مضامین

فاتح سندھ محمد بن قاسم

احمد عبید اللہ یاسر قاسمی

ایک عظیم شخصیت جس نے ہند میں اسلام کو حکومتی سطح پر متعارف کروایا، جو سرفروشی و جانبازی، اخلاص و وفاداری، عالی ہمتی اور اولوالعزمی اور ثبات و استقامت کا روشن نام ہے، جس نے حکمت و تدبیر اور شبانہ روز کی انتھک وبے لوث جدوجہد سے سندھ میں اسلام کو آشکارا کیا، جس کی حق گوئی وبے باکی، صبر وتحمل، عزیمت واستقامت کی داستان ہر مسلمان کو عزم و حوصلہ اور باطل کے سامنے سینہ سپر رہنے کی ہمت بخشتی ہے، جس کی آمد اور اسلام کے تعارف سے جو سرزمین ہزاروں برس صحیح یقین اور صحیح معرفت سے محروم اور توحید کی صدا سے نا آشنا تھی وہ علماء و اولیاء کی سرزمین اور علومِ اسلامیہ اور کمالاتِ دینیہ کی محافظ و امین بن گئی اور اس کی فضائیں اذانوں سے اور دہشت وجبل اللہ اکبر کی صداؤں سے اور اِسکے شہر و دیار قال اللہ وقال الرسول کے نغموں سے گونج اٹھے تاریخ کے اوراق پر اس عظیم شخص کا نام محمد بن قاسم رحمہ اللہ کے سنہرے حروف میں مذکور ہے آپ ایک منصف اور رعایا پرور حکمران تھے وہ ان حکام اور امراء کی طرح نہیں تھے جسکا تذکرہ قرآن مجید نے فرمایا
”إن الملوک إذا دخلوا قریة افسدوہا و جعلوا اَعزة اہلہا اذلة وکذالک یفعلون“ محمد بن قاسم نے ایسا زبر دست انصاف کیا کہ تاریخ ہند میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے،
*نام و نسب*
* آپ کا پورا نام عماد الدین محمد بن قاسم بن محمد بن حکم بن ابی عقیل الثقفي ہے،(آئینہ حقیقت نما ص:١٠٨) آپ کی ولادت شیر طائف کے مشہور قبیلہ بنو ثقیف میں ہوئی، آپ بنو امیہ کے مشہور سپہ سالار حجاج بن یوسف ثقفی کے چچا زاد بھائی تھے،

*طفولیت سے ایک سپہ سالار تک*
اعلی تعلیم غربت کی نذر ہوگئی، چنانچہ ابتدائی تعلیم کے بعد کم عمری میں ہی فنون سپہ سالاری کی مشق کے لیے ولید بن عبد الملک کی فوج میں داخل ہوئے اور دمشق میں آپ نے فنون سپہ گری حاصل فرمائی، اور قدرتی طور پر غیر معمولی صلاحیت کے جواہر دکھائے، دیکھتے ہی دیکھتے اپنے ہم عمروں پر سبقت کرکے فوج میں ایک بلند مقام پر فائز ہوگئے، صرف پندرہ سال کی عمر میں
کردوں کی بغاوت پر انکی سرکوبی کے لیے ایران کا رخ کیا اور فتح حاصل کی، اس دور اندیشی کے پیش نظر حجاج بن یوسف نے آپ کو شیراز کا گورنر بنادیا، اور سترہ سال کی عمر میں راجہ داہر پر چڑھائی کے لیے بطور سپہ سالار سندھ روانہ کئے گئے یہاں سے آپ کا ایک تابناک اور روشن کردار شروع ہوتا ہے ،
(انسائیکلوپیڈیا مسلم ص٧٧)

*ہندستان میں اسلام کی آمد*
*مالابار اور کیرالا میں اسلام انصاف اورمساوات، تعلیمات نبوی کی سچائی پر مبنی حقائق اور اہلِ عرب سے تجارتی تعلقات کی وجہ سے جنگ و جدال اور قتل کے بغیر ہی اسلام بہت تیزی سے پھیلا، عرب کے تاجروں میں مشرف بن مالک اور مالک بن دینار اور مالک بن حبیب ان حضرات کا ان علاقوں میں تبلیغ اسلام اور اشاعت دین میں بڑا اہم رول رہا ہے یہاں مسجدیں بھی بنائی گئی یہ وہ علاقہ ہے جہاں محمد بن قاسم رحمہ اللہ کے حملے سے قبل ہی اسلام کے دامن میں آگئے تھے،

*ہندستان قبیلہ بنو ثقیف کا احسان مند*
ہندستان طائف اور اس کے قبیلہ بنو ثقیف کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتا ہے، جس نے ہندوستان کو اپنی دینی و روحانی توجہ کا مرکز بناکر جب بھی اقتدار ملا قبیلہ بنو ثقیف نے اس کی طرف رخ کیا، چنانچہ عہد فاروقی، عہد عثمانی اور عہد علی رضی اللہ عنہ میں ہندستان کی حضرت عثمان رضي الله تعالى عنه نے بحرین و عمان کی گورنری پاتے ہی اپنے بھائیوں حکم اور مغیرہ رضي الله تعالى عنهما کو یہاں اسلام کی برکت دے کر روانہ کیا اور اُموی دورِ خلافت میں حجاج بن یوسف ثقفی نے عراق کی گورنری پاکر، اپنے جواں سال بھتیجے محمد بن قاسم ثقفی کو خلافت کے زیر اہتمام باقاعدہ اسلامی فوج کے ساتھ ہندوستان روانہ کیا“۔ (عہد نبوی کا ہندوستان:246)

*محمد بن قاسم کی شخصیت*
*” محمد بن قاسم کی شخصیت انتہائی پروقار اور سنجیدہ تھی آپ کے اخلاق دوسروں کو جلد گرویدہ بنالیتے تھے، آپ کی زباں شیریں اور چہرہ ہنس مکھ تھا ۔ آپ ایک باہمت، بامروت، رحم دل اور ملنسار شخصیت کے حامل تھے، ہر شخص سے محبت ان کا وطیرہ تھا جس کی وجہ سے آپ کے ماتحت آپ کی حد درجہ عزت و احترام کرتے تھے، عام زندگی میں لوگوں کے غم بانٹتے انکی فریاد رسی لبیک کہا کرتے تھے۔ آپ نے ہر موڑ پر عقل و فراست کو پوری طرح استعمال کیا اور آپ کا ہر قدم کامیابی کی راہیں تلاش کرتا تھا۔ آپ کی بلند خیالی اور مستحکم ارادے آپ کی کامیابی کی دلیل تھے، سندھ کی مہم پر سپہ سالار کی حیثیت سے جو کارنامے آپ نے انجام دیے وہ ان کے کردار کی پوری طرح عکاسی کرتے ہیں، وہ زبردست جنگی قابلیت اور انتظامی صلاحیتوں کا مالک تھے، آپ کی صلاحیتوں کے ثبوت کے لیے سندھ کی مہم کی کامیابی ہی کافی ہے آپ کے اخلاق و کردار کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ایک غیر قوم ان کی گرویدہ ہو گئی تھی۔

*محمد بن قاسم کی فتوحات*
دبیل، نیرون،سیوستان،سیسم،سندھ برہمن آباد، الور ملتان، یہ تمام وہ علاقے ہیں جن کو محمد بن قاسم رحمہ اللہ نے فتح کیا ان میں اکثر و بیشتر میں معرکہ آرائی اور تلوار بازی کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی صرف سندھ میں راجا داہر سے معرکہ ہوئی اور راجا داہر مارا گیا علاقہ سندھ، جس کا اطلاق قدیم دور میں ایک عظیم مملکت پر ہوتا تھا ،یہ مملکتِ سندھ ،موجودہ سندھ سے مغرب میں مکران تک، جنوب میں بحرعرب اور گجرات تک، مشرق میں مالوہ کے وسط اور راجپوتانہ تک، شمال میں ملتان سے اوپر گزرکر جنوبی پنجاب کے علاقہ تک پھیلا ہوا تھا۔ (فتوح الہند)محمد بن قاسم رحمہ اللہ نے اپنی حکمت و تدبیر سے پورے سندھ کو زیر نگیں کرلیا،اور بدھ مت کے پجاریوں اور مسلمان قیدیوں کو ظالم راجا داہر سے نجات دلائی جس سے بدھ مت کے حامی کھلم کھلا مسلمانوں کی حمایت کرنے لگے محمد بن قاسم نے دبیل میں مسجد تعمیر کروائی،برہمن آباد میں مندروں کی مرمت کروائی، اپنے دور حکومت میں مندروں کے لیے جاگیریں عطا کی، یہاں کے باشندوں کو نیا مذہب، نئی تہذیب اور سوچ کے نئے انداز بھی عطا کئے، انسانی حقوق بھی حاصل تھے اور مذہبی آزادی بھی دی سب سے بڑھ کر یہ کہ انسانی جان و مال اور عزت و آبرو کو تحفظ فراہم کیا۔

*محمد بن قاسم رواداری کی ایک مثال*
محمد بن قاسم کی رواداری اور انصاف تھا کہ مؤرخین نے تعصب کے باوجود ان کی مخالفت زیادہ نہ کی، کئی شہروں نے خود بخودان کی اطاعت قبول کرلی، بلکہ فتوح البلدان کے مصنف تو لکھا ہے کہ جب محمد بن قاسم قید ہو کر عراق بھیجے گئے، تو ہندوستان کے لوگ روتے تھے اور علاقہٴ کَچ گجرات کے لوگوں نے ان کا مجسمہ بنایا۔کچھ اس طرح ہی تاریخ سندھ کے مصنف اعجاز الحق قدوسی تحریر کرتے ہیں: محمد بن قاسم جب سندھ سے رخصت ہونے لگے تو سارے سندھ میں ان کے جانے پر اظہار افسوس کیا گیا، ان کی وفات پر شہر کیرج کے ہندوؤں اور بدھوں نے اپنے شہر میں ان کا ایک مجسمہ بناکر اپنی عقیدت کا اظہار کیا،
جناب عبدالباری صاحب ایم اے لکھتے ہیں:
سندھ آکر محمد بن قاسم نے اپنی پالیسی کا اعلان اس طرح کیا: ”ہماری حکومت میں ہر شخص مذہب میں آزاد ہوگا، جو شخص چاہے اسلام قبول کرلے جو چاہے اپنے مذہب پر رہے، ہماری طرف سے کوئی تعرض نہ ہوگا۔“
محمد بن قاسم صرف ساڑھے تین سال ہندوستان میں ٹھہرے، بہت سے مندر بنوائے بہت سوں کی مرمت کرائی، مندروں کو جاگیریں دیں اور برہمنوں اور پجاریوں کے وظائف بحال رکھے، ان کے دور حکومت میں بڑے بڑے عہدے غیرمسلموں کے پاس تھے۔ (ہندوستان میں اسلام)
مؤرخ اسلام شاہ اکبر نجیب آبادی محمد بن قاسم کے تئیں کچھ اس طرح رقم فرماتے ہیں کہ :
تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد بن قاسم کی عدل پروری اور محاسن کا رعایا پر اتنا اثر پڑا کہ جب وہ سند سے رخصت ہوئے تو ان کی یاد میں ایک دھرشالہ تعمیر کیاگیا کچھ ہندوؤں اور بودھوں نے محمد بن قاسم کا اسٹیچو بناکر ان کی پرستش شروع کردی۔ (آئینہٴ حقیقت1/101 بحوالہ اسلام امن وآشتی کا علمبردار ص:73).

*محمد بن قاسم کی وفات ایک عظیم سانحہ*
ولید بن عبد الملک کی وفات کے بعد سلیمان بن عبدالملک خلافت بنو امیہ پر متمکن ہوا لیکن افسوس ہے کہ وہ محمد بن قاسم جیسی شخصیت کو سمجھنے میں غلطی کی جو نہایت سمجھدار، بہادر، مستقل مزاج، نیک طینت اور جوان صالح تھے، سندھ وہند کی فتوحات میں جہاں آپ نے رستم واسکندر سے بڑھ کرثابت کیا تودوسری طرف وہ نوشیرواں عادل سے بڑھ کرعادل ورعایا پرور ظاہر ہوئے، آپ نے سلیمان بن عبد الملک کے خلاف قطعاً کوئی حرکت کبھی نہیں کی تھی۔
حجاج بن یوسف کی وفات کے بعد بھی آپ اسی طرح فتوحات میں مصروف رہے ، جیسا کہ حجاج کی زندگی میں تھے، محمد بن قاسم نہایت اعلیٰ درجہ کی قابلیتِ سپہ سالاری کی وجہ سے شاید سلیمان بن عبدالملک کے لیے تمام براعظم ایشا کوچین وجاپان تک فتح کردیتے؛ لیکن سلیمان نے جذبہ عداوت سے مغلوب ہوکر یزید بن ابی کبشہ کوسندھ کا والی بناکر بھیجا اور حکم دیا کہ محمد بن قاسم کوگرفتار کرکے بھیج دو، جس کے نتیجے میں آپ کو قید کرکے عراق بھیج دیا گیا جہاں واسط کے قید خانے میں آپ نے اپنی جان جان آفریں کے حوالے کردی انا للہ وانا الیہ راجعون اللهم اغفر له و سکنہ فی الجنة
سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ محمد بن قاسم کی وفات کے بعد بھی سندھ میں اسلام کا اخلاقی اثر اس قدر قوی ہوچکا تھا کہ کہ اس بغاوت اور سرکشی کے زمانے میں بھی مسلموں اور نو مسلموں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، نہ نو مسلموں نے اسلام ترک کیا اور نہ ہی مرتد ہونے کا ارادہ کیا
(آئینہ حقیقت نما ص:١٣٨ مصنف شاہ اکبر نجیب آبادی)
*مقصد تحریر*
غازی محمد بن قاسم اور مسلم فاتحین کی اس خطے میں آمد سے ظلم و بدامنی، جبر و استحصال، غلامی اور نا انصافی کے تاریک دور کا خاتمہ ہوا، کفر و شرک اور اصنام پرستی کا سورج غروب ہوا۔ صنم کدے نعرۂ توحید سے گونج اٹھے۔ صدیوں سے رائج باطل اور ظالمانہ نظام سے لوگوں کو رہائی ملی۔ یہ خطہ توحید کے نور سے منور اور اسلام کی تہذیبی، ثقافتی اور معاشرتی اقدار سے روشن اور معمور ہوا۔ درحقیقت اس تحریر سے یہ مقصود قوم مسلم کے عزائم کی تجدید ہے اور اس بات کا اظہار ہے کہ ہم ظلم و جبر اور باطل کے خلاف آوازِ حق بلند کرتے ہوئے اس کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔ حق کی بقا، ظلم کے خاتمے اور دین کی سربلندی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، اس لیے کہ حق کا مقدر باقی رہنا ہے اور باطل کا کام مٹ جانا ہے، کیوں کہ باطل تو ہے ہی مٹ جانے کے لیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: