اہم خبریں

غریبوں کی مدد کرناسنت ہے، بھیکاری پالتے رہنانہیں

رندؔمظاہر

اسلام میں غریبوں،محتاجوں اورناداروں کی خیرخواہی، ان کی ہرقسم کی مدداورتعاون نہ صرف کارخیر وسنت نبویﷺ ہے بلکہ بعض حالات میں یہ فرض ہے،جیساکہ حضرت منذِرؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبیﷺ کی خدمت عالی میں تھے کہ قبیلہ مُضَر کے باشندوں کا ایک ایساقافلہ فروکش ہواجن کے تن پرنہ پورے کپڑے تھے، نہ ہی پاؤں میں جوتے،انھوں نے چادروں سے اپنے بدن ڈھک رکھے تھے، البتہ ان کے گلوں میں تلواریں ضرور لٹکی تھیں، دن کاشروع وقت تھا،ان کی خستہ حالی اورفاقہ کشی پرنبیﷺ کاچہرہ مبارک غم سے اترگیا،آپ گھرمیں اندرگئے، پھرواپس آئے،(جب گھرمیں کچھ نہ دیکھاتو)حضرت بلالؓ کواذان دینے کاحکم فرمایا، کھڑے ہوئے اورنمازپڑھاکریہ خطبہ دیا”اے لوگو!اللہ سے ڈرو،اورہرایک شخص اپنے ذخیرہئ آخرت کے لئے کچھ خرچ کرے،(حشر:۸۲)لوگ سن کراپنے اپنے گھروں کی طرف دوڑے اورکوئی صدقے میں دِینار، درہم(روپیہ، پیسہ) لایا،کوئی کپڑے لایا،کوئی گیہوں اورکھجوروں کے صاع(تقریباََ دوتین کلو) لایا،یہاں تک آپ ﷺ نے آخرمیں یہ فرمادیا(ضرورلاؤ،)چاہے ایک کھجورکاٹکڑاہی کیوں نہ ہو(مسلم: 1017،نسائی:5254)بڑی خوشی کی بات ہے کہ جمعیۃ علمائے ہند کے دونوں گروپ ہی زندگی کے ہرمورچہ پربِلاشرکت ِ غیرے تن دھن اورمن سے اپنے اوپرعائد ملّت اسلامیان ہند کی ذمہ داریوں کوبڑی ہی سنجیدگی اوردل جمعی سے نبھارہے ہیں جس کیلئے نہ صرف مظلوم اوران کے خاندان ہی احسان مندہیں بلکہ ان کے ساتھ ملک کاہرطبقہ بھی دل کی گہرائیوں سے اس کامُعترف اورتہِ دل سے ان کے لئے دعاگوہے،مگراسی کے ساتھ مشرقی دہلی جمعیۃ علمائے ہند کی شاخ اوراسکے فعّال ذمہ داروں،عہدہ داروں اورارکان کی اس طرح کی خبریں بھی مجھ جیسے کم فہم اورعام مسلمانوں کے لئے سوہان روح ہیں کہ اگرکسی غریب کی مددکردیں تواس کارخیر اورصدقہ کے بیش بے بہاعظیم ثواب اورنیکیوں کوآپ اپنی شہرت کاذریعہ بنانے کی جُگت میں لگ جائیں، جس طرح کے /3دسمبر2019کے اخبارات اوسوشل میڈیا۔واٹس ایپ وغیرہ کی زینت ہمارے احباب کے وہ فوٹوہیں جن میں وہ غریب، بے گھر، بے در مفلوک الحال برماکے روہنگیامسلمان بھائیوں کو سردی کے کپڑوں کاعطیہ دیتے نظرآرہے ہیں،جس سیمجھ جیسے کم سمجھ آدمی کویہ شبہ ہونایقینی ہے کہ جناب مدد کیلئے کم اوراپنی شہرت کے لئے یہ کارخیرانجام دے رہے ہیں جس کی قبولیت کی امیدکم اوراس پرمباداخدائی پکڑکا خطرہ زیادہ ہے جیساکہ دکھاوے کی مذمت میں واردآیات قرآنیہ اوراحادیث رسولﷺ سے ظاہرہے،نیزاگرآپ غورکریں تواس میں صدقات وصول کرنے والے ان غریبوں کی بھی توہین وتحقیر اورایذاکاسامان ہے جوآپ کے یہ ہدئے، تحائف وصول کررہے ہیں،اللہ پاک کاارشادہے”اپنے صدقات کوکسی پراحسان جتاکریااس کوتکلیف پہنچاکراکارت مت کرو(بقرہ:264)
گذشتہ سال واٹس ایپ ہی پرایک واقعہ کلکتہ کے ایک عالم مولاناابوطالب رحمانیسے ان کی تقریرمیں سناتھا”کہ میں ایک باررات کی تاریکی میں کلکتہ کے راستوں سے گذررہاتھا دیکھاکہ غیرمسلم بھائی سوئے ہوئے غریبوں پررات کے وقت خاموشی سے کمل ڈالتے اورآگے بڑھ
جاتے ہیں،نہ کہیں رپورٹنگ، نہ کہیں فوٹوگرافی ،بس خاموشی سے اپنے کام میں لگے ہیں۔اورتواورمیں کم وبیش سالانہ ہمدردفاؤنڈیشن کی خبریں اسی طرح کی دیکھتاہوں کہ غرباء میں کمبل تقسیم کے مناظراخبارات کی زینت بنائے جاتے ہیں،اللہ معاف کرے
ترسم بہ کعبہ نہ رسی اے اعرابی
کیں کہ میروی بترکستان است۔
نیز جہاں تک غورکیاجائے تویہ فعل سنت نبویﷺ کے بھی زمرے نہیں آتاکیونکہ نبی کریمﷺ کی حیات طیبہ سے یہ توثابت ہے کہ آپ ﷺغریبوں،کمزوروں،بچوں، ضعیفوں، یتیموں،بیواؤں، طالبان علوم،نومسلموں مسافروں اوراچانک کسی مصیبت کی زد میں آنے والوں کیبلاقید مذہب بربنیاد انسانیت ہرقسم کی مدد اوران کاتعاون خودبھی فرماتے اوراپنے جاں نثارصحابہ کرام بھی اس کی تلقین فرمایاکرتے تھے مگرایسی کوئی روایت میرے ناقص علم اورمذکورہعلمائے کرام کے وسیع علم میں بھی شایدنہ ہو جس میں نبی کریمﷺ سے بھیکاریوں کومستقل پالنے کاکوئی قصہ یاحوالہ ملتاہو، بلکہ یہ روایت ہرعالم اورکم پڑھے لکھے مسلمانوں نیزبہت سے غیرمسلموں کوبھی یادہوگی جس میں اللہ کے نبی ﷺ نے اپنے دربارمیں آنے والے نوجوان بھیکاری سے خوداسی کے پیسوں سے کلہاڑی خردواکراپنے پاس سے لکڑی دستہ ڈال کراس کو کو لکڑیاں کاٹکربیچنے کاحکم فرماتے ہوئے جنگلات کی طرف بھیجاہے(ابن ماجہ:2198)
آپ ان روہنگیامسلمانوں کے حال پرغورفرمائیں کہ جن کوبرماسے بری گھڑی میں نکلے ہندستان کی سرزمیں پراترے ہوئے کم وبیش تین سال کالمباعرصہ ہوگیامگران کوکہیں میں نے توآج تک کوئی چھوٹاموٹاکاربار، جوتے چپّل کی ریڑھی یاہینگ اورسُرمہ یامونگ پھلی کی پھیری کرتے نہیں دیکھایعنی ان کاپیشہ صرف یہی رہ گیاہے کہ لنگڑے،لولے اورمحتاجوں کی طرح ہندوستان میں رہتے رہواوربھیک پراپنی گذربسرچلاتے رہو۔البتہمیرے کرم فرماومخلص مولوی جمیل اخترقاسمی سلمہ نے کھجوری میں مقیم اہل برماکے بارے میں یہ ضروربتایاکہ ان میں اکثرلوگ مزدوری وغیرہ بھی کرلیتے ہیں۔بڑی خوشی کی بات ہے کہ اپنے پاؤں پرکھڑے ہوکرعزت کی روزی کمانے والے بن جائیں،اللہ ان کی ہم سب کی مددفرمائے۔غورفرمائیے کہ عام طورسے ہندستان کے کم وبیش /60 مسلمان خودہی اپنے کاروبارسے مطمئن نہیں اوپرسے یہ ان پربوجھ ہیں، نیز ان میں کے اکثرلوگ خود کونہ صرف بھیک پرکئے ہوئے ہیں بلکہ اپنی اولادکوبھی اسی پیشہ پراتاررہے ہیں آپ کوشاید یادہوگاکہ دوسال قبل خود دہلی کے جمیعۃ علماء کے احباب اورذمہ داران مدارس محترمی ڈاکٹرسعیدالدین قاسمی(سابق صدر جمیعۃ علماء) مدظلہ وغیرہ نے ان کوآفرکیاتھا”
آپ لوگ اپنے بچے ہمارے حوالے کرو، ہم ان کی تعلیم وتربیت کاذمہ لیتے ہیں ان کاپوراخرچہ ہم اٹھائیں گے مگراس میں بھی چند ہی داخلے ہوئے اورپھر وہ بھی بھاگ گئے، میرے اس دعوے کی گواہی جمعیۃعلمائے دہلی کے بڑے ہی ذمہ دارمیرے دو کرم فرماحضرت مولاناداؤامینی (مہتمم مدرسہ باب العلوم،جعفرآباد اورجناب الحاج ماسٹرمحمدسلیم انصاری، رحمانی(مہتمم مدرسہ زینت القرآن ویلکم دہلی)بھی دے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کی کاہلی کے لئیمیرے علاوہ میرے کرم فرمامولوی ممتازاحمدقاسمی(پیش امام مرکزی،دہلی کو)بھی شایدیاد ہوکہ گذشتہ برس روہنگیوں کے چندسفیدپوش لوگ جامع مسجد نارتھ گھونڈہ میں اپنی مفلوک الحالی کاشکوہ کرتے فلیکسی بینراٹھائے چندہ کر

رہے تھے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، آپ غوکریں کہ اس کے سیاسی نقصانات کی تلوارہم جیسے پشتینی مسلمانوں کوبھی کاٹ رہی ہے، جیساکہ وزیرداخلہ کے روزازنہ پر(NRC)پریشان کن بیانات کی بنیاد بھی اسی قسم کے نکھٹولوگ ہیں جوکہ ہندوستان کی زمین پربوجھ ہیں،کہتے میں شرم آتی ہے الامان والحفیظ۔
آپ اہل علم،باشعوراورجہاں دیدہ لوگ ہیں آپ جانتے ہونگے، کہ شمال مشرقی دہلی کی سرحدی مسلم اکثریتی کالونیوں میں ہند وپاک کی جنگ نیزپاکستان وبنگلہ دیش کی لڑائی کے وقت ہندستان آئے پناہ گزینوں کی یہ دوسری یاتیسری پشت ہے جس کی خواتین اوربوڑھے 1965_1971سے ابھی تک بھی بھیک ہی کے پیشہ میں ملوّث ہیں،مشہورکہاوت ہے ”جسے روٹی ملے یوں وہ کھیتی کرے کیوں؟
یہ وہتجربات ہیں جوقوم کی طرف سے میرے دل میں دردبن کرچبھتے ہیں،اس کوآپ کسی دیوانہ کی بڑبھی کہہ سکتے ہیں
بقول نابغہ
ستبدی لک الایام جاھلاََ
ویأتیک بالاخبارمالم تزوّدِ
یابقول مرزاغالبؔ مرحوم
رکھیوغالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں
آج کچھ دردمرے دل میں سواہوتاہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: