اسلامیات

عید الاضحی کا پیغام أمتِ مسلمہ کے نام!

مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی

امت مسلمہ قربانی کے ساتھ جذبۂ قربانی کو بھی زندہ رکھے ،عید الاضحی اور حج شعائر اللہ کے تحفظ اور انبیاء کی نشانیوں کی تکریم کے مظہر ہیں عید قربان شیطانوں سے نجات کا درس دیتی ہے مسلمان شیطانی قوتوں کی دوستی کے دیوانے ہوئے جارہے ہیں انکی تجوریاں بھر رہے ہیں
خاکوں کی اشاعت رحمت اللعالمین ؐ کے نام اور پیغام سے خوف کی علامت ہے سازش کا مقابلہ اتحاد اور مغربی قوتوں کے بائیکاٹ سے کیا جائے
دنیاوی دستور کی طرح اخروی اصول بھی ہے کہ محب اور عاشق کی آزمائش ہوتی ہے جو جس قدر نزدیک ہوتا ہے اتنا ہی اس کا امتحان بھی لیا جاتا ہے پھر خداوند قدوس کا دستور ہے کہ جو اس کا مقرب اور محبوب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا معاملہ اس کے ساتھ وہ نہیں ہوتا جو عام انسانوں کے ساتھ ہے بلکہ اس کو آزمائش اور امتحان کی سخت سے سخت منزلوں سے گزرنا پڑتا ہے قدم قدم پر جاں نثاری اور تسلیم ورضا اور خود سپردگی کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے فخر رسل ہادئ سبل سرورِ دوجہاں سید الکونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ہم گروہ انبیاء اپنے اپنے مراتب کے اعتبار سے امتحان کی صعوبتوں میں ڈالے جاتے ہیں قربانئ عید الاضحٰے بھی ایک عاشق حقیقی اور خدا کی نزدیکی کی آزمائش میں پورے اترنے اور دعوائے عاشقی میں کامل ہونے کی ایک باپ بیٹے کی داستان ہے جس کو دنیا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور بیٹے کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نام سے جانتی ہے تقریباً پانچ ہزار سال پرانی بات ہے نینوا اور شہر بابل تہذیب و تمدن کا گہوارہ اور عیش و عشرت کا مرکز تھا جہاں اسباب و راحت کی ہر چیز مہیا تھی اگر کمی تھی تو صرف ایک خدا کی پرستش اور خدا کے ماننے والوں کی اس وقت کا بادشاہ،، نمرود ،، اس علاقہ کا فرمانروا تھا جو صرف بادشاہ اور حکمران ہی نہیں بلکہ خدائی کا دعویدار تھا جس کی عبادت ہرشخص پر لازم و ضروری تھی اس ماحول میں خدا نے اپنے برگزیدہ پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیدا کیا تاکہ گمراہوں کو راہِ راست پر لائیں اور گناہوں کی دلدل میں پھنسے انسانوں کو صحیح راستہ دکھا ئیں تاریخ کا مشہور واقعہ ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام پلکر جوان ہوئے تو سب سے پہلے اس وقت کی سب سے بڑی طاقت ،، نمرود ،، سے واسطہ پڑا نمرود نے ہزار کوششیں کیں کہ ابراہیم بھی آوروں کی طرح مجھے خدا کہے مگر ابراہیم علیہ السلام نے نمرود کی باطل خدائی نہ صرف یہ کہ تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ آج کی زبان میں اس کے خلاف علم بغاوت بلند بھی کردیا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود سے کہا کہ اگر تمہارا دعویٰ خدائی درست ہے تو میرا خدا وہ ہے جو ہر روز سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے اگر تیری خدائی کا دعویٰ واقعی سچا ہے تو تو سورج مغرب کی طرف سے آگا کردکھا یہ وہ وقت تھا جب بڑے بڑے سورما نمرود کی باطل خدائی کے سامنے سرنگوں ہوکر اس کی خدائی پر مہر تصدیق ثبت کر چکے تھے ایسے وقت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حق کی آواز بلند کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کے نتیجے میں مادی طاقت کے نشہ میں چور ،، نمرود ،، نے آپ کو دہکتی آگ میں ڈالنے کا حکم دے دیا لیکن آپ کے تیور میں کوئی شکن نہ آیا آپ نے حق کی خاطر شعلوں میں کود نا پسند کیا لیکن باطل کے سامنے سر نہ جھکا یا. یہیں آکر سچے عاشق کی قربانیوں اور آزمائشوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ جب بڑھاپے کی عمر پہنچی اور چھیاسی سال کے ہوگئے اس وقت تک آپ کو کوئی اولاد نہیں تھی خواہش تھی کہ اس پیغام حق کا کوئی امین اور رکھوالا ہو جس ملت کی بنیاد آپ کے ہاتھوں رکھی گئی تھی وہ اس کو چلا سکے اور باقی رکھ سکے – بڑی آرزوؤں تمناؤں اور دعاؤں کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک خوبصورت اور عمدہ سیرت کا بچہ عطاء فرمایا جس کا نام اسماعیل رکھا امیدوں کا یہ مرکز بڑھاپے کا یہ سہارا جب جوان ہوا تو امتحان کی ایک منزل آئی. عشق و محبت کی آزمائش ایسی آزمائش جس کا نظارہ چشم فلک نے کبھی پہلے نہ دیکھا تھا خدا کی طرف سے خواب میں حکم ملتا ہے ،، ابراہیم علیہ السلام،، اپنے آخری سہارے سے بھی دست بردار ہو جاؤ میری راہ میں اپنی چہیتی اولاد کو قربان کردو آپ نے حکم کی تعمیل میں ذبح کرنے کے لئے اسماعیل کو پیشانی کے بل لٹا دیا غیب سے آواز آئی. اے ابراہیم! تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا تو ہم اسی طرح مخلصوں کو بدلہ دیتے ہیں

چنانچہ اللہ تعالیٰ کو آپ کی عظیم قربانی اور وفا شعاری اس قدر پسند آئی کہ رہتی دنیا تک،، خلیل اللہ،، کے پیارے لقب کو آپ کے لئے زندہ و جاوید بنادیا اور ہر سال سنت ابراہیمی کو بصورت قربانی واجب قرار دے دیا. قربانی محض ریت و رواج نہیں بلکہ تجدید ایمان و عمل اور اللہ کے ماسواء کی محبت کو قربان کرنے کا نام ہے سنت ابراہیمی کی تعمیل میں شجاعت و مردانگی حق پرستی حق آگہی کے جلوے نظر آتے ہیں کمال عبدیت کا عکس معلوم ہوتا ہے اپنے لاڈلے کی گردن پر اپنے ہی ہاتھوں چھری چلائی ہے اس میں گویا تعلیم ہے کہ آپ اس وقت تک موحد نہیں بن سکتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان و مال قربان نہ کردو

یہ فیضان نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آداب فرزندی:

امت مسلمہ سے آج انہیںجدبہ فداکارانہ اور بے لوث عشق کے ساتھ جانوروں کی قر با نی مطلوب ہے لیکن افسوس صدافسو س کہ مادیت و صا رفیت کے اس دور میں مسلمانوں نے اسباب و ذرائع کو مقا صد پر فو قیت دے رکھی ہے ،دنیا وی مال ومتاع ،مادہ پرستی ،جاہ و منصب ،عیش و آرام ،خواہشات کی اتباع ،چند روز ہ زندگیوں کی آسا نیاں ،اور اسکی خوشیاں ہی ہم مسلمانوں کی نظروں میں مقصود حیات بن کر رہ گئی ہے،ایسے میں اگر ہم سے حقیقی قربا نی کا مطالبہ ہوتا ہے ،تو ہما رے قدم لرزنے لگتے ہیں ،قلوب پر رعشہ کی کیفیت طاری ہو جا تی ہے دنیا وی عیش وآرام اورلذت ونشاط کی خا طر جانی ومالی قربانی سے راہ فرار اختیار کرنا نہ دنیا وی زندگی کی فلاح کا ضامن ہے اور نہ ہی اخروی حیات میں کامیاب ہونے کی دلیل ہے ۔کا میاب مومن وہی ہے جس کا مطمح نظر اپنی جان ومال کو مر ضیات الہی پر قربان کر دینا ہو ، قربانی خواہ جان کی ہو یا مال کی ،نفس کی ہو کہ خواہشا ت کی ،وقت کی ہو کہ چا ہت کی یہ ایک مشکل امر ہے ۔جس کا انجام دینا آسان نہیں ،قربانی قوموں کے عروج و زوال کی ضامن ہے ،حیات فانی کو حیات جا ودانی میں تبدیل کرنے کا اشا رہ ہے ،قربا نی سرا پا اطاعت ،ایثار اور اظہار محبت کی انتہا ہے ۔ قربا نی کو کسی بھی قوم کی ارتقاءوارتفاع میں راہ حیات خیال کیا گیا ہے ،قربا نی مذہبی وملی تشخص کی علا مت ہے ،قربا نی باپ اوربیٹے کی محبت و اتفاق رائے کا حسین درس دیتی ہے ،قربا نی کر نیوالا نوازشات الہی کا مستحق ہو تا ہے ،قربا نی سے سنت ابراہیمی کی تجدید ہو تی ہے ،قربا نی امیدوں کے ساتھ جانفشانیوں کا حوصلہ عطا کرتی ہے ،قربا نی اسلامی تہذیب وتمدن ا ورروایت ثقافت شناخت ہے،عید قربا ں کے موقع پر یقینا انسانی جان کی قربانی مطلوب نہیں ہے ،لیکن ہر ایمانی قلوب میں ان تمنا ¶ں کی انگڑا ئیاں ضرور مچلنی چا ہئے ۔
آئئے سنت ابراہیمی کی ادا ئیگی کے حسین موقع پر ہم یہ عہد کریں کہ راہ خدا میں ہر طرح کی قربا نی کیلئے ہمہ وقت تیار رہیں گے ،اپنی انا اور غرور کوخاک میں ملادیں گے ۔ اپنے رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا خیال کریں گے ۔ ملت اسلامیہ کی سربلندی کے لئے ہمہ وقت مستعد و تیار رہیں گے ۔ عالم اسلام پر کسی طرح کی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ جب جہاں جس وقت جس حال میں جیسی قربانی طلب کی جائے گے ہم بلا تذبذب وہچکچاہٹ پیش کرنے کے لئے خوشی خوشی آمادہ رہیں گے
انسانیت کا احترام جذبہء اخوت بدلہ اور انتقام سے نفرت بڑائی سے پاک خدا پر بھروسہ حق کی نصرت و حمایت باطل کے خلاف صدا برابری اور مساوات کردار سازی پاک بازی جان لیواؤں کے ساتھ حسنِ سلوک اور ملک میں صالح نظام اور درست معاشرہ کے لئے قربانی کا جذبہ لے کر آتا ہے

زمین سہمی پڑی تھی آسمان ساکت تھا بے چارہ
نہ اس بیشتر دیکھا تھا یہ حیرت کا نظارہ
پدر تھا مطمئن بیٹے کے چہرے پر بحالی تھی
چھری حلقومِ اسمٰعیل پر چلنے ہی والی تھی
مشیت کا مگر دریائے رحمت جوش میں آیا
کہ اسمٰعیل کا ایک رونگٹا کٹنے نہ پایا ::::::::::::” :::::

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: