زبان و ادب

غزل

نا معلوم

آنکھ غزالی توبہ توبہ
گال پہ لالی توبہ توبہ

زلف کھلی ہے ایسے گویا
رات ہو کالی توبہ توبہ

بات بنا لیتی ہے بگڑی
کان کی بالی توبہ توبہ

رشک ہے حسرت کو بھی خود پر
آپ نے پالی توبہ توبہ

دید جو کر لی دیوانے نے
جان بچالی توبہ توبہ

آپ کا در ہے یا حاتم کا
اتنے سوالی توبہ توبہ

آپ ہمیں بھی سوچتے ہونگے
خام خیالی توبہ توبہ

جیب کو بھر کر بھی لوگوں کے
ہاتھ ہیں خالی توبہ توبہ

دیکھ لو ساون میں بھی ہم نے
آنکھ سنبھالی توبہ توبہ

دشت نے ان کو دیکھا شاہد
پیاس بجھالی توبہ توبہ.

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close