اہم خبریں

غزل

گرچہ دی وقت نے مہلت تو دوبارہ یارا
پھر سے ہم لیں گے محبت کا سہارا یارا

پیڑ پودے بھی تھے اجداد کے ساۓ بھی تھے
کتنا دلکش تھا مرے گھر کا نظارہ یارا

شاید اِس کو ہی محبت کا جنوں کہتے ہیں
بھول بیٹھا ہوں ترا عیب بھی سارا یارا

مانگنے کے لئے تجھ کو میں کھڑا ہوں چھت پر
مجھ کو دِکھتا ہی نہیں ٹوٹتا تارا یارا

تم نے جو لفظ کہا تھا بڑی آسانی سے
ہم پہ وہ لفظ چلا جیسے کے آرا یارا

کتنا اندھا تھا ترے عشق میں پہلے پہلے
سارے اپنوں سے رہا اپنا کنارا یارا

آج وہ ترکِ تعلق کے لئے آیا تھا
آج وہ لگتا تھا پہلے سے بھی پیارا یارا

مہرِ فرقت رہا ہر آن سوا نیزے پر
ہم نے اک عہد قیامت سا گزارا یارا

شب بیداری بھی ہوئی گریہ وزاری بھی ہوئی
عشق میں خوب ہوا اپنا خسارہ یارا

آنکھ کٌھلتی ہی نہیں نیند کے غلبے سے ضیا
بسترِ خاک کہاں پر ہے ہمارا یارا

ضیاء کاملی
سکراول، اردو، بازار ،ٹانڈہ امبیڈکر نگر( یوپی)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: