اسلامیات

عورت کا اصل حسن اور زیور اس کا شرم و حیا اور حجاب ہے….

محمد سلمان دھلوی

اسلام میں روز اول سے ہی پردے اور حیا کو ایک بہت ہی اہم اہمیت حاصل رہی ہے اور رحمت دو عالم فخر انسانیت محمد مصطفی
ﷺ کا فرمان ہیکہ حیا ایک مکمل بھلائی ہے، اور حیا ایمان کے شبعوں میں سے ایک شعبہ ہے، اور عورتوں سے متعلق ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: کہ سب سے بہترین عمل حیا ہےـ کیونکہ عورت کا اصل حسن اور اس کا زیور اس کا شرم و حیا اور باپردہ رہنا ہے، اگر عورت اپنے شرم و حیا کی چادر کو اتار دے تو اس کے پاس کچھ باقی نہیں رہتا ہے، شرم و حیا عورت کا زیور اور مرد کا ہتھیار ہے، کیونکہ شرم آپ کے پاس کسی کو آنے نہیں دیتی اور حیا آپ کو کسی کے پاس جانے نہیں دیتی، چنانچہ قرآن مقدس جوکہ ہر مسلمان کے لیے قانون کا درجہ رکھتا ہے، فرمان باری تعالی ہے: اور ( اے پیغمبرﷺ ) مسلمان عورتوں سے کہہ دیجیے کہ اپنی نگاہ نیچی کریں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود بخود ظاہر ہوجائے اور انہیں چاہیے کہ وہ اپنے سینوں پر آنچل (دوپٹے) کا پلو ڈالے رہیں ـ عورت کے پر دہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اس کے لئے عبادت میں بھی پردہ کا حکم دیا اور بے پردہ جگہ پر عبادت کرنا منع فرمایا گیا ہے ۔ چنانچہ حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ عورت کا کمرے میں نماز پڑھنا گھر (آنگن) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (اندرونی) کوٹھڑی میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے ‘‘۔( سنن ابو داود )
صفيہ بنت شيبہ بيان كرتى ہيں كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كہا كرتى تھيں:
*جب يہ آيت نازل ہوئى :*
اور وہ اپنى اوڑھنياں اپنے گريبانوں پر ڈال كر ركھيں، تو ان عورتوں نے اپنى نيچے باندھنے والى چادروں كو كناروں سے دو حصوں ميں پھاڑ ليا اور اس سے اپنے سروں اور چہروں كو ڈھانپ لياـ (صحيح بخارى : 1448 )
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جیسے کسی بھی مرد کا کسی خاتون پر نظر ڈالنا درست نہیں اور پہلی نظر کی معافی کے بعد دوسری نگاہ ڈالنے سے منع کیا گیا ہے ایسے ہی خواتین کو بھی حکم ہے کہ وہ مردوں پر نظر نہ ڈالیں، اس حوالہ سے حدیث پاک میں آتا ہے کہ ’’حضرت ام سلمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں رسول کریمؐ کے پاس تھی اور آپ ﷺ کے پاس حضرت میمونہؓ بھی تھیں۔ سامنے سے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم (جو نابینا تھے) تشریف لائے اور یہ واقعہ پردہ کا حکم دیئے جانے سے بعد کا ہے، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: کہ! ان سے تم دونوں پردہ کرو، ہم نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کیا یہ نابینا نہیں ہیں؟ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: کہ! کیا تم دونوں بھی اندھی ہو ؛ انہیں نہیں دیکھتی ہو‘‘ (سنن ابو داود، ج؛ 3 :ص؛720)۔
*اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئ کہ خواتین کو بھی مردوں سے پردہ کرنا چاہئے اور اپنی نگاہیں مردوں پر نہیں ڈالنی چاہئے ، چاہے وہ مرد بصارت (روشنی) سے محروم ہی کیوں نہ ہو۔*
مذہب اسلام میں کسی کے گھر بلا اجازت نگاہ ڈالنے کی اجازت نہیں، اس سلسلہ میں مذکورہ حدیث شریف میں بیان ہے ’’حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اجازت ملنے سے پہلے پردہ اٹھا کر کسی کے گھر میں نظر ڈالی گویا کہ اس نے گھر کی چھپی ہوئی چیز دیکھ لی اور اس نے ایسا کام کیا جو اس کے لئے حلال نہیں تھا۔
پھر اگر اندر جھانکتے وقت کوئی اس کی آنکھیں پھوڑ دیتا تو میں اس پر کچھ نہ کہتا ( یعنی بدلہ نہ دلاتا) اور اگر کوئی شخص کسی ایسے دروازے کے سامنے سے گزرا جس پر پردہ نہیں تھا اور وہ بند بھی نہیں تھا پھر اس کی گھر والوں پر نظر پڑ گئی تو اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں بلکہ گھر والوں کی غلطی ہے‘‘
(جامع ترمذی، ج، 2/ص؛ 618،)
اس لیے ہماری ماؤں اور بالخصوص والدین کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو سختی سے پردے کا پابند بنائیں، انہیں خوشبو لگا کر چلنے، لوچ دار، شیریں آواز سے بات کرنے، پاؤں کی جھنکار اور دلکش اداؤں سے روکیں۔ شرعی حجاب کی خوبیاں ان کے سامنے بیان کریں اور انھیں یہ بتلائیں کہ جب تک وہ رسول اکرمﷺ کی تعلیمات پر عمل نہیں کریں گی، اس وقت تک صحیح معنوں میں مسلمان بھی نہیں بنیں گی۔
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں

اکبر وہیں پہ غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کے پردہ کا کیا ہوا

کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
اللہ تعالی ہم سب کو باپردہ رہنے کی توفیق عطاء فرمائے…!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: