثواب دے گا)
اس حدیث میں اور آیت میں ہے کہ حضور ﷺ کا انتقال ہو چکا ہے۔ حضرت ابو بکر ؓ نے بھی اسی انداز میں لوگوں کو خطاب کیا
9۔انک میت و انہم میتون(آیت ۰۳، سورۃ الزمر ۹۳)
ترجمہ۔ ائے پیغمبر موت تمہیں بھی آنی ہے اور موت انہیں بھی آنی ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالی حضور ؐ سے فرماتے ہیں کہ آپ کا بھی انتقال ہو جائے گا، اور وہ کفار بھی مریں گے۔
10۔ثم انکم بعد ذالک لمیتون۔(آیت ۵۱، سورۃ المومنون ۳۲)
ترجمہ۔ پھر اس سب کے بعد تمہیں یقینا موت آنے والی ہے۔
16۔عن جابر بن عبد اللہ ؓ قال لما مات النبی ﷺ جاء ابا بکر مال من قبل العلاء الحضرمی۔ (بخاری شریف، کتاب الشہادات، باب، ص ۷۳۴، نمبر ۳۸۶۲)
ترجمہ۔ جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں جب حضور ؐ کا انتقال ہوا تو علا حضرمی ؓ کی جانب سے حضرت ابو بکرؓ کے پاس مال آیا۔
17۔عن عائشۃ قالت مات النبی ﷺ انہ لبین حاقنتی و ذاقنتی۔(بخاری شریف، کتاب المغازی، باب مرض النبی و وفاتہ ، ص۵۵۷، نمبر۶۴۴۴)
ترجمہ۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا جب حضور ؐ کا انتقال ہوا تو وہ میرے ہنسلی اور تھوڑی کے درمیان تھے
ان دونوں حدیثوں میں ہے، مات النبی ﷺ، یعنی حضور ؐ کا انتقال ہو گیا۔
ان 2 آیتوں اور 3 حدیثوں سے ثابت ہوا کہ دنیوی اعتبار سے آپ کا انتقال ہو چکا ہے
یوں بھی ظاہری طور پر حضور کا انتقال ہو گیا ہے، اسی لئے تو آپ ؐکو دفن کیا گیا، اگر وہ دنیا میں ہوتے تو دفن نہیں کیا جاتا۔
کچھ حضرات نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ
مومن کی روح دنیا میں بھی پھر تی ہے
ان کا استدلال اس قول صحابی سے ہے۔
18۔ عن عبد اللہ بن عمر و ]بن العاص[ قال الدنیا سجن المومن و جنۃ الکافر، فاذا مات المومن یخلی بہ یسرح حیث شاء ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، باب کلام عبد اللہ بن عمر، ج ۷،ص ۷۵ نمبر ۵۷۶۲)
ترجمہ۔ حضرت عمر بن العاص نے فرمایا کہ دنیا مومن کی قید ہے، اور کافر کی جنت ہے، پس جب مومن مرتا ہے تو وہ آزاد ہو جاتا ہے اور جہاں چاہتا ہے گھومتا ہے
اس قول صحابی میں ہے کہ یسرح حیث شاء، کہ جہاں چاہتے ہیں وہ جاتے ہیں، جس سے انہوں نے استدلال کیا کہ وہ دنیا میں بھی ادھر ادھر جاتے ہیں۔
لیکن اس میں تین کمزوریاں ہیں۔
]۱[۔۔ یہ صحابی کا قول ہے، یہ حدیث نہیں ہے، اس لئے اس سے اعتقاد ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
]۲[۔۔ اس میں، الدنیا سجن المومن، کا جملہ ہے، اسلئے دنیا جب قید خانہ ہے تو وہ یہاں آکر پھر قید خانہ میں کیوں آئیں گے اس لئے حیث شاء کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ وہ دنیا میں پھرتے ہیں، بلکہ مطلب یہ ہو گا کہ وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں پھرتے ہیں۔ کیونکہ اس قول صحابی میں دنیا کی تصریح نہیں ہے ]۳[۔۔ایک دوسری حدیث میں حضرت جعفر شہید ؓکے بارے میں اس کی صراحت ہے کہ وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں اڑ کر چلے جاتے ہیں۔ اس لئے اس قول صحابی سے روح کے دنیا میں پھرنے کا ثبوت نہیں ہو گا
جنت میں جہاں چاہتے ہیں گھومتے ہیں اس کے لئے حدیث یہ ہے۔
19۔عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ رأیت جعفرا یطیر فی الجنۃ مع الملائکۃ۔ (ترمذی شریف، کتاب المناقب، باب مناقب جعفر بن طالب، ص ۵۵۸، نمبر ۳۶۷۲)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ میں نے جعفر ؓ کو دیکھا کہ فرشتوں کے ساتھ جنت میں اُڑ رہے ہیں
اس حدیث میں ہے کہ حضرت جعفر ؓ جنت میں جہاں چاہتے ہیں پھرتے ہیں۔ اسلئے عبد اللہ بن عمر کے قول کا مطلب بھی یہی ہوگا کہ مومن موت کے بعد جنت میں پھرتے ہیں، دنیا میں پھرنا ثابت نہیں ہو گا
20۔عن مسروق قال سألنا عبد اللہ ھو ابن مسعود عن ھذہ الآیۃ (ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون)(آل عمران، ۹۶۱) قال اما انا قد سألنا عن ذالک فقال أرواحھم فی جوف طیر خضر لھا قنادیل معلقۃ بالعرش تسرح من الجنۃ حیث شائت ثم تأوی الی تلک القنادیل۔ (مسلم شریف، کتاب الامارۃ، باب بیان ان ارواح الشہداء فی الجنۃ و انھم احیاء عند ربھم یرزقون، ص ۵۴۸، نمبر ۷۸۸۱/ ۵۸۸۴)
ترجمہ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے میں نے اس آیت کے بارے میں پوچھا (کہ جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوتے ہیں ان کو مردہ ت سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس روزی ئے جاتے ہیں)، حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا کہ میں نے اس آیت کے بارے میں حضور سے پوچھا تھا، تو حضور ؐ نے فرمایا تھا کہ شہداء کی روحیں سبز پرندے کے پیٹ میں ہوتے ہیں، عرش کے نیچے انکی قندیلیں لٹکی ہوتی ہیں، وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں چلے جاتے ہیں، پھر ان قندیلوں میں واپس آجاتے ہیں
اس حدیث میں بھی ہے کہ جنت میں جدھر چاہتے ہیں چلے جاتے ہیں، دنیا میں ادھر ادھر پھرنے کا ثبوت نہیں ہو گا
دوزخی دنیا میں آنے کی گزارش بھی کریں گے تو اس کو یہاں نہیں آنے دیا جائے گا
اس آیت میں ہے کہ برزخی لوگ دنیا میں واپس آنے کی گزارش کریں گے تب بھی اس کو دنیا میں واپس نہیں آنے دیا جائے گا، تو یہ روحیں دنیا میں کیسے بھٹکنے لگی
آیت یہ ہے۔
11۔حتی اذا جاء احدہم الموت قال رب ارجعون، لعلی اعمل صالحا فیما ترکت کلا انہا کلمۃ ھو قائلھا و من وراۂم برزخ الی یوم یبعثون۔ (آیت ۰۰۱، سورت المومنون ۳۲)
ترجمہ۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکر کھڑی ہوگی تو وہ یہ کہے گا کہ: میرے رب مجھے واپس بھیج دیجئے تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں اس میں جا کر نیک عمل کروں، ہر گز نہیں یہ تو ایک بات ہی بات ہے جو زبان سے کہہ رہا ہے، اور ا ن مرنے والوں کے سامنے عالم برزخ کی آڑ ہے جو اس وقت تک قائم رہے گی جب تک انکو دوبارہ زندہ کرکے نہ اٹھایا جائے
اس آیت میں ہے کہ دوزخی دنیا میں آنے کی درخواست بھی کریں گے تو انکو آنے کی اجازت نہیں ہو گی تو پھر ان مردوں کی روحیں کیسے دنیا میں آکر گھومے گی، اور صدقات مانگے گی۔
ان 2 آیتیں اور ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روحیں جنت میں ادھر ادھر پھرتی ہیں، دنیا میں نہیں
اس عقیدے کے بارے میں 11 آیتیں اور 20 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
ہندؤوں کا عقیدہ ہے کہ اس کی دیوی، دیوتا جدھر چاہتے ہیں
دنیا میں گھومتے رہتے ہیں
ہندؤوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کی دیوی، دیوتا کی روحیں دنیا میں گھو متی رہتی ہیں
وہ مورتی کے اندر آتی ہیں اور اپنے مانگنے والوں کی ضرورتوں کو سنتی ہیں، اور اس کی مدد کرتی ہیں
انکے یہاں مختلف دیوی ہیں جو مختلف مندروں میں اور مختلف پہاڑوں پر بسیراکرتی ہیں، اس لئے اپنے ماننے والوں کو ترغیب دی جاتی ہے کہ اس پہاڑ کی یاترا]زیارت کریں [ اور اس کا درشن کریں ] اس کا دیدار کریں [، لوگ ان دیویوں کی محبت میں اس کی زیارت کرنے جوق در جوق جاتے ہیں، اور وہاں سجدہ کرتے ہیں، پوجا کرتے ہیں اور ان سے اپنی اپنی حاجتیں مانگتے ہیں
اس نکتہ پر غور فرمائیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: