زبان و ادب

غزل

ازقلم افتخار حسین احسن

رابطہ نمبر 6202288565
مصرع طرح
*کس نے سایے سے اٹھاکر دھوپ میں رکھا مجھے*
قافیہ *رکھا*
راس آتا ہی نہیں ہے شہر کا میلا مجھے
یاد آتا ہے بہت اب گاوں کا رستہ مجھے

جس کی خاطر ہر خوشی قربان میری ہوگئ
آج تک اس نے نظر بھر کر نہیں دیکھا مجھے

شاعری سے جڑ گیا ہے تب سے ہی رشتہ مرا
عشق میں جب سے ملا ہے دوستو دھوکہ مجھے

نیند میری اڑگئ میں سوچتا ہی رہ گیا
*کس نے سایے سے اٹھاکر دھوپ میں رکھا مجھے*

کوئی خواہش ہی نہیں ہے آپ سے احسن کی اب
اپنی زلفوں کا فقط دے دیجیے سایہ مجھے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close