مضامین

عید کی نماز عیدگاہ میں ادا کرنے سے ثواب زیادہ ملے گا یا گھر میں؟

مفتی محمد سفیان القاسمی
مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی گڈا جھارکھنڈ

کرونا وائرس کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن ہے جس کی وجہ سے ذہن میں کئی طرح کے سوالات آتے ہیں مثلاً ایک سوال یہ ہے جو کثرت سے لوگ پوچھ بھی رہے ہیں کہ اس مرتبہ عید الفطر کی نماز کہاں ادا کریں عیدگاہ میں، محلہ کی مسجد میں، کسی کھلی جگہ میں یا پھر گھر میں؟ ، دوسرا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر عید الفطر کی نماز گھر میں ادا کی جاءے تو اس کا ثواب عیدگاہ میں نماز ادا کرنے سے کم ملے گا، زیادہ ملے گا یا برابر ملے گا،؟ ایک تیسرا سوال یہ بھی ہے کہ جب لاک ڈاؤن میں بہت سی چیزوں میں ڈھیل دی گئی ہے تو پھر عبادت کے تعلق سے کیوں نہیں دی گئی، اور جب نہیں دی گئی ہے تو کیوں نہ ہم قانون کی خلاف ورزی کر کے ہی سہی، عید الفطر کی نماز ہر حال میں عیدگاہ میں ہی ادا کریں، خواہ اس کی وجہ سے ہم پر لاٹھی برسائی جاءے، ہم پر مقدمہ درج ہو یا ہم کو جیلوں میں جانا پڑے.

اس سلسلے میں اصولی بات یہ ہے کہ دین نفس کی خواہش پر چلنے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے حکموں پر چلنے کا نام ہے اور کن حالات میں اللہ اور اس کے رسول کا کیا حکم ہے یہ علماء کرام اور فقہاء عظام بتلائیں گے کیونکہ علماء کرام اللہ کے رسول کے وارث ہوتے ہیں، لہٰذا ضروری نہیں کہ عام حالات میں جو اللہ کا حکم ہوتا ہے خاص حالات میں بھی وہی حکم ہو، مثال کے طور پر عام حالات میں جب آپ گھر پر ہوں نماز کے تعلق سے عمومی حکم یہ ہے کہ پوری نماز پڑھیں لیکن جب سفر در پیش ہو تو حکم بدل جاتا ہے، یعنی اب نماز میں قصر کرنا ہے، چنانچہ سفر میں اگر کوئی قصر کرے تو اس کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوتی ہے،

ٹھیک اسی طرح عام حالات میں اللہ اور اس کے رسول کا حکم یہی ہے کہ عید کی نماز آبادی سے باہر ادا کی جاءے، لیکن اگر سخت آندھی، اور طوفان ہو جس کے باعث باہر جانے میں مشقت ہو تو یہ حکم ساقط ہو جاتا ہے، اب جہاں سہولت ہو وہاں عید کی نماز ادا کی جائے، اللہ تعالیٰ نے ایک اصول بیان فرمایا کہ ہم انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتے ہیں( لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا ) اس اصول کی روشنی میں لاک ڈاؤن کی عید کا حکم بھی بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں،

بھیڑ سے بچنا دو وجہ سے ضروری ہے ایک تو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاط کے طور پر، کیونکہ ابھی تک اس کا علاج دریافت نہیں ہوا ہے اور ماہرین کے مطابق اس وقت اس کا علاج صرف احتیاط ہے، دوسرے ملکی قانون کی پابندی کی وجہ سے، علماء کرام کی تشریح کے مطابق یہ دونوں معقول وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ہم اس بات کے مکلف نہیں کہ ہم ہر حال میں عید کی نماز عیدگاہ میں ہی ادا کریں یا مسجد میں ہی ادا کریں، یہاں یہ واضح رہے کہ مسئلہ نماز پر پابندی کا نہیں بلکہ جگہ کی تبدیلی کا ہے، اس لئے جب علماء کی تشریح کے مطابق ہم اس بات کے مکلف نہیں کہ ہم ہر حال میں عیدگاہ میں ہی نماز ادا کریں تو اب جہاں سہولت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں جہاں نہ قانونی اعتبار سے بندش ہے اور نہ طبی لحاظ سے ممنوع ہے وہیں ہمیں اتنا ثواب ملے گا جتنا کہ عیدگاہ میں ثواب ملتا ہے، اس سلسلے میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کا ایک اثر منقول ہے اس پر اگر چہ احناف کا عمل نہیں ہے تاہم موجودہ صورت حال میں صحابی کے عمل سے ایک طرح کی تائید ملتی ہے. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب ان سے عید کی نماز فوت ہو جاتی تو وہ گھر پر ہی اپنے اہل و عیال کے ساتھ عید کی نماز ادا کرتے( عن انس، اذا فاتتہ صلوۃ العید مع الامام جمع اھلہ فصلی بھم مثل صلوٰۃ الامام فی العید( اللسنن الکبری للبیھقی)

اور جو گھر پر بھی باوجود کوشش کے عید کی نماز پر قادر نہ ہو سکا تو وہ چار رکعت نفل نماز ادا کر لے ، چار رکعت کے بارے میں یہ حدیث ہے( عن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ من فاتتہ العید فلیصل اربعا( المعجم الکبیر للطبرانی )چنانچہ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ جو آدمی با وجود کوشش کے عید کی نماز ادا نہیں کر سکا اور اس نے یہ چار رکعت نفل پڑھ لی اس کو بھی عیدگاہ میں عید کی نماز ادا کرنے والے سے کم ثواب نہیں ملے گا.

خلاصہ ء کلام یہ ہے کہ علماء کرام کی اپیل کے مطابق اس لاک ڈاؤن میں جہاں عیدگاہ میں جمع ہونا ممنوع ہو وہاں مسلمان اپنے گھروں میں عید الفطر کی نماز ادا کریں، اس طرح ہر محلہ میں دس، بیس، پچیس جگہوں پر عید کی نماز ادا کی جا سکتی ہے اور عید کی نماز پڑھانا کوئی بہت مشکل نہیں ہے جس طرح عام نماز پڑھتے ہیں اسی طرح دو رکعت پڑھنی ہے، امام کے علاوہ کم از کم تین بالغ افراد کا مقتدی ہونا ضروری ہے اور صرف چھ زائد تکبیریں کہنی ہیں، پہلی رکعت میں ثنا کے بعد تین مرتبہ اللہ اکبر کہنا ہے اور دوسری رکعت میں رکوع سے پہلے سورہ فاتحہ اور سورہ ملانے کے بعد تین مرتبہ اللہ اکبر کہنا ہے، اور نماز کے بعد دو خطبہ کہنا ہے، یہ سنت ہے، اگر کوئی نہ پڑھ سکے تب بھی عید کی نماز ادا ہو جاءے گی ، بلکہ ہو سکے تو دیکھ کر دونوں خطبہ پڑھ لے یا اگر پہلے خطبہ میں سورہ فاتحہ پڑھ لے اور دوسرے خطبہ میں التحیات، درود شریف اور اللہم انی ظلمت نفسی الخ پڑھ لے تب بھی خطبہ ہو جاءے گا. اور اللہ کی ذات سے امید ہے کہ گھر پر ادا کی جانے والی عید کی نماز کا ثواب عیدگاہ کی نماز کے ثواب سے کم نہیں ہوگا.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: