اسلامیات

غسل کا بیان

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (10) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ

غسل میں تین چیزیں فرض ہیں:
(۱) کلی کرنا۔
(۲) ناک میں پانی ڈالنا۔
(۳) ایک مرتبہ سارے بدن پر پانی بہانا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
و ان کنتم جنبا فاطھروا۔ (المائدہ: ۶)
اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو سارا بدن پاک کرو۔
اور سارے بدن میں منھ اور ناک بھی ہے، اس لیے غرغرہ کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھی اس آیت سے فرض ہے۔ حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب جنابت میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا بھول جاؤ تو اپنی نماز کو دوہراؤ۔ (مسند عبد الرزاق ، سعید بن منصور)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
المضمضۃ والاستنشاق للجنب فریضۃ۔ (رواہ الامام ابو برکۃ الخطیب من جھۃ الدار قطنی و لیس فیہ راو ضعیف، زجاجہ ۱۱۲)
کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر سنکنا جنبی کے لیے فرض ہے۔
عن علیؓ قال رسول اللّٰہ ﷺ : من ترک موضع شعرہ من جنابۃلم یغسلھا فعل بھا کذا و کذا من النار، قال علیؓ: فمن ثم عادیت راسی فمن ثم عادیت راسی ثلاثا۔ (رواہ ابو داؤد و سکت عنہ ، و فی التلخیص الجیر اسنادہ صحیح)
حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے غسل جنابت میں بال بھر جگہ چھوڑ دی ، جس کو انھوں نہیں دھویا، تو اس کی وجہ سے اس کے ساتھ ایسا ایسا معاملہ آگ کا کیا جائے گا۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں اپنے سر کا دشمن ہوں ، اسی وجہ سے میں اپنے سر کا دشمن ہوں ، تین بار فرمایا۔
حضرت علیؓ اسی وجہ سے سر میں زلف نہیں رکھتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بال کی وجہ سے سر میں کوئی جگہ سوکھی رہ جائے اور پھر عذاب اور دوزخ میں مبتلا ہونا پڑے، اس لیے برابر سر کو منڈواتے رہتے تھے۔ یہی سر کے ساتھ ان کی دشمنی تھی۔
معلوم ہوا اگر بدن میں کہیں بھی بال کے برابر خشک جگہ رہ گئی ،تو اس کا غسل صحیح نہیں ہوگا، اس لیے ناف کے اندر انگلیوں کے درمیان ، تمام بالوں کا اور سر اور داڑھی اور مونچھ اور بھؤوں کے بالوں کے اندر کی کھال کو تر کرنا، غیر مختون کے لیے کھال کے نیچے اور فرج خارج تک پانی پہنچانا فرض ہوگا۔ اگر کان میں بالی اور ناک میں نتھ ہو تو ان کے سوراخوں کے اندر بھی پانی پہنچانا فرض ہے ۔ اگر انگوٹھی، چوڑی سخت ہو تو اس کو ہلاکر پانی پہنچانا ضروری ہے ۔ اگر ناخن میں آٹا یا کوئی ایسی چیز جو اندر پانی پہنچنے نہ دے ، تو اس کو چھڑا کر اس جگہ پانی پہنچانا ضروری ہے ، ورنہ غسل نہ ہوگا۔ یا بدن کے کسی حصہ میں کوئی ایسی چیز ہو جو اندر پانی نہ پہنچنے دیتا ہو، تو اس کو دور کرکے دھونا اور پانی پہنچانا ضروری ہے، اس لیے کہ یہ بھی بدن کے حصے ہیں ۔ اور تمام بدن کا دھونا فرض ہے ؛ البتہ عورتوں پر جب کہ بال گوندے ہوئے ہوں تو بالوں کا کھول کر تر کرنا ضروری نہیں، صرف بال کے جڑوں کا تر کرنا ہی کافی ہے۔
عن ام سلمۃؓ قالت: قلتُ یا رسولَ اللّٰہ ﷺ انی امرء ۃ اشد ضفرَ راسی افانقضہ لغسل الجنابۃ، فقال: لا انما یکفیک ان تحثی علیٰ راسک ثلاث حثیات ثم تفیضین علیکِ الماء فتطھرین۔ (رواہ مسلم)
حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ! میں اپنے سر کے بالوں کو گوند لیتی ہوں، کیا میں غسل جنابت کے لیے ان کو کھول لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں تجھ کو اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لینا ہی کافی ہے ۔ پھر اپنے بدن پر پانی بہالو، پاک ہوجاؤ گی ۔
بدن پر تیل مالش کرکے غسل کرنا درست ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: