اسلامیات

عقیدہ نمبر6 ۔حضور ﷺ بشر ہیں

مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن

لیکن اللہ کے بعد تمام کائنات سے افضل ہیں
اس عقیدے کے بارے میں 28 آیتیں اور 8 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں
حضور پر جو آیتیں اتری ہیں وہ نور ہیں، آپ کی رسالت نور ہے، آپ پر اترا ہوا قرآن نور ہے، ایمان نور ہے، اور یہ تمام صفتیں حضور میں اتم درجے میں ہیں اس لئے ان صفات کے اعتبار سے آپ نوری ہیں، لیکن ذات کے اعتبار سے آپ انسان ہیں کیونکہ آپ انسان میں پیدا کئے گئے ہیں، آپ کھاتے تھے، پیتے تھے، شادی بیاہ کی، اور انسان کی طرح زندگی گزاری۔
ع بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
آپ ﷺ مخلوق میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں
اس کے لئے حدیثیں یہ ہیں
1۔عن ابن عباس قال اوحی اللہ الی عیسی بن مریم۔۔۔فلولا محمد ما خلقت آدم، و لولا محمد ما خلقت الجنۃ و لا النار، و لقد خلقت العرش علی الماء فاضطرب فکتبت علیہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ فسکن۔ (مستدرک للحاکم، و من کتاب آیات رسول اللہ التی ھی دلائل النبوۃ، ج ۲، ص ۲۷۶، نمبر ۷۲۲۴/ متوفی ۵۰۴ھ)
ترجمہ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں، کہ اللہ نے حضرت عیسی ؑ کو وحی بھیجی۔۔۔اللہ نے فرمایا، محمد ؐ نہیں ہوتے تو میں حضرت آدم کو پیدا نہیں کرتا،، اور محمد ؐ نہیں ہوتے تو میں جنت اور جہنم پیدا نہیں کرتا، میں نے عرش کو پانی پر پیدا کیا تو وہ ہلنے لگا، تو میں نے اس عرش پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، لکھا تو وہ ساکن ہو گیا۔
2۔عن عمر بن الخطاب قال قال رسول اللہ ﷺ لما اقترف آدم الخطیۃ۔۔۔فرأیت علی قوائم العرش مکتوبا، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ،فعلمت انک لم تضف الی ا سمک الا احب الخلق الیک، فقال اللہ: صدقت یا آدم انہ لاحب الخلق الی، ادعنی بحقہ فقد غفرت لک، و لولا محمد ما خلقتک۔ (مستدرک للحاکم، و من کتاب آیات رسول اللہ التی ھی دلائل النبوۃ، ج ۲، ص ۲۷۶، نمبر ۸۲۲۴/ متوفی ۵۰۴ھ)
ترجمہ۔ حضور ؐ نے فرمایا جب حضرت آدم ؑ نے غلطی کی۔۔۔میں نے عرش کے پائے پر، لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، لکھا ہوا دیکھا، تو سمجھ گیا کہ اللہ اپنے نام کے ساتھ صرف محبوب کو ہی ملا سکتا ہے، تو اللہ نے فرمایا، آدم! تم نے سچ کہا، حضرت محمد، مجھکو مخلوق میں سے سب سے زیادہ محبوب ہیں، آپ نے ان کا وسیلہ لیکر دعا کی تو میں نے تم کو معاف کر دیا، اگر محمد نہ ہوتے تو میں تمہیں بھی پیدا نہ کرتا۔
ان دونوں حدیثوں سے یہ معلوم ہوا کہ حضور کائنات میں سے سب سے افضل ہیں۔
نوٹ: یہ حدیث صحاح ستہ، یا انکے اوپر کی کتاب میں مجھے نہیں ملی، اور اور حاشیہ والے نے لکھا ہے کہ میرا گمان یہ ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے، لیکن چونکہ فضیلت میں یہ حدیث تھی، اس لئے ناچیزنے اس کو ذکر کر دیا۔
حضور ﷺ سے اعلان کروایا گیا کہ میں انسان ہوں
ان 3 آیتوں میں حصر اور تاکید کے ساتھ آپ ؐسے اعلان کروایا گیا ہے کہ آپ بشر ہی ہیں، البتہ آپ پر وحی آتی ہے، جو بہت بڑی فضیلت کی چیز ہے۔
1۔قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھاکم الہ واحد۔ (آیت ۰۱۱، سورۃ الکہف ۸۱)
ترجمہ۔آپ کہہ دیجئے، کہ میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں، البتہ مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا بس ایک ہی خدا ہے
2۔قل انما انا بشر مثلکم یوحی الی انما الھاکم الہ واحد۔ (آیت ۶، سورۃ فصلت۱۴)
ترجمہ۔آپ کہہ دیجئے، کہ میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں، البتہ مجھ پر یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا بس ایک ہی خدا ہے
3۔قل سبحان ربی ہل کنت الا بشرا رسولا۔ (آیت ۳۹،سورت الاسراء ۷۱)
ترجمہ۔ کہہ دیجئے،سبحان اللہ، میں تو ایک بشر ہوں، جسے پیغمبر بنا کر بھیجا گیا
ان تینوں آیتوں میں اعلان کروایا گیا کہ میں تمہاری طرح انسان ہو ں، البتہ میرے پا س وحی آتی ہے
4۔و ما جعلنا لبشر من قبلک الخلد أفان مت فہم الخالدون (آیت۴۳، سورۃ الانبیاء ۱۲ )ترجمہ۔ اے پیغمبر تم سے پہلے بھی ہمیشہ زندہ رہنا ہم نے کسی فرد بشر کے لئے طے نہیں کیا، چنانچہ اگر آپ کا انتقال ہو گیا تو کیا یہ لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ زندہ رہیں گے
5۔قالت لہم رسلہم ان نحن الا بشر مثلکم۔ (آیت ۱۱، سورۃ ابراہیم۴۱)
ترجمہ۔ ان قوموں سے ان کے پیغمبروں نے کہا، ہم واقعی تمہارے ہی جیسے انسان ہیں
6۔و ما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الا وحیا او من وراء حجاب (آیت ۱۵،الشوری ۲۴ (
ترجمہ۔ کسی انسان میں یہ طاقت نہیں کہ اللہ اس سے رو برو بات کرے، سوائے اس کے کہ وہ وحی کے ذریعہ ہو، یا کسی پردے کے پیچھے سے ہو۔
ان 3 آیتوں میں اعلان تو نہیں کروایا، لیکن اشارہ ہے کہ رسول انسان ہوتے ہیں
ان حدیثوں میں حضور ؐنے اعلان کیا ہے کہ میں انسان ہوں
حدیثیں یہ ہیں
3۔قال عبد اللہ صلی النبی ﷺ…..قال انہ لو حدث فی الصلوۃ شیء لنبأتکم بہ و لکن انما انا بشر مثلکم انسی کما تنسون فاذا نسیت فذکرونی۔ (بخاری شریف، کتاب الصلاۃ، باب التوجہ نحو القبلۃ حیث کان، ص ۰۷، نمبر ۱۰۴/ مسلم شریف، کتاب المساجد، باب السہو فی الصلاۃ والسجود لہ، ص ۲۳۲،نمبر ۲۷۵، / ۵۸۲۱)
ترجمہ۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ حضور ؐ نے نماز پڑھائی۔۔۔حضور ؐ نے فرمایا کہ نماز میں کوئی نیا حکم آتا تو میں تم لوگوں کو ضرور بتاتا، میں تمہاری طرح انسان ہوں، جس طرح تم بھولتے ہو میں بھی بھولتا ہوں، پس جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد دلایا کرو۔
4۔ان امہا ام سلمۃ زوج النبی ﷺ…..فخرج الیہم فقال: انما انا بشر و انہ یأتینی الخصم فلعل بعضکم ان یکون ابلغ من بعض فاحسب انہ صدق فاقضی لہ بذالک۔ (بخاری شریف، کتاب المظالم،باب اثم من خاصم فی باطل و ہو یعلمہ، ص ۶۹۳، نمبر ۸۵۴۲)
ترجمہ۔ ام سلمی ؓ نے فرمایا کہ۔۔۔۔حضور ؐ ان جھگڑنے والوں کے پاس آئے اور فرمایا کہ، میں انسان ہوں، میرے پاس مدعی اور مدعی علیہ آتے ہیں، ایسا ہوسکتا ہے کہ بعض آدمی اپنی دلیل پیش کرنے میں زیادہ ماہر ہو، جس سے میں گمان کر لوں کہ یہی سچا ہے، جس کی وجہ سے میں اس کے لئے چیز کا فیصلہ کردوں۔
5۔انہ سمع موسی بن طلحۃ بن عبید اللہ یحدث عن ابیہ، قال مررت مع رسول اللہ ﷺ فی نخل……فبلغ النبی ﷺ فقال انما ھو الظن ان کان یغنی شیئا فا صنعوہ، فانما انا بشر مثلکم، و ان الظن یخطی و یصیب ۔ (ابن ماجۃ شریف،کتاب الرہون، باب تلقیح النخل، ص ۴۵۳، نمبر ۰۷۴۲)
ترجمہ۔ حضور ؐ کھجور کے باغ سے گزر رہے تھے۔۔۔حضور ؐ کو یہ بات پہنچی کی ] اس سال کھجور کم آئی ہے [ تو آپ نے فرمایا کہ یہ ایک میرا گمان تھا، اگر کوئی چیز کام آتی ہو تو اس کو کر لو، میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں، گمان کبھی صحیح بھی ہوتا ہے، اور کبھی غلط بھی ہو تا ہے۔
ان 6 آیات اور 3 حادیث میں بار بار آپ نے اعلان کیا ہے کہ میں انسان ہوں۔
یوں بھی حضور ﷺانسانی نسل میں پیدا ہوئے ہیں، انسانی نسل میں شادی بیاہ کی ہے تو آپ نور کیسے ہو سکتے ہیں!
انسان فرشتوں سے بھی اعلی ہے
انسان فرشتوں سے بھی اعلی ہے، اس لئے اس کو فرشتوں میں، یا نوری مخلوق میں داخل کرنا مناسب نہیں ہے
اس کی دلیل یہ ہے۔
شرح عقائد میں عبارت یہ ہے۔ رسل البشر افضل من رسل الملائکۃ، و رسل الملائکۃ افضل من عامۃ البشر، و عامۃ البشر افضل من عامۃ الملائکۃ۔ (شرح عقائد النسفیۃ، ص ۶۷۱) ترجمہ۔ انسان میں جو رسول ہیں وہ فرشتوں کے رسول سے افضل ہیں،اور فرشتوں میں جو رسول ہیں وہ عام انسان سے افضل ہیں، اور عام انسان عام فرشتوں سے افضل ہیں
شرح عقائد کی عبارت سے تین باتیں معلوم ہوئیں
]۱[۔۔عام انسان عام فرشتوں سے افضل ہیں۔
]۲[۔۔بڑے فرشتے جنکو فرشتوں کا رسول کہتے ہیں وہ عام انسانوں سے افضل ہیں۔
]۳[۔۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ فرشتوں کے رسولوں سے بھی انسان کے رسول افضل ہیں۔
، اس لئے حضور ﷺ انسان ہونے کے ناطے تمام فرشتوں سے افضل ہیں
، اس لئے آپ ﷺ کو نوری مخلوق میں شامل کرنا،آپ ؐ کی حیثیت کو گرانا ہے
اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ
حضور ﷺ اللہ کے بعد سب سے افضل ہیں
اس لئے کہ حضور ﷺ مخلوق میں ۷ درجے اوپر ہیں
]۱[ کیونکہ حضو ر ﷺ خاتم الرسل ہیں
]۲[ آپ ؐ کے نیچے تمام رسول ہیں
]۳[ ان کے نیچے تمام نبی ہیں
]۴[ ان کے نیچے بڑے فرشتے ہیں
]۵[ ان کے نیچے عام انسان ہیں
]۶[ ان کے نیچے عام فرشتے ہیں
]۷[ ان کے نیچے باقی مخلوقات ہیں
وہ آیتیں جن میں انسان کو فرشتوں سے افضل شمار کیا گیا ہے
عام انسان عام فرشتوں سے افضل ہیں
اس کی دلیل یہ آیتیں ہیں
7۔و لقد خلقلناکم ثم صورنا کم ثم قلنا للملائکۃ اسجدوا لآدم فسجدوا لا ابلیس۔ (آیت ۱۱، سورت الاعراف ۷)۔ترجمہ۔ اور ہم نے تمہیں پیدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا، آدم کو سجدہ کرو، چنانچہ سب نے سجدہ کیا ، سوائے ابلیس کے۔
8۔فسجد الملائکۃ کلہم اجمعون۔ ( آیت۰۳، سورت الحجر ۵۱)
ترجمہ۔ چنانچہ سارے کے سارے فرشتوں نے حضرت آدم ؑ کو سجدہ کیا
9۔فسجد الملائکۃ کلہم اجمعون۔ ( آیت۳۷، سورت ص۸۳)
ترجمہ۔ چنانچہ سارے کے سارے فرشتوں نے سجدہ کیا
ان 3آیتوں میں ہے کہ سارے فرشتوں سے انسان کو تعظیمی سجدہ کرایا گیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ عام انسان عام فرشتوں سے افضل ہیں
10۔و لقد کرمنا بنی آدم و حملنا ہم فی البر و البحر۔ (آیت۰۷، سورت الاسراء ۷۱)
ترجمہ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے آدم کی اولاد کو عزت بخشی، اور انہیں خشکی اور سمندر دونوں میں سواریاں مہیا کی ہیں
11۔و التین و الزیتون و طورسینین و ہذا البلد آمین لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم۔ (آیت ۱۔۴۔ سورت التین ۵۹)
ترجمہ۔ قسم ہے انجیر اور زیتون کی، اور صحرائے سینا کے طور پہاڑ کی، اور اس امن و امان والے شہر کی، کہ ہم نے انسان کو بہترین سانچے میں ڈھال کر پیدا کیا ہے
ان آیتوں میں چار قسمیں کھا کر کہا کہ انسان کو بہت اچھے انداز میں پیدا کیا ہے۔
12۔ و علم آدم الاسماء کلہا ثم عرضہم علی الملائکۃ فقال انبؤنی باسماء ہاولاء ان کنتم صادقین، قالوا سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العزیز الحکیم، قال یا ٓدم أنۂم باسماء ہم فلما انباۂم باسماۂم، قال الم اقل لکم انی اعلم غیب السموات و الارض ۔ (آیت میں ۱۳۔ ۳۳، سورت البقرۃ ۲)
ترجمہ۔ اور آدم کو اللہ نے سارے کے سارے نام سکھائے، پھر ان کوفرشتوں کے سامنے پیش کیا، اور ان سے کہا، اگر تم سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتاؤ، فرشتہ بول اٹھے آپ ہی کی ذات پاک ہے، جو کچھ علم آپ نے ہمیں دیا ہے اس کے سوا ہم کچھ نہیں جانتے، حقیقت میں علم و حکمت کے مالک تو صرف آپ ہیں، اللہ نے کہا، آدم تم ان کو ان چیزوں کے نام بتا دو، چنانچہ جب حضرت آدم نے ان کے نام ان کو بتا دئے تو اللہ نے فرشتوں سے کہا، کہا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کے بھید جانتا ہوں
ان 6 آیات سے معلوم ہوا کہ عام آدمی عام فرشتوں سے افضل ہے، اسی لئے تو انسان کو اشراف المخلوقات کہتے ہیں
اور انسانی رسول فرشتوں کے رسول سے افضل اس لئے ہیں، کہ سب سے بڑے اور افضل فرشتہ جبریل علیہ السلام ہیں، اور جبریل علیہ السلام تما م رسولوں کو پیغام پہنچاتے تھے، جس سے معلوم ہوا کہ رسول اہم فرشتوں سے افضل ہیں۔
معراج کی رات حضرت جبریل ؑ حضور کے خادم بن کر حضور ؐ کو آسمان پر لے گئے تھے، اس سے بھی معلوم ہوا کہ حضور ﷺ سب فرشتوں سے افضل ہیں۔
اس کے لئے حدیث یہ ہے
6۔مضطجعا اذا اتانی آت…..فانطلق بی جبریل حتی اتی السماء الدنیا فاستفتح….ثم رفع لی البیت المعمور، الخ۔ (بخاری شریف، کتاب مناقب الانصار، باب المعراج، ص ۲۵۶، نمبر ۷۸۸۳) ترجمہ۔ میں حطیم میں سویا ہوا تھا۔۔۔مجھکو جبرئیل علیہ السلام لے گئے، یہاں تک کہ سماء دنیا تک لائے، اور دروازہ کھلوایا۔۔۔ پھر بیت المعمور تک مجھے لے گئے
اس حدیث میں حضرت جبرئیل ؑ خادم بن کر حضور کو معراج میں لے گئے ہیں، اس لئے حضور ؐ تمام فرشتوں سے بھی افضل ہیں

اور حضور ﷺ سب رسولوں سے افضل ہیں اس کے لئے کئی آیتیں گزر چکی ہیں
ایک آیت یہ بھی ہے
13۔ و ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبیین۔ (آیت۰۴، سورت الاحزاب۳۳)
ترجمہ۔ مسلمانو! محمد ﷺ تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول ہیں، اور تمام نبیوں میں سے سب سے آخری نبی ہیں۔
ان 7 آیت اور ایک حدیث سے معلوم ہوا کہ انسان فرشتوں سے افضل ہیں، اور حضورسب سے افضل ہیں
ہندؤوں کا عقیدہ ہے کہ بھگوان
انکی دیوی اوردیوتا کے روپ میں آتے رہے ہیں،
ہندؤوں کا عقیدہ یہ ہے کہ بھگوان یعنی خدا انکی دیوی اور دیوتاؤوں کے روپ اور شکل میں آتے رہے ہیں، اور آج بھی آتے رہتے ہیں، اسی لئے وہ دیوی اور دیوتاؤوں کی پوجا کرتے ہیں انکے سامنے ماتھا ٹیکتے ہیں، ان پر چڑھاوا چڑھاتے ہیں اور ان سے اپنی حاجتیں مانگتے ہیں،
مسلمانوں کوبھی شبہ نہ ہو کہ خدا حضور ؐ کی شکل میں آئے ہوں، اور یہ بھی اللہ کے نور کا حصہ ہو ں، اس لئے 6 آیتوں میں حضور ؐ سے تاکید کے ساتھ اعلان کروایا کہ میں بشر ہوں، انسان ہوں، میں نوری مخلوق نہیں ہوں، خدا میرے روپ میں،یا شکل میں نہیں آیا ہے، اس لئے نہ میری عبادت کرو، اور نہ مجھ سے اپنی حاجت روائی کی درخواست کرو، میں بھی خدا سے مانگتا ہوں، اور تم بھی خدا ہی سے مانگو، یہی تعلیم دینے کے لئے حضور ؐ ؐ کو مبعوث کیا تھا، اور یہی دین اسلام ہے
وہ آیتیں اور احادیث
جن سے حضور ؐ کے نوری ہونے کا شبہ ہوتا ہے
14۔یا اہل الکتاب قد جاء کم رسولنا یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتاب و یعفوا عن کثیر قد جاء کم من اللہ نور و کتاب مبین۔ یہدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ سبل السلم و یخرجہم من الظلمات الی النور باذنہ و یہدیہم الی صراط مستقیم (آیت ۵۱۔۶۱، سورت المائدہ ۵)
ترجمہ۔ ائے اہل کتاب تمہارے پاس ہمارے یہ پیغمبر آگئے ہیں، جو کتاب ] تورت اور انجیل [ کی بہت سی باتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں جو تم چھپایا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر کر جاتے ہیں، تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشنی آئی ہے، اور ایک ایسی کتاب جو حق کو واضح کر دینے والی ہے، جس کے ذریعہ اللہ ان لوگوں کو سلامتی کی راہ دکھاتا ہے جو اس کی خوشنودی کے طالب ہیں، اور انہیں اپنے حکم سے اندھیریوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے، اور انہیں سیدھے راستے کی ہدایت عطا کرتا ہے۔
اس آیت میں نور، سے مراد حضور ﷺ کو لیا ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تفسیر جلالین میں نور کی تفسیر میں صرف، ہو النبی ﷺ، کہا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ نور سے محمد ﷺ مرادہیں۔
لیکن تفسیر ابن عباس میں ہے کہ اس آیت میں نور سے مراد حضور ؐ کی رسالت ہے ،
حضرت عبد اللہ ابن عباس کی تفسیر یہ ہے۔ ( قد جائکم من اللہ نور)رسول، یعنی محمد)
یہاں نور کی تفسیر میں پہلے رسول، لائے، پھر محمد، لائے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی رسالت نور ہے، خود حضور کی ذات نور نہیں ہوئی، اور وہ کیسے ہو سکتی ہے کیونکہ پہلے کئی آیتوں میں یہ اعلان کروایا گیا کہ آپ انسان ہیں
آگے آیت نمبر ۶۱ میں نور سے مراد ایمان ہے۔، تفسیر یہ ہے۔.(و یخرجہم من الظلمات الی النور باذنہ)من الکفر الی الایمان۔ (تنویر المقیاس، من تفسیر ابن عباس، ص۹۱۱، آیت۵۱۔۶۱، سورت المائدہ ۵) اس تفسیر میں نور کا ترجمہ ایمان، کیا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ نور کے مختلف ترجمے ہیں
تیسری دلیل یہ ہے کہ، اس آیت کے شروع میں، یا اہل الکتاب قد جائکم رسولنا، کہا ہے اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اہل کتاب کو یہ بتلانا ہے کہ تمہارے پاس میرا رسول آگیا ہے، اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہاں نور سے مراد حضور ؐ کی رسالت ہے
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ، آپ کا دین، آپ کی رسالت اور آپکی ہدایت نور ہے، اور ایسا نور ہے جو سورج اور چاند کی روشنی سے بھی بر تر ہے۔
بعض مفسرین نے نور کی تفسیر صرف محمد ؐ سے کی ہے، جس کی وجہ سے بعض حضرات سمجھتے ہیں کہ حضور ؐ کی ذات نور ہے، لیکن حضرت ابن عباس ؓ کی اصلی تفسیر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حضور کی رسالت مراد ہے، ورنہ نور والی تفسیر دسیوں آیتوں سے متضاد ہو جائے گی۔
نور کا معنی کہیں، نور نبوت ہے، کہیں قرآن ہے، اور کہیں ہدایت ہے، اس لئے ایک مبہم لفظ سے حضور ؐ کو نور ثابت کرنا مشکل ہے۔
یہی وہ آیت ہے جس سے بعض حضرات حضور ﷺ کو نور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ بھی غور فرما لیں۔
اس آیت سے بھی بعض حضرات نے استدلال کیا ہے کہ حضور ﷺ نور ہیں
15۔ یا ایہا النبی انا ارسلناک، شاہدا و مبشرا و نذیرا، و داعیا الی اللہ و سراجا منیرا۔ (آیت ۵۴۔۶۴، سورت احزاب ۳۳)
ترجمہ۔اے نبی بیشک ہم نے تمہیں ایسا بنا کر بھیجا ے کہ تم گواہی دینے والے ہو، خوشخبری سنانے والے ہو، اور خبردار کرنے والے ہو، اور اللہ کے حکم سے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے والے ہو، اور روشنی پھیلانے والے چراغ ہو
حضرت عبد اللہ بن عباس کی تفسیر میں ہے کہ یہاں سرا جا منیرا سے مراد ایسی روشنی ہے جس کی اقتداء کی جائے، یعنی آپ کی ہدایت اور نبوت۔، تفسیر یہ ہے۔(سراجا منیرا) مضیا یقتدی بک۔ (تنویر المقیاس، من تفسیر ابن عباس، ص۶۴۴ آیت۶۴، سورت احزاب۳۳) اس تفسیر میں سراج سے مراد چراغ نہیں ہے، بلکہ آپ کی نبوت والی روشنی ہے، جس کی لوگ اقتداء کریں۔
قرآن میں نور 5 معانی میں استعمال ہوا ہے
قرآن میں نور پانچ 5 معانی میں استعمال ہوا ہے، کبھی قرآن کے معنی میں، کبھی، رسالت کے معنی میں، کبھی ایمان کے معنی میں،،کبھی احکام کے معنی میں،اورکبھی دین کے معنی میں استعمال ہوا ہے، اس لئے قرآن کی اس آیت میں جو،قد جائکم من اللہ نور و کتاب مبین، (آ یت۵۱، سورت المائدہ ۵) میں نور سے حضور ؐ ہی کو لینا ضروری نہیں ہے، اس سے انکی رسالت بھی مراد ہو سکتی ہے جیسا کہ تفسیر ابن عباس میں نور سے حضور ؐ کی رسالت مراد لی ہے ، اور اگر اس نور سے حضور ؐ کی ذات مراد لیتے ہیں تو یہ آیت اوپر کی12 آیتوں کے خلاف ہو جائے گی، جس میں حصر اور تاکید کے ساتھ یہ اعلان کروایا گیا ہے کہ میں انسان ہوں
آپ خود بھی غور کر لیں
1۔ ان دو آیتوں میں نور سے قرآن مراد ہے
16۔و اتبعوا النور الذی انزل معہ اولئک ھم المفلحون (آیت ۷۵۱، اعراف ۷)
تفسیر ابن عباس میں یہاں نور سے مراد قرآن ہے۔ (و اتبعوا النور) القرآن۔ (۷۵۱/۷)
17۔ ما کنت تدری ما الکتاب و لا الایمان و لکن جعلناہ نورا۔ (آیت ۲۵، الشوری ۲۴) تفسیر ابن عباس میں یہاں قرآن کو نور کہا ہے۔ (ولکن جعلناہ) قلناہ یعنی القرآن (نورا) بیانا للامر و النھی (۲۵/۲۴)
ان آیتوں میں نور سے قرآن مراد لیا گیا ہے
2۔ا ن دو آیتوں میں نور سے مراد ایمان ہے
19۔ و یخرجھم من الظلمات الی النور باذنہ۔ (آیت ۶۱، سورت المائدۃ ۵)
تفسیر ابن عباس میں یہاں نور سے مراد ایمان ہے (و یخرجھم من الظلمات الی النور) من الکفر الی الایمان۔ (آیت ۶۱، سورت المائدۃ ۵)
20۔ہو الذی یصلی علیکم و ملائکتہ لیخرجکم من الظلمات الی النور و کان بالمومنین رحیما۔ (آیت ۳۴، سورت الاحزاب ۳۳)
حضرت عبد اللہ بن عباس کی تفسیر میں ہے کہ یہاں نور سے مراد ا ایمان ہے، اور ظلمات سے مراد کفر ہے ۔، تفسیر یہ ہے۔(لیخرجکم من الظلمات الی النور ) قد اخرجکم من الکفر الی الایمان ۔ (، آیت۳۴، سورت الاحزاب۳۳) اس تفسیر میں نور کا ترجمہ ایمان ہے۔
3 ۔اس آیت میں نور سے مراد احکام ہیں
21۔انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدی و نور۔ (آیت ۴۴، سورت المائدہ ۵)
تفسیر ابن عباس میں یہاں نور سے مراد احکام ہیں (انا انزلنا التوراۃ فیھا ھدی)من الضلالۃ(و نور) بیان الرجم۔ (آیت ۴۴، سورت المائدہ ۵)
4 ۔اس آیت میں نور سے مراد دین ہے
22۔یریدون ان یطفؤ نور اللہ بافواہم و یابی اللہ الا ان یتم نورہ و لو کرہ الکافرون۔ (آیت ۲۳، سورت التوبۃ ۹)
حضرت عبد اللہ بن عباس کی تفسیر میں ہے کہ یہاں نور سے مراد اللہ کا دین ہے، تفسیر یہ ہے۔(نور اللہ)، دین اللہ۔(الا ان یتم نورہ) الا ان یظہر دینہ الاسلام۔ (تنویر المقیاس، من تفسیر ابن عباس، ص ۲۰۲، آیت ۲۳، سورت التوبۃ ۹) اس تفسیر میں نور کا ترجمہ دین اسلام کیا ہے۔
23۔یریدون لیطفؤ نور اللہ بافواہہم و اللہ متم نورہ و لو کرہ الکافرون۔ (آیت ۸، سورت الصف ۱۶)
حضرت عبد اللہ بن عباس کی تفسیر میں ہے کہ یہاں نور سے مراد اللہ کا دین ہے یا اللہ کی کتاب قرآن ہے۔، تفسیر یہ ہے۔(لیطفؤانور اللہ)، لیبطلوا دین اللہ و یقال کتاب اللہ القرآن۔(و اللہ متم نورہ) مظہر نور کتابہ و دینہ۔ (آیت۸، سورت الصف ۱۶) اس تفسیر میں نور کا ترجمہ دین اور کتاب کیا گیا ہے۔
5۔اس آیت میں نور سے مراد، حضور ؐ کی رسالت ہے
18( قد جائکم من اللہ نور و کتاب مبین)(آیت ۵۱، سورت المائدہ ۵)
تفسیر ابن عباس میں یہاں نور سے مراد رسالت ہے ( قد جائکم من اللہ نور)رسول، یعنی محمد)(۵۱ / ۵) یہاں نور کی تفسیر میں پہلے رسول، لائے، پھر محمد، لائے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کی رسالت نور ہے، خود حضور کی ذات نور نہیں ہوئی
جب نور قرآن میں پانچ معانی میں استعمال ہوا ہے تو، قد جائکم من اللہ نور و کتاب مبین، (آ یت۵۱، سورت المائدہ ۵) میں نور سے مراد حضور ؐ ہی کو کیوں لیں جبکہ وہ 16 کے خلاف ہو جائے گا
اس لئے بہتر یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ حضور ﷺ بشر تھے، لیکن ان میں ایمان، رسالت، قرآن، دین اور احکام کی صفت اتم درجے میں تھی جو نور ہیں اس لئے آپ صفت کے اعتبار سے نور تھے
حقارت کے طور پر رسول کو بشر کہنا بالکل ٹھیک نہیں ہے،
رسول انسان ہوتے ہیں، لیکن آپ کو اس طرح کہنا کہ، آپ ہماری طرح انسان ہیں، اور یہ تأثر دینا کہ ہمارے پاس وحی نہیں آتی، اس لئے آپ کے پاس بھی وحی نہیں آتی ہے، اس لئے آپ ہمیں نصیحت نہ کریں، اور نہ ہم آپ پر ایمان لانے کے پابند ہیں، اس طرح کہنا رسول کی بے ادبی ہے، اور ان پر ایمان نہ لانا ہے، اس لئے اس طرح بشر نہیں کہنا چاہئے، اس میں ایمان سے منہ موڑنا ہے
اس کی دلیل یہ آیت ہے
24۔ و ما انت الا بشر مثلنا فأت بآیۃ ان کنت من الصادقین۔(آیت۴۵۱، سورۃ الشعراء۶۲)۔ترجمہ۔ تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو، لہذا اگر سچے ہو تو کوئی نشانی لے کرآؤ
24۔و ما انت الا بشر مثلنا و ان نظنک لمن الکاذبین۔(آیت۶۸۱، سورۃالشعراء۶۲)
۔ترجمہ۔ تمہاری حقیقت اس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو، اور ہم تمہیں پورے یقین کے ساٹھ جھوٹا سمجھتے ہیں
25۔فقال الملا الذین کفروا من قومہ ما نراک الا بشرا مثلنا۔۔۔بل نظنکم کاذبین۔ (آیت ۷۲، سورۃ ھود ۱۱) ترجمہ۔جن سرداروں نے کفر اختیار کیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم میں کوئی بات نظر نہیں آرہی ہے کہ تم ہم جیسے ہی ایک انسان ہو۔۔۔بلکہ ہمارا خیال تویہ ہے کہ تم سب جھوٹے ہو
ان 3آیتوں میں کفار نے رسولوں کو اپنے جیسا رسول کہا کہ ان کے پاس وحی نہیں آتی اور انکی اتباع مت کرو، اس طرح کارسول کو بشر کہنا، ان کی گستاخی ہے۔ اس سے ہر آدمی کو پرہیز کرنا چاہئے۔
قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہ، والی حدیث ثابت نہیں ہے
کچھ حضرات اس حدیث سے حضور ؐ کو نور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس میں مصنف عبد الرزاق کا حوالہ دیا ہے، پھر بعض حضرات نے دلائل النبوۃ للبیہقی، اور مستدرک حاکم کا بھی حوالہ دیا ہے، لیکن میں نے ان تینوں کتابوں کو سامنے رکھ کر بہت تلاش کی اور,مکتبہ شاملہ،کے ذریعہ بھی تلاش کی لیکن حدیث کہیں نہیں ملی، بلکہ پچھلے زمانے کے بہت سارے حضرات نے لکھا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے، ظاہر ہے کہ موضوع حدیث سے قرآن کے خلاف کیسے استدلال کیا جا سکتا ہے، اس لئے اس حدیث سے بھی حضور ؐ کو نور ثابت کرنا مشکل ہے۔
حدیث یہ ہے۔
۔ روی عبد الرزاق بسندہ عن جابر بن عبد اللہ قال قلت یا رسول اللہ! بابی انت و امی اخبرنی عن اول شیء خلقہ اللہ تعالی قبل اشیاء؟ قال: یا جابر ان اللہ تعالی قد خلق قبل الاشیاء نور نبیک من نورہ۔ الخ (المواہب للدنیۃ، للقسطلانی،] متوفی 923 ھ [ج اول، المقصد الاول، باب تشریف اللہ تعالی، ص ۸۴)
نوٹ: اس حدیث کو، المواھب للدنیہ ، مصنف قسطلانی وفات 923 ھ نے اپنی کتاب میں ذکر کی ہے، لیکن چونکہ قسطلانی صاحب 923 ھ کے ہیں اس لئے ان کی حدیث کومیں نہیں لے سکتا، کیونکہ میرا التزام یہ ہے کہ تبع تابعی کے زمانے کی کتابوں سے حدیث لیتا ہوں یا صحاح ستہ یا انکے اساتذہ کی کتابوں سے حدیث لیتا ہوں، کیونکہ وہی اصل ہیں، اور قسطلانی ؒ بہت بعد کے ہیں، اور تابعی اور تبع تابعی کے زمانے کی کتابوں میں یہ حدیث نہیں ہے، اس لئے اس کا لینا مشکل ہے۔یوں بھی یہ اعتقاد کا مسئلہ ہے، اور یہ حدیث 12 آیتوں اور تین حدیثوں سے ٹکراتی ہے، اس لئے اس حدیث کو لینا اچھی بات نہیں ہے۔
اس حدیث کے برخلاف دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے قلم کو پیدا کیا ہے، اس اول ما خلق نور نبیک، والی حدیث کو کیسے لے لیں
، حدیث یہ ہے۔
7۔حدثنا عبد الواحد بن سلیم…. لقیت الولید بن عبادۃ بن الصامت فقال حدثنی ابی قال سمعت رسول اللہ ﷺ یقول ان اول ما خلق اللہ القلم فقال لہ اکتب فجری بما ہو کائن الی الابد۔ (ترمذی شریف، کتاب تفسیر القرآن، باب و من سورۃ نون و القلم، ص ۷۵۷، نمبر ۹۱۳۳)
ترجمہ ۔ میں نے حضور پاک ﷺ سے سنا، فرمایا اللہ نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا، پھر قلم سے کہا لکھو، تو قیامت تک جتنی باتیں ہونی تھیں سب لکھ دیا۔
26۔اس آیت سے بھی اشارہ ملتا ہے کہ سب سے پہلے قلم پیدا کیا ہے۔ ن و القلم و ما یسطرون۔ (آیت ۱، سورت القلم ۸۶)
اس حدیث میں ہے کہ اللہ نے سب سے پہلے قلم پیدا کیا اس لئے یہ حدیث نور نبیک کے خلاف ہے۔
12آیتوں اور تین احادیث میں بار بار کہا ہے کہ حضور بشر تھے، اب نور ثابت کرنے کے لئے کوئی آیت ہو یا پکی حدیث ہو جس میں صراحت کے ساتھ یہ بتایا ہو کہ حضور ؐ نور تھے تب نور ثابت ہوگا۔، موضوع حدیث، یا تفسیر کرنے والوں کے مبہم بات سے نور ثابت نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ عقیدے کا مسئلہ ہے
میں نے اصلی تحقیق پیش کر دی ہے۔آپ حضرات خود بھی غور کر لیں
و اللہ اعلم بالصواب
حضور ﷺ نے خود فرمایا کہ مجھے بڑھا چڑھا کر بیان نہ کرو
عیسائیوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بہت بڑھایا اور انکو اللہ کا بیٹا تک کہہ دیا، اور یہ انکی تعظیم میں کیا لیکن یہ بات صحیح نہیں تھی اس لئے انکو قرآن میں روکا کہ نبی کی تعظیم اتنی ہی کرو جتنا ان کا حق ہے، اس سے زیادہ کرنا غلو ہے جو ٹھیک نہیں
، اس لئے حضور ﷺ نے اپنی امت کو تعلیم دی کہ میرے بارے میں بھی غلو مت کرنا، اس لئے حضور ؐ اگر بشر ہیں توآپ کو بشر ماننا ہی بہترہے اور اسی میں آپ کی تعظیم ہے۔۔اس کے لئے حدیث یہ ہے
8۔سمع عمر ؓ یقول علی المنبر سمعت النبی ﷺ یقول لا تطرونی کما اطرت النصاری ابن مریم فانما انا عبدہ فقولوا عبد اللہ و رسولہ۔ (بخاری شریف، احادیث الانبیاء، باب قول اللہ تعالی (و اذکر فی الکتاب مریم اذ انتبذتمن اہلہا ]آیت ۶۱، سورت مریم ۹۱) ص۰۸۵، نمبر ۵۴۴۳)
ترجمہ۔حضور ؐ فرماتے ہیں جس طرح نصاری نے حضرت عیسی ؑ کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا تم بھی مجھے بڑھا چڑھا کر بیان نہ کرنا، میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لئے مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہا کرو
اس حدیث میں ہے کہ جیسے نصاری نے حضرت عیسی علیہ السلام کو بہت بڑھایا، تم بھی مجھے اتنا نہ بڑھا دینا
27۔ لاتغلو فی دینکم و لا تقولوا علی اللہ الا الحق۔ (آیت۱۷۱، سورت النساء ۴)
ترجمہ۔ اپنے دین میں حد سے نہ بڑھو، اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کوئی بات نہ کہو
28۔قل یا اہل الکتاب لا تغلوا فی دینکم غیر الحق۔ (آیت ۷۷، سورت المائدۃ ۵)
ترجمہ۔ ائے اہل کتاب اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو
اس عقیدے کے بارے میں 28 آیتیں اور 8 حدیثیں ہیں، آپ ہر ایک کی تفصیل دیکھیں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: