مضامین

غیر اخلاقی طریقے سےجنسی خواہش کی تکمیل کا شرعی حکم

امانت علی قاسمی  استاذ و مفتی دارالعلوم وقف دیوبند

غیر اخلاقی طریقے سےجنسی خواہش کی تکمیل کا شرعی حکم 

اسلام نے جنسی خواہش کے لیے مکمل نظام دیا ہے، اورحیاء و پاک دامنی کا خیال کرتے ہوئے اپنے جنسی ضروریات کی تکمیل کی اجازت دی ہے ، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اورآپ ﷺ ایک ساتھ غسل کرتے تھے لیکن کبھي میں نے آپ ﷺ کی شرم گا ہ نہیں دیکھی اور نہ ہی آپ ﷺ نے کبھی میری شرم گاہ دیکھی ۔ حضرت عائشہ کی اس بات سے اسلام کے نظام حیاء کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اسلام نے جنسی ضرورت کے صرف دو راستے بیان کئے ہیں کہ انسان اپنی بیوی سے یا باندی سے اپنی ضرورت پـوری کرے۔ اس وقت صرف بیوی سے ہی جنسی ضرورت پوری کرنے کی اجازت ہے ، بیوی کے علاوہ کسی طرح بھی جنسی خواہش پوری کرنا شرعا حرام ہے جس پر قرآن نے اولئک ہم العادون کا اطلاق کیا ہے کہ ایسا کرنے والے حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔

 مغربی تہذیب نے اس وقت جس بے حیائی کو فروغ دیا ہے اس میں جنسی بے حیائی بہت اہم ہے اس میں بہت سے غیر اخلاقی طریقے بھی شامل ہیں ، آج کل اس طرح کے بھی سوالا ت آتے ہیں کہ اورل سیکس جائز ہے یا نہیں ؟، مرد کے لیے اپنی شرم گاہ کو بیوی کے منھ میں ڈالنا یا بیوی کی شرم گاہ کو چاٹنا ، یا اس کی شرم گاہ میں کسی چیز کو رکھ کر اس کو کھانا اس طرح کے بہت سے غیر اخلاقی اور غیر شرعی افعال کے بارے میں لوگ معلوم کرتے ہیں بسا اوقات عورتوں کی طرف سے سوال ہوتا ہے کہ عورتوں کے لیے اس طرح کے کاموں میں شوہر کی اطاعت جائز ہے یا نہیں؟ اس سلسلےمیں چند باتیں عرض ہیں ۔

مکمل مضمون کے لیے لنک پر کلک کریں

غیر اخلاقی طریقے سےجنسی خواہش کی تکمیل کا شرعی حکم

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: