اسلامیات

غیرمقلدین کی گمراہیاں خود اپنی تحریرات کی روشنی میں

امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب سابق صدر جمعیت علمائے ہند

خطبہ صدارت تحفظ سنت کانفرنس
از: حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند۔
الحمد للّٰہ نحمدہ و نستعینہ ونستغفرہ و نؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللّٰہ من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا من یہدہ اللّٰہ فلا مضل لہ ومن یضللہ فلا ہادی لہ ونشہد ان الاالہ الا اللّٰہ وحدہ‘ لاشریک لہ ونشہد ان محمداً عبدہ و رسولہ و صلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ سیّد المرسلین و خاتم النبیین سیّدنا و مولانا محمد و علیٰ آلہ واصحابہ و اتباعہ اجمعین۔ امّا بعد:
قال اللّٰہ تعالیٰ: فَبَشِّرْ عِبَادِیَ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہ‘ اُوْلٰءِکَ الَّذِیْنَ ہَدَاہُمُ اللّٰہُ وَ اُوْلٰءِکَ ہُمْ اُوْلُوالْاَلْبَاب۔ (الزمر:18)
”سو آپ میرے ان بندوں کو خوش خبری سنادیجیے،جو کلام الٰہی کو پوری توجہ سے سنتے ہیں، پھر اس کی اچھی اچھی باتوں پر چلتے ہیں۔ یہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی ہے اور یہی اہل عقل ہیں۔“
علمائے اعلام و معزز حاضرین! تحفظ سنت کانفرنس کی صدارت کا امتیاز دے کر آپ حضرات کی جانب سے اعتماد و خلوص کا جو اعزاز مجھ جیسے بے بضاعت کو عطا کیا گیا ہے، اس کو میں اپنے واسطے شرف دنیا و آخرت سمجھتا ہوں اور اپنی اس خوش بختی پر نازاں ہوں کہ علمائے اعلام کی نظر انتخاب مجھ جیسے ناتواں پر پڑی۔ بلاشبہ یہ میرے لیے ایک نیک فال ہے اور میں شہداء اللہ فی الارض کی اس انتخابی شہادت کو اپنے لیے ذریعہئ نجات باور کرتا ہوں اور رب ذوالمنن کے فضل و کرم سے توقع رکھتا ہوں کہ جماعت علماکے ساتھ اس ارتباط و پیوستگی کے بدولت میرا حشر بھی اسی جماعت حقہ کے ساتھ ہوگا۔ ”ہم قوم لایشقیٰ جلیسہم“۔
اساطین اسلام!برصغیر (متحدہ ہندستان) کی علمی و ثقافتی تاریخ سے معمولی واقفیت رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ92ھ میں عراق کے گورنر کے حکم پر اسلامی فوج محمد بن قاسم کی سر کردگی میں سندھ پہنچی اور تین سالہ جدوجہد کے نتیجہ میں 95ھ میں سندھ کا پورا علاقہ اسلام کے زیرنگیں آگیا، چوں کہ ان حضرات کا تعلق عراق سے تھا، اس لیے عراقی فقہ ہی کے پابند تھے۔
اس وقت سے آج تک ہمیشہ سندھ عراقی مدرسہئ فکر اور فقہ حنفی کا گہوارہ رہا ہے، اس کے بعد چوتھی صدی ہجری یعنی392ھ میں محمود غزنوی نے لاہور اور اس کے مضافات کو اپنی قلم رو میں داخل کرکے اسلامی حکومت کو سندھ سے لاہور تک وسیع کردیا۔ سلطان محمود غزنوی بھی فقہ حنفی ہی سے وابستہ تھے، بعد ازاں 589ھ میں سلطان غوری کے زمانہ میں اسلامی سلطنت دہلی تک وسیع ہوگئی اور اس وقت سے 1273ھ تک پورے برصغیر میں مسلمانوں ہی کی حکومت رہی۔ اس طویل مدت کی تاریخ پڑھ جائیے، حنفی حکمرانوں کے علاوہ کوئی اور حکمراں آپ کو نہیں ملے گا۔ چنانچہ نواب صدیق حسن خاں صاحب بھی اس تاریخی حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے وہ اپنے رسالہ ”ترجمان وھابیہ“ ص/11 میں لکھتے ہیں:
”خلاصہ حال ہندستان کے مسلمانوں کا یہ ہے کہ جب سے یہاں اسلام آیا ہے،چوں کہ اکثر لوگ بادشاہوں کے طریقہ اور مذہب کو پسند کرتے ہیں، اس وقت سے لے کر آج تک یہ لوگ حنفی مذہب پر رہے ہیں اور اسی مذہب کے عالم، فاضل، قاضی، مفتی اور حاکم ہوتے رہے، یہاں تک کہ ایک جم غفیر نے مل کر فتاویٰ ہند یہ یعنی فتاویٰ عالم گیری جمع کیا اور اس میں شیخ عبد الرحیم دہلوی والد بزرگوار شاہ ولی اللہ مرحوم بھی شریک تھے۔“
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی
حاضرین ذوی الاحترام!یہ ہے برصغیر ہندو پاک اور بنگلہ دیش میں مذہب حنفی کی اجمالی تاریخ، جس سے روز روشن کی طرح نمایاں ہے کہ متحدہ ہندستان میں اسلام کے داخلہ کے وقت سے انگریزوں کے تسلّط تک بغیر کسی اختلاف و نزاع کے یہاں کے عالم، فاضل، مفتی، حاکم اور عام مسلمان تواتر کے ساتھ اجتماعی طور پر فقہ حنفی ہی کی روشنی میں اسلامی مسائل اور دینی احکام پر عمل پیرا رہے ہیں۔
محافظانِ سنت!مسلمانوں کے عہد زوال میں جب سامراجی سازشوں کے تحت جماعت مسلمین میں اختلاف و انتشار پیدا کرنے کی غرض سے مذہبی فرقہ بندیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا، تو فقہ اسلامی، فقہائے اسلام؛بالخصوص امام اعظم ابوحنیفہؒ اور ان کے متبعین و مقلدین کے خلاف عدم تقلید کا نعرہ لے کر ایک نئے فرقہ نے سر اُٹھایا۔
چنانچہ خود اسی فرقہ کے جماعتی مؤرخ مولانا محمد شاہ جہاں پوری اپنی کتاب ”الارشاد الی سبیل الرشاد“ میں لکھتے ہیں:
”کچھ عرصہ سے ہندستان میں ایک ایسے غیر مانوس مذہب کے لوگ دیکھنے میں آرہے ہیں، جس سے لوگ بالکل ناآشنا ہیں؛ بلکہ ان کا نام بھی ابھی تھوڑے ہی دنوں سے سنا ہے، اپنے آپ کو تو وہ اہل حدیث، یا محمدی، یا موحد کہتے ہیں؛مگر مخالف فریق میں ان کا نام غیر مقلد، وہابی، یا لا مذہب لیا جاتا ہے۔
چوں کہ یہ لوگ نماز میں رفع یدین کرتے ہیں،یعنی رکوع جاتے وقت اور رکوع سے سراٹھاتے وقت ہاتھ اٹھاتے ہیں، جیسا کہ تحریمہ کے وقت ہاتھ اُٹھائے جاتے ہیں، بنگالہ کے لوگ ان کو رفع یدین بھی کہتے ہیں۔“ (ص/23 مع حاشیہ)
اس نوپید اور غیر مانوس فرقہ کا تعارف اس کے محسن اعظم نواب صدیق حسن خاں صاحب- جن کے مالی تعاون نے اس کی نشونما میں بنیادی کردار ادا کیا ہے- ان الفاظ میں کرتے ہیں:
”فرق درمیان مقلدین اور فرقہئ موحدین کے فقط اتنا ہے کہ موحدین نرے قرآن وحدیث کو مانتے ہیں اور باقی اہل مذہب اہل الرائے ہیں، جو مخالف سنت اور طریقہئ شریعت ہے۔“ (ترجمان وہابیہ، ص/62)
جس کا صاف مطلب یہی ہے کہ بزعم خود کتاب و سنت پر عامل اور طریقہئ شریعت کے متبع بس یہی مدعیان ترک تقلید شرذمۃ قلیلہ ہیں۔ ان کے علاوہ دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان جو ائمہئ اربعہ میں سے کسی نہ کسی کی تقلید کے پابند ہیں، کتاب و سنت کے مخالف اور اسلامی شریعت سے دور ہیں۔ یہی دعویٰ آج اس فرقہ کے بچّہ بچّہ کی زبان پر ہے اور ان کے نزدیک ہر وہ مسلمان، جو ائمہئ اربعہ کا مقلد ہے، نعوذ باللہ صحیح راستہ سے ہٹا ہوا اور گمراہ ہے، جب کہ ان کا یہ دعویٰ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ”علیکم بالجماعۃ والعامۃ“ اور ”اتبعواالسواد الاعظم“کے یکسر معارض اور منافی ہے۔ا ور خود ان کے گھر کی شہادت بھی یہی بتارہی ہے ان کا یہ دعویٰ سراسر باطل اور واقعہ حال کے بالکل خلاف ہے، چنانچہ اس فرقہ کے نام ور اور مشہور عالم مولانا عبدالجبار غزنوی، جو اپنے حلقہ میں امام کہے جاتے ہیں اور مولانا عبدالتواب، جو اس فرقہ کے مایہئ ناز مناظر تھے، دونوں کا بیان ”ہمارے اس زمانہ میں ایک فرقہ نیا کھڑا ہے، جو اتباع حدیث کا دعویٰ رکھتا ہے؛ مگر یہ لوگ اتباع حدیث سے کنارے ہیں۔ جو حدیثیں سلف اور خلف کے ہاں معمول بہا ہیں، ان کو ادنیٰ سی قوت اور کمزور سی جرح پر مردود کہہ دیتے ہیں اور صحابہ کے اقوال اور افعال کو ایک بے طاقت قانون اور بے نور سے قول کے سبب پھینک دیتے ہیں اور ان (احادیث نبویہ اور فرمودات صحابہ) پر اپنے بے ہودہ خیالوں اور بیمار فکروں کو مقدم کرتے ہیں اور اپنا نام محقق رکھتے ہیں ”حاشاوکلا“ اللہ کی قسم یہی لوگ جو شریعت محمدی کی حد بندی کے نشان گراتے ہیں اور ملت حنیفہ (اسلام) کی بنیادوں کو کہنہ کرتے ہیں اور سنت مصطفویہ کے نشانوں کو مٹاتے ہیں اور احادیث مرفوعہ (نبویہ) کو چھوڑ رکھا ہے اور متصل الاسانید آثار (صحابہ) کو پھینک دیا ہے اور ان (فرمودات رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ارشادات صحابہ)کو دفع کرنے کے لیے وہ حیلے بناتے ہیں کہ جن کے لیے کسی یقین کرنے والے کا شرح صدر نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی مومن کا سراٹھتا ہے۔“ (فتاویٰ علمائے حدیث، ج/7، ص/80)
تنبیہ: یہ فتاویٰ علمائے حدیث اس فرقہ غیر مقلدین کی اہم ترین اور نہایت عظیم کتاب ہے، جس پر علامہ ظہیر احسان الٰہی جیسے بڑے بڑے علما کی تصدیقات ہیں۔
یہ ہے فرقہئ غیر مقلدین کا صحیح تعارف،جو خود ان کے امام اور مناظر علام نے بیان کیا ہے۔ جس سے بغیر کسی خفا اور پوشیدگی کے صاف طور پر عیاں ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے فکر و خیال کے مقابلہ میں معمول بہا احادیث کو رد کردیتے ہیں۔آثار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ان کے نزدیک ادنیٰ وقعت بھی نہیں، خدائے علیم و خبیر کے فرستادہ انسانیت کے سب سے عظیم معلم ہادیِ برحق صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت سے آراستہ ان تلامذہئ رسول کے آثار وارشادات کو قانونی قوت سے عاری اور بے نور کہہ کر پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ اپنے مختار مذہب و مسلک میں حق کو منحصر بتاکر دیگر تمام مسلمانوں کو بے راہ؛بلکہ گمراہ اور کافر و مشرک قرار دینا اس فرقہ کا عام شیوہ ہے۔ چنانچہ غیر مقلدین کے عالم کبیر اور بہت ساری کتابوں کے مصنف نواب وحید الزمان لکھتے ہیں:
”غیر مقلدوں کا گروہ -جو اپنے تئیں اہل حدیث کہتے ہیں -انھوں نے ایسی آزادی اختیار کی ہے کہ مسائل اجماعی کی بھی پرواہ نہیں کرتے، نہ سلف صالحین، صحابہ اور تابعین کی۔ قرآن کی تفسیر صرف لغت سے اپنی من مانی کرلیتے ہیں۔ حدیث شریف میں جو تفسیر آچکی ہے، اس کو بھی نہیں سنتے۔ بعضے عوام اہل حدیث کا یہ حال ہے کہ انھوں نے صرف رفع یدین اور آمین بالجہر کو اہل حدیث ہونے کے لیے کافی سمجھا ہے۔ باقی اور آداب اور سنن اور اخلاق نبوی سے کچھ مطلب نہیں۔ غیبت، جھوٹ، افترا سے باک نہیں کرتے۔ ائمہئ مجتہدین رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اولیاء اللہ اور حضرات صوفیہ کے حق میں بے ادبی اور گستاخی کے کلمات زبان پر لاتے ہیں۔ اپنے سوا تمام مسلمانوں کو مشرک و کافر سمجھتے ہیں۔ بات بات میں ہر ایک کو شرک اور قبر پرست کہہ دیتے ہیں۔“ (لغات الحدیث، ج/2،ص/91 کتاب ش)
نواب صدیق حسن خاں اپنی مشہور کتاب ”الحطۃ فی ذکر الصحاح الستۃ“ میں اپنے عہد کے غیر مقلدین کے بارے میں لکھتے ہیں، ہم بغرض اختصار صرف ترجمہ لکھ رہے ہیں:
”بخدا یہ امر انتہائی تعجب و تحیر کا باعث ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو خالص موحد گردانتے ہیں اور اپنے علاوہ سارے مسلمانوں کو مشرک بدعتی قرار دیتے ہیں؛ حالاں کہ یہ خود انتہائی متعصب اور دین میں غلو کرنے والے ہیں۔“ الخ۔
نواب صدیق حسن خان صاحب نے خود اپنی پروردہ جماعت کے کردار سے تنگ آکر انتہائی کرب و اضطراب کے عالم میں تقریباً ”الحطۃ فی ذکر الصحاح الستۃ“ کے دو صفحات:154-155 میں ان کا کچا چٹھا کھول دیا ہے۔
غیر مقلدین کے ان نواب صاحبان کی یہ شکایت بالکل بجا اور درست ہے۔ واقعہ یہی ہے کہ غیر مقلدین نے ”حق“ کو اپنے لیے خاص کرلیا ہے اور اپنے ماسوا کسی کو صحیح مسلمان ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس فرقہ کے مشہور ومقتدر عالم ابو شکور عبدالقادر حصاروی کی کتاب ”سیاحۃ الجنان“ ص/۴ کی درج ذیل عبارت ملاحظہ کیجیے:
”یہ امر روشن ہوچکا ہے کہ حق مذہب اہل حدیث ہے اور باقی جھوٹے اور جہنمی ہیں، تو اہل حدیثوں پر واجب ہے کہ ان تمام گمراہ فرقوں سے بچیں اور ان سے خلا ملا اختلاط میل جول دینی تعلقات نہ رکھیں۔“الخ۔
غیر مقلدین کے اس ناروا اور بے جارویہ سے جماعت مسلمین میں اختلاف و نزاع کا ایک نیا دروازہ کھل گیا اور برصغیر میں آباد اہل سنت و الجماعت کی صدیوں سے قائم مذہبی وحدت انتشار کی شکار ہوگئی، پھر بھی اس جماعت کے سنجیدہ اتحاد پسند علما نے اپنے فکر و عمل پر مضبوطی سے قائم رہتے ہوئے عام مسلمانوں سے اپنا قرب بنائے رکھا اور مذہبی اختلاف کی بناپر ان کی تفسیق و تضلیل کرنے کے بجائے نہ صرف یہ کہ مقلدین مسلمانوں کے ساتھ رواداری اور مدارات کا مظاہرہ کرتے رہے؛ بلکہ دینی و سیاسی معاملات و مسائل میں اپنا بھرپور مخلصانہ تعاون بھی دیتے رہے، جن میں مولانا محمد ابراہیم میر سیال کوٹی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا محمد داؤد غزنوی، مولانا عبدالوہاب آروی وغیرہ کا نام نامی سرفہرست ہے۔
ان حضرات کے اس مصالحانہ رویہ کی بنا پر مقلدین وغیرمقلدین کا باہمی اختلاف بڑی حد تک ”وکانوا شیعاً“کی حد میں داخل ہونے سے محفوظ رہا؛مگر آزاد روی اور انتشار پسندی؛ بلکہ نواب صدیق حسن صاحب کے الفاظ میں انتہائی متعصب (اور حکم الٰہی ”لاتغلوا فی دینکم“کے برخلاف) دین میں غلو کرنے والا یہ فرقہ اپنے پیش روان بزرگوں کے اس اتحاد پسند رویہ کو ہضم نہ کرسکا اور خود اپنے ان بزرگوں ہی کے درپئے آزار ہوگیا اور اپنی جماعت کے صف اوّل کے عالم اور مایہئ ناز شخصیت مولانا ثناء اللہ امرتسری (جنھوں نے جماعت اہل حدیث کی وقیع خدمات میں اپنی پوری زندگی صرف کردی) کے خلاف ایسا طوفان برپا کردیا کہ الحفیظ والا مان۔ انھیں اہل سنت و الجماعت سے خارج کرکے فرقہئ ضالہ مثلا جہمیہ، معتزلہ، قدریہ وغیرہ کی صف میں کھڑا کردیا گیا اور جب اس پر بھی ان کے غلو پسند، تکفیر نواز ذوق کو تسکین نہ ملی، انھیں اسلام ہی سے خارج ٹھہرانے کے لیے اجتماعی فتویٰ حاصل کرنے کی نامسعود سعی کی گئی۔
مولانا ثناء اللہ امرتسری مرحوم کے خلاف اس زمانہ میں شائع رسائل الاربعین (جس میں چالیس دلائل سے انھیں گمراہ اور دین میں تحریف کرنے والوں کا ہم زبان ثابت کیا گیا ہے)، الفیصلۃ الحجازیۃ السلطانیۃ بین اہل السنۃ وبین الجہمیۃ الثنائیۃ،فیصلہ مکہ اور فتنہئ ثنائیہ وغیرہ میں اس سلسلے کی تفصیلات دیکھی جاسکتی ہیں۔
اور دوسرے بزرگ مولانا محمد ابراہیم میرسیال کوٹی کے ساتھ خود ان کی جماعت نے کیا برتاؤ کیا، اس کی کچھ مبہم سی تفصیل خود مولانا سیال کوٹی کے قلم سے ان کی کتاب تاریخ اہل حدیث کے دیباچہ میں، نیز کتاب کے آغاز میں ناشر نے مصنف کے حالات زندگی کے عنوان سے جو تحریر شائع کی ہے، اس میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے، اس مختصر خطبہ میں ان تفصیلات کے ذکر کی گنجائش نہیں ہے۔
حضرات علمائے ذی شان!اب تک کی مذکورہ تفصیلات سے جو خود فرقہئ غیر مقلدین کے اکابر علماکی تحریروں کے حوالہ سے پیش کی گئی ہیں، درج ذیل امور ثابت ہوتے ہیں:
۱۔ یہ ایک نوپید، غیر مانوس فرقہئ شاذہ ہے۔
۲۔ یہ فرقہ اپنے آپ کو اہل حدیث بتاتا ہے، جب کہ تمام مسلمان اسے غیر مقلد، وہابی اور لامذہب کہتے ہیں:
۳۔ یہ فرقہ اپنے ماسویٰ سارے مسلمانوں کو مخالف سنت و شریعت سمجھتا ہے۔
۴۔ یہ فرقہ اتباع سنت کے دعویٰ میں جھوٹا ہے؛ کیوں کہ سلف و خلف کے بیان معمول بہ حدیثوں کو بھی بلاوجہ رد کردیتا ہے۔
۵۔ آثار صحابہ اس فرقہ کے نزدیک قانون کی طاقت سے عاری بے نور اقوال ہیں۔
۶۔ یہ فرقہ اجماعی مسائل کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔
۷۔ یہ فرقہ سلف صالحین اور احادیث مرفوعہ وغیرہ سے ثابت قرآنی تفسیروں کے مقابلہ میں اپنی من مانی تفسیروں کو ترجیح دیتا ہے۔
۸۔ بس رفع یدین، آمین بالجہر وغیرہ مختلف فیہ حدیثوں پر عمل تک اہل حدیث ہے۔ آداب و سنن اور اخلاق نبوی سے متعلق احادیث سے اسے کوئی سروکار نہیں۔
۹۔ یہ فرقہ ائمہئ مجتہدین اور اولیاء اللہ کی شان میں بے ادبی و گستاخی کرتا ہے۔
۰۱۔ یہ فرقہ اپنے علاوہ دیگر تمام طبقات مسلمہ کو بدعتی اور مشرک و کافر سمجھتا ہے۔
اوپر مذکور یہ سب باتیں اس فرقہ کے لوگوں کے بارے میں خود انھیں کے اکابر علما کی بیان کردہ ہیں، جن کا ان لوگوں سے روز کا سابقہ تھا، ان لوگوں کے اعمال و کردار جن کی نگاہوں کے سامنے تھے، جنھوں نے ان کے اہل حدیث ہونے کے دعویٰ کو ان کی سیرت و عادت کے آئینہ میں اچھی طرح پرکھ لیا تھا۔ ائمہئ مجتہدین اور اکابر صوفیاکی شان میں ان لوگوں کے گستاخانہ کلمات جو خود اپنے کانوں سے سنتے رہتے تھے، ان لوگوں کے نارواتعصب اور دینی غلو کا انھیں پوری طرح تجربہ تھا، اس لیے کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان چشم دید معتبر گواہوں کی شہادت قبول نہ کی جائے؛ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ شہادتیں اس قدر پختہ اور محکم ہیں کہ دنیا کی کوئی عدالت انھیں رد کرنے کی جرأت نہیں کرسکتی۔
غیر مقلدین کا صحابہ کرام کے بارے میں عقیدہ و فکر بڑی حد تک شیعیت ورافضیت کا ترجمان ہے۔ ان کے اکابر کی کتابوں میں صحابہئ کرام کی ایک جماعت کو فاسق تک کہا گیا ہے اور اب جو نئی نئی کتابیں سلفیت کے مراکز سے چھپ کر آرہی ہیں،ان میں صحابہئ کرام اور خلفائے راشدین کے بارے میں نہایت گستاخانہ انداز گفتگو اختیار کیا گیا ہے، مثلاً جامعہ سلفیہ سے شائع ہونے والی کتابیں، اللمحات تنویر الآفاق اور ضمیر کا بحران وغیرہ میں اسلام کی اس مقدس جماعت (صحابہ کرامؓ) کے بارے میں جو کچھ تحقیق ریسرچ کے نام پر لکھا گیا ہے، وہ ایک سنی العقیدہ مسلمان کے لیے قطعاً ناقابلِ برداشت ہے۔ تنویر الآفاق کی ان عبارتوں کو ذرا سینہ پر ہاتھ رکھ کر آپ حضرات بھی سن لیں، مصنف لکھتا ہے:
”اس بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی ذاتی مصلحت ہی کی بنیاد پر بعض خلفائے راشدین بعض احکام شرعیہ کے خلاف بخیال خویش اصلاح امت کی غرض سے دوسرے احکام صادر کرچکے تھے، ان احکام کے سلسلہ میں ان خلفا کی باتوں کو عام امت نے رد کردیا۔“ (ص/107)
اس سلسلہ میں مزیدار شاد ہوتا ہے:
”ہم آگے چل کر کئی ایسی مثالیں پیش کرنے والے ہیں، جن میں احکام شرعیہ و نصوص کے خلاف خلفائے راشدین کے طرزِ عمل کو پوری امت نے اجتماعی طور پر غلط قرار دے کر نصوص و احکام شرعیہ پر عمل کیا ہے۔“ (ایضاً)
اس بدبخت مصنف کے بغض صحابہ و خلفائے راشدین کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو، لکھتا ہے:
”مگر ایک سے زیادہ واضح مثالیں ایسی موجود ہیں، جن میں حضرت عمر،یا کسی بھی خلیفہئ راشد نے نصوص کتاب و سنت کے خلاف اپنے اختیار کردہ موقف کو بطور قانون جاری کردیا تھا، لیکن پوری امت نے ان معاملات میں بھی حضرت عمر، یا دوسرے خلیفہئ راشد کے جاری کردہ قانون کے بجائے نصوص کی پیروی کی ہے۔“ (108)
صحابہ کرامؓ اور خلفائے راشدینؓ کے بارے میں یہ طرزِ گفتگو خالص شیعی ذہنیت کی ترجمان ہے اور دین میں اللہ نے صحابہئ عظامؓ کا جو مقام رکھا ہے، ان کو اس مقام سے گرانے کی سعی نامحمود ہے، اس طرح کی عبارتوں سے یہ پوری کتاب بھری ہوئی ہے۔
یہ ہے اس جماعت نوپید کا فکری و عملی خاکہ، جو روز روشن کی طرح آپ کے سامنے ہے، کہ اس کی چیرہ دستیوں سے نہ تو کتاب الٰہی کے مفاہیم و مدلولات محفوظ ہیں اور نہ ہی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مقدسہ۔ اس جماعت کی غلو پسندی سے نہ تو حضرات صحابہ کا وہ مقام و مرتبہ محفوظ ہے، جو انھیں اللہ اور اس کے رسول نے عطا کیا ہے اور نہ ہی فقہائے مجتہدین کا شرعی و عرفی احترام واکرام، جن کے وہ مستحق ہیں اور اس حقیقت کو اچھی طرح ذہن نشیں کرلیا جائے کہ اگر خدانخواستہ امت کے دلوں سے ان مقدس اور بابرکت ہستیوں کی وقعت واہمیت نکل گئی اور ملت کی وابستگی ان سے قائم نہ رہی، تو پھر دین و مذہب کا خداہی حافظ؛ کیوں کہ انھی سلف صالحین اور ائمہئ دین کی سعیِ مشکور اور مساعی جمیلہ کی بدولت دین اسلام بغیر کسی تحریف و تبدیلی کے اپنی اصلی حالت میں ہم تک پہنچا ہے،لہٰذا دین اسلام کے ان محافظین کے خلاف بدگمانی پیدا کرکے ان کی خدمات سے انکار کردیا گیا، تو کیا دین کی صحت قابل اعتماد رہ سکے گی؟ سلف صالحین اور ائمہئ دین کے اس مقام و مرتبہ اور اہمیت کو امام بیہقیؒ نے اپنی مشہور کتاب ”دلائل النبوۃ و معرفۃ احوال صاحب الشریعۃ“ کے مدخل میں بڑے اچھے انداز سے بیان کیا ہے، بغرض اختصار یہاں اس کے کچھ حصّہ کا ترجمہ پیش کیا جارہا ہے، امام بیہقیؒ لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور ان پر اپنی مقدس کتاب نازل فرمائی اور خود اس کتاب عظیم کی حفاظت کی ضمانت لی، جیسا کہ (سورۃ الحجر کی آیت ۹ میں)ارشاد ہے ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون۔“ ہمیں نے قرآن عظیم کو نازل کیا ہے اور ہمیں اس کے محافظ ہیں۔
اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب مقدس کی تفسیر و تشریح کے منصب سے سرفراز فرمایا۔چنانچہ ارشاد فرمایا:
وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُونَ (النحل:44)
اور ہم نے آپ پر کتاب عظیم اُتاری، تاکہ آپ اس کتاب کے مضامین کو لوگوں پر اچھی طرح واضح کردیں اور تاکہ لوگ اس واضح مضامین میں غور کریں۔
اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کتاب کی تفسیر و بیان تک ان کی امت میں باقی رکھا اور اس کام کے مکمل ہوجانے کے بعد آپ کو آغوش رحمت میں لے لیا اور (اللہ تعالیٰ نے اپنی تدبیر نافذہ اور حکمت بالغہ سے) امت کو ایسا واضح و روشن طریق فراہم کردیا کہ امت مسلمہ کو جب بھی کوئی نیا مسئلہ پیش آیا، اس کے بارے میں صحیح رہنمائی کتاب و سنت سے صراحتاً یاد لالۃً حاصل ہوجاتی ہے۔ پھر اس امت میں ہر ہر زمانہ میں ائمہئ دین پیدا کرتے رہے، جو شریعت کے بیان و تحفظ اور بدعت کی تردید کی خدمات انجام دیتے رہتے ہیں۔ چنانچہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
یرث ہذا العلم من کل خلف عدولہ ینفون عنہ تحریف الغالین و انتحال المبطلین و تاویل الجاہلین۔“
اس علم دین کو حاصل کرتے رہیں گے بعد میں آنے والے ہر گروہ کے معتمد وثقہ جو اس دین سے غلو پسندوں کی تحریف، اہل باطل کی کذب بیانی اور جاہلوں کی تاویل کی تردید و نفی کرتے رہیں گے۔
آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے مصداق عہد صحابہ سے ہمارے زمانے تک برابر پائے جاتے رہے ہیں۔(۱/۳۴ طبع بیروت ۵۰۴۱ء)
حضرات! اُمنائے دین و محافظان شریعت کی شان میں بدزبانی اور مذہب اسلام کے ان سچے وفاداروں کے خلاف بدگمانی پھیلانااس فرقہ کا خاص شیوہ ہے، ان کی تقریریں ”اذا خاصم فجر“کی تصویر، اور تحریر ”لعن آخر ہذہ الامۃ اولہا“ کی نمونہ ہوتی ہیں۔ امام الائمہ سراج الامۃ سیّد ناامام ابوحنیفہؒ کو امام اعظم کہنا ان کے یہاں شرک ہے؛ مگر ملکہ وکٹوریہ کو ملکہئ معظمہ کہنا عین توحید ہے۔ امام صاحب کی شان میں اس فرقہ کی بد زبانیوں کے لیے خاص ”اللمحات“ مصنفہ محمد رئیس ندوی مطبوعہ ادارۃ البحوث الاسلامیہ والدعوۃ والافتاء الجامعہ السلفیہ بنارس، ”اصلی اسلام کیا ہے“ مصنفہ ابوالاقبال سلفی مطبوعہ ادارہ دعوت الاسلام بمبئی، ”مذہب حنفی کا اسلام سے اختلاف“ شائع کردہ شہر جمعیت اہل حدیث بریلی، ”اختلاف امت کا المیہ“ از فیض عالم مطبوعہ پاکستان، ”امام ابوحنیفہؒ کا تعارف محدثین کی نظر میں“ از محمد بن عبداللہ ظاہری وغیرہ کتابیں دیکھی جائیں، جن میں امام صاحب کی شان میں ایسی ایسی بدزبانیاں کی گئی ہیں، ایسی ایسی جھوٹی من گھڑت باتیں کہی گئیں ہیں کہ شریف اور بامروت لوگ اس قسم کی باتیں زبان و قلم پر لانے سے شرم و عار محسوس کرتے ہیں۔
ادھر چند سالوں سے اس فرقہ نے علمائے دیوبند؛بالخصوص ان کے اکابر رحمہم اللہ کے خلاف ہمہ گیر پیمانے پر مہم چلا رکھی ہے اور انھیں نہ صرف یہ کہ دائرہئ اہل سنت والجماعت سے خارج بتا رہے ہیں؛ بلکہ دائرہئ اسلام ہی سے خارج کردینے کی ناپاک و نامراد کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
پاسبان ملّت! کون نہیں جانتا کہ علمائے دیوبند، محدثین دہلی، یعنی حضرت شاہ ولی اللہ اور ان کے خانوادہ کے علمی و فکری منہاج کے وارث وامین ہیں اور مسند ہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے توسط سے سلف صالحین سے پوری طرح مربوط ہیں اور صحابہئ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر محدثین دہلی تک اسناد اسلام کی ہر کڑی کے پورے وفادار ہیں اور سلف صالحین کی اتباع و پیروی کے اس حد تک پابند ہیں کہ اپنے مخلصانہ جہد و عمل سے چھوٹی سی چھوٹی بدعت کو بھی دین نہ بننے دیا۔
برصغیر میں 1857ء کے سیاسی انقلاب کے بعد انگریزوں کی بدنام زمانہ پالیسی لڑاؤ اور حکومت کروکے تحت اسلام کے عظیم عقیدہئ ختم نبوت پر یلغار کی گئی اور انگریز کی خانہ ساز نبوت کے داعی مسلمانوں کو ارتداد کی علانیہ دعوت دینے لگے، اس ارتدادی فتنہ سے سب سے پہلے انھی علمائے دیوبند نے مسلمانوں کو خبر دار کیا اور اپنی گراں قدر علمی تصانیف، مؤثر تقاریر اور بے پناہ مناظروں سے انگریزی نبوت کے دجل و فریب کا اس طرح پردہ چاک کیا اور ہر محاذ پر ایسا کامیاب مقابلہ کیا کہ اسے اپنے مولد و منشا لندن میں محصور ہوجانا پڑا۔
اور جب وقت کی سیاسی آندھیوں نے قافلہئ اسلام کی صفِ اوّل یعنی صحابہئ کرام کی ناموس اور دین میں ان کی معیاری حیثیت پر حملہ کیا،تو دفاع صحابہ میں علمائے دیوبند نے نہایت وقیع اور گراں قدر خدمات انجام دیں، جس کے آثار ہدیۃ الشیعہ، اجوبہئ اربعین، ہدایۃ الشیعہ،ہدایات الرشید، نیز امام اہل سنت والجماعت مولانا عبدالشکور فاروقی کی اس موضوع پر تصنیفات و مضامین اور صحابہئ کرام کے مقام و مرتبہ اور ان کے معیار حق ہونے سے متعلق حضرت شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی علیہ الرحمۃ کے علمی مقالات کی شکل میں آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
اسی عہد فتنہ ساز میں اتباع سنت اور حجیۃ حدیث کا انکار کرنے والا ایک گروہ نمودار ہوا جس نے ”مرکز ملت“ کے نام سے ایک نئی اصطلاح وضع کرکے قرآن حکیم کی تشریح و تعبیر کا مکمل اختیار اس مفروضہ مرکز ملت کو سونپ دیا کہ یہ نام نہاد مرکز ملت زمانے کی اُمنگوں کے مطابق پیغمبر اسلام کے ارشادات صحابہ کرام کے فیصلوں اور اجماع امت سے قطع نظر کرکے جو چاہے فیصلہ کردے۔
اس کے بالمقابل ایک دوسرے گروہ نے زبانی عشق رسول کے نام سے سراُٹھایا، جس نے اپنے علاوہ تمام طبقات اسلام کو قابل گردن زدنی قرار دیا، جب کہ عملاً اس کا حال یہ ہے کہ شریعت کے روشن چہرے کو مسخ کرکے دین میں نت نئے اضافے کرتا رہتا ہے اور من گھڑت افکار کو شریعت بتاتا ہے۔
اکابر دیوبند مثلاً حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارن پوریؒ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ وغیرہ نے ان فرقوں کا کامیاب مقابلہ کیا اور ماضی قریب میں مولانا محمد منظور نعمانیؒ اور مولانا سرفراز خاں صفدر مدظلہ وغیرہ نے بھی اس محاذ پر نہایت کامیاب خدمات انجام دیں۔
ہندستان کی دینی و ثقافتی تاریخ سے واقف جانتے ہیں کہ علمائے دیوبند اسلام کی سنت قائمہ کے حامی اور بدعت سے بہت دُور ہیں اور ایسے کسی عمل کو -جو شاہراہ مسلسل سے نہ آئے- اسے وہ اسلام کا نام دینے کے لیے تیار نہیں؛کیوں کہ ان کا موقف اسلام کی سنت قائمہ سے مکمل وفاداری کا ہے۔ ان کے نزدیک اہل سنت و الجماعت وہ لوگ ہیں، جو اسلام کی سنت قائمہ سے وابستہ اور جماعت صحابہ کے آثار و نقوش سے دین کی راہیں تلاش کرنے والے ہوں۔ ان حضرات کا یقین ہے کہ بدعات کا دروازہ کھلا رکھنے سے تفریق بین المسلمین لازمی ہوگی؛کیوں کہ بدعات ہر طبقہ کی اپنی اپنی ہوں گی۔ یہ فقط سنت ہے جو تمام طبقات مسلمہ کو ایک لڑی میں پرو سکتی ہے اور ملت واحدہ بناکر رکھ سکتی ہے۔
اسی عہد شکست و ریخت میں حکمراں انگریزوں کی خفیہ سرپرستی میں آریہ سماج کے ذریعہ فرزندانِ اسلام کو اسلام سے جدا کردینے کے لیے ارتداد کی تحریک پوری قوت سے شروع کی گئی۔
اسلام کے خلاف اس فکری محاذ پر حالات سے ادنیٰ مرعوبیت کے بغیر اکابر دیوبند نے اسلام کا کامیاب دفاع کیا۔ تقریر و تحریر، بحث و مناظرہ اور علمی و دینی اثر و نفوذ سے اس ارتدادی تحریک کو آگے بڑھنے سے روک دیا؛ بالخصوص علمائے دیوبند کے سرخیل اور قائد و امام حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے اس سلسلے میں نہایت اہم اور مؤثر خدمات انجام دیں۔
نیز تقسیم ہند کے قیامت خیز حالات میں جب کہ برصغیر کا اکثر حصّہ خون کے دریا میں ڈوب گیا تھا، اس قیامت خیز دور میں شدھی و سنگٹھن کے نام سے مسلمانوں کو مرتد بنانے کی ایمان سوز تحریک برپا کی گئی۔اس موقع پر بھی علمائے دیوبند وقت کے خونی منظر سے بے پروا ہوکر میدان عمل میں کود پڑے اور خدائے عزیز وقدیر کی مدد و نصرت سے ارتداد کے اس طوفان سے مسلمانوں کو بحفاظت نکال لائے۔
مسلمانوں کے اسی دور زوال میں عیسائی مشینری حکومت وقت کی بھرپور حمایت کے ساتھ برصغیر میں اس زعم کے ساتھ داخل ہوئی کہ وہ فاتح قوم ہیں، مفتوح قومیں فاتح کی تہذیب کو آسانی سے قبول کرلیتی ہیں۔ انھوں نے بھرپور کوشش کی کہ مسلمانوں کے دلوں سے اسلام کے تہذیبی و ثقافتی نقوش مٹادیں، یا کم ازکم انھیں ہلکا کردیں، تاکہ بعد میں انھیں اپنے اندر ضم کیا جاسکے۔
اس محاذ پر بھی اکابردیوبند نے عیسائی مشینری اور مسیحی مبلغین سے پوری علمی قوت سے ٹکرلی اور نہ صرف علم و استدلال سے ان کے حملے پسپاکردیے؛ بلکہ عیسائی تہذیب اور ان کے مآخذ پر کھلی تنقید کی۔ حضرت مولانا رحمت اللہ کیرانوی علیہ الرحمۃ کی تصانیف:اظہار الحق، ازالۃ الشکوک، ازالۃ الاوہام، اعجاز عیسوی، اصح الاحادیث اور معدن المواج المیزان، اس کی شاہد عدل ہیں۔ نیز حضرت حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، ان کے تلمیذ خاص حضرت مولانا رحیم اللہ بجنوری، حضرت مولانا فخر الحسن گنگوہیؒ اور بعد میں حضرت مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری علیہم الرحمۃ وغیرہ نے اس محاذ پر گراں قدر خدمات انجام دیں۔
پھر جب ایک مرتب اسکیم کے تحت پورے ملک میں انگریزی اسکولوں کا جال بچھا دیا گیا اور اسلامی مدارس کو ختم کردینے کی غرض سے ان کے لیے دنیوی ترقی کی تمام راہیں مسدود کردی گئیں۔ اس وقت ضروری تھا کہ قرآن و حدیث کی صحیح تعلیم اور اسلام کے آبرو مندانہ ماحول کے لیے عربی دینی مدارس کو ہر طرح کی قربانی دے کر باقی رکھا جائے، نیز جدید دینی عربی مدارس قائم کیے جائیں اور اس کی امکانی سعی کی جائے کہ کوئی اجنبی چیز اسلام کے نام پر اسلام میں گھسنے نہ پائے۔
اس محاذ پر بھی اکابر دیوبند نے پوری ذمہ داری اور اسلام کے ساتھ مکمل وفاداری کا ثبوت دیا اور برصغیر کے چپے چپے پر اپنی درس گاہوں کے ذریعہ علم و دین کے چراغ روشن کردیے۔ اس سلسلے میں حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، ان کے رفیق خاص محدث کبیر مولانا رشید احمد گنگوہی،ؒ حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی اور آزادی کے بعد شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنی رحمہم اللہ نے کامیاب جدوجہد کی۔
برصغیرمیں تحفظ اسلام کے سلسلے میں علمائے دیوبند کی خدمات کا یہ اجمالی تعارف بتارہا ہے کہ پچھلی صدی مادی ترقیات کے ساتھ فکر و نظر کا جو انقلاب اپنے جلو میں لائی تھی، اس کے دفاع میں علمائے دیوبند کی یہ تعلیمی، تبلیغی جدوجہد نہ ہوتی، تو نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا انجام کیا ہوتا اور کچھ بعید نہیں کہ متحدہ ہندستان میں اسپین کی تاریخ دہرا دی گئی ہوتی؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور تدبیر نافذہ سے علمائے دیوبند کو کھڑا کردیا، جن کی بدولت اسلاف کی یہ امانت ہر نوع کے زیغ و ضلالت کی دست و برد سے محفوظ رہی، فالحمد للّٰہ علی ذلک و شکراللّٰہ سعیہم۔
فرزندان اسلام!حیف صد حیف کہ فرقہئ غیر مقلدین اور خارجیت جدیدہ کے علم برادروں نے نصوص فہمی کے سلسلہ میں سلف صالحین کے مسلمہ علمی منہاج و دستور کو پس پشت ڈال کر اپنے علم و فہم کو حق کا معیار قرار دے کر اجتہادی مختلف فیہ مسائل کو حق و باطل اور ہدایت و ضلالت کے درجہ میں پہنچا دیا ہے۔ اور ہر وہ فرد اور طبقہ،جو ان کی اس غلط فکر سے ہم آہنگ نہیں،وہ ہدایت سے عاری، مبتدع، ضال و مضل اور فرقہئ ناجیہ؛ بلکہ دین اسلام ہی سے خارج ہے۔
کس قدر افسوس اور حیرت کا مقام ہے کہ جو چیز امت کے لیے باعث رحمت اور علما کے حق میں موجب کرامت تھی، آج اسی رحمت و کرامت کو یہ خارجیت جدیدہ کے علم بردار علم و فہم سے کھلواڑ کرتے ہوئے شقاوت و ضلالت باور کرانے پر تلے ہیں اور برصغیر ہندو پاک اور بنگلہ دیش میں چوں کہ اہل سنت و الجماعت کے مرکز علمائے دیوبند ہی ہیں، اس لیے ایک خاص ذہنیت کے تحت قادیانیوں، رافضیوں وغیرہ فرقہئ مکفرہ وضالہ کے بجائے بطور خاص علمائے دیوبند اور اکابر دیوبند کو اپنی تضلیلی و تکفیری مشن کا ہدف بنا رکھا ہے۔ چنانچہ ماضی قریب میں ”الدیوبندیۃ“ کے نام سے طالب الرحمان سلفی نامی غیر مقلد نے ایک کتاب لکھی ہے، جس کا عربی ترجمہ ابوحسان نامی کسی گم نام غیر مقلد نے کیا ہے، جو دارالکتاب والسنۃ کراچی سے شائع ہوئی ہے۔ یہ عرب ممالک؛بالخصوص سعودی عرب میں بغیر کسی رد و قدح کے فروخت کی جارہی ہے اور ایک مہم بناکر شیوخ حجاز و نجد اور سرکاری دفتروں تک پہنچائی گئی ہے۔
اس فتنہ انگیز کتاب میں دیوبندی مکتبہئ فکر کے مرکز دارالعلوم دیوبند کے بارے میں لکھا گیا ہے: دارالعلوم دیوبند سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے والا ادارہ ہے اور آپ کے طریقہ کو پھینک دینے والا ہے۔ اس کی بنیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر رکھی گئی ہے۔ (ص/98)
دیوبندی علمائے کے بارے میں تحریر ہے:
”دیوبندیوں کے اقوال و اعمال اور واقعات واضح علامت ہیں کہ ان میں شعوری یا غیر شعوری طور پر شرک سرایت کرگیا ہے اور وہ مشرکین مکہ سے بھی آگے نکل گئے ہیں۔“ (ص/72)
اس کتاب کے صفحہ19 میں ہے:
علمائے دیوبند عقیدہئ توحید سے بالکل خالی ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ وہ توحید کے علم بردار ہیں۔
حضرت شیخ الہند قدس سرہ‘ پر محرف قرآن، کفر صریح کا مرتکب اور اللہ پر صریح جھوٹ بولنے والے جیسے الزامات چسپاں کیے گئے ہیں۔(ص/266)
حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی نوراللہ مرقدہ کو ”ویلک یا مشرک“ (اے مشرک! تیرے لیے بربادی ہو) سے خطاب کیا گیا ہے۔پھر آپ کی شان میں ایسی باتیں کہی گئی ہیں،جسے قلم لکھنے پر آمادہ نہیں۔ کتاب مذکور کے صفحات:123،17، 190، 253 وغیرہ خود دیکھیے۔
محدث عصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ پر بدعت کی تہمت عائد کی گئی ہے۔
محمد انور بدعت کی طرف مائل تھا۔ (ص/15)
اکثر لوگ انور شاہ کی رائے پر ہنستے ہیں، خدا تجھ پر رحم کرے، تم نے بدبودار تعصب کے ماحول میں پرورش پائی ہے۔ تجھے توحید و سنت کے داعیوں سے شدید بغض ہے۔ (ص/18)
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نوراللہ مرقدہ‘ کے بارے میں ہے:
”اگر اشرف علی کو اس بات کا خطرہ تھا کہ شاہ عبدالرحیم رائے پوری کے پاس بیٹھنے سے وہ احوال پر مطلع ہوجائیں گے, تو یہ کشف نہیں؛ بلکہ شیطانی احوال ہیں۔“ (ص/152)
محدث جلیل حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کے متعلق ہے:
”محمد یوسف بنوری کا ابن عربی کی تعریف کرنا بنوری کے زندیق ہونے کی علامت ہے۔“ (ص/30)
دل پر جبر کرکے صرف یہ چند حوالے درج کیے گئے ہیں؛ورنہ پوری کتاب علمائے حق پر کذب و افترا اور دشنام طرازی ہی پر مشتمل ہے۔ ابھی زمانہئ قریب میں ایک کتاب ”کیا علمائے دیوبند اہل سنت ہیں“ کے نام سے عربی و اُردو میں ”المکتب التعاونی للدعوۃ والارشاد و توعیۃ الجالیات بالسلی ص ب۹۱۴۱ الریاض“ سے شائع ہوئی ہے اور حج کے موقع پر بڑے پیمانے میں حجاج کرام میں تقسیم ہوئی ہے۔ اس کتاب میں علم و تحقیق کے اصولوں کو یکسر نظر انداز کرکے علمائے دیوبند کو فرقہئ ناجیہ جماعت اہل سنت سے خارج بتایا گیا ہے۔
علاوہ ازیں جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے ایک فاضل شمس الدین سلفی کی ایک کتاب ”جہود علماء الحنفیۃ فی ابطال عقائد القبوریۃ“تین ضخیم جلدوں میں شائع کی گئی ہے۔ یہ کتاب دراصل شمس الدین کا وہ مقالہ ہے، جس پر اسے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کی مکتبہ الدعوۃ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی ہے۔
جس میں اشہر فرق القبوریۃ کے عنوان کے تحت علمائے دیوبند کو قبوری یعنی قبر پرست کہا گیا ہے۔ (ج،۱ص/29)
کتاب کے مقدمہ میں امام ابوحنیفہؒاور مذہب حنفی پر نہایت رکیک اور توہین آمیز تبصرہ کیا ہے۔اسی مقدمہ میں علمائے دیوبند کو قبوری کے ساتھ مرجئی وجہمی بھی کہا گیا ہے۔(ج:۱،ص/32 حاشیہ اور ص/51-52)
علاوہ ازیں حضرت مولانا خلیل احمد محدث سہارن پوری، محدث عصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیری، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی، شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ کو قبوری، خرافی، وغیرہ لکھا گیا ہے۔
علمائے دیوبند کے علاوہ ڈاکٹریٹ کے اس مقالہ میں علم کلام میں اشعری و ماتریدی مکتب فکر سے متعلق سارے علما و فضلا کو بالتکرار جہمی لکھا گیا ہے؛ بالخصوص امام کرمانی شارح بخاری، حافظ سیوطی، علامہ ابن حجر، ہیشمی مکی، امام زرقانی شارح موطا اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی وغیرہ اساطین علمائے اہل سنت و الجماعت اور خادمین کتاب و سنت کو نام بنام قبوری اور وثنی کے مکروہ خطابات سے نوازا گیا ہے۔
گویا دین خالص کا حامل اور سنت رسول پر عامل امت میں بس یہی فرقہئ نوپید اور وہی شرذمہ قلیلہ ہے، جو اپنے آپ کو سلفی اور اہل حدیث کہتے ہیں اور ملت کا سواداعظم اور امت کے وہ سارے طبقات،جو عقیدۃً اشعری یا ماتریدی ہیں اور حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی ہیں اور مشائخ طریقت سے عقیدت وارادت رکھتے ہیں، وہ سب اہل سنت والجماعت سے خارج، بدعتی، قبوری، وثنی، جہمی، مرجئی وغیرہ ہیں، فالی اللّٰہ المشتکی وہو المستعان۔
پوری کتاب میں گنتی کے چند لوگوں کو چھوڑ کر پوری ملت اسلامیہ کو صحیح دین اسلام سے خارج کردیا گیا۔ اس پر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے ڈاکٹریٹ کی سند دیا جانا، نہ صرف باعث حیرت؛ بلکہ لائق مذمت ہے۔ یہ کس قدر تکلیف دِہ حقیقت ہے کہ جو تعلیمی ادارہ قرآن و حدیث اور دیگر علوم دینیہ کی اشاعت اور صحیح علوم کی تعلیم و تفہیم کے لیے وجود میں آیا تھا، آج اسی علمی و دینی ادارہ سے مسلمانوں کو صحیح دین سے خارج اور نکال دینے کا کام لیا جارہا ہے۔
مملکت سعودیہ عربیہ کو چوں کہ حرمین شریفین سے ایک خاص انتساب ہے، اس حکومت نے حرمین شریفین کی توسیع و تزئین کے سلسلے میں جو تاریخی کارنامے انجام دیے ہیں، نیز فریضہئ حج کی ادائیگی سے متعلق جس طرح کی بے مثال سہولتیں فراہم کی ہیں، ان وجوہ سے علمائے دیوبند کا حکومت اور ارباب حکومت سے مخلصانہ جذباتی تعلق رہا ہے، جس کا مظاہرہ بار بار ہوچکا ہے، اس دیرینہ تعلق کی بنا پر توقع کی جاتی تھی کہ فرقہئ غیر مقلدین، ایک خاص منصوبہ کے تحت علمائے دیوبند پر جو ناروا کیچڑ اچھال رہے ہیں، مملکت سعودیہ اور اس کے کارکنوں کی جانب سے اس انتشار افزا رویہ کی ہمت افزائی نہیں ہوگی؛ لیکن اس وقت مملکت سعودیہ سے علمائے دیوبند سے متعلق جس طرح کے غلط اور بے بنیاد مواد پوری دنیا میں پھیلائے جارہے ہیں، اسے دیکھ کر اب ہمارا یہی احساس ہے- دانستہ یا نادانستہ طور پر- مملکت علمائے دیوبند کے خلاف اس غلط مہم میں شریک کار ہے، بلکہ سرپرستی کررہی ہے، جس سے بیزاری اور نفرت کیے بغیر ہم نہیں رہ سکتے۔
دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
علمائے دین!پورے حالات آپ کی نگاہوں کے سامنے ہیں کہ آپ کے مذہب، آپ کے مکتب فکر اور آپ کے اکابر کو خارجیت جدیدہ کے علم بردار غیر مقلدین کس قدر ہدف طعن و تشنیع بنائے ہوئے ہیں۔ان حالات میں آپ کی مذہبی و فکری حمیت کا کیا تقاضا ہے، اسے آپ اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ آپ حضرات کے بلند عزائم اور جہد و عمل کی بے پناہ قوت سے مجھے یہ توقع ہے کہ اس تقاضے کو بروئے کار لانے میں آپ کسی کوتاہی اور غفلت کے شکار نہیں ہوں گے۔
(۱) فتنہئ غیر مقلدیت کے اس موجودہ دور میں ضرورت ہے کہ ہمارا اختلاط اس فرقہ کے لوگوں سے کم سے کم ہو، تاکہ ہماری موجودہ نسل اباحیت پسندی کی راہ سے دُور رہے اور اسلاف، اکابر کے مسلک و عقیدہ کے بارے میں کسی طرح کے تذبذب کا شکار نہ ہو۔
(۲) ضرورت اس کی بھی ہے کہ ہمارے بچے اور بچیاں اس فرقہ کے قائم کردہ مدارس واسکولوں میں داخل نہ ہوں، اس لیے کہ اس کا تجربہ ہے کہ ہمارے جو بچے اور بچیاں غیر مقلدین کے مدارس اور اسکول میں داخل ہوتے ہیں، ان کے اذہان و افکار پر غیر مقلدیت کی چھاپ پڑنی شروع ہوجاتی ہے اور ہمارے یہ بچے اپنے مسلک وعقیدہ اور اسلام کی صحیح تعلیمات سے آہستہ آہستہ دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
(۳) مدارس و مکاتب کے ذمہ داروں کو نصاب تعلیم میں کچھ منتخب احادیث- جن کا تعلق فقہی مسائل سے ہو -ضرور شامل کرنا چاہیے۔ ان احادیث کو طلبہ زبانی یاد کریں اور ان کے ترجمہ و معنی سے بھی واقف ہوں، تاکہ ان کو شروع ہی سے یہ احساس ہوکہ جس مذہب کی وہ تقلید کرتے ہیں، اس کی بنیاد کتاب و سنت پر ہے۔
اگر ان باتوں کا لحاظ کیا جائے تو اللہ کے کرم سے اُمید ہے کہ ہمارے بچّے اور بچیّاں غیر مقلدیت کے فتنہ کا شکار ہونے سے بڑی حد تک محفوظ رہیں گے۔
اس سمع خراشی کی معذرت کے ساتھ میں اپنی گزارشات کو اب ختم کرتا ہوں اور دُعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے عزائم میں، ارادوں میں پختگی، اعمال میں اخلاص پیدا فرمائے اور ہمیں اپنے دین، مذہب اور اکابر کی عزت و ناموس کی حفاظت کے لیے قبول فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سیّدنا المرسلین وعلیٰ الہ واصحابہ اجمعین۔(ہفت روزہ الجمعیۃ،18-24/ مئی 2001ء)


Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114
Back to top button
Close