غزل

غزل مسلسل

ڈاکٹرراحتؔ مظاہری،قاسمی،دہلی

ہے یہ وطن میں کس کی حکومت، قدم قدم؟
نیلام بیٹیوں کی ہے عز ّ ت،قدم قدم
نگراں کے بھیس میں ہیں درندے کھڑے ہوئے
لگتی ہے رہبروں سے یوں وحشت،قدم قدم
اس کووطن سے پیار،نہ الفت عوام سے
کتنی بھٹک رہی ہے سیاست،قدم قدم
ملتا ِ نہیں ہے خوف میں بھائی سے آدمی
مذہب کے نام پرہے وہ نفرت،قدم قدم
اَیوان ہے ہماراہے کہ فرعون کامحل
لگتی ہے پاک داں پہ تہمت،قدم قدم
ملت ّکی بیٹیاں بھی کھڑی ہیں محاذپر
مجھ کوستارہی ہے یوں غیرت،قدم قدم
رانی ہے،چاندبی بی،توحضرت محل ہے کوئی ؔ ؔ ؔ
دنیامیں ہورہی ہے یہ شہرت، قدم قدم
قانون بھی توجَرسِ قیامت ہیں آپ کے
لوگوں کوکھارہی ہے یوں ہیبت،قدم قدم
روزانہ مانگتے تھے دعائیں نمازمیں
دہلیزپرکھڑی ہے شہادت،قدم قدم
کس کوہے تخت وتاج کامالک بنادیا؟
قسمت پہ رورہاہے یوں بھارت،قدم قدم
واقف نہیں ہیحیف َ ! حسینی ُ َ مزاج سے
ہمسے بھی ہے مانگتاہے یوں بیعت قدم قدم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close