اسلامیات

عقیدہ نمبر2 اللہ پر جزا یا سزا دینا واجب نہیں ہے

مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن

عقیدہ نمبر۲ اللہ پر جزا یا سزا دینا واجب نہیں ہے

اس عقیدے کے بارے میں 15 آیتیں اور 0حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
معتزلہ: ایک جماعت تھی اس نے کہا تھا کہ اللہ پر بدلہ دینا واجب ہے
لیکن اہل سنت و الجماعت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ پر کوئی چیز واجب نہیں ہے، ہر چیز اس کی مرضی پر ہے۔
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
1۔فیغفر لمن یشاء و یعذب من یشاء و اللہ علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۴۸۲، سورت البقرۃ ۲) ترجمہ۔ پھر جس کو چاہے گا معاف کردے گا،اور جس کو چاہے گا سزا دے گا، اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
2۔فیضل اللہ من یشاء و یھدی من یشاء و ھو العزیزالحکیم۔ (آیت ۴، سورت ابراہیم ۴۱) ترجمہ۔ پھر اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے ھدایت دے دیتا ہے، وہ غالب ہے، حکمت والا ہے۔
3۔ان اللہ یفعل ما یرید۔ (آیت ۴۱، سورت الحج ۲۲)
ترجمہ۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے
4۔و یفعل اللہ ما یشاء۔ (آیت ۷۲، سورت ابراہیم ۴۱)
ترجمہ۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے
ان آیتوں میں ہے کہ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، اس پر کسی چیز کا کرنا واجب نہیں ہے
اللہ جو کچھ دے وہ اس کا فضل ہے
کسی چیز کو دینا اللہ پر واجب نہیں ہے، وہ جس کو جو کچھ دے وہ اس کا فضل ہے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں ۔
5۔ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء،و اللہ ذو الفضل العظیم (آیت ۱۲، سورت الحدید ۷۵)
ترجمہ۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
6۔ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء،و اللہ ذو الفضل العظیم۔ (آیت ۴، سورت الجمعہ ۲۶)
ترجمہ۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
7۔و ان الفضل بید اللہ یؤتیہ من یشاء،و اللہ ذو الفضل العظیم (آیت ۹۲، سورت الحدید ۷۵)
۔ ترجمہ۔ اور یقینا تمام فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے، جس کو چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے
8۔ و اللہ یختص برحمتہ من یشاء و اللہ ذو الفضل العظیم۔ (آیت ۵۰۱، سورت البقرۃ ۲)۔ ترجمہ۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لئے مخصوص کر لیتا ہے، اور اللہ عظیم فضل کا مالک ہے

ان آیتوں میں ہے کہ جو کچھ اللہ دیتا ہے وہ اس کا فضل ہے، اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے
اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ
خیر اور شر سب کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔

پچھلے زمانے میں کچھ لوگوں کا نظریہ یہ تھا کہ شر کا کام اچھا نہیں ہے، اس لئے وہ شر کے پیدا کرنے کی نسبت اللہ کی طرف کرنا مناسب نہیں سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ شر کا پیدا کرنے والا شیطان ہے۔
لیکن چونکہ آیت میں ہے کہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ پاک ہے، اس لئے یہی عقیدہ صحیح ہے کہ خیر اور شر دونوں کا پیدا کرنے والا اللہ ہے۔ اور بندے کو جو ثواب یا عذاب ہوتا ہے وہ اس کے کسب یعنی اس کام کو کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے
اس کے لئے یہ آیتیں ہیں
9۔اللہ خالق کل شیء و ہو علی کل شیء وکیل۔ (آیت ۲۶، سورت الزمر ۹۳)
ترجمہ۔ اللہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے، اور وہی ہر چیز کا رکھوالا ہے
10۔ذالکم اللہ ربکم خالق کل شیء لا الہ الا ھو۔ (آیت ۲۶، سورت غافر ۰۴)
ترجمہ۔ یہ تمہارا رب ہے، ہر چیز کا پیدا کرنے والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے
11۔ قل کل من عند اللہ۔ (آیت ۸۷، سورت النساء ۴)
ترجمہ۔ کہو ہر چیز اللہ ہی کے پاس سے ہے
ان آیتوں سے ثابت ہوا کہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔
البتہ بندہ شر کا کام کرے تو اللہ اس سے راضی نہیں ہوتا
، اور خیر کا کام کرے تو اللہ اس سے راضی ہوتا ہے۔
ہے سب کام اللہ ہی کا پیدا کیا ہوا، البتہ نیک کام کرنے سے اللہ راضی ہوتے ہیں اور برے کام کرنے سے اللہ راضی نہیں ہوتے
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
12۔ و لا یرضی لعبادہ الکفر (آیت ۷، سورۃ الزمر ۹۳)
ترجمہ۔ اللہ اپنے بندوں کے لئے کفر پسند نہیں کرتا
اس آیت میں ہے کہ اللہ کفر سے راضی نہیں ہوتے
13۔و ان اعمل صالحا ترضاہ (آیت ۹۱ سورت النمل ۷۲)
ترجمہ۔ اور وہ نیک عمل کروں جس سے آپ راضی ہوتے ہیں
14۔و ان اعمل صالحا ترضاہ۔(آیت ۵۱، سورت الاحقاف ۶۴)
ترجمہ۔ اور وہ نیک عمل کروں جس سے آپ راضی ہوتے ہیں

ان دونوں آیتوں میں ہے کہ نیک اعمال سے اللہ راضی ہوتے ہیں
اللہ کی تمام صفات ازلی اور ابدی ہیں
پچھلے زمانے میں ایک بحث رہی ہے کہ، مثلا پیدا کرنے سے پہلے اللہ خالق ہے یا نہیں تو اس بارے میں یہ ہے کہ اللہ کی تمام صفات ازلی اور ابدی ہیں، یعنی جب تک کائنات کو پیدا نہیں کیا تھا اس وقت بھی اللہ خالقیت، اور رازقیت کے ساتھ متصف تھا، اور پیدا کرنے کے بعد بھی وہ اسی صفت کے ساتھ متصف ہے، اس میں کوئی کمی بیشی نہیں آئی ہے۔اور جب اس کائنات کو ختم کر دیں گے اس وقت بھی اللہ خالق رہے گا اس میں کوئی کمی نہیں آئیگی، کیونکہ اللہ کی تمام صفات ابدی ہیں
15۔ان ذالک لمحی الموتی و ہو علی کل شیء قدیر۔ (آیت ۰۵، سورت الروم ۰۳)
ترجمہ۔ یقینا وہ اللہ مردوں کو زندہ کرنے والے ہیں، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
اللہ نے مردوں کوا بھی زندہ نہیں کیا ہے، بلکہ قیامت میں زندہ کریں گے، پھر بھی ابھی سے اللہ کو مردوں کو زندہ کرنے والا کہا جاتا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ زندہ کرنے سے پہلے بھی وہ زندہ کرنے کی صفت رکھتے ہیں۔ اسی طرح تمام صفات کا حال ہے۔
اس عقیدے کے بارے میں 15 آیتیں اور 0حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: