اسلامیات

عقیدہ نمبر 8 ۔حاضر ناظر

مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن

عقیدہ نمبر 8 ۔حاضر ناظر
حضور ﷺہر جگہ حاضر نہیں ہیں
اس عقیدے کے بارے میں 34 آیتیں اور 13 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
حاضر کی تین قسمیں ہیں
]۱[ زندگی میں حضور ؐ بہت سی جگہ پر حاضر تھے۔
]۲[ آخرت میں بہت سی جگہ پر حاضر ہوں گے
]۳[ لیکن حضور ؐ ہر جگہ حاضر ہوں، اور ہر چیز کو دیکھ رہے ہوں، مثلا آج زید موجود ہے، انکی تمام حالتوں کو حضور دیکھ رہے ہوں، اور زید کے پاس موجود بھی ہوں، یہ صفت صرف اللہ کی ہے، رسول میں یہ صفت نہیں ہے۔
ہر جگہ حاضر رہنا، اور ہر چیز کو ہر وقت دیکھے رہنا
صرف اللہ کی صفت ہے
اللہ علم کے اعتبار سے ہر جگہ حاضر ہیں
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں۔
1۔ھو معکم اینما کنتم و اللہ بما تعملون بصیر۔ (آیت ۴، سورت الحدید ۷۵)
ترجمہ۔ تم جہاں بھی اللہ تمہارے ساتھ ہے، تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس کو خوب دیکھ رہا ہے
2۔و لا ادنی من ذالک و لا اکثر الا ھو معہم این ما کانوا۔(آیت ۷، المجادلۃ ۸۵)
ترجمہ۔ اس سے کم ہوں یا زیادہ وہ جہاں بھی ہوں اللہ انکے ساتھ ہوتا ہے
3۔اذ یقول لصاحبہ لا تحزن ان اللہ معنا۔ (آیت ۰۴، سورت التوبۃ ۹)
ترجمہ۔ جب حضور ؐ اپنے ساتھی حضرت ابو بکرؓ سے کہہ رہے تھے، غم مت کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہیں
4۔ فلا تہنوا و تدعوا الی السلم و انتم الاعلون و اللہ معکم۔ (آیت ۵۳, محمد ۷۴)
ترجمہ۔ ائے مسلمانوں تم کمزور پڑ کر صلح کی دعوت نہ دو،تم ہی سربلند رہو گے،اللہ تمہارے ساتھ ہے
5۔و اذا سألک عبادی فانی قریب۔ (آیت ۶۸۱، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ اے حضور ؐ جب آپ سے میرا بندہ پوچھتا ہے، تو کہہ دو کہ میں بہت قریب ہوں
6۔و نعلم ما توسوس بہ نفسہ ونحن اقرب الیہ من حبل الورید۔ (آیت ۶۱، قٓ ۰۵)
انسان کے دل میں جو خیالات آتے ہیں انکو بھی جانتا ہوں اور ان کے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں
ان 6 آیتوں میں ہے کہ اللہ ہر جگہ تمہارے ساتھ ہے، اس لئے حاضر ناظر کی صفت صرف اللہ کی ہے
اللہ ہر چیز کو اور ہر بندے کی حالت کودیکھنے والے ہیں
یعنی اللہ ناظر ہے
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
7۔و اللہ بصیر بالعباد۔ (آیت ۵۱، سورت آل عمران ۳)
8۔و اللہ بصیر بالعباد۔ (آیت ۰۲، سورت آل عمران ۳)
ترجمہ۔ اور تمام بندوں کو اللہ اچھی طرح دیکھ رہا ہے
9۔ان اللہ بما تعملون بصیر۔ (آیت ۳۳۲، سورت البقرۃ ۲)
10۔ان اللہ بما تعملون بصیر۔ (آیت۷۳۲، سورت البقرۃ ۲)
11۔ان اللہ بما تعملون بصیر۔ (آیت ۵۶۲، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ اور یقینا جان لو کہ اللہ تمہارے سارے کاموں کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے
12۔ و اللہ بما تعملون بصیر ۔ (آیت۶۵۱، سورت آل عمران ۳)
13۔و اللہ بما تعملون بصیر ۔ (آیت۳۶۱، سورت آل عمران ۳)
14۔و اللہ بما یعملون بصیر ۔ (آیت۹۳، سورت الانفال ۸)
ترجمہ۔ اور تم جو بھی عمل کرتے ہو اللہ اسے خوب اچھی طرح دیکھتا ہے
ان 8 آیتوں میں ہے کہ اللہ ہر چیز کو دیکھنے والا ہے، یعنی وہ ناظر ہے
اس لئے حاضر ناظر کی صفت صرف اللہ کی ہے۔
نوٹ: دیکھنے کی کیفیت اور حاضر کی کیفیت کیا ہے یہ اللہ ہی جانے، یہ اسی کی شان کے مناسب ہے
ان آیتوں میں ہے کہ حضور ؐ ان جگہوں پر حاضر نہیں تھے۔
ان آیتوں میں ہے کہ دنیا میں فلاں فلاں جگہ پر حاضر نہیں تھے، اس آیت میں شاہد کا لفظ استعمال ہوا ہے، اور آخرت میں بھی آپ کہیں گے میں فلاں جگہ حاضر نہیں تھا، تو ان 5 آیتوں کے ہوتے ہوئے اور ۶ حدیثوں کے ہوتے ہوئے یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ حضور حاضر ناظر ہیں ؟
، ان آیتوں پر غور کریں
آیتیں یہ ہیں
15۔و ما کنت بجانب الغربی اذ قضینا الی موسی الامر و ما کنت من الشاہدین۔ (آیت ۴۴، سورت قصص ۸۲)
ترجمہ۔ آے پیغمبر آپ اس وقت کوہ طور کی مغربی جانب حاضرنہیں تھے جب ہم نے موسی کو احکام سپرد کئے تھے، اور آپ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اس کو دیکھ رہے تھے۔
16۔و ما کنت بجانب الطور اذنا دینا۔ (آیت ۶۴، قصص ۸۲)
ترجمہ۔ اور آپ اس وقت طور کے کنارے نہیں تھے جب ہم نے موسی کو پکارا تھا،
17۔ و ما کنت لدیہم اذیلقون اقلامہم ایہم یکفل مریم و ما کنت لدیہم اذ یختصمون۔ (آیت ۴۴، سورت آل عمران ۳)
۔ترجمہ۔ آپ اس وقت ان کے پاس نہیں تھے جب وہ یہ طے کرنے کے لئے اپنے اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے گا، اورنہ اس وقت تم ان کے پاس تھے جب وہ اس مسئلے میں ایک دوسرے سے اختلاف کر رہے تھے۔
18۔و ما کنت لدیہم اذ اجمعوا امرہم و ہم یمکرون۔ (آیت ۲۰۱، سورت یوسف۲۱)
ترجمہ۔ اور آپ اس وقت یوسف کے بھائیوں کے پاس موجود نہیں تھے جب انہوں نے سازش کرکے اپنا فیصلہ پختہ کر لیا تھا۔
19۔و کنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم و انت علی کل شیء شہید (آیت ۷۱۱، سورت المائدۃ ۵)۔
ترجمہ۔ اور جب تک میں انکے درمیان موجود رہا میں انکے حالات سے واقف رہا، پھر جب آپ نے مجھے وفات دے دی ا تو آپ خود انکے نگراں تھے، اور آپ ہر چیز کے گواہ ہیں۔
نوٹ: یہ آیت اگر چہ حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں ہے، لیکن ایک حدیث میں حضور نے بھی لا علمی ظاہر کی ہے، اور اسی آیت کو پڑھی ہے، اس لئے یہ آیت حضور ؐ کے بارے میں بھی ہو گئی۔وہ حدیث علم غیب کی بحث میں آئے گی۔
ان 5 آیتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ان جگہوں پر حاضر نہیں تھے بلکہ آپ آخرت میں بھی اقرار کریں گے کہ میں مرنے کے بعد ان امتوں کے پاس حاضر نہیں رہا تو آپ ہر جگہ حاضر ناظر کیسے ہو گئے۔
نوٹ: یہ مسئلہ عقیدے کا ہے، اس لئے حضور ؐ کو حاضر ناظر ثابت کرنے کے لئے کوئی صریح آیت، یا کوئی پکی حدیث لانی ہوگی، جس سے صراحت کے ساتھ یہ ثابت ہوتا ہو کہ آپ ہر جگہ حاضر ناظر ہیں، یا قبر میں رہ کر بھی حاضر ناظر ہیں، صرف خواب کی باتوں، یا لفظی بحثوں، یا برزرگوں کی باتوں سے عقیدہ ثابت نہیں ہوتا، یہ مسلمہ قاعدہ ہے۔
احادیث میں ہے کہ حضور ﷺ وہاں حاضر نہیں تھے
ان احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپ اپنی زندگی میں بھی بہت سی جگہ پر حاضر نہیں تھے، اور قیامت میں بھی اس کا اظہار کریں گے، کہ میں انتقال کے بعد میں اپنی قوم میں موجود نہیں رہا، اور انکے احوال بھی مجھے معلوم نہیں ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور حاضر ناظر نہیں ہے، ہاں جو بات آپ کو بتا دی گئی وہ آپ کو معلوم ہیں۔ اور جو باتیں حضور ؐ بتائی گئی ہیں وہ اولین اور آخرین سے زیادہ ہیں
۔ حدیث معراج میں یہ بھی ہے کہ اللہ نے بیت المقدس کو حضور ؐ کے سامنے کر دیا جس کی وجہ سے اس کو دیکھ کر قریش کوجواب دیتے رہے، جس سے معلوم ہوا کہ آپ حاضر ناظر نہیں ہیں، اگر آپ حاضر اور ناظر ہوتے تو بیت المقدس کو آپ کے سامنے حاضر کرنے کی ضرورت کیا ہے، آپ تو بیت المقدس کے پاس موجود ہی ہیں، اور آپ اس کو دیکھ بھی رہے ہیں
1۔حدیث یہ ہے۔سمعت جابر بن عبد اللہ ؓ انہ سمع رسول اللہ ﷺ یقول لما کذبنی قریش قمت فی الحجر فجلی اللہ لی بیت المقدس فطفقت اخبرہم عن آیاتہ و انا انظر الیہ۔ ( بخاری شریف، کتاب مناقب الانصار، باب حدیث الاسراء ، ص ۲۵۶، نمبر ۶۸۸۳)
ترجمہ۔ حضرت جابر بن عبد اللہ نے حضور ؐ سے سنا، وہ فرمایا کرتے تھے کہ جب قریش نے مجھے معراج کے موقع پر جھٹلایا تو میں حطیم میں کھڑا ہوا، اللہ نے میرے لئے بیت المقدس واضح کر دیا، میں اس کو دیکھتا رہا اور انکی نشانیوں کے بارے میں قریش کو بتا تا رہا۔
حضور ؐ کی بیوی حضرت عائشہ ؓ پرمنافقین نے تہمت لگائی، جس کی وجہ سے تقریبا ایک ماہ تک حضور ؐ پریشان رہے، پھر حضرت عائشہ ؓ کی برأت میں سورہ نور کی آیتیں نازل ہوئیں تب حضور ؐ کو اطمینان ہوا۔ اگر حضور ؐ حاضر ناظر تھے تو ایک ماہ تک پریشان ہونے کی ضرورت کیا تھی، آپ کو معلوم ہوجانا تھا کہ حضرت عائشہ بری ہیں۔ اس کے لئے حدیث یہ ہے۔
2۔عتبہ بن مسعود عن عائشہ ؓ رضی اللہ عنہا زوج النبی ﷺ حین قال لہا اہل الافک ما قالوا…..و قد لبث شہرا لا یوحی الیہ فی شانی بشیء قالت فتشہد رسول اللہ ﷺ حین جلس ثم قال اما بعد یا عائشۃ انہ بلغنی عنک کذا کذا فان کنت بریءۃ فسیبرئک اللہ و ان کنت الممت بذنب فاستغفری اللہ و توبی الیہ….. و انزل اللہ تعالی(ان الذین جاؤ بالافک عصبۃ منکم ]آیت ۱۱، سورت النور ۸۱) (بخاری شریف، کتاب المغازی، باب حدیث الافک، ص ۱۰۷، نمبر ۱۴۱۴/ مسلم شریف، کتاب التوبۃ، باب فی حدیث الافک و قبول التوبۃ، ص ۵۰۲۱، نمبر ۰۷۷۲/ ۰۲۰۷)
ترجمہ۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ، تہمت لگانے والوں جو کچھ ان سے کہا۔۔۔حضور ؐ ایک مہینے تک ٹھہرے رہے میرے بارے میں کوئی وحی نہیں آئی، پھر فرماتی ہیں جب حضور ؐ بیٹھے تو انہوں نے تشہد پڑھی، پھر کہا اما بعد، آے عائشہ تمہارے بارے میں مجھے یہ یہ باتیں پہنچی ہیں، اگر تم بری ہو تو اللہ تمہیں بری کر دیں گے، اور اگر تم نے گناہ کا ارتکاب کیا ہے تو اللہ سے استغفار کرو اور توبہ کرو۔۔۔پھر اللہ تعالی نے میرے بارے میں یہ آیت اتاری (جن لوگوں نے تہمت لگائی وہ چھوٹی سی جماعت ہے۔الخ
آپ حاضر ناظر تھے تو آپ کو اپنی چہیتی بیوی حضرت عائشہؓ کی برائت کا علم کیوں نہیں ہو گیا۔
ان احادیث میں بھی ہے کہ مجھے لوگوں کا سلام پہنچایا جاتا ہے۔ اگر پوری کائنات آپکے سامنے ہے اور آپ حاضر ناظر ہیں توسلام پہنچانے کی ضرورت کیا ہے، آپ کے تو سامنے ہی سلام ہو رہا ہے
3۔عن عبد اللہ قال قال رسول اللہ ﷺ ان للہ ملائکۃ سیاحین فی الارض یبلغونی من امتی السلام۔ (نسائی شریف، کتاب السہو، باب التسلیم علی النبی ﷺ، ص ۹۷۱، نمبر ۳۸۲۱)
ترجمہ۔ اللہ کے لئے زمین میں پھرنے والے فرشتے ہیں جو میری امت کا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔
4۔قال قال رسول اللہ ﷺ حیاتی خیر لکم تحدثون و نحدث لکم، و وفاتی خیر لکم تعرض علی اعمالکم فما رأیت خیرا حمدت اللہ و ما رأیت من شر استغفرت اللہ لکم۔ (مسند البزار، باب زاذان عن عبد اللہ، ج ۵، ص ۸۰۳)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا میری زندگی تمہارے لئے بہتر ہے، تم لوگ مجھ سے باتیں کرتے ہو، میں تم لوگوں سے باتیں کر لیتا ہوں ] اور حدیث بن جاتی ہے [ اور میری وفات بھی تمہارے لئے بہتر ہے، تمہارے اعمال مجھ پر پیش کئے جائیں گے، اگر میں ان میں اچھی بات دیکھوں گا تو اللہ کی حمد کروں گا، اور کوئی بری بات دیکھوں گا، تو میں تمہارے لئے استغفار کروں گا
ان احادیث سے پتہ چلا کہ]۱[۔۔ حضور قبر میں زندہ ہیں ]۲[۔۔ اور ان پر امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں۔ ]۳[۔۔ اور یہ بھی پتہ چلا کہ حضور حاضر ناظر نہیں ہیں اور نہ پوری کائنات آپ کے سامنے ہے ورنہ اعمال پیش کئے جانے کی ضرورت کیا ہے۔
آپ حاضر ناظر نہیں ہیں۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔
5۔عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ لا تجعلوا بیوتکم قبورا، و لا تجعلوا قبری عیدا، و صلوا علی فان صلاتکم تبلغنی حیث کنتم۔ (ابو داود شریف، کتاب المناسک، باب زیارۃ القبور، ص۶۹۲، نمبر ۲۴۰۲)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ اپنے گھروں کو قبر کی طرح مت بناؤ ] کہ اس میں کوئی عبادت ہی نہ کرو [ اور میری قبر کو عید منانے کی طرح مت بنا ؤ، اور مجھ پر درود بھیجا کرو، تم جہاں بھی ہو مجھ پر تمہارا درود پہنچایا جاتا ہے۔
ان احادیث میں ہے کہ تم جہاں بھی ہو مجھے تمہارا سلام پہنچایا جاتا ہے۔۔اگر حضور حاضر ناظر ہیں تو فرشتوں کو سلام پہنچانے کی کیا ضررورت ہے

اس حدیث میں ہے کہ قیامت میں بھی آپ حاضر ناظر نہیں ہوں گے ورنہ غیر صحابی کو بھی صحابی کیسے سمجھ لیں گے،
6۔ عن ابن عباس…..الا و انہ یجاء برجال من امتی فیوخذ بہم ذات الشمال فاقول یا رب أصیحابی فیقال انک لا تدری ما احدثوا بعدک فاقول کما قال العبد الصالح(و کنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم)فیقال ان ہولاء لم یزالوا مرتدین علی اعقابہم منذ فارقتہم۔ (بخاری شریف، کتاب التفسیر، باب و کنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم۔ ص ۱۹۷، نمبر ۵۲۶۴/ مسلم شریف، کتاب الفضائل، باب اثبات حوض نبینا ﷺ وصفاتہ، ص ۸۱۰۱، نمبر ۴۰۳۲/ ۶۹۹۵)
ترجمہ۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔۔۔ قیامت میں حضور ؐ کی امتی کے کچھ لوگ لائے جائیں گے جنکی بد اعمالیاں انکو پکڑ چکی ہوں گی، حضور ﷺ کہیں گے میرے رب یہ میرے صحابی ہیں، تو آپ کو کہا جائے گا، آپ کو معلوم نہیں ہے کہ آپ کی وفات کے بعد انہوں نے کیا کام کیا ہے ] یعنی یہ مرتد ہو چکے تھے [، تو حضور کہتے ہیں کہ میں وہی بات کہوں جو ایک نیک بندے ] حضرت عیسی ؑ [نے کہا تھا،کہ جب تک میں انکے درمیان رہا تو میں ان کا گواہ رہا، اور جب آپ نے مجھے وفات دی تو آپ ہی انکے نگراں ہیں۔۔فرشتے حضور ؐ کو اطلاع دیں گے کہ جب آپ ؐان لوگوں سے جدا ہوئے تھے تو یہ لوگ مرتد ہو گئے تھے
ا گر آپ حاضر ناظر ہوتے تو آپ کیوں نہ جان لیتے کہ یہ آدمی میرا صحابی نہیں رہا۔
ان 6 حدیثوں سے معلوم ہوا کہ آپ حاضر ناظر نہیں ہیں، اور نہ پوری کائنات کو آ پ کے سامنے کر دی گئی ہے کہ آپ ساری چیزوں کو دیکھ لیں، ہاں آپ قبر میں اپنے جسم اطہر کے ساتھ زندہ ہیں، اور جو لوگ آپ پر سلام اور درود پیش کرتے ہیں، فرشتے اس کو آپ تک پہنچا دیتے ہیں، حدیث سے یہی ثابت ہے
اور جب تک آیت، یا پکی حدیث سے حاظر ناظر ثابت نہ ہو، یہ عقیدے کا مسئلہ ہے اس لئے خواب کی باتوں، یا لوگوں کے اقوال سے اتنے بڑے معاملے کو ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے
قیامت میں گواہی دینے کے لئے امت کا، یا نبی ؑکا
حاضر ناظر ہونا ضروری نہیں ہے
آگے تین آیتیں پیش کی جا رہی ہیں، اور عبد اللہ بن عباس کی تفسیر کے اعتبار سے تینوں آیتوں میں شاہدا، کا ترجمہ یہ ہے کہ آپ ﷺ قیامت میں یہ گواہی دیں گے، کہ میں نے اپنی امت پر رسالت پہنچا دی ہے، اور دوسری امت پر بھی گواہی دیں گے کہ انکے نبیوں نے اپنی اپنی امتوں پر رسالت پہنچا دی ہیں،
اس لئے شاہدا کا ترجمہ گواہی دینے کا ہے، حاضر ناظر کا نہیں ہے
یہ اشکال کہ گواہی دینے کے لئے امت کی حالتوں کو دیکھنا ضروری ہے، تب ہی تو حالات کو دیکھ کر گواہی دی جا سکے گی، اس لئے حضور ؐ کو تمام حالات کی خبر ہے، یہ اشکال صحیح نہیں ہے، بلکہ قرآن نے یہ بتایا ہے کہ تمام نبیوں نے اپنی اپنی امت کو رسالت پہنچا دی ہے، اللہ کی اسی خبر پر اعتماد کرکے حضور ؐ بھی گواہی دیں گے، اور حضور ﷺ نے اپنی امت کو بتایا ہے کہ تمام رسولوں نے اپنی اپنی امت کو رسالت پہنچا دی ہے اس لئے اسی پر اعتماد کرتے ہوئے امت محمدیہ بھی گواہی دے گی کہ تمام رسولوں نے اپنی اپنی امت کو رسالت پہنچا دی ہے، اس میں نہ حضور کا حاضر ہونا ضروری ہے اور نہ اس امت کا حاضر ہونا ضروری ہے

اس کے لئے حدیث یہ ہے
7۔عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ﷺ یجی النبی و معہ الرجلان و یجیء النبی و معہ الثلاثۃ و اکثر من ذالک و اقل، فیقال لہ ھل بلغت قومک؟ فیقول نعم فیدعی قومہ فیقال ھل بلغکم؟ فیقولون:لا، فیقال من شھد لک؟ فیقول محمد و امتہ، فیدعی امۃ محمد فیقال ہل بلغ ھذا؟ فیقولون نعم فیقول و ما علمکم بذالک؟ فیقولون أخبرنا نبینا بذالک ان الرسل قد بلغوا فصدقناہ، قال فذالکم قولہ تعالی (و کذالک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شھیدا)آیت ۳۴۱، سورت البقرۃ ۲) (ابن ماجۃ شریف، کتاب الزھد، باب صفۃ امۃ محمد ﷺ، ص ۴۲۶، نمبر ۴۸۲۴)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ کچھ نبی قیامت آئیں گے اور انکے ساتھ دوآدمی ہوں گے ، اور کچھ نبی آئیں گے، اور انکے ساتھ تین یا زیادہ اادمی ہوں گے، ان سے پوچھا جائے گا، کیا آپ نے اپنی قوم کو پورا پیغام پہنچا دیا تھا، وہ کہیں گے ہاں، اب ان کی قوم کو بلایا جائے گا، اور ان سے پوچھا جائے گا، کیا تم کو نبی نے پیغام پہنچا دیا تھا؟وہ کہیں گے نہیں تو، نبیوں سے پوچھا جائے گا پیغام پہونچانے پر آپ کا گواہ کون ہے، نبی فرمائیں گے، محمد ؐ اور ان کی امت، اب محمد ؐ کی امت بلائی جائے گی، اور پوچھا جائے گا،کیا ان نبیوں نے پیغام پہونچا دیا ہے؟، امت محمدیہ کہے گی ہاں، تو اللہ پوچھیں گے تم کو اس کا کیا پتہ ہے، تو امت محمدیہ کہے گی، ہم کو ہمارے نبی نے اس بات کی اطلاع دی تھی کہ تمام نبیوں نے پیغام پہنچا دیا ہے، اور ہم نے اس کی تصدیق کی ہے ] اس لئے ہم مے اس کی گواہی دی [ حضور ؐ نے اس کی تائید میں یہ آیت پڑھی ] و کذالک، الخ [ایسے ہی ہم نے تم کو وسط امت بنایا، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے۔
اس حدیث میں ہے کہ حضور ؐ نے جو امت کو پیغام پہنچا دینے کی خبر دی تھی اس کی بنیاد پر یہ امت گواہی دے گی، اس کے لئے حاضر ناضر ہونا ضروری نہیں۔آپ اس تفصیل کو پورے غور سے دیکھیں

اس حدیث میں بھی گواہی دینے کی پوری تفصیل ہے
8۔عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ﷺ یجیء نوح و امتہ فیقول اللہ تعالی ہل بلغت فیقول نعم ای رب، فیقول لامتہ ہل بلغکم؟ فیقولون لا ما جائنا من نبی فیقول لنوح من یشہد لک؟ فیقول محمد ﷺ و امتہ فتشہد انہ قد بلغ، و ہو قولہ جل ذکرہ (و کذالک جعلنا کم امۃ وسطا لتکونواشہداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شہیدا۔ (آیت ۳۴۱، سورت بقرہ ۲))۔ (بخاری شریف، باب قول اللہ عز و جل، و لقد ارسلنا نوحا الی قومہ ] آیت ۵۲، سورت ہود) ص ۵۵۵، نمبر ۹۳۳۳)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ قیامت میں نوح ؑ اور انکی امت لائی جائے گی، اللہ پوچھیں گے کیا تم نے اپنی امت کو اللہ کا پیغام پہونچا دیاہے، حضرت نوح ؑ فرمائیں گے، ہاں! اللہ امت سے پوچھیں گے، کیا تم کو رسالت پہونچا دیا، تو وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس تو کوئی نبی ہیں نہیں آئے، تو اللہ نوح ؑ سے کہیں گے کہ تمہارا گواہ کون ہے؟ تو نوح ؑ کہیں گے کہ محمد ؐ اور انکی امت، تو محمد ؐ گواہی دیں گے کہ ہاں حضرت نوح ؑ نے پیغام پہونچا دیا تھا، اللہ کے اس قول میں اسی واقعے کا ذکر ہے (اسی طرح تم کو وسط امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول ]محمد ؐ [ تم پر گواہ بنیں گے۔
اگر شہید کے لفظ سے حضور کو حاضر ناظر مان لیا جائے تو پھر اس امت کو بھی حاضر ناظر ماننا پڑے گا کیونکہ اس کے بارے میں بھی آیت میں ہے (لتکونوں شہداء علی الناس)، کہ تم لوگوں پر شہید ہوں گے، اور دوسری امتوں کو بھی حاضر ناظر ماننا ہو گا، کیونکہ انکے بارے میں بھی آیا کہ، (جئنا من کل امۃ بشہید)، کہ ہر امت میں سے بھی ایک ایک شہید لاوں گا

اصل بات پہلے گزر چکی ہے کہ اللہ نے قرآن میں یہ کہہ دیا ہے کہ پچھلے نبیوں نے اپنی اپنی امتوں کو اللہ کا پیغام پہونچا دیا ہے، قرآن کی اس بات پر یقین کرتے ہوئے امت محمدیہ بھی گواہی دے گی کہ تمام نبیوں نے اپنا اپنا پیغام پہونچا دیا ہے، اور خود بھی گواہی دیں گے کہ سارے نبیوں نے اللہ کا پیغام پہونچا دیا ہے
اس آیت میں ہے کہ ہر قوم میں اللہ نے رسول بھیجا تھا۔
20۔ و ما علی الرسول الا البلاغ المبین (آیت۴۵، النور ۴۲)
ترجمہ۔ اور رسول کا فرض اس سے زیادہ نہیں ہے کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دیں
21۔وما علی الرسول الا البلاغ المبین(آیت۸۱،العنکبوت۹۲)
ترجمہ۔ اور رسول کا فرض اس سے زیادہ نہیں ہے کہ وہ صاف صاف بات پہنچا دیں
22۔ قل ای شیء أکبر شہادۃ قل اللہ شہید بینی و بینکم۔۔ (آیت ۹۱، سورت الانعام ۶)۔ترجمہ۔ اللہ سے بڑھ کر کون سی چیز گواہی دینے والی ہو گی، آپ کہہ دیجئے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔
اسی خبر پر اعتماد کرتے ہوئے حضور ﷺ اور انکی امت قیامت میں گواہی دیں گے کہ تمام نبیوں نے اپنا اپنا پیغام پہنچا دیا ہے، اس لئے یہ امت اور حضور ؐ حاضر ناظر نہیں تھے
کچھ حضرات نے ان آیتوں سے حاضر ناظر ثابت کی ہیں
کچھ حضرات نے ان 3آیتوں سے حاضر ناظر ثابت کی ہیں اور دلیل یہ دی ہے کہ حالات دیکھ کر ہی گواہی دی جاتی ہے اور حضور ؐ پچھلے نبیوں کے لئے گواہی دیں گے اس لئے حضور ؐ حاضر ناظر ہو گئے
کچھ حضرات نے شاہدا کا ترجمہ حاضر کیا ہے
آیت یہ ہے۔
23۔انا ارسلنا الیکم رسولا شاہدا علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولا۔ (آیت۵۱، سورت مزمل ۳۷)۔ترجمہ۔ جھٹلانے والو یقین جانو ہم نے تمہارے پاس تم پر گواہ بننے والا ایک رسول اسی طرح بھیجا، جیسے ہم نے فرعون کے پاس ایک رسول بھیجا تھا۔
یہاں شاہدا کا ترجمہ رسالت کو پہنچا دینے کی گواہی ہے، تفسیر ابن عباس میں عبارت یہ ہے(شاہدا علیکم)بالبلاغ ) بالبلاغ کی تفسیر سے پتہ چلتا ہے کہ شاہدا کا ترجمہ رسالت پہنچا دینے کی گواہی ہے، کیونکہ فرعون کی طرف جو حضرت موسی علیہ السلام کو بھیجا ہے وہ بھی رسالت پہنچا دینے کیلئے ہی ہیں
24۔یاایہا النبی انا ارسلنا ک شاہدا و مبشراو نذیرا o، و داعیا الی اللہ باذنہ و سراجا منیرا۔ (آیت ۵۴،سورت احزاب۳۳)۔ترجمہ۔ آئے نبی! بیشک ہم نے تمہیں ایسا بنا کر بھیجا ہے کہ تم گواہی دینے والے، خوشخبری سنانے والے اور خبر دار کرنے والے ہو، اور اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے ہو، اور روشنی پھیلانے والے چراغ ہو۔
یہاں بھی شاہدا کا ترجمہ رسالت پہنچا دینے کی گواہی کے معنی میں ہے، تفسیر ابن عباس میں اس کی تفسیر بالبلاغ سے کی ہے ، (شاہدا)علی امتک بالبلاغ۔ (، آیت ۵۴، الاحزاب۳۳) علی امتک بالبلاغ کی تفسیر سے پتہ چلتا ہے کہ شاہدا کا ترجمہ رسالت پہنچا دینے کی گواہی ہے،آگے کی آیت میں (داعیا الی اللہ باذنہ)ہے، اللہ کی طرف بلانے والا ہے، جس سے رسالت پہنچانے کے معنی کا ثبوت ہے، حاضر ناظر کے معنی میں نہیں ہے۔
25۔انا ارسلنا ک شاہدا و مبشراو نذیرا۔ (آیت ۸،سورت الفتح۸۴)
ترجمہ۔ آئے پیغمبر ہم نے تمہیں گواہی دینے والا خوشخبری دینے والا، اور خبر دار کرنے والا بنا کر بھیجا ہے
یہاں بھی تفسیر ابن عباس میں شاہدا کی تفسیر بالبلاغ سے کی ہے، (شاہدا)علی امتک بالبلاغ۔ (آیت ۸، سورت الفتح ۸۴) علی امتک بالبلاغ کی تفسیر سے پتہ چلتا ہے کہ شاہدا کا ترجمہ اللہ کے پیغام پہنچا دینے کی گواہی دینا ہے، حاضر ناظر کے معنی میں نہیں ہے۔
ہر امت میں سے گواہ لائے جائیں گے
تو اس پوری امت کو حاضر ناظر ماننا پڑے گا
اگر شہد کے لفظ سے حضور ؐ کو حاضر ناظر ثابت کریں تو امتی بھی قیامت میں دوسری قوموں پر گواہی دے گی تو اس امتی کے ہر فرد کو حاضر ناظر ماننا پڑے گا، کیونکہ آیت میں ہے کہ یہ امتی بھی دوسری قوموں پر گواہ ہو گی، اس لئے شہد کے لفظ سے حضور ؐ کو حاضر ناظر ثابت کرنا صحیح نہیں ہے۔ آپ بھی غور کریں
آیتیں یہ ہیں
26۔و کذالک جعلنا کم امۃ وسطا لتکونواشہداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شہیدا۔ (آیت ۳۴۱، سورت بقرہ ۲)
۔ترجمہ۔ اور اے مسلمانو! اسی طرح تو ہم نے تم کو ایک معتدل امت بنایا ہے تاکہ تم دوسرے لوگوں پر گواہ بنو، اور رسول تم پر گواہ بنے
27۔و یوم نبعث فی کل امۃ شہیدا علیہم من انفسہم و جئنابک شہیدا علی ہولاء۔(آیت ۹۸، سورت النحل ۶۱)
ترجمہ۔ اور وہ دن بھی یاد رکھو جب ہر امت میں ایک گواہ انہیں میں سے کھڑا کریں گے، اور اے پیغمبر! ہم تمہیں ان لوگوں کے خلاف گواہی دینے کے لئے لائیں گے
28۔فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید و جئنابک علی ہولائئ شہیدا۔ (آیت ۱۴، سورت نساء ۴) ترجمہ۔ کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے، اور اے پیغمبر ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریں گے۔
29۔لیکون الرسول شہیدا علیکم و تکونوا شہداء علی الناس (آیت۸۷، سورت الحج ۲۲) ترجمہ۔ تاکہ یہ رسول تمہارے لئے گواہ بنیں اور تم ] یہ امت [دوسرے لوگوں کے لئے گواہ بنو۔
30۔یوم نبعث من کل امۃ شہیدا۔ (آیت ۴۸، النحل ۶۱)
ترجمہ۔ اس دن کو یاد کروجس دن ہر امت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے۔
31۔نزعنا من کل امۃ شہیدا فقلنا ھاتو برھانکم۔ (آیت ۵۷، سورت القصص ۸۲)
ترجمہ۔ اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہی دینے والا نکال لائیں گے، پھر کہیں گے کہ لاؤ اپنی کوئی دلیل
ان 6 آیتوں میں ہے کہ ہر امت میں سے گواہ لائیں جائیں گے تو وہ تمام امتی بھی حاضر ناظر ہو جائے گی، صرف ایک رسول حاضر ناظر نہیں رہیں گے۔۔۔، آیتوں پر غور کر لیں
شہد کے تین معانی ہیں
اس لئے سیاق و سباق دیکھ کرآیت کا ترجمہ کرنا ہو گا۔ تاکہ دوسری آیتوں سے اس کا معنی ٹکرا نہ جائے
]۱[۔۔گواہی دینا۔
]۲[۔۔موجود ہو نا اور دیکھنا
]۳[۔۔گواہوں کا تزکہ کرنا، اور یہ کہنا کہ ان گواہوں نے سچ کہا ہے۔
]۱[ شہد کا معنی گواہی دینا اس آیت میں ہے
32۔ وشہد شاہد من اہلھا۔ (آیت۶۲، یوسف ۲۱)
ترجمہ۔ حضرت زلیخا کے اہل میں سے ایک بچے نے گواہی دی۔
اس آیت میں شہد کا ترجمہ صرف گواہ دینا ہے، کیونکہ بچے نے حضرت یوسف ؑ کو زلیخا کے کمرے میں نہیں دیکھا تھا، اس لئے اس آیت میں شہد کا ترجمہ گواہ دینا ہے
]۲[ شہد کا ترجمہ موجود ہونا، اس آیت میں ہے
33۔و ما کنت بجانب الغربی اذ قضینا الی موسی الامر و ما کنت من الشاہدین۔ (آیت ۴۴، سورت قصص ۸۲)
ترجمہ۔ آے پیغمبر آپ اس وقت کوہ طور کی مغربی جانب حاضرنہیں تھے جب ہم نے موسی کو احکام سپرد کئے تھے، اور آپ ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اس کو دیکھ رہے تھے۔
اس آیت میں شہد کا ترجمہ ہے آپ وہاں حاضر نہیں تھے
]۳[ گواہوں کا تزکیہ کرنا
تزکیہ کا مطلب یہ ہے کہ یہ تصدیق کرے کہ گواہ نے جو گواہی دی ہے وہ سچ اور صحیح ہے
34۔فکیف اذا جئنا من کل امۃ بشہید و جئنابک علی ہولٓاء شہیدا۔ (آیت ۱۴، سورت نساء ۴)
ترجمہ۔ کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے، اور اے پیغمبر ہم تم کو ان لوگوں کے خلاف گواہ کے طور پر پیش کریں گے۔
تفسیر ابن عباس میں اس آیت میں شہیدا کا ترجمہ تزکیہ کیا ہے و جئنابک علی ہولائئ شہیدا)و یقال لامتک شہیدا مزکیا معدلا، مصدقا لہم)، یعنی امت نے جو گواہی دی ہے حضور اس کا تزکیہ کریں گے، کہ میری امت نے جو گواہی دی ہے، وہ ٹھیک ہے، سچ ہے
جب شہد کا تین معانی ہیں تو سیاق و سباق دیکھ کر ہی شہد کا ترجمہ کرناہوگا، تاکہ اس کا معنی دوسری آیتوں سے ٹکرا نہ جائے ۔
ان احادیث سے حاضر ناظر ہونے کا شبہ ہوتا ہے
9۔عن ثوبان قال قال رسول اللہ ﷺ ان اللہ زوی لی الارض فرأئت مشارقہا و مغاربہا و ان امتی سیبلغ ملکہا ما زوی لی منہا۔ (مسلم شریف، کتاب الفتن، باب ہلاک ہذہ الامۃ بعضہم ببعض، ص ۰۵۲۱، نمبر ۹۸۸۲/ ۸۷۲۷)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ اللہ نے زمین میرے لئے سکیڑدی، جس سے میں زمین کی مشرق اور مغرب کو دیکھ لیا ، اور جہاں تک زمین سکیڑی میری امت وہاں تک پہنچ جائے گی۔
یہ ایک معجزہ کا ذکر ہے کہ، مشرق اور مغرب کی زمین آپ کے سامنے کر دی کر دی، اور آپ نے اس کو دیکھ لیا، اس میں زوی، ماضی کا صیغہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ ایک مرتبہ ایسا کیا گیا، ورنہ اگر آپ ؐ ہمیشہ ہر جگہ حاضر ناظر ہیں تو آپ کے سامنے زمین کو کرنے کا مطلب کیا ہے، وہ تو ہر وقت آپ کے سامنے ہے ہی، اس لئے اس حدیث سے حاضر ناضر ثابت نہیں ہوتا۔ یہ آپؐ کی زندگی میں ایک معجزہ ہے جس کا اس حدیث میں ذکر ہے،
دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث میں صرف زمین آپ کے سامنے کی گئی ہے پوری کائنات نہیں ہے
آپ خود بھی غور کر لیں۔
اس حدیث سے بھی حضور ؐ کے حاضر ناظر ہونے کا شبہ ہوتا ہے
10۔عن عبد اللہ بن عمر و ]بن العاص[ قال الدنیا سجن المومن و جنۃ الکافر، فاذا مات المومن یخلی بہ یسرح حیث شاء۔و اللہ اعلم۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، باب کلام عبد اللہ بن عمر، ج ۷،ص ۷۵،نمبر ۲۲۷۴۳)
ترجمہ۔ عبد اللہ بن عمر بن العاص نے فرمایا: دنیا مومن کی قید ہے اور کافر کی جنت ہے، پس جب مومن مر جاتا ہے تو وہ دنیا سے چھوٹ جاتا ہے، اور جہاں چاہتا ہے گھومتا رہتا ہے
اس صحابی کے قول میں یسرح حیث شاء، کہ جہاں چاہتا ہے گھومتا رہتا ہے سے بعض حضرات نے استدلال کیا ہے مومن کی روحیں دنیا میں جہاں چاہتی ہیں گھومتی رہتی ہیں، اور اسی پر قیاس کرکے حضور بھی ہر جگہ حاضر ناظر ہیں
لیکن اس میں تین خامیاں ہیں
]۱[۔۔ یہ حدیث نہیں ہے یہ صحابی کا اپنا قول ہے، جس سے عقیدہ ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے۔
]۲[۔۔ دوسری بات ہے کہ جب دنیا قید ہے اور موت کی وجہ سے وہاں سے نکل گئی تو دوبارہ دنیا جیسی قید میں مومن کی روح کیوں آئے گی۔
]۳[۔۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ دنیا میں نہیں بلکہ جنت میں جہاں چاہتی ہے گھومتی رہتی ہے، کیونکہ دوسری حدیث میں شہیدوں کے بارے میں ہے کہ انکی روح جنت میں جہاں چاہتی ہے گھومتی رہتی ہے، دنیا میں نہیں گھومتی۔
11۔حدیث یہ ہے
۔ عن ابی ہریرۃ قال قال رسول اللہ ﷺ رأیت جعفرا یطیر فی الجنۃ مع الملائکۃ۔ (ترمذی شریف، کتاب المناقب، باب مناقب جعفر بن طالب، ص ۵۵۸، نمبر ۳۶۷۲)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ میں نے حضرت جعفر ؓ کو دیکھا کہ وہ جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑ رہے ہیں
اس حدیث میں ہے کہ حضرت جعفر ؓ جنت میں جہاں چاہتے ہیں پھرتے ہیں۔ اس لئے عبد اللہ بن عمر کے قول کا مطلب بھی یہی ہوگا کہ مومن موت کے بعد جنت میں پھرتے ہیں، دنیا میں پھرنا ثابت نہیں ہو گا
اس حدیث میں بھی اس کی تصریح ہے کہ شہداء کی روحیں جنت میں جدھر چاہتی ہے گھومتی ہیں، دنیا میں نہیں
12۔عن مسروق قال سألنا عبد اللہ ھو ابن مسعود عن ھذہ الآیۃ (ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون)(آیت ۹۶۱، آل عمران ۳) قال اما انا قد سألنا عن ذالک فقال أرواحھم فی جوف طیر خضر لھا قنادیل معلقۃ بالعرش تسرح من الجنۃ حیث شائت ثم تأوی الی تلک القنادیل۔ (مسلم شریف، کتاب الامارۃ، باب بیان ان ارواح الشہداء فی الجنۃ و انھم احیاء عند ربھم یرزقون، ص ۵۴۸، نمبر ۷۸۸۱/ ۵۸۸۴)
ترجمہ۔ حضرت مسروق ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن مسعود سے اس آیت (ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء عند ربھم یرزقون)کے بارے میں پوچھا، فرمایا کہ میں اس آیت کے بارے میں حضور ؐ سے پوچھ چکا ہوں، فرمایا کہ شہیدوں کی روح سبز پرندے کے پیٹ میں ہوتی ہے، اور قندیلیں عرش کے ساتھ لٹکی ہوتی ہیں، وہ روح جہاں چاہتی ہے چلی جاتی ہے، پھر اس قندیل میں آکرٹھہر جاتی ہے
اس حدیث میں بھی ہے کہ جنت میں جدھر چاہتے ہیں چلے جاتے ہیں، دنیا میں ادھر ادھر پھرنے کا ثبوت نہیں ہو گا،
اس حدیث میں ہے کہ مومن کی روح بھی جنت میں ہوتی ہے
13۔عن عبد الرحمن بن کعب الانصاری انہ اخبرہ ان اباہ کان یحدث ان رسول اللہ ﷺ قال انما نسمۃ المومن طائر یعلق فی شجرۃ الجنۃ حتی یرجع الی جسدہ یوم یبعث۔ (ابن ماجۃ شریف، کتاب الزھد، باب ذکر القبر و البلی، ص ۲۲۶، نمبر ۱۷۲۴/ مسند احمد، بقیۃ حدیث کعب بن مالک الانصاری، جلد ۵۲، ص ۷۵، نمبر ۷۷۷۵۱،)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ مومن کی روح ایک پرندہ جیسی ہوتی ہے جو جنت کے درختوں میں لٹکی ہوتی ہے، پھر قیامت کے دن اٹھائے جانے کے وقت جسم کی طرف لوٹائی جائے گی
، اس حدیث سے بھی پتہ چلتا ہے کہ مومن کی روح جنت میں ہوتی ہے، دنیا میں ادھر ادھر نہیں بھٹکتی۔
یہ عقیدہ ہندؤوں کا ہے کہ مرنے کے بعد میت کی روہیں دنیا میں بھٹکتی رہتی ہیں۔
اس عقیدے کے بارے میں 34 آیتیں اور 13 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
آپ ان آیتوں اور حدیثوں میں خود غور کر لیں
ہندوؤں کا عقیدہ یہ ہے کہ دیوی اور دیوتا ہر جگہ حاضر ہیں
اور ہر چیز کو دیکھتے ہیں
ہندوؤں کا عقیدہ یہ ہے کہ انکے رشی منی، یعنی انکے پرانے بزرگ، اور دیوی، دیوتا ہر جگہ حاضر ناظر ہیں، یہاں تک کہ بتوں کے اندر بھی وہ حاضر ہیں، اور اپنے پوجا کرنے والے کی ہر بات کو سن رہے ہیں، اور انکو دیکھ بھی رہے ہیں، اور اس کی مدد بھی کرتے ہیں، اسی لئے تو وہ ان کی بت بنا کر پوجا کرتے ہیں اور ان سے مدد مانگتے ہیں، ورنہ تو وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ مٹی کی بنی بت ہے، اس میں کوئی جان نہیں ہے، لیکن اس کا عقیدہ یہ ہے کہ اسکے رشی منی اس میں حاضر و ناظرہیں اس لئے وہ بتوں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں انکو پوجتے، اور ان سے،اپنی منتیں مانگتے ہیں۔
اس لئے اللہ نے 5 آیتوں میں یہ واضح کر دیا کہ آپ فلاں فلاں مقام پر نہیں تھے، تاکہ لوگ حضور ؐ کو حاضر ناظر سمجھ کر ان سے منتیں نہ مانگنے لگیں، اور ان کے سامنے اپنی مرادیں نہ پیش کرنے لگیں۔
اس نکتہ پر غور فرمائیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: