مضامین

عیدگاہ کی پکار

ابو معاویہ محمد معین الدین ندوی قاسمی

سالوں سے ہم عید کی نماز صرف عید گاہ میں ہی ادا کرتےآئے ہیں، (اورآئندہ بھی کریں گے،ان شاء اللہ)اور نہ جانے ہمارے آباؤاجداد نے اپنی جبیں سے کتنی مرتبہ اس خاک کے ذرات کو معطر کیا ہوگا۔
*ہاں ہاں!* اسی وجہ سے اس کی بھینی بھینی پاکیزہ خوشبویں آج بھی آتی رہتی ہیں، جہاں کبھی آج کی تاریخ میں صرف سروں کا سیلاب نظر آتا تھا،جو اپنی تنگ دامنی کا شکوہ کناں ہوا کرتا تھا۔
*لیکن آہ!*
آج تو وہاں کا منظر ہی کچھ اور تھا، ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ وہ نالاں ہیں، وہ ممبر جس سے صدہا سالوں سے آج کی تاریخ میں قال الله کی صدائیں گونجاکرتی تھی، آج وہ ہراہل ایمان سے بزبان حال خفا ہونے کااحساس دلارہی ہے۔
*ہاں!* کیا وہی ممبر جس پر بیٹھ کر آج کی تاریخ میں اہل علم حضرات قال النبي کہہ کر ، عام وخاص کے قلوب میں عشق رسول کو جاگزیں کرتے نظر آتے تھے، آج وہ سونی سونی ہے۔
*ہاں!* یقیناً وہی ممبر آج غمزدہ ہے، کیونکہ آج وہ اپنے جیالوں کو ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب ہی نہیں بلکہ فرش راہ بنی ہوئی تھی، لیکن ہائے افسوس! وہ اپنے مقصد میں ناکام رہی، اس وجہ سے آج وہ ماتم کناں ہے۔
تو کیااہل ایمان آج تک کھردری زمین، اینٹ پتھر سے بنی درو دیوار، اور جنگلی گھاس کے لئے ہی اپنے جسم کے سب سے اہم اعضاءکو جھکاتی تھی؟ یقیناً جواب یہی ہی ہوگا، کہ ایسا ہرگز نہیں ہے، بلکہ ان چیزوں کے خالق کے لئے ہوتا تھا، ہے ، اور ہوتا رہے گا۔
تو پھر اگر یہ نالاں ہے، یا نوحہ خواں ہے، تو وہ اس کی حرماں نصیبی ہے، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، کیونکہ آج تو بقعۂ ارض کے بعض حصے اپنی خوش بختی اور نصیبہ وری پر شاداں و فرحاں ہیں،اور کیوں نہ ہوں؟ کہ جس ٹکڑۂ زمین پر صدیوں بعد یا یہ بھی ممکن ہو کہ کبھی نہیں بلکہ آج ہی اس کےطاہر سینہ پر *”عید الفطر”* کی دوگانہ ادا کی گئی ہے۔ جس پر اشرف المخلوقات نے اپنے اشرف اعضاء کو جھکا کر اللہ سے یوں گویا ہوا ہو!
*بے شک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا مرنا سب کچھ اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے*
اگر کرۂ ارض کا کوئی ٹکڑا مایوس ہے، تو وہیں دوسرا ٹکڑا اپنی خوش قسمتی پر رب دوجہاں کا شکر گزار ہے۔
*ذالك فضل الله يؤتيه من يشاء*
آج یوم عیدالفطر ہے خوشی ومسرت کا دن ہے، لیکن آپ کے زیر بصارت ایسے مضامین بھی آرہے ہوں گے، جن کا عنوان کچھ اس طرح ہوگا، *”خاموش عید”* *غمزدہ عید*
*غم انگیز عید* وغیرہ وغیرہ
یہ سارے عنوانات منفی پہلو کا غماز ہے، حالانکہ ہر تاریکی کے بعد روشنی ،اور ہر رات کے بعد صبح نمودار ہوتی ہے، کامیابی کے لئے منفی نہیں بلکہ مثبت پہلو کو اختیار کیا جاتا ہے ، اس لئے ہم بھی لاک ڈاؤن کی عید کو منفی نہیں بلکہ مثبت پہلو پر عمل کرتے ہوئے جہاں تک ہوسکے ، خوشی ومسرت کا اظہار کریں کیونکہ ان موقعوں پر خوشی کا اظہار کرنا شعائر اسلام میں سے ہے، علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
*اظهار السرور في الاعياد من شعار الدين*
(فتح الباري:442/2)
عیدوں کے موقع پر خوشی کا اظہار کرنا شعائر اسلام میں سے ہے۔
احقر بھی آپ کی شادمانی میں جسم سے دور سہی، لیکن دل سے آپ کے نہاں خانہ میں موجود ہے، اللہ تعالی ہمیں بار بار رمضان، روزہ، تراویح اور دیگر کار خیر عافیت و تندرستی کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: