اسلامیات

عید الفطر کے دن اللہ کے انعامات کی بارش

افادات : عارف باللہ حضرت مولانا محمد عرفان صاحب مظاہری دامت برکاتہم گڈا جھارکھنڈ

جس طرح ایک تاجر کے لئے خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کو اپنی تجارت میں نفع ہو جاءے، ایک کسان کی خوشی اس بات میں ہے کہ اس کی فصل اچھی ہو، ایک ملازم کے لیے مسرت کا مقام یہ ہے کہ اس کو اس کے کاموں کی اجرت اور تنخواہ مل جاءے اور ایک عاشق کے لئے خوشی کی گھڑی یہ ہے کہ اس کا محبوب اس سے راضی اور خوش ہو جاءے. اسی طرح ایک مومن کے لئے خوشی کی بات اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگی کہ جس مقصد کے لئے پورے ایک مہینے تک محنت و مشقت برداشت کرتا رہا ، اس کا اجر اس کو مل جاءے اس کو مغفرت کی بشارت دے دی جاءے، اس کو جہنم سے آزادی اور جنت میں داخلہ کا پروانہ عطا کر دیا جاءے ، اس سے اس کا رب راضی ہوجائے. اور رب کی طرف سے یہ اعلان ہو جائے کہ آج جو مانگوگے وہ عطا کروں گا بلاشبہ مومن کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی خوشی نہیں ہو سکتی ہے اور ان ساری چیزوں کا اعلان آج عید الفطر کے روز ہوتا ہے، اس لئے ایک مومن کے لئے آج خوشی کا مقام بس یہی اعلان خداوندی ہے.

چنانچہ حدیث پاک میں ہے. حضرت سعد بن اوس انصاریؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا *جب عیدالفطر کا دن ہوتا ہے تو فرشتے راستوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ندا دیتے ہیں اے مسلمانو! رب کریم کی طرف نکل پڑو جو بھلائی دیکر احسان کرتا ہے پھر اس پر بہت سا ثواب بھی دیتا ہے یقیناًتمہیں رات میں عبادت کرنے کا حکم دیا گیا تو تم نے عبادت کی اور دن میں تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا تو تم نے روزہ رکھا اور اپنے رب کی اطاعت کی لہذا تم اپنے انعامات حاصل کرلو ، پھر جب لوگ نماز سے فارغ ہوجاتے ہیں تو آواز لگانے والا آواز لگاتا ہے کہ سنو بیشک تمہارے رب نے تمہیں بخش دیا ہے، اب تم ہدایت یافتہ بن کر اپنے رب کی طر ف لوٹ جاؤ ۔ یہ (عیدالفطر ) انعام کا دن ہے، اور آسمانوں میں اس دن کو یوم الجائزہ (انعام کا دن) کہا جاتا ہے۔ (الترغیب و الترہیب )*

اسی طرح حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا *جب عید کا دن آتا ہے یعنی عیدالفطر کا دن، تو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں سے متعلق فرشتوں پر فخر فرماتے ہیں ۔ چنانچہ کہتے کہ اس مزدور کی کیا مزدوری ہے جس نے اپنا کام پورا کیا ہو فرشتے عرض کرتے ہیں کہ پروردگار اس کا بدلہ یہ ہے کہ اسے پورا اجر دیا جائے ، اللہ تبارک و تعالی فرماتے ہیں ، اے میرے فرشتو میرے بندوں اور میری باندیوں نے میرے اس فریضہ کو جو ان کے ذمہ تھا ادا کردیا ہے، پھر وہ (عید گاہ کی طرف) دعا کیلئے نکلے ہیں، مجھے اپنی عزت و جلال ،کرم و بلندی اور بلند مرتبہ کی قسم میں ان کی دعا ضرور قبول کروں گا. پھر اللہ فرماتے ہیں ہے اے میرے بندو لوٹ جاؤ میں نے تمہیں بخش دیا، اور تمہاری برائیاں نیکیوں میں بدل دیں ، حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ لوگ اس حال میں واپس لوٹتے ہیں کہ ان کی بخشش ہوچکی ہوتی ہے۔ (بیہقی ، مشکوۃ )*

ایک اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں *(انصرفوا مغفورا لکم قد ارضیتمونی و رضیت عنکم (التر غیب و الترھیب)* "اب عید گاہ سے بخشے بخشاءے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، تم نے مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے راضی ہو گیا ” لہذا ایمان والوں کو چاہیے کہ اللہ کے ان عظیم انعامات کا شکر بجا لائیں، اللہ تعالیٰ ہمیں ان انعامات کا مستحق بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: