اسلامیات

عقیدہ نمبر4 : رویت باری اللہ کو دیکھنا

مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن

اس عقیدے کے بارے میں 5 آیتیں اور 10 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
معراج کی رات میں حضور ﷺ نے اللہ کو دیکھا یا نہیں اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے
1۔۔ایک جماعت کہتی ہے کہ حضور ؐ نے اللہ کو نہیں دیکھا
2۔۔دوسری جماعت یہ کہتی ہے کہ اللہ کو دیکھا ہے لیکن اس کے نور کو دیکھا ہے۔ بہر حال دیکھا ضرور ہے۔اکثر حضرات کی رائے یہی ہے
3۔۔تیسری جماعت یہ کہتی ہے کہ، اوپر سے سر سری دیکھا ہے، اندر کی حالت کو نہیں دیکھا، اور وہ دیکھ بھی نہیں سکتے، کیونکہ اللہ کی ذات لا منتہی ہے
4۔۔چوتھی جماعت یہ کہتی ہے کہ اللہ کو دل سے دیکھا ہے
البتہ سب نے یہ بات ضرور کہی کہ آخرت میں مومن اللہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے
ہر ایک کی دلائل یہ ہیں
پہلی جماعت۔ جن حضرات نے کہا کہ اللہ کو نہیں دیکھا
، ان کی دلائل یہ ہیں
حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کو دیکھنے کی فرمائش کی تو اللہ نے کہا کہ اس پہاڑ کو دیکھو، یعنی طور پہاڑ کو دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ پرٹھہر گیا تو تم مجھے دیکھ سکو گے، اور اگر وہ اپنی جگہ پر نہیں ٹھہرا تو تم دنیا میں مجھے نہیں دیکھ سکو گے، اللہ نے جب پہاڑ پر تجلی فرمایائی تو پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا، اور حضرت موسی علیہ السلام بے ہوش ہو گئے جس سے معلوم ہوا کہ دنیا میں اللہ تعالی کو دیکھنا نا ممکن ہے، کیونکہ دنیا میں ہماری آنکھیں ایسی نہیں ہیں کہ اللہ کو دیکھ سکیں۔
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
1۔ قال ربی ارنی انظر الیک قال لن ترانی، و لکن انظر الی الجبل فان استقر مکانہ فسوف ترانی،فلما تجلی ربہ للجبل جعلہ دکا و خر موسی صعقا ۔(آیت ۳۴۱، سورت الاعراف۷)
ترجمہ۔ میرے رب مجھے دیدار کرا دیجئے کہ میں آپ کو دیکھ لوں، فرمایا!تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکو گے، البتہ پہاڑ کی طرف نظر اٹھاؤ، اس کے بعد اگر وہ اپنی جگہ برقرار رہا تو تم مجھے دیکھ لوگے،پھر جب انکے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اس کو ریزہ ریزہ کر دیا، اورحضرت موسی بے ہوش ہو کر گر پڑے
اس آیت میں ہے کہ حضرت موسی ؑ نے اللہ کو نہیں دیکھا، اس لئے دنیا میں ان آنکھوں کے ساتھ اللہ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے، ہاں آخرت میں دیدار ہو گی۔
2۔ لا تدرکہ الابصار و ہو یدرک الابصار و ہو اللطیف الخبیر ] آیت ۳۰۱، سورت الانعام۶)
ترجمہ۔ نگاہیں اللہ کو نہیں پا سکتیں، اور وہ تمام نگاہوں کو پا لیتا ہے، اس کی ذات بہت لطیف ہے، اور وہ بہت با خبر ہے
اس آیت میں ہے کہ نگاہ اللہ کو نہیں پا سکتی، اس لئے اللہ کی ذات کو نہیں دیکھ سکتی ہے
3۔و ما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من ورای حجاب] آیت ۱۵، سورت الشوری ۲۴)۔ (بخاری شریف، کتاب التفسیر، سورت النجم ۳۵، ص ۰۶۸، نمبر ۵۵۸۴)
ترجمہ۔ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں ہے کہ للہ اس سے روبرو بات کرے، سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعہ ہو، یا کسی پردے کے پیچھے سے بات کرے
اس آیت میں ہے کہ اللہ دنیا میں کسی آدمی سے وحی کے واسطے سے بات کرتے ہیں، یا حجاب میں بات کرتے ہیں، اس لئے کچھ حضرات کا یہ کہنا ہے کہ معراج کی رات میں حضور نے حجاب ہی میں اللہ سے بات کی ہیں، اللہ کو آ نکھوں سے نہیں دیکھا۔
حضرت عائشہ ؓ کا موقف یہ ہے کہ دنیا میں اللہ کو نہیں دیکھا جا سکتا ہے
احادیث یہ ہیں
1۔عن مسروق قال:قلت لعائشہ ؓ یا امتاہ ہل رأی محمد ﷺ ربہ؟ فقالت لقد قف شعری مما قلت،این انت من ثلاث، من حدثکہن فقد کذب؟من حدثک ان محمدا ﷺ رأی ربہ فقد کذب، ثم قرأت( لا تدرکہ الابصار و ہو یدرک الابصار و ہو اللطیف الخبیر ] آیت ۳۰۱، سورت الانعام۶) (بخاری شریف، کتاب التفسیر، سورت النجم ۳۵، ص ۰۶۸، نمبر ۵۵۸۴)
۔ترجمہ۔ حضرت مسروق نے کہا کہ،میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ، ائے اماں، کیا حضور ؐ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ، تمہاری بات سے تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، یہ تین باتیں تمہیں پتہ نہیں ہے! ان تینوں باتوں کے بارے میں کوئی بات کرے تو یہ جھوٹ ہے، جو یہ کہے کہ محمد ؐ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو یہ جھوٹ ہے، پھر یہ آیت پڑھی،( لا تدرکہ الابصار و ہو یدرک الابصار و ہو اللطیف الخبیر)،ترجمہ، نگاہیں اللہ کو نہیں پا سکتیں، اور وہ تمام نگاہوں کو پا لیتا ہے،اس کی ذات اتنی ہی لطیف ہے، اور وہ اتنا ہی باخبر ہے
اس حدیث میں ہے کہ حضور ؐ نے اللہ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے۔
2۔عن مسروق۔۔۔یا ام المومنین أنظرنی و لا تعجلینی۔ ألم یقل اللہ تعالی (و لقد رأہ بالافق المبین (آیت ۳۲، سورت التکویر۱۸) (و لقد رء اہ نزلۃ أخری (آیت ۳۱، سورت النجم ۳۵)، فقالت انا اول ھذہ الامۃ سأل عن ذالک رسول اللہ ﷺ فقال انما ھو جبریل علیہ السلام ۔ لم اراہ علی صورتہ التی خلق علیھا غیر ھاتین المرتین رأیتہ منھبطا من السماء سادا عظم خلقہ ما بین السماء الی الارض۔ (مسلم شریف، کتاب الایمان، باب معنی قول اللہ عز و جل، و لقد رئاہ نزلۃ اخری، و ھل رأی النبی ربہ لیلۃ الاسراء، ص۰۹، نمبر ۷۷۱ / ۹۳۴)
۔ترجمہ۔ حضرت مسروق نے کہا، ام المومنین مجھے مہلت دیں اور جلدی نہ کریں، کیا اللہ تعالی نہیں کہا (و لقد رأہ بالافق المبین) اور (و لقد رء اہ نزلۃ أخری،)کہ حضور ؐ نے افق المبین پر دیکھا، اور اس کو دوسری مرتبہ دیکھا۔ تو حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اس امت کا میں پہلا آدمی ہوں جس نے حضور ؐ کو اس بارے میں پوچھا، تو حضور ؐ نے فرمایا کہ، وہ جبرئیل ؑ کو دیکھا ہے، ان دو مرتبوں کے علاوہ میں نے جبرئیل ؑ کو اپنی اصلی صورت پر نہیں دیکھی ہے، میں انکو دیکھا کہ وہ آسمان سے اتر رہے ہیں، اور انکی خلقت نے زمین اور آسمان کے درمیانی حصے کو بھر دیا ہے
اس آیت میں حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ ،و لقد رأہ بالافق المبین، اور،و لقد رئاہ نزلۃ أخری، میں جو دیکھنے کا تذکرہ ہے وہ اللہ کو دیکھنا نہیں ہے، بلکہ حضور ؐ نے حضرت جبرائیل ؑ کو انکی اصلی حالت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔
اس حدیث سے بھی یہ ثابت ہوا کہ حضور ؐ نے دنیا میں اللہ کو نہیں دیکھا ہے
3۔ عن ابی ذر قال سألت رسول اللہ ﷺ ہل رأیت ربک؟ قال نور أنی أراہ؟۔ (مسلم شریف، کتاب الایمان، باب قولہ علیہ السلام نور انی اراہ، ص ۱۹، نمبر ۸۷۱/ ۳۴۴)
ترجمہ۔ حضرت ابو ذر ؓ فرماتے ہیں کہ، میں نے حضور ؐ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو فرمایا کہ، وہ تو نور ہے، اس کو کیسے دیکھ سکتا ہوں
اس حدیث میں ہے کہ۔حضور ؐ سے پوچھا گیا کہ معراج کی رات میں آپ نے اللہ تعالی کو دیکھا ہے، تو آپ نے فرمایا کہ اس کا حجاب نور ہے ] اس لئے اس کو کیسے دیکھا جا سکتا ہے۔
َ4۔عن ابی موسی قال قام فینا رسول اللہ ﷺ بخمس کلمات….حجابہ نور۔ و فی روایۃ ابی بکر، النار۔ لو کشفہ لاحرقت سبحات وجہہ ما انتہی الیہ بصرہ من خلقہ۔ (مسلم شریف، کتاب الایمان، باب قولہ علیہ السلام ان اللہ لا ینام،ص ۱۹، نمبر ۹۷۱/ ۵۴۴)
ترجمہ۔ حضور ؐ ہمارے درمیان پانچ کلمات لیکر کھڑے ہوئے۔۔۔آپ نے فرمایا کہ اللہ کا حجاب نور ہے، اور ابو بکر کی روایت میں ہے کہ، نار، ہے، اگر اس کو لوگوں کے سامنے کھول دے تو اس کے چہرے کی چمک سے جہاں تک نظر جائے گی وہاں جل کر راکھ ہو جائے گی
ان تینوں حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پر نور کا حجاب ہے، اس لئے دنیا میں اس کو نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔
2۔دوسری جماعت
دوسری جماعت یہ کہتی ہے کہ اللہ کو دیکھا ہے لیکن اس کے نور کو دیکھا ہے۔ بہر حال دیکھا ضرور ہے۔
اکثر حضرات کی رائے یہی ہے
ان کی دلیل یہ حدیث ہے
5۔قلت لابی ذر…. قال کنتُ اسألہ: ہل رأیت ربک؟ قال ابو ذر قد سألتہ فقال رأیت ُ نورا۔ (مسلم شریف، کتاب الایمان، باب قولہ علیہ السلام نور انی اراہ، ص ۱۹، نمبر ۸۷۱/ ۴۴۴)
ترجمہ۔ میں نے حضرت ابو ذر سے پوچھا۔۔۔میں نے حضور ؐ سے پوچھا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا، تو حضور ؐ نے فرمایا کہ، کہ میں نے نور دیکھا۔
اس حدیث میں ہے کہ میں نے اللہ کے نور کو دیکھا ہے

3۔تیسری جماعت
تیسری جماعت یہ کہتی ہے کہ، اوپر سے سر سری دیکھا ہے، اندر کی حالت کو نہیں دیکھا، اور وہ دیکھ بھی نہیں سکتے، کیونکہ اللہ کی ذات لا منتہی ہے
ان کی دلیل یہ قول صحابی ہے
6۔قال سمعت عکرمۃ یقول سمعت ابن عباس یقول ان محمدا ﷺ رای ربہ عز و جل۔ (سنن کبری للنسائی، باب قولہ تعالی ما کذب الفواد و ما رای، ج ۰۱، ص ۶۷۲، نمبر ۳۷۴۱۱/ طبرانی کبیر، باب عکرمۃ عن ابن عباس، ج ۱۱، ص ۲۴۲، نمبر ۹۱۶۱۱)
ترجمہ۔ حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے کہتے ہوئے سنا ہے کہ، محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے
لیکن آیت میں ہے کہ اللہ کو نگاہیں نہیں پا سکتیں ] لا تدرکہ الابصار [ اس لئے یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ کو ظاہری طور پر سرسری دیکھا ہے

4۔چوتھی جماعت یہ ہے کہ اللہ کو دل سے دیکھا ہے
7۔عن یوسف بن مہران عن ابن عباس۔(ما کذب الفؤادما رای ] سورت النجم ۳۵، آیت ۱۱) قال رای ربہ عز و جل بفوادہ۔ (طبرانی کبیر، باب یوسف بن مہران عن ابن عباس، ج ۲۱، ص ۹۱۲، نمبر ۱۴۹۲۱)
ترجمہ۔حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ (ما کذب الفؤادما رای) جو آیت ہے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ، حضور ؐ نے اپنے رب کو دل سے دیکھا ہے۔
اس قول صحابی میں ہے کہ حضور ؐ نے اللہ کو دل سے دیکھا ہے مومن آخرت میں اللہ کو دیکھیں گے
پچھلے زمانے میں جہمیہ فرقے نے آخرت میں بھی اللہ کو دیکھنے کا انکار کیا تھا، اس زمانے میں اس پر اتفاق ہو گیا ہے کہ اللہ کی رویت ہو گی۔
آخرت میں اللہ ایسی آنکھ پیدا کر دیں گے کہ مومن اللہ کو سامنے دیکھ رہے ہوں گے۔
اس کے لئے آیتیں یہ ہیں
4۔وجوہ یومئذ نا ضرۃ الی ربہا ناظرۃ۔(آیت ۳۲، سورت القیامۃ ۵۷)
ترجمہ۔ قیامت کے دن بہت سے چہرے شاداب ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے
8۔ان ابا ہریرۃ اخبرہ ان ناسا قالوا لرسول اللہ ﷺ یا رسول اللہ ھل نری ربنا یوم القیامۃ۔۔۔ھل تضارون فی الشمس لیس دونھا سحاب؟ قالوا لا، یا رسول اللہ! قال فانکم ترونہ کذالک۔ (مسلم شریف، کتاب الایمان، باب اثبات رویۃ المومنین فی الآخرۃ ربہم،ص۲۹، نمبر ۲۸۱ /۱۵۴/ ابن ماجۃ شریف، باب فیما انکرت الجہمیۃ، ص ۷۲، نمبر ۸۷۱)
ترجمہ۔ کچھ لوگوں نے حضور ؐ سے سوال کیا، کہ کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے۔۔۔تو آپ نے فرمایا کہ بادل نہ ہو تو سورج کو دیکھنے میں کوئی پریشانی ہوتی ہے؟ لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ نہیں،، حضور ؐ نے فرمایا، بس ایسے ہی تم بغیر پریشانی کے اللہ کو دیکھو گے۔
اس آیت اور حدیث میں ہے کہ جنت میں اللہ تعالی کا دیدار ہو گا

9۔عن صھیب قال تلا رسول اللہ ﷺ ہذہ الآیۃ (للذین احسنوا الحسنی و زیادۃ ]آیت ۶۲، سورت یونس۰۱)۔و قال اذا دخل اہل الجنۃ الجنۃ و اہل النار النار نادی مناد یا اہل الجنۃ ان لکم عند اللہ موعدا یرید ان ینجزکموہ، فیقولون و ما ہوا؟ الم یثقل اللہ موازیننا و یبیض و جوہنا و یدخلنا الجنۃ و ینجینا من النار قال فیکشف الحجاب فینظرون الیہ فواللہ ما اعطاہ اللہ شیئا احب الیہم من النظر یعنی الیہ۔ و لا اقرلاعینہم۔ (ابن ماجۃ شریف، کتاب مقدمۃ، باب فیما انکرت الجہمیۃ، ص ۸۲، نمبر ۷۸۱/ مسلم شریف، کتاب الایمان، باب اثبات رویۃ المومنین فی الآخرۃ ربہم،ص۲۹، نمبر ۱۸۱ /۹۴۴)
ترجمہ۔ حضرت صھیب ؓ نے فرمایا کہ حضور ؐ نے یہ آیت تلاوت کی،للذین احسنوا الحسنی و زیادۃ،،ترجمہ۔ جس نے اچھا کام کیا، اس کے لئے حسنی، بہتری ہو گی، اور کچھ زیادہ بھی ملے گی ، اس کے بارے میں حضور ؐ نے فرمایا کہ جب جنت والے جنت میں داخل ہو جائیں گے، اور جہنم والے جہنم میں داخل ہو جائیں گے، تو ایک پکارنے والا پکارے گا، آئے جنت والو! اللہ کے پاس تمہارا ایک وعدہ ہے، اللہ چاہتے ہیں کہ اللہ تم کو اس کا بدلہ دے دیں، تو لوگ پوچھیں گے وہ کیا ہے، اللہ نے ہمارے وزن کو بھاری نہیں کر دیا، اور ہمارے چہرے کو شاداب کیا، اور ہم کو جنت میں داخل کیا، جہنم سے چھٹکارا دیا ] اس سے زیادہ اور کیا دیں گے [، تو اللہ حجاب اٹھائیں گے گے، پھر لوگ اللہ کی طرف دیکھیں گے،خدا کی قسم اللہ نے جتنا ان لوگوں کونعمت دی تھی، اللہ کو دیکھنا ان سب سے بہتر ہو گا، اور ان کی آنکھوں کے لئے سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز ہو گی۔

10۔ان ابا ہریرۃ اخبرہما…..قال فہل تمارون فی رویۃ الشمس لیس دونہا سحاب؟ قالوا لا قال فانکم ترونہ کذالک۔ (بخاری شریف، کتاب الآذان، باب فضل السجود، ص ۰۳۱، نمبر ۶۰۸)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا کہ بادل نہ ہو تو سورج کو دیکھنے میں کوئی شک ہوتا ہے، لوگوں نے کہا نہیں! حضور ؐ نے فرمایا کہ تم اسی طرح بغیر شک کے اللہ کو دیکھو گے۔

جہمیہ فرقے نے کہا تھا کہ آخرت میں بھی اللہ کا دیدار نہیں ہو گا
ان کی دلیل یہ آیت ہے
5۔( لا تدرکہ الابصار و ہو یدرک الابصار و ہو اللطیف الخبیر ] آیت ۳۰۱، سورت الانعام ۶)
ترجمہ۔ نگائیں اس کو نہیں پا سکتیں، اور وہ تمام نگاہوں کو پا لیتا ہے، اس کی ذات اتنی ہی لطیف ہے، اور وہ اتنا ہی با خبر ہے
اس آیت میں ہے کہ نگاہ اللہ کو نہیں پا سکتی، جس سے انہوں نے استدلال کیا ہے کہ ہم آخرت میں بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکیں گے
جمہور نے اس آیت کا جواب یہ دیا ہے کہ درک کا معنی ہے پورے طور پر گھیرنا، ہماری آنکھیں اللہ کی ذات کو گھیر نہیں سکتی، صرف دیکھ سکتی ہے، اور اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جنت میں بھی ہم اللہ کو دیکھیں گے، لیکن اس کو احاطہ نہیں کر پائیں گے، کیونکہ یہ نا ممکن ہے۔ اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اللہ کو آخرت میں دیکھ ہی نہیں پائیں گے۔

اس عقیدے کے بارے میں 5 آیتیں اور 10 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: