مضامین

علماء سیاست پرتوجہ دیں

مفتی اخترامام عادل قاسمی مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف ،سمستی پور

علماء سیاست پرتوجہ دیں
٭حضرت مولاناؒاس بات پربھی بہت زوردیتےتھےکہ علماء سیاست پرتوجہ دیں، اس کےبغیرنہ صحیح اسلامی سیاست وجودمیں آسکتی ہے،اورنہ احیاء اسلامی کاعمل آسان ہوسکتا ہے،آپ کواس بات کابہت دکھ تھاکہ:
"جس طرح کتاب الطہارت، کتاب الصلاۃ اور نکاح وطلاق کے
ابواب میں بال کی کھال نکالی گئی ہے‘ نظا م اسلام کے اصول و
فروع میں اس تفصیل سے کام نہیں لیا گیا ہے”
ان کے نزدیک مسلمانوں کےزوال کابڑاسبب یہ ہےکہ علماء دین نےملکی سیاست سےاعراض و بے توجہی اختیارکرلی :
"سیاست مدن اوراجتماعی زندگی کے باب میں علمائے ربانیین اور
فضلائےعظام اورماہرین شریعت نےعملی حیثیت سےاتناحصہ نہیں
لیا جتنی کی ضرورت تھی،اگر یہ حضرات عملاً حصہ لیتے اور اپنے
اوقات کامعتدبہ حصہ اس پرخاروادی میں گذارتے،توامیدیہ تھی
کہ اتنے مفاسد نہ پیدا ہوتے، اور شریعت اسلامیہ کے اصول و
فروع کی اتنی بے حرمتی نہ ہوتی، اور مسلمانوں کی بے عزتی جو
وقوع میں آئی ہےنہ ہوتی، جس کے تصور سے آج بدن پر لرزہ
آتا ہے،اوررونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں،اوردل کےٹکڑےہونے
لگتے ہیں”
وہ مزیدوضاحت کرتےہیں:
"میرامقصدیہ نہیں کہ میدان سیاست میں ان حضرات نےکبھی
قدم نہیں رکھا، اوراجتماعی زندگی کی خارداروادی میں انھوں نے
کبھی بادیہ پیمائی نہیں کی،اگر خدا نخواستہ یہ حضرات ان ابواب
میں کچھ بھی نہ کرتےتومسلمان جس حالت میں اس وقت موجود
ہیں غالباً یہ بھی نہ ہوتا، بلکہ میرا مقصدیہ ہے کہ جس قدر کرنا
چاہئے تھا،وہ قرون اولی کے بعد نہ ہوا، اور ان میدانوں میں
ہمیشہ علمائے ربانیین کی کمی نمایاں طور پر محسوس ہوتی رہی،
اگر علمائے کرام کی معتد بہ جماعت علمی و عملی حیثیت سے
ان میدانوں میں پیش پیش رہتی توغالباً معاملہ اس حد تک
نہ پہنچتا”
اگرحضرت مولاناؒکےاس مشورہ پرتوجہ دی گئی ہوتی اورعلماء نےسیاست کوشجرۂ ممنوعہ سمجھ کراس سےعلٰحدگی اختیارنہ کی ہوتی توآج ملک میں مسلمانوں کےساتھ غیرمسلم پارٹیوں کی طرف سےووٹ بینک کی جوسیاست چل رہی ہے،مسلمانوں کاجس طرح سیاسی استحصال ہورہاہے،اوران کےووٹ کی طاقت کمزورکی جارہی ہےشایدیہ دن ہمیں دیکھنانہ پڑتا ،لکن قدراللہ ماشاء۔آج پھراس بھولےہوئے سبق کویادکرنےکی ضرورت ہے۔
علماء سیاست پرتوجہ دیں
٭حضرت مولاناؒاس بات پربھی بہت زوردیتےتھےکہ علماء سیاست پرتوجہ دیں، اس کےبغیرنہ صحیح اسلامی سیاست وجودمیں آسکتی ہے،اورنہ احیاء اسلامی کاعمل آسان ہوسکتا ہے،آپ کواس بات کابہت دکھ تھاکہ:
"جس طرح کتاب الطہارت، کتاب الصلاۃ اور نکاح وطلاق کے
ابواب میں بال کی کھال نکالی گئی ہے‘ نظا م اسلام کے اصول و
فروع میں اس تفصیل سے کام نہیں لیا گیا ہے”
ان کے نزدیک مسلمانوں کےزوال کابڑاسبب یہ ہےکہ علماء دین نےملکی سیاست سےاعراض و بے توجہی اختیارکرلی :
"سیاست مدن اوراجتماعی زندگی کے باب میں علمائے ربانیین اور
فضلائےعظام اورماہرین شریعت نےعملی حیثیت سےاتناحصہ نہیں
لیا جتنی کی ضرورت تھی،اگر یہ حضرات عملاً حصہ لیتے اور اپنے
اوقات کامعتدبہ حصہ اس پرخاروادی میں گذارتے،توامیدیہ تھی
کہ اتنے مفاسد نہ پیدا ہوتے، اور شریعت اسلامیہ کے اصول و
فروع کی اتنی بے حرمتی نہ ہوتی، اور مسلمانوں کی بے عزتی جو
وقوع میں آئی ہےنہ ہوتی، جس کے تصور سے آج بدن پر لرزہ
آتا ہے،اوررونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں،اوردل کےٹکڑےہونے
لگتے ہیں”
وہ مزیدوضاحت کرتےہیں:
"میرامقصدیہ نہیں کہ میدان سیاست میں ان حضرات نےکبھی
قدم نہیں رکھا، اوراجتماعی زندگی کی خارداروادی میں انھوں نے
کبھی بادیہ پیمائی نہیں کی،اگر خدا نخواستہ یہ حضرات ان ابواب
میں کچھ بھی نہ کرتےتومسلمان جس حالت میں اس وقت موجود
ہیں غالباً یہ بھی نہ ہوتا، بلکہ میرا مقصدیہ ہے کہ جس قدر کرنا
چاہئے تھا،وہ قرون اولی کے بعد نہ ہوا، اور ان میدانوں میں
ہمیشہ علمائے ربانیین کی کمی نمایاں طور پر محسوس ہوتی رہی،
اگر علمائے کرام کی معتد بہ جماعت علمی و عملی حیثیت سے
ان میدانوں میں پیش پیش رہتی توغالباً معاملہ اس حد تک
نہ پہنچتا”
اگرحضرت مولاناؒکےاس مشورہ پرتوجہ دی گئی ہوتی اورعلماء نےسیاست کوشجرۂ ممنوعہ سمجھ کراس سےعلٰحدگی اختیارنہ کی ہوتی توآج ملک میں مسلمانوں کےساتھ غیرمسلم پارٹیوں کی طرف سےووٹ بینک کی جوسیاست چل رہی ہے،مسلمانوں کاجس طرح سیاسی استحصال ہورہاہے،اوران کےووٹ کی طاقت کمزورکی جارہی ہےشایدیہ دن ہمیں دیکھنانہ پڑتا ،لکن قدراللہ ماشاء۔آج پھراس بھولےہوئے سبق کویادکرنےکی ضرورت ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: