اسلامیات

عقیدہ نمبر3 : دہریوں کو خدا مان لینا چاہئے

مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن

اس کے 7 دلائل ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
کچھ لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ اللہ موجود نہیں ہے، یہ کائنات خود پیدا ہوئی، اور خود ختم ہو جائے گی، اس کا کوئی پیدا کرنے والا نہیں ہے، اسی کو دہریہ کہتے ہیں، اسی کو ناستک، کہتے ہیں
ان کی دلیل یہ ہے کہ ہم نے خدا کو کبھی نہیں دیکھا اس لئے وہ موجود نہیں ہے
اس کا جواب یہ ہے کہ
1۔۔۔ ان آنکھوں سے خدا کو دیکھ ہی نہیں سکتے،وہ واجب الوجود ہے، وہ دنیا کی چیز کی طرح نہیں ہے کہ ہم ان آنکھوں سے دیکھ لیں، ہان آخرت میں مومن کے لئے ایسی آنکھ پیدا کر دی جائے گی جس سے وہ اللہ کو دیکھ سکے گا، دنیا میں یہ بات ممکن نہیں ہے
اللہ کی ذات ستر ہزار نور کے پردے میں ہے اس لئے اس کو کیسے دیکھ سکو گے ، خود حضور ؐ نے معراج کی را ت کے بارے میں فرمایا۔نور انی اراہ کہ وہ تو نور ہے اس کو کیسے دیکھا جا سکتا ہے
اس کے لئے حدیث یہ ہے
۔ عن ابی ذر قال سألت رسول اللہ ﷺ ہل رأیت ربک؟ قال نور أنی أراہ؟۔ (مسلم شریف، کتاب الایمان، باب قولہ علیہ السلام نور انی اراہ، ص ۱۹، نمبر ۸۷۱/ ۳۴۴)
ترجمہ۔ حضرت ابو ذر ؓ فرماتے ہیں کہ ، میں نے حضور ؐ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو فرمایا کہ، وہ تو نور ہے، اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں
2۔۔۔ دنیا میں اللہ کا پیدا کیا ہوا سورج کو دوپہر میں نہیں دیکھ سکتا جس میں بہت ہی ادنی سا نور ہے، تو اللہ کی ذات جو نور ہی نور ہے اس کو ہماری آنکھیں کیسے دیکھ سکتی ہیں
اللہ کی ذات کو کیوں نہیں مانیں
3۔۔۔ دنیا میں کھربوں آدمی ہیں، ہر ایک کا چہرہ بالکل الگ الگ ہے، بلکہ ایک ماں باپ کے دو بچے ہیں تودونوں کے چہرے بالکل الگ الگ ہوتے ہیں، یہ الگ الگ چہرہ کس ذات کی وجہ سے ہے، جس ذات کی وجہ سے یہ الگ الگ چہرہ ہے اسی ذات کا نام خدا ہے، قرآن میں اسی کو،رب العالمین کہا ہے۔
اس کے لئے آیت یہ ہے۔ الحمد للہ رب العالمین۔ (سورت الفاتحہ، ۱ آیت ۱)
ترجمہ۔ تمام تعریفیں اللہ کی ہے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے
اس آیت میں ہے کہ اللہ پوری دنیا کو پالتے رہتے ہیں
جب یہ بات طے ہے کہ ہر ایک کا چہرہ الگ الگ ہے تو یہ بھی ماننا پرے گا کہ ان چہروں کو الگ الگ کرنے والی جو ذات ہے اسی کو خدا کہتے ہیں
آپ خود مر کر دکھلائیں
4۔۔۔ دہریہ کہتے ہیں ہم خود پیدا ہوئے، اگر ایسی ہی بات ہے کہ آپ خود پیدا ہوئے ہیں تو آپ ذرا خود مر کے دکھلائیں، آپ کے اختیار میں مرنا ہے پھر بھی آپ خود مر نہیں سکتے تو خود پیدا کیسے ہو گئے،
آپ جوان رہ کر دکھلائیں
5۔۔۔ دہریہ خود یہ چاہتے ہیں کہ میں جوان رہوں اور اس کے لئے وہ خوب نسخہ بھی استعمال کرتے ہیں، لیکن پھر بھی جو چیز ]جو ذات [اس کو بوڑھا کرتی جاتی ہے، اور ہاتھ پاؤں کو ناکارہ کرتی جاتی ہے ، اسی ذات کا نام خدا ہے۔ قرآن میں ہے۔
و منکم من یرد الی ارزل العمر لکی لا یعلم بعد علم شیئا۔(آیت ۰۷، سورت النحل ۶۱)
ترجمہ۔ اور تم میں سے کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جو عمر کے سب سے ناکارہ حصے تک تک پہنچا دیا جاتا ہے، جس میں پہنچ کر وہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی کچھ نہیں جانتا، بیشک اللہ بڑے علم والا اور بڑی قدرت والا ہے
اگر آپ خود پیدا ہوئے ہیں تو نوے سال تک جوان رہ کر دکھلائیں، اگر یہ نہیں کر سکتے تو جو ذات تمہیں بوڑھا کر رہی اسی ذات کا نام خدا ہے، اس لئے خدا کو مان لیں
آپ سوا سو سال تک زندہ رہ کر ہی دکھلا دیں
6۔۔۔ دہریہ زیادہ ہی زندہ رہنا چا ہتے ہیں، اگر یہ خو دپیدا ہوئے ہیں، تو چلو سوا سو سال ہی زندہ رہ کر دکھلائیں، اگر یہ خود پیدا ہوئے ہیں تو اس کو خود زندہ بھی رہنا چاہئے، لیکن جو ذات اس کو مارتی ہے اسی ذات کا نام خدا ہے،
حضرت براہیم علیہ السلام نے اللہ کی ذات کو متعارف کرانے کے لئے ہی کہا تھا،
آیت یہ ہے
۔اذ قال ابراہیم ربی الذی یحی و یمیت۔ (آیت ۸۵۲، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ جب ابراہیم نے کہا کہ: میرا رب وہ جو زندگی بھی دیتا ہے اور موت بھی دیتا ہے
پس جو ذات آپ کو مار رہی ہے اسی ذات کا نام خدا ہے، اور اسی ذات نے تمہیں پیدا بھی کیا ہے
جو ذات مارے گی اسی کا نام خدا ہے
7۔۔۔ قرآن اور حدیث کی رہنمائی تو ہے ہی، لیکن ہم لوگ جو خدا مانتے ہیں وہ اسی لئے مانتے ہیں کہ وہ ایک دن ہمیں مارے گا، اور جو ذات مارے گی وہی پیدا کرنے والی بھی ہے، اور جب دونوں باتیں بالکل سامنے ہیں جن کا آپ انکار نہیں کر سکتے، تو اس سے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ قیامت بھی ہے اور جنت اور جہنم بھی ہیں۔۔اس کے لئے لمبی چوڑی دلائل دینے کی ضرورت نہیں
آپ مان لیں کہ پیدا کرنے والا خدا ہے
اس لئے اب مان لیں کہ آپ کو پیدا کرنے والا خدا ہے، اور اس کے سامنے یہ معافی مانگیں کہ اے مارنے والے خدا مجھے معاف کردے، اور مجھے جنت دے دے، اگر دل سے یہ کہا، اور اسی پر موت ہوئی تو ممکن ہے کہ اللہ آپ کو معاف کر دیں گے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: