اسلامیات

عقیدہ نمبر 9 ۔ مختار کل صرف اللہ ہے

البتہ حضور ؐ کو دنیا میں بہت سے اختیار دئے گئے ہیں، اور آخرت میں بھی بہت سارے اختیار دئے جائیں گے،جو اولین اور آخرین میں سے سب سے زیادہ ہیں
لیکن وہ جز اختیارات ہیں کل نہیں ہیں

ع بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

اس عقیدے کے بارے میں 36 آیتیں اور 10 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

اختیارات کی 4 قسمیں ہیں

]۱[۔۔۔ازل سے ابد تک ہر ہر چیز کرنے کا اختیار، یہ اختیار صرف اللہ کو ہے۔
]۲[۔۔۔حضور ؐ کو زندگی میں بہت سے اختیار دئے گئے
]۳[۔۔۔ حضور ؐ کو قیامت میں چار اختیار دئے جائیں گے
]۴[۔۔۔ کیا حضور ؐ کوزید کو شفا دینے، روزی دینے،نفع اور نقصان دینے کا اختیار ہے

]۱[۔۔ازل سے ابد تک ہر ہر چیز کرنے کا اختیار،
یہ اختیار صرف اللہ کو ہے

اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
1۔اللہ خالق کل شیء و ھو علی کل شیء وکیل۔ (آیت ۲۶، سورت الزمر۹۳)
ترجمہ۔اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہی ہر چیز کا رکھوالا ہے
2۔ذالک اللہ ربکم خالق کل شیء۔ (آیت ۲۶، سورت غافر ۰۴)
ترجمہ۔ وہ ہے اللہ جو تمہارا پالنے والا ہے،ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے
3۔ان ربک فعال لما یرید۔ (آیت ۷۰۱، سورت ھود ۱۱)
ترجمہ۔ یقینا آپ کا رب چو چاہے کرتا ہے
4۔ذو العرش المجید فعال لما یرید۔ (آیت ۶۱، سورت البروج ۵۸)
ترجمہ۔ عرش کا مالک ہے، بزرگی والا ہے، جو کچھ ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے
5۔قل اللہ خالق کل شیء و ھو الواحد القہار۔ ( آیت ۶۱، سورت الرعد ۳۱)
ترجمہ۔ آپ یہ کہہ دیجئے کہ اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے،اور وہ ایک ہی غالب ہے

ان 5آیتوں میں ہے کہ ازل سے ابد تک کا پورا پورااختیار صرف اللہ کو ہے، کسی اور کو نہیں ہے

]۲[۔۔زندگی میں حضور ﷺ کو بہت سارے اختیار دئے گئے

، کھانے کے پینے کے سونے کے جاگنے کے، امر کے،نہی کے، احکام پھیلانے کے اختیارات دئے گئے تھے
خاص طور پر ان چاراختیار کے لئے آپ کو مبعوث کیا گیاتھا
اس کے لئے آتیں یہ ہیں
6۔ھو الذی بعث فی الامیئن رسولا من انفسہم یتلوا علیہم آیاتہ و یزکیہم و یعلمھم الکتاب و الحکمۃ و ان کانوا من قبل لفی ضلال مبین۔ (آیت ۲، سورۃ الجمعۃ ۲۶) ۔ترجمہ۔ وہی ہے جس نے امی لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول کو بھیجا جو انکے سامنے اس کی آیتوں کی تلاوت کریں، اور ان کو پاکیزہ بنائیں، اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیں، جبکہ وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے
7۔ربنا و ابعث فیہم رسولا منہم یتلوا علیہم آیاتک و یعلمہم الکتاب و الحکمۃ و یزکیہم ۔ (آیت ۹۲۱، سورت البقرۃ ۲)
۔ترجمہ۔ اور ہمارے پروردگار! ان میں ایک ایسا رسول بھی بھیجنا جو انہیں میں سے ہو، جو انکے سامنے تیری آیتوں کی تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاکیزہ بنائے۔
اس آیت میں ہے کہ حضور ؐ کو چار کام کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔ ]۱[۔۔قرآن کی تلاوت کرنے کے لئے ]۲[۔۔ قرآن سکھلانے کے لئے، ]۳[۔۔حکمت سکھلانے کے لئے ]۴[ اور تزکیہ کرنے کے لئے، اس لئے زندگی میں حضور ؐ کو یہ اختیار تو ہے۔
8۔و داعیا الی اللہ باذنہ و سراجا منیرا۔ (آیت ۶۴، سورت الاحزاب ۳۳)
ترجمہ۔ اللہ کے حکم سے لوگوں کو بلانے والے اور روشنی پھیلانے والے چراغ ہو
9۔ یا ایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک۔ (آیت ۷۶، سورت المائدہ ۵)
ترجمہ۔ اے رسول جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی تبلیغ کر
10۔و لابین لکم بعض الذی تختلفون فیہ فاتقوااللہ و اطیعون۔ (آیت ۳۶، سورت الزخرف ۳۴) ترجمہ۔ اور اس لئے لایا ہوں کہ تمہارے سامنے وہ چیزیں واضح کر دوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو، لہذا تم اللہ سے ڈرو، اور میری بات مان لو
ان 5آیتوں میں ہے کہ آپ کو زندگی میں دین اور احکام پھیلانے کے، اور امر و نہی کے نافذ کرنے کے اختیار دئے گئے تھے انکے علاوہ بھی زندگی میں بہت سارے اختیار دئے گئے تھے۔

]۳[۔۔ حضور ؐ کو قیامت میں چار اختیار دئے جائیں گے
قیامت میں اللہ کے حکم سے اور بھی اختیار دئے جائیں گے، لیکن یہ چار اختیار اہم ہیں
(۱) شفاعت کبری کا اختیار
(۲) شفاعت صغری کا اختیار
(۳) اللہ کی حمد کرنے کا اختیار
(۴) حوض کوثر پر پانی پلانے کا اختیار

]۱[ شفاعت کبری کا اختیار
قیامت میں حساب کرنے کے لئے جو سفارش کی جائے گی، اس کو شفاعت کبری، کہتے ہیں، کیونکہ یہ شفاعت بہت مشکل ہو گی، اور یہ سفارش کرنے کا حق صرف حضور ؐ کو دیا جائے گا، کسی اور کو نہیں
اس کے لئے حدیث یہ ہے
1۔عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ یجمع اللہ الناس یوم القیامۃ فیقولون لو استشفعنا علی ربنا حتی یریحنا من مکاننا…..ثم یقال لی: ارفع رأسک و سل تعطہ، و قل یسمع، و اشفع تشفع فارفع رأسی فأحمد ربی بتحمید یعلمنی، ثم اشفع فیحد لی حدا ثم اخرجہم من النار و ادخلہم الجنۃ ثم اعود فاقع ساجدا مثلہ فی الثالثۃ او الرابعۃ حتی ما یبقی فی النار الا من حبسہ القرآن۔ (بخاری شریف، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ و النار، ص ۶۳۱۱، نمبر ۵۶۵۶ص)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کریں گے، لوگ کہیں گے ہمارے رب سے کوئی سفارش کرتا تو ہم اس جگہ کی مصیبتوں سے نجات پا لیتے۔۔۔۔حضور ؐ فرماتے ہیں کہ مجھ سے کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھائے، مانگئے آپ کو دیا جائے گا، فرمائے، آپ کی بات سنی جائے گی، آپ سفارش کیجئے، سفارش قبول کی جائے گی، میں سر اٹھاؤں گا، اور اللہ کی ایسی تعریف کروں گا جو اللہ مجھے تعلیم دیں گے، پھر میں سفارش کروں گا تو ایک حد تک میری سفارش قبول کی جائے گی، پھر میں انکو آگ سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا، پھر میں دوبارہ پہلے کی طرح سجدے میں جاؤں گا،] پھر تیسری مرتبہ، پھر چوتھی مرتبہ سجدے میں جاؤں گا [پھر جہنم میں وہی باقی رہیں گے جنکو قرآن نے جہنم میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ] یعنی جو کافر ہو گا وہی جہنم میں باقی رہیگا
اس حدیث میں تین چیزوں کا ثبوت ہے،]۱[ ایک شفاعت کبری کا]۲[، دوسرا حمد کرنے کا ]۳[، اور تیسرا شفاعت صغری کا

]۲[ شفاعت صغری کا اختیار
2۔حدثنا انس بن مالک ان النبی ﷺ قال لکل نبی دعوۃ دعاہا لامتہ و انی اختبأت دعوتی شفاوۃ لامتی یوم القیامۃ۔(مسلم شریف، کتاب الایمان، باب اختباء النبی دعوۃ الشفاعۃ لامتہ ، ص۶۰۱، نمبر ۰۰۲/۴۹۴)
۔ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ ہر نبی کے لئے ایک مقبول دعا ہوتی ہے جو اپنی امت کے لئے وہ کرتے ہیں اور میں نے اپنی امت کے لئے ایک دعا چھپا کر رکھی ہے، اور وہ یہ کہ قیامت کے دن اپنی امت کے لئے سفارش کروں گا۔
اس حدیث میں شفاعت صغری کا ذکر ہے، جو حضور ﷺ کو دی جائے گی ۔

لیکن یہ شفاعت اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہوگی
اس کے لئے یہ آیت ہے
11۔من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ۔ (آیت ۵۵۲، سورت البقرۃ۲)
ترجمہ۔ کون ہے جو اس کے حضور اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے
12۔ما من شفیع الا من بعد اذنہ۔ (آیت ۳، سورت یونس ۰۱)
ترجمہ۔ کوئی اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کسی کی سفارش کرنے والا نہیں ہے۔

]۳[ حمد کرنے کا اختیار
حضور ؐ کو قیامت میں اللہ کی ایسی تعریف کرنے کا اختیار دیا جائے گا جو کسی اور کو نہیں دیا جائے گا
اس کے لئے حدیث یہ ہے
3۔عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ یجمع اللہ الناس یوم القیامۃ فیقولون لو استشفعنا علی ربنا حتی یریحنا من مکاننا…..ثم یقال لی: ارفع رأسک و سل تعطہ، و قل یسمع، و اشفع تشفع فارفع رأسی فأحمد ربی بتحمید یعلمنی ۔ (بخاری شریف، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ و النار، ص ۶۳۱۱، نمبر ۵۶۵۶ص)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کریں گے، لوگ کہیں گے ہمارے رب سے کوئی سفارش کرتا تو ہم اس جگہ کی مصیبتوں سے نجات پا لیتے۔۔۔۔حضور ؐ فرماتے ہیں کہ مجھ سے کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھائے، مانگئے آپ کو دیا جائے گا، فرمائے، آپ کی بات سنی جائے گی، آپ سفارش کیجئے، سفارش قبول کی جائے گی، میں سر اٹھاؤں گا، اور اللہ کی ایسی تعریف کروں گا جو اللہ مجھے تعلیم دیں گے۔
]۴[ حوض کوثر پر پانی پلانے کا اختیار
4۔عن عبد اللہ بن عمر و قال النبی ﷺ حوضی مسیرۃ شہر مأؤہ أبیض من اللبن و ریحہ أطیب من المسک و کیزانہ کنجوم السماء، من شرب منھا فلا یظمأأبدا۔ (بخاری شریف، کتاب الرقاق، باب فی الحوض، ص ۸۳۱۱، نمبر ۹۷۵۶)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ میرا حوض ایک مہینے تک چلنے کی مسافت تک ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے، اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ اچھی ہے، اس کے پیالے آسمان میں ستارے جتنے ہیں، جو اس سے ایک مرتبہ پی لیگا کبھی پیاسا نہیں ہو گا
ان 4چار حدیثوں سے معلوم ہوا کہ حضور کو قیامت میں چار بڑے بڑے اختیار دئے جائیں گے

]۴[۔اختیار کی چوتھی قسم،
نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار اللہ کے علاوہ کسی کو نہیں ہے

اختیار کی چوتھی قسم ہے نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار، کسی کو اولاد دینا، کسی کو شفاء دینا، کسی کو روزی دینا، کسی کو موت دینا، کسی کو حیات دینا، بارش برسانا، قحط لانا،یہ اختیار ات حضور ﷺ کو بھی نہیں ہیں، اور کسی اور کو بھی نہیں ہیں، یہ اختیار صرف اللہ تعالی کو ہے

اس کے لئے یہ آیتیں یہ ہیں
13۔ قل ما کنت بدعا من الرسل، و ما ادری ما یفعل بی و لا بکم، ان اتبع الا ما یوحی الی۔ ( آیت ۹،سورت الاحقاف ۶۴)۔ترجمہ۔ کہو کہ میں پیغمبر میں سے کوئی انوکھا پیغمبر نہیں ہوں۔ مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، اور نہ معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا ہو گا، میں کسی اور چیز کی نہیں صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے
اس آیت میں مجھے بھی معلوم نہیں کہ اللہ میرے ساتھ کیا معاملہ کریں گے، تو حضور ؐ کو اختیار کیسے ہوا
14۔،قل انی لا املک لکم ضرا و لا رشدا قل انی لن یجیرنی من اللہ احدا و لن اجد من دونہ ملتحدا۔(آیت۱۲، سورۃ الجن۲۷)
ترجمہ۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں نہ تمہارے نقصان کا مالک ہوں اور نہ بھلائی کا مالک ہوں۔آپ کہہ دیجئے! مجھے اللہ سے نہ کوئی بچا سکتا ہے ، اور نہ میں اسے چھوڑ کر کوئی پناہ کی جگہ پا سکتا ہوں
اس لئے یہ چوتھی قسم کا اختیار بھی حضور ؐ کے پاس نہیں ہے۔۔ آپ خود بھی آیتوں پر غور کر لیں ۔
حضور ﷺ سے اعلان کر وایا گیا کہ میرے ہاتھ میں
نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں ہے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
15۔قل لا املک لنفسی ضرا و لا نفعا الا ماشاء اللہ۔(آیت۸۸۱، سورۃ الاعراف۷)
ترجمہ۔آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنے آپ کو بھی نقصان اور نفع پہنچانے کا مالک نہیں ہوں، مگر اللہ جتنا چاہے گا اتنا ہو گا
16۔قل لا املک لنفسی ضرا و لا نفعا الا ماشاء اللہ۔(آیت۹۴، سورۃ یونس۰۱)
ترجمہ۔آپ کہہ دیجئے کہ میں اپنے آپ کو بھی نقصان اور نفع پہنچانے کا مالک نہیں ہوں، مگر اللہ جتنا چاہے گا اتنا ہو گا
17۔،قل انی لا املک لکم ضرا و لا رشدا (آیت۰۲، سورۃ الجن۲۷)
ترجمہ۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں نہ تمہارے نقصان کا مالک ہوں اور نہ بھلائی کا مالک ہوں
18۔قل انی لن یجیرنی من اللہ احدا و لن اجد من دونہ ملتحدا۔(آیت۱۲، سورۃ الجن۲۷)۔ترجمہ۔آپ کہہ دیجئے! مجھے اللہ سے نہ کوئی بچا سکتا ہے، اور نہ میں اسے چھوڑ کر کوئی پناہ کی جگہ پا سکتا ہوں
19۔قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی۔ (آیت ۵۱، سورت یونس ۰۱)
ترجمہ۔ آپ کہہ دیجئے کہ مجھے یہ حق نہیں ہے کہ اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کروں
20۔قل ما کنت بدعا من الرسل، و ما ادری ما یفعل بی و لا بکم، ان اتبع الا ما یوحی الی۔ ( آیت ۹،سورت الاحقاف ۶۴)۔ترجمہ۔ کہو کہ میں پیغمبر میں سے کوئی انوکھا پیغمبر نہیں ہوں۔ مجھے معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا، اور نہ معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا ہو گا، میں کسی اور چیز کی نہیں صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھے بھیجی جاتی ہے
ان 6 آیتوں میں حضور ﷺ سے اعلان کروایا گیا کہ مجھے اختیار نہیں ہے، تو پھرحضور ﷺ کوکیسے مختار کل کہا جائے؟۔

ان آیتوں میں ہے کہ حضور ؐ کو بہت سے اختیارات نہیں ہیں

21۔لیس علیک ہداہم و لکن اللہ یہدی من یشاء۔ ( آیت۲۷۲، سورۃ البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ آے پیغمبر آپ پر ہدایت دینے کی ذمہ داری نہیں ہے، لیکن اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت یتا ہے
22۔انک لا تہدی من احببت، و لکن اللہ یہدی من یشاء و ھوا علم بالمہتدین۔ (آیت ۶۵، سورہ القصص۸۲)
ترجمہ۔ آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے، بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
اس آیت میں ہے کہ آپؐ کسی کو ہدایت دینا چاہیں تو نہیں دے سکتے، ہاں اللہ جسکو چاہیں اس کو ہدایت دے سکتے ہیں۔ تو پھر آپؐ مختار کل کیسے ہوئے
23۔و لا تقولن لشیء انی فاعل ذلک غدا الا ان یشاء اللہ ( آیت۴۲، سورۃ الکہف۸۱)
ترجمہ۔ آے پیغمبر کسی بھی کام کے بارے میں کبھی یہ نہ کہو کہ میں یہ کام کر لوں گا، ہاں یہ کہو کہ اللہ چاہے گا تو کر لوں گا
24۔لیس لک من الامر شیء او یتوب علیہم او یعذبہم فانہم ظالمون۔ (آیت ۸۲۱، سورت آل عمران ۳) ۔ترجمہ۔ آئے پیغمبر ٓپ کو اس فیصلے کا کوئی اختیار نہیں ہے، کہ اللہ ان کی توبہ قبول کرے یا ان کو عذاب دے، کیونکہ یہ ظالم لوگ ہیں
25۔یوم لا لا تملک نفس لنفس شیئا و الامر یومئذ للہ (آیت ۹۱، سورت الانفطار ۲۸)
ترجمہ۔ یہ وہ دن ]قیامت [ ہو گا جس میں کوئی آدمی کسی دوسرے کے لئے کچھ کرنے کا مالک نہیں ہوگا، اور تمام تر حکم اس دن اللہ ہی کا چلے گا۔
26۔ما کان للنبی و الذین آمنوا ان یستغفروا للمشرکین و لو کانوا اولی قربی من بعد ما تبین لہم انہم اصحاب الجحیم ۔ (آیت ۳۱۱، سورت التوبۃ ۹)
ترجمہ۔ یہ بات تو نہ نبی کو زیب دیتی اور نہ دوسرے مومنوں کو کہ وہ مشرکوں کے لئے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں
27۔ما کان لرسول ان یأتی بآیۃ الا باذن اللہ۔ (آیت ۸۷، سورت غافر ۰۴)
ترجمہ۔ اور کسی رسول کواختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے
ان 7 آیتوں کو غور سے دیکھیں کہ حضور ؐ کو بہت سی چیزوں کا اختیار نہیں دیا گیا ہے۔ تو حضور ﷺ کو مختار کل کیسے کہا جائے؟۔

اللہ کی مرضی کے بغیر حضور ؐ کو مسئلہ بیان کرنے کا بھی حق نہیں ہے

ان آیتوں میں تو یہاں تک ہے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر حضور ؐ کو مسئلہ بیان کرنے کا بھی حق نہیں ہے
28۔یاایہا النبی لما تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک۔ (آیت۱، سورت تحریم ۶۶)۔ ترجمہ۔ آئے نبی جس چیز کو میں نے تمہارے لئے حلا ل کی اپنی بیویوں کی خوشنودی کے لئے اسے کیوں حرام کرتے ہو۔
29۔ ما کان لنبی ان یکون لہ اسری حتی یثخن فی الارض۔ (آیت ۷۶، سورت الانفال ۸). ترجمہ۔ یہ بات کسی نبی کے شایان شان نہیں ہے کہ انکے پاس قیدی رہیں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کا خون اچھی طرح نہ بہا لیں
حضور ؐ نے بدری قیدیوں سے فدیہ لینے کا حکم دیا تھا، جو اللہ کی مرضی نہیں تھی تو فورا حضور ؐ کو اس سے آگاہ کر دیا گیا تھا۔
ان 2 آیتوں کو دیکھیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر آپ کو مسئلہ بیان کرنے کا بھی حق نہیں ہے تو آپ مختار کل کیسے ہو گئے؟

حضور ؐ نے جو کچھ کیا ہے وہ اللہ کی اجازت سے کی ہے

اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
30۔و ما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ۔ (آیت۴۶، سورت النساء ۴)
ترجمہ۔ ہم نے کسی بھی رسول کو اسی لئے بھیجا ہے کہ اللہ کے حکم سے انکی اطاعت کی جائے
31۔و ما کان لرسول ان یأتی بآیۃ الا باذن اللہ لکل اجل کتاب۔ (آیت ۸۳، سورت الرعد ۳۱)
ترجمہ۔ اور کسی رسول کو یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی آیت بھی لا سکے
32۔و ما کان لرسول ان یأتی بآیۃ الا باذن اللہ۔ (آیت ۸۷، سورت غافر۰۴)
ترجمہ۔ اور کسی رسول کواختیار نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے
33۔انزلنا الیک لتخرج الناس من الظلمات الی النور باذن ربہم۔ (آیت ۱، سورت ابراہیم ۴۱)
۔ ترجمہ۔ یہ ایک کتاب ہے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے تاکہ تم لوگوں کو اس کے رب کے حکم سے اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ۔
34۔و داعیا الی اللہ باذنہ و سراجا منیرا۔ (آیت ۶۴، سورت الاحزاب ۳۳)
ترجمہ۔ اللہ کے حکم سے لوگوں کو بلانے والے اور روشنی پھیلانے والے چراغ ہو
ان 5 آیتوں میں ہے کہ حضور کو بہت سے اختیار دئے گئے تھے، لیکن وہ سب اللہ کے حکم سے تھے

اللہ کے اختیارات لا محدود ہیں وہ حضور ﷺ کو کیسے
حاصل ہوسکتے ہیں؟

اللہ تعالی واجب الوجود ہے، اس کا اختیار لا محدود ہے اور حضور ؐ کی ذات محدود ہے اس لئے وہ تمام اختیارات حضور ؐ کو کیسے حاصل ہوسکتے ہیں، یہ نا ممکن ہے، اس لئے حضور مختار کل نہیں ہیں، ہاں دنیا میں اور آخرت میں کچھ اختیار دئے گئے ہیں، جنکی تفصیل اوپر گزری۔
اس آیت میں ہے کہ اللہ جو کچھ چاہتے ہیں کر تے ہیں
35۔ان ربک فعال لما یرید۔ (آیت ۷۰۱، سورت ھود ۱۱)
ترجمہ۔ یقینا آپ کا رب چو چاہے کرتا ہے
36۔ذو العرش المجید فعال لما یرید۔ (آیت ۶۱، سورت البروج ۵۸)
ترجمہ۔ عرش کا مالک ہے، بزرگی والا ہے، جو کچھ ارادہ کرتا ہے کر گزرتا ہے
حضور ؐ کو اس قسم کا اختیار نہیں ہے کہ جو چاہے کر لیں ، یہ اختیار تو صرف اللہ تعالی کو ہے

ان 36 آیتوں سے ثابت ہوا کہ حضور ﷺ کو زندگی میں بہت سے اختیار دئے گئے تھے،
اور قیامت میں بھی بہت سے اختیار دئے جائیں گے
یہ اختیارات تمام اولین اور آخرین سے زیادہ ہیں
ان سب کے باوجود آپ ؐ مختار کل نہیں ہیں، اور نہ آپ ؐکسی کے نفع و نقصان کے مالک ہیں
حضور ؐ کو کلی اختیار نہیں ہے، احادیث سے اس کا ثبوت
ان احادیث میں ہے کہ مجھے اختیار نہیں ہے
5۔ عن ابی ہریرۃ ؓ ان النبی ﷺ قال…. یا ام الزبیر بن العوام عمۃ رسول اللہ ﷺ.یا فاطمۃ بنت محمد اشتریا انفسکما من اللہ، لا املک لکما من اللہ شیئا، سلانی من مالی ما شئتما۔ (بخاری شریف، باب من انتسب الی اباۂ فی الاسلام و الجاہلیۃ، ص ۴۹۵، نمبر ۷۲۵۳)۔ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا۔۔۔ اے رسول اللہ کی پھوپھی ام زبیر بن عوام، اے فاطمہ بنت محمد اللہ سے اپنے لئے کچھ خرید لو میں تم لوگوں کو فائدہ پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا ہوں، میرے مال میں سے جو چاہو مانگ لو۔

6۔ان ابا ہریرۃ ؓ قال قام رسول اللہ ﷺ حین انزل اللہ عز و جل (و انذر عشیرتک الاقربین) ] آیت ۴۱۲، سورۃ الشعراء ۶۲)…یا صفیۃ عمۃ رسول اللہ، لا أغنی عنک من اللہ شیئا، و یا فاطمۃ بنت محمد ﷺ سلینی ما شئت من مالی، لا اغنی من اللہ شیئا۔ (بخاری شریف، باب ھل یدخل النساء و الولد فی الاقارب، ص ۵۵۴، نمبر ۳۵۷۲)۔ ترجمہ۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ؐ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ۔۔۔اے رسول کی پھوپھی صفیۃ ؓ میں اللہ کی جانب سے تم کو کام نہیں آسکتا، اور اے فاطمہ ؓ میرے مال میں سے مجھ سے مانگ لو، میں اللہ کی جانب سے کچھ کام نہیں آسکتا۔
ان دونوں حدیثوں میں ہے کہ میں قیامت میں کام نہیں آسکتا، ہاں ایمان ہو اور اللہ شفارس کرنے کی اجازت دے تو میں شفارس کروں گا۔
7۔عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ یجمع اللہ الناس یوم القیامۃ فیقولون لو استشفعنا علی ربنا حتی یریحنا من مکاننا…..ثم یقال لی: ارفع رأسک و سل تعطہ، و قل یسمع، و اشفع تشفع فارفع رأسی فأحمد ربی بتحمید یعلمنی، ثم اشفع فیحد لی حدا ثم اخرجہم من النار و ادخلہم الجنۃ ثم اعود فاقع ساجدا مثلہ فی الثالثۃ او الرابعۃ حتی ما یبقی فی النار الا من حبسہ القرآن۔ (بخاری شریف، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ و النار، ص ۶۳۱۱، نمبر ۵۶۵۶)
ترجمہ۔ حضور پاک ﷺ نے فرمایا کہ اللہ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کریں گے، لوگ کہیں گے، ہمارے رب کے سامنے کوئی سفارش کرتا تو اس جگہ سے ہمیں عافیت ہو جاتی۔۔۔پھر مجھ سے کہا جائے گا، سر اٹھاؤاور مانگو دیا جائے گا، کہو بات سنی جائے گی، سفارش کرو سفارش قبول کی جائے گی، تو میں سر اٹھاؤں گا، اور ایسی حمد کروں جو اللہ اس وقت مجھے سکھائیں گے، پھر میں سفارش کروں گا تو ایک حد متعین کر دی جائے گی، پھر میں ان لوگوں کو جہنم سے نکالوں گا اور جنت میں داخل کروں گا، پھر پہلے کی طرح دوبارہ میں سجدے میں گر پڑوں گا،یہ تیسری مرتبہ ہو گا یا چوتھی مرتبہ ہو گا، یہاں تک کہ جہنم میں وہی باقی رہیں گے جنکو قرآن نے روکے رکھا ہے ] یعنی صرف کافر جہنم میں باقی رہ جائیں گے [
اس حدیث میں ہے کہ قیامت میں حضور ؐ اللہ سے مانگیں گے اور اللہ دیں گے، پھر یہ بھی ہے کہ تمام کی شفارس بیک وقت نہیں کریں گے، بلکہ ایک مرتبہ ایک حد متعین کی جائے گی، پھر دوسری مرتبہ دوسری حد متعین ہو گی، اور تیسری مرتبہ ایک حد متعین کی جائے گی، پھر چوتھی مرتبہ سفارش کی ایک حد متعین کی جائے، اس طرح چار مرتبہ میں آپ کی سفارش پوری ہو گی، اس لئے آپ قیامت میں بھی مختار کل نہیں ہوں گے،۔۔ان حدیثوں میں آپ خود بھی غور فرما لیں۔
اس حدیث میں یہاں تک روکا گیا ہے کہ، یہ بھی نہ کہے کہ اللہ اور محمد ﷺ نے چاہا، بلکہ یوں کہو کہ اللہ نے چاہا، پھر محمد ﷺ نے چاہا
8۔حدیث یہ ہے۔عن حزیفۃ بن الیمان….. تقولون ما شاء اللہ و شاء محمد، و ذکر ذالک للنبی ﷺ فقال اما و اللہ ان کنت لاعرفھا لکم، قولوا ما شاء اللہ ثم شاء محمد۔ (ابن ماجۃ شریف، کتاب الکفارات، باب النہی ان یقال ما شاء اللہ و شئت، ص ۴۰۳، نمبر ۸۱۱۲/ مسند احمد، حدیث حذیفۃ بن یمان، ج ۸۳، ص ۴۶۳، نمبر ۹۳۳۳۲)
ترجمہ۔ حذیفہ بن یمان سے روایت ہے۔۔۔تم لوگ کہتے ہو جو اللہ چاہتے ہیں، اور محمد ؐ چاہتے ہیں ]تو وہ کام ہوتا ہے [ ، اس کا تذکرہ حضور ؐ کے سامنے ہوا، تو حضور ؐ نے فرمایا خدا کی قسم تم لوگوں کی اس بات کو جانتا تھا، یوں کہو، جو اللہ چاہتے ہیں، پھر محمد ؐ چاہتے ہیں ] یعنی اللہ کے چاہنے کے بعد محمد ؐ نے چاہا، تاکہ چاہنے میں شرکت نہ ہو [
اور طبرانی کبیر میں تو ہے کہ، صرف یہ کہو کہ اللہ نے چاہا، بیچ میں حضور ﷺ کے چاہنے کا نام ہی نہ لو،
9۔حدیث یہ ہے۔ عن ربعی بن خراش عن اخ لعائشۃ زوج النبی ﷺ…انما کان یمنعنی ان انہا کم من ذالک الحیاء، فاذاقلتم فقولوا، ما شاء اللہ وحدہ۔ (طبرانی کبیر، طفیل بن سخیر الدوسی اخو عائشۃ ؓ، ج ۸، ص ۵۲۳، نمبر ۵۱۲۸)
ترجمہ۔ حضرت عائشہ کے بھائی ربیع بن خراش سے روایت ہے۔۔۔۔شرم کی وجہ سے میں یہ بات نہیں کہہ رہا تھا، جب تم کہو تو یوں کہو کہ،صرف اللہ جو چاہے وہ ہوتا ہے
اس حدیث میں ہے کہ صرف یہ کہو کہ اللہ جو چاہے وہ ہوتا ہے۔
اس لئے ان 5 آحادیث سے پتہ چلتا ہے، کہ حضور ﷺ مختار کل نہیں ہیں۔
اور جب حضور ؐ مختار کل نہیں ہیں تو کوئی بھی نبی، یا صحابی، یا ولی بھی مختار کل نہیں ہیں
ہندؤوں کا عقیدہ ہے کہ اس کی دیوی دیوتا کو کل اختیارات ہیں
ہندؤوں کا عقیدہ ہے کہ اس کی دیوی، دیوتا کو، یہاں تک کہ اس کی مورتیوں کو بھی نفع نقصان پہنچانے کا اختیار ہے، چنانچہ انکے یہاں کچھ دیوی نفع پہنچانے کے لئے مختص ہیں، کچھ نقصان پہنچانے کے لئے مختص ہیں، کچھ کے ذمے بارش برسانے کا کام ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ دیوی، دیوتا کو پوجتے ہیں، اور ان سے اپنی ضرورتیں مانگتے ہیں، اور انکی مورتی بنا کر اس کے سامنے ماتھا ٹیکتے ہیں
چونکہ یہ شرک تھا اس لئے اللہ نے قرآن حکیم میں اس پر پورا زور دیا، اور حضور ﷺ سے اعلان کروایا کہ میرے ہاتھ میں نفع اور نقصان پہنچانے کا اختیار نہیں ہے۔
اس نکتہ پر غور فرمائیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: