مضامین

علاقے میں جانبازوں کی جماعت

مولانا ثمیر الدین قاسمی انگلینڈ

علاقے کوچارچاندلگانے کے لئے اورہرقسم کی رفاہی کام کرنے کے لئے1948ء سے 1976ء تک میں جفاکشوں وجانبازوں کی ایک بڑی جماعت ابھر کرسامنے آئی جوعلاقے کاخلاصہ اورشیرہ گل تھی جسکی مختصر فہرست یہ ہے۔
(۱)۔سیدمولاناقطب الدین صاحب لکھنوی
(۲)۔حضرت مولاناکوثرعلی صاحب گورگانواں
(۳)۔جناب مولوی لیاقت حسین صاحب ڈیوکنڈا
(۴)۔جناب ماسٹرانورعلی کھورد
(۵)۔جناب چپوصاحب بسوارہ
(۶)۔جناب مولا ناخلیل الرحمن صاحب شری چک
(۷)۔جناب مولانا امید علی صاحب نیمواں
(۸)۔جناب مولاناعبدالمجید صاحب گورگاواں
(۹)۔جناب مولوی محبوب علی صاحب بکرام پور
(10)۔جناب وکیل تمیزالدین صاحب مہیش پور
(۱۱)۔جناب مولاناانورعلی صاحب نیمواں
(12)۔ماسٹرتمیزالدین صاحب انجنا
(13)۔جناب اشرف علی صاحب روپنی
(14)۔جناب بودھومنڈل صاحب بگھاکول
(15)۔جناب حاجی سراج الدین صاحب مہیش پور
(16)۔جناب حلال الدین صاحب ڈوئی
(17)۔جناب مکھیا نصیرالدین صاحب پلوا
(18)۔جناب مکھیاامیرحسین صاحب کیتھیا
(19)۔جناب مکھیاالفت حسین صاحب کسمہرا
(20)۔جناب مکھیاعبدالکریم صاحب رایا
(21)۔جناب ڈاکٹرسعیداحمدصاحب پچواقطعہ
(22)۔منیرالدین صاحب جگت پور
(23)۔جناب مکھیااحمدحسین صاحب بگھاکول
(24)۔جناب مکھیاعبدالرحمن صاحب ہنوارہ
(25)۔جناب سمنا قاضی صاحب نیانگر
(26)۔جناب حاجی عبداللطیف صاحب چکھنرہ
(27)۔جناب تاج علی صاحب مہیس پور
(28)۔جناب عبدالغفورصاحب نرائن پور
(29)۔جناب ڈاکٹرممتازصاحب شاہپور
(30)۔جناب مولوی شمس الحق صاحب لوچنی
(31)۔جناب قطب الدین صاحب ڈوئی
(32)۔جناب اشرف علی صاحب اعظم پور
(33)۔جناب ماسٹرسخاوت حسین صاحب بشنپور
(34)۔جناب فدن منڈل حب لکرمارا
(35)۔جناب عطابل منڈل صاحب پرسا
(36)۔جناب عباس صاحب رجون
(37)۔جناب مولوی جمال الدین صاحب پرسا
38۔جناب مکھیاامین صاحب بر نیا
39۔جناب ماسٹرسلیمان صاحب رین گاؤں
40۔جناب ڈاکٹر نجم الدین صاحب گورگاواں

یہ پراثروبارسوخ ح ضرات وفدکی شکل میں ہرگاؤں میں جاکرڈیرہ ڈالتے اورحسن اسلوبی اور عجزوانکساری کے ساتھ ہائی اسکول پرساکے لئے علاقائی مسلمانوں سے عطیات فراہم کرتے،یہ حضرات اس وقت تک کھا نا نہیں کھاتے جب تک صاحب خانہ اپنی بساط کے مطابق رقم دینے کاوعدہ نہ کرلیتے،اس طرح انہوں نے اسکول کی عظیم الشان عمارت کے لئے خطیر رقم جمع کرلی اوراسکول کی ساکھ کومظبوط ومستحکم کردی
انہیں رند ان خوش انفاس نے 1967ء میں کالج پرساکی تعمیرکے لئے بھی وفدکی تشکیل کی اوراسکی فلک بوس بلڈنگ تیارکرکے نقش دوام وشہرت لازوال حاصل کی۔
اسی جماعت نے مدرسہ شمسیہ گورگاواں کے لئے مالی فراہمی کی تھی اوراسکی دوبلڈنگ تیار کی تھی اوردامے درمے کوشش کرکے اسکوبام عروج تک پہنچایاتھا۔
یہ پاک طینت وسعید بخت صرف جماعت صرف پرساہائی اسکول پرساکالج یامدرسہ شمسیہ گورگاواں ہی کے لئے کمربستہ وفعال نہیں رہی بلکہ خانقاہ شمسیہ اعلی کمیٹی اردوہائی اسکول بشن پور،ہائی اسکول سروتیا،اسکول دھوریا،ہائی اسکول لاڑن مسجد سنہولہ،مدرسہ اسلامیہ سینپور،مدرسہ اسلامیہ خردسانکھی عیدگاہ بسنترائے،عیدگاہ فیض اللہ انجنااور 63 مدر سے اور17اسکول کی دستگیری کے لئے ہمہ وقت ان حضرات کادست وپامتحرک نظرآتاہے۔ ان لوگوں کی جدوجہد بذل وعطاء سوزدروں اورگرمی نفس ہرتحریک میں نمایا ں نظرآتی ہے، اس گروہ کے سینے میں ایسامچلتاہوادل رکھ دیاگیاتھا کہ کسی تحریک کوابھرتے دیکھ کریہ اس سے دامن کشی نہیں کرسکتے تھے بلکہ پروانہ واراپنی ذات کوپیش کرتے اوردوسروں سے ہرکام میں سبقت لے جاتے۔
کلیوں پہ شبنم فضا میں جگنو فلک پہ خورشیدوماہ وانجم
کہاں نہیں ہیں ہمارے آنسوکسی کادامن بچانہیں ہے
ان حضرات میں سے ہرایک کی زندگی قوم وملت کے لئے مشعل راہ ہے اسلئے ان میں سے ہرایک پرتفصیلی مضامین لکھنے کی ضرورت ہے،اسی طرح نئی نسل کے علماومشائخ، دانشووواہل سیاست کی ایک لمبی قطارہے، جس نے اپنے فضل وکمال کالوہابیرون علاقہ میں بھی منوالیا ہے اسلئے انکی زندگیوں پر بھی تفصیلی روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے،لیکن کیا کروں کہ مجھ غریب الوطن مسافر کے پاس اس منزل تک پہنچنے کے لئے زادراہ نہیں ہے اسلئے ابھی اس رسالے ہی پرقناعت کررہاہوں۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہاتھا
ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: