مضامین

علما اور خوفِ مرگ

اسلام اگر ایک طرف اپنی فلسفیانہ جامعیت اور تمدن آفرین قوانین کے بھروسہ پر زندہ رہا ہے تو دوسری طرف ایک عملی نظریہ اور حیاتی تصوّر نے بھی اُس کی زندگی قائم رکھنے میں بڑی حد تک مدد کی اور وہ مُوْتُوا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا کی سماوی تعلیم تھی۔ اس لیے کہ انسان کے اضافاتِ حیاتیہ کو ایک مرکز پر سمیٹ لینے کی کوشش نہ کی جائے تو اس کی عملی زندگی کبھی علویتِ انسانیہ کے عرش کو بوسہ نہیں دے سکتی؛ کیوں کہ دنیا کی تمام کارگزاریاں اور زندگی کے سارے افکار و اعمالِ حیاتیہ صرف اُس ہی لمحہ میں بہترین انداز سے انجام دہے جاسکتے تھے،جب کہ تموّجاتِ نفسی کو ایک مرکز پر جمع کردیا گیا ہوتا۔ تاریخ انسانی کے اوراق میں اگر کسی انسان کے کارنامے زرّیں حروف میں ثبت ہوں گے تو صرف اُس ہی انسان کے جس نے حیاتِ ذاتیہ کا کوئی ایک محور تلاش کرلیا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ کتابِ الٰہی نے وجود و حیات کی اشعہئ اضافہ کو ایک مرکز پر جمع کرنے کی ان الفاظ میں تلقین کی کہ ”مُوْتُوْا قَبْلَ اَنْ تَمُوْتُوْا“ ”خاک شو پیش از آنکہ خاک شوی“ کیوں کہ جو شخص تمام شبابی تمناؤں، تمام مادّی علویتوں اور تمام شخصی لذتوں کو صرف ایک روحانی مقصد حاصل کرنے کے لیے قربان کردے، اُس کی ملکوتی قوّت سے کائنات کا ہر ذرّہ کانپ اُٹھتا ہے۔ چنانچہ قرونِ ثلٰثہ کی تاریخ اُٹھا کر دیکھیے کہ اسلام کا ہر سپاہی قیصر و کسریٰ کی زبردست شہنشاہیت کو لرزہ براندام کردینے کے لیے کافی ہوا کرتا تھا۔ مگر یہ کیوں تھا؟ محض اس وجہ سے کہ ان کو موت بھیانک نہیں معلوم ہوتی تھی، اور وہ موت سے پیشتر ہی اپنے تمام جذبات کو مرکزِ وحدت میں جذب کرچکے ہوتے تھے۔ لیکن آج حالت دیگرگوں ہے اور فضا غبار آلود، اس لیے کہ آج فلاسفہئ اسلام جو ڈاکٹر اقبال کی شکل میں ہمارے سامنے آرہے ہیں ”موت قبل ازموت“ کے نظریہ کو سلبی خلق اور زندگی کا عدمی پہلو سمجھ کر جلد از جلد مٹادینے کے درپے ہیں اور دوسری طرف علما کے نزدیک اس کا مفہوم محض ”حجرہ نشینی“ ہے، حالاں کہ نہ یہ حیاتِ انسانی کا عدمی پہلو ہے نہ حجرہ نشینی کے مترادف؛ بلکہ اُس کے معنی وہی ہیں جس کی آئینہ دار صحابہ کی عملیت تھی۔
بہرحال اس تمہید سے میرا مدعا صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ خوفِ مرگ جس سے اسلام کو ہمیشہ نفرت رہی اور جس نے صدہا اقوام و ملل کو غلام بناکر چھوڑا ہے، آج بدقسمتی سے وہی چیز ہمارے علما کی رگ رگ میں سرایت کرچکی ہے۔ چنانچہ انھیں دنیا کی کوئی طاقت قربانی، ایثار اور جیل خانہ کی سختیاں جھیلنے کے لیے تیار نہیں کرسکتی۔ حالاں کہ علما کو ہر شخص سے پہلے دعوتِ شہادت کو لبیک کہنا چاہیے تھا، مگر میں دیکھتا ہوں کہ وہ سب سے آخر میں بھی اس دعوت کو جو دعوتِ الٰہی ہے، قبول کرنے سے جھجک رہے ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ آپ میں چند ہستیاں ضرور ایسی موجود ہوں گی، جو کفارہ کے طور پر تمام علما کی جانب سے ہفت خواں کو طے کرنے کے لیے تیار ہوں۔ مگر شاید آپ کا دل محسوس کرتا ہوگا کہ یہ ”کفارہئ مسیحی“ آپ کی مخصوص صفت یعنی ”خشیتِ الٰہی“ کی ترجمانی نہیں کرسکتا۔ آپ آسمانِ نبوت کے چمکتے ہوئے تارے ہیں اور ارضِ نبوت کے بہتے ہوئے دریا۔ آپ کے قوائے روحانیت کو یہ اضمحلالِ نفسی کبھی زیب نہیں دے سکتا کہ فرشتہئ موت کا ہیبت ناک چہرہ ہر وقت آپ کو سپاہی کی صورت میں اور دوزخ کا دروازہ جیل خانے کے پھاٹک میں نظر آئے۔ موت سے ہم جیسے سیاہ کاروں کا لرزہ براندام ہوجانا تعجب خیز نہیں؛ کیوں کہ ہمارے دل روحانی شفافیت اور ملکوتی نورانیت سے یکسر تہی ہوچکے ہیں۔ ہماری زندگی کا ہر لمحہ ناپاک عزائم اور تاریک تخیلات میں گذرتا ہے۔ ہم انائے مجرد اور انائے مرکب کے نازک فرق کو محسوس نہیں کرسکتے جس کے اندر خوفِ مرگ کا حقیقی راز مضمر ہے، ہم انفرادیت کو اجتماعیت میں جذب کرنے کے محاسن اور اُس کے دُور رس نتائج سے بھی بے خبر ہیں۔ پھر آخر کیوں کر ہماری مادّی ذہنیت اور کثیف نفسیت کشمکشِ موت و حیات جسے اُردو میں ”جیل خانہ“ کہا جاتا ہے، کے لیے تیار ہونے دے سکتی ہے۔ ہاں اگر آپ کا ہرمسند نشیں موت اور آتشیں رنج و غم کے لیے سربکف ہوکر میدان میں آجائے، تو بہت ممکن ہے کہ ہماری مذہبی غیرت، ایمانی جوش اور عربی شجاعت بھی جاگ اُٹھے؛ورنہ یوں آپ کی کاغذی تجاویز سے نہ کچھ ہوسکا ہے نہ کچھ ہوسکے گا اور نہ ہی میرے نزدیک آپ کو اُس وقت تک کوئی تجویز پاس کرنے کا حق ہے جب تک کہ آپ ہر قسم کی قربانی کے لیے اپنے آپ کو تیار نہ کرسکیں۔ اگر آپ نے محض کاغذی تجاویز میں وقت ضائع کیا، تو آپ اپنے خدا، اپنی قوم اور اپنے ضمیر کے نزدیک مجرم ٹھہریں گے، حالاں کہ علما کو بلحاظ منصب اس سے کہیں بالاتر ہونا چاہیے۔(خطبہ استقبالیہ نواں اجلاس عام جمعیت علمائے ہند منعقدہ امروہہ 6 مئی 1930)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: