اسلامیات

غسل فرض

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (12) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ

انچ چیزوں سے غسل کرنا فرض ہوتا ہے:
اول: جماع سے خواہ قبل میں ہو یا دبر میں۔ صحبت کرنے سے مرد و عورت دونوں پر غسل واجب ہوتا ہے، خواہ منی نکلے یا نہ نکلے۔
عن ابی ھریرۃ قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ: اذا جلس احدکم بین شعبھا الاربع ثم جھدھا فقد وجب الغسل و ان لم ینزل۔ (رواہ مسلم، بلوغ المرام، ص؍۲۰)
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب چاروں ہاتھ پاؤں کے درمیان بیٹھ جائے ، پھر کوشش میں لگ جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے ، اگرچہ منی نہ نکلے۔
یہاں تک کہ اگر مرد صرف اپنی سپاری عورت کی شرم گاہ میں داخل کرکے فورا نکال لے، تو بھی غسل واجب ہوجاتا ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اذا جاوز الختان الختان وجب الغسل۔
جب سپاری فرج میں داخل ہوئی غسل واجب ہوا۔
حضرت عائشہؓ کہتی ہیں : میں نے اور رسول اللہ ﷺ نے نہائے ہیں۔ البتہ ابتدائے اسلام میں فتح مکہ تک صرف صحبت سے غسل واجب نہیں ہوتا تھاجب تک کہ انزال نہ ہوجائے۔ چنانچہ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ تک رسول اللہ ﷺ صحبت بلا انزال کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے ۔ اس کے بعد آپﷺ غسل کرتے تھے اور لوگوں کو اس کا حکم دیتے تھے۔ (رواہ ابن حبان فی صحیحہ)
(۲) دوسرا احتلام سے ۔ کبھی انسان صحبت کا خواب دیکھتا ہے ، جس میں منی خارج ہوجاتی ہے ، تو منی خارج ہونے کی صورت میں غسل واجب ہوجاتا ہے ، خواہ یہ خواب مرد دیکھے یا عورت۔ اگر صرف خواب ہوا اور منی خارج نہ ہوئی تو غسل واجب نہ ہوگا۔ اگر خواب یاد نہ رہے ، لیکن کپڑے وغیرہ میں منی کا اثر پائے تو غسل واجب ہوگا۔
عن عائشۃ قالت: سئل رسول اللّٰہﷺ عن الرجل یجد البلل و لا یذکر احتلاما قال: یغتسل، و عن الرجل الذی یریٰ انہ قد احتلم و لا یجد بللا، قال: لا غسل علیہ۔ قالت ام سلیم: ھل علیٰ المرأۃ تریٰ ذالک غسل؟ قال: نعم، ان النساء شقائق الرجال۔ (رواہ الترمذی و ابو داؤد و رویٰ الدارمی وابن ماجہ الیٰ قولہ لا غسل علیہ)
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو منی کی تری پاتا ہے اور خواب یاد نہیں پڑتا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا: غسل کرے۔ اور ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو خواب دیکھتا ہے ، لیکن تری نہیں پاتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس پر غسل نہیں ہے۔ حضرت ام سلیم نے عرض کیا : اگر عورت دیکھے تو کیا اس پر غسل ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں،عورتیں مردوں کی مانند ہوتی ہیں۔
(۳) تیسرا: شہوت کے ساتھ منی نکلنے سے۔ کسی کو شہوت کی نظر سے دیکھا یا چھوا اور منی خارج ہوگئی، یا کسی جانور یا مردار سے صحبت کی اور منی خارج ہوگئی، یا ہاتھ، ران وغیرہ کی رگڑ سے منی خارج ہوگئی، تو ان صورتوں میں غسل واجب ہوگا جب کہ شہوت سے نکلی ہو۔
اگر بغیر شہوت کے منی نکلی تو غسل واجب نہ ہوگا۔ کسی نے سر پر مارا اور منی خارج ہوگئی یا گودنے سے یا بوجھ اٹھانے سے نکل گئی یا پیشاب کے ساتھ بلا شہوت نکل آئی تو غسل واجب نہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اذا خذفت الماء فاغتسل و اذا لم یکن خاذفا فلا تغتسل۔ (رواہ احمد)
جب منی پھینکے تو غسل کر اور جب پھینکنے والا نہ تومت غسل کر۔
یعنی منی اچھل کر نکلے تو غسل واجب ہوگا اور اچھل کر اسی وقت نکلتی ہے جب کہ شہوت ہو۔ معلوم ہوا کہ شہوت سے نکلنے سے ہی غسل واجب ہوتا ہے۔
(۴) چوتھا حیض سے ۔
(۵) پانچواں نفاس سے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
و لا تقربوھن حتَّی یطھرن۔ (البقرۃ، ۲۲۲)
مت قریب ہو ان سے یہاں تک کہ خوب پاک ہولیں، یعنی غسل کرلیں۔
معلوم ہوا کہ حیض کے بعد غسل فرض ہے اور نفاس کے بعد غسل بالاجماع فرض ہے ۔
(حیض و نفاس کا بیان آگے آئے گا)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: