مضامین

فتنہ خلق قرآن اور امام احمد بن حنبل

مجیب الرحمٰن جامتاڑا، جھارکھنڈ

اس دنیا میں بہت سے صاحب عزیمت و معرفت داعی الی اللہ حاملین قرآن محافظ حدیث اور وقار شریعت پیدا ہوئے اور اپنی شخصیت کا لوہا منوایا دین کے تئیں خودداری کا یہ عالم تھا کہ کبھی دنیاوی جاہ و منصب کی خواہش کی تو دور کی بات اس بارے میں سوچا تک نہیں وقت کے بادشاہوں کی بڑی سے بڑی پیشکش کو قبول کرنے سے بلا جھجک انکار کردیا، باطل کیلئے کوئی نرم گؤشہ نہیں چھوڑا جب جب بھی باطل نے اسلام کے خلاف کوئی قدم اٹھایا اور دین ؤ شریعت کو کمزور کرنے کی کوشش کی تو ان جیالوں نے دینی حمیت و غیرت کے ساتھ ان کا قلع قمع کیا، ان میں سے ایک نام امام احمد بن حنبل کا ہے ، جنہوں نے فتنہ خلق قرآن کے سلسلے میں بڑی دلیری سے مخالفین کا سامنا کیا اس میں امام صاحب کو بڑی صعوبتوں کا سامنا بھی کرنا پڑا،

امام صاحب کا تعارف،

امام بغداد مشہور و معروف عالم دین فقیہ اور محدث آپ اسلام کے نہایت اولو العزم شخصیتوں میں سے تھے اور اسلام کے تاریخی ارتقاء اور جدید احیاء پر آپ کا گہرا اثر پڑا ہے، آپ اہل سنت کے چار مذاھب میں سے مذہب حنبلی کے بانی تھے، اور اپنے شاگرد ابن تیمیہ کے ذریعہ وہابیت کے مورث اعلیٰ اور کسی حد تک سلفیہ کی قدامت پسندانہ اصلاحی تحریک کے بانی تھے، ! انسائیکلوپیڈیا!

‌۔ ولادت باسعادت اور اسم گرامی،

آپ کی ولادت سرزمین بغداد میں ربیع الاول۔ 164 ھجری۔ میں ہوئی، آپ کا اسم گرامی ابو عبداللہ محمد بن احمد بن حنبل ہے، آپ کا حسب و نسب ابراہیم علیہ السلام سے جاکر ملتا ہے، آپ کے والد فوج کے ایک سپاہی تھے اور عباسی دعوت کے ایک رکن عظیم بھی تھے، آپ کے والد کا انتقال جوانی ہی کے عالم میں ہو گیا تھا، امام صاحب نے ابتدائی تعلیم بغداد میں حاصل کی اور سولہ برس کی عمر میں حدیث کی سماعت شروع کی، اور امام ابو یوسف کے حلقہ درس میں زانوئے تلمذ طے کیا، ! بحوالہ! ۔ محدثین عظام اور ان کے کارنامے، ۔

امام صاحب کا زہد و تقویٰ،

امام صاحب اپنے زہد و تقویٰ میں کمال کو پہنچے ہوئے تھے آپ نے کبھی سرکاری عہدوں کو قبول نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کسی بادشاہ یا امیر کا ہدیہ و تحائف باتھ لگنے دیا، تین دن تک فاقہ گوارا کیا تین دن کے بعد جب آپ کے سامنے روٹی پیش کی گئی تو صرف آپ نے اس لئے تناول نہیں فرمایا کیوںکہ وہ روٹی اسکے بیٹے صالح کی تنور میں پکائی گئی تھی اور صالح سرکاری عہدوں میں سے کسی عہدے پر فائز تھا، آپ کی زہد و ورع کا ایک نمونہ یہ بھی ہے کہ ایک مرتبہ امام شافعی رحمہ اللہ علیہ نے خلیفہ ہارون الرشید سے تذکرہ کیا کہ یمن میں ایک قاضی کی ضرورت ہے ہارون رشید نے جواباً کہا آپ سے بہتر اسکے لیۓ کون انتخاب کرسکتا ہے امام شافعی نے اس کا تذکرہ امام احمد سے کیا امام صاحب نے سختی سے انکار کردیا اور نہ جانے آپ کے زہد و تقویٰ کے کتنے واقعات ہیں جن کا احاطہ یہاں ممکن نہیں،

فتنہ خلق قرآن اور امام احمد بن حنبل کا موقف
،

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جو آدمی جتنی شدت سے دین پر قائم رہتا ہے اسی قدر وہ آزمایا بھی جاتا ہے، اور یہ فرمان رسالت بھی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل رض، نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ ۔ انسانوں میں سب سے زیادہ مصائب کس کیلئے ہے؟ آپ نے فرمایا۔ انبیاء کیلئے: اور پھر درجہ بدرجہ انسانوں کیلئے اور ہر انسان دین کے معاملے میں اسی حد تک مبتلا کیا جاتا ہے جس حد تک دین پر مضبوطی سے قائم ہے، اور یہ بات بھی ہے کہ دنیا ہمیشہ مصائب اور فتنے دکھایا کرتی ہے، ان شواہد کے ساتھ امام احمد جیسا شخص کیوں کر مصائب کیلئے تیار نہ ہوتا اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام بندوں کی آزمائش کی احمد کی آزمائش بھی ضروری تھی اور کیوں نہ ہو امام صاحب کو اللہ تعالیٰ نے جو رتبہ عطا کیا تھا یا کرنے والا تھا اس کا لازمی نتیجہ تھا کہ آزمائش کے سارے مراحل اس کیلئے طے کرے کیونکہ قرآن پکار کر کہہ رہا تھا۔۔
،کیا لوگوں نے یہ گمان کر لیا کہ وہ بغیر آزمائش کے چھوڑ دئیے جائیں جبکہ اس سے پہلے ہم نے لوگوں کی آزمائش کی پس اللہ کو معلوم ہو گیا کون جھوٹا ہے اور کون سچا ، العنکبوت ، پارہ ۔ بیس ،

فتنہ خلق قرآن کا پس منظر،

مامون معتصم اور واثق کے دور میں فقہاء اور محدثین کے مقابلہ میں متکلمین معتزلین اور منحرفین کو غلبہ اور سرکاری تعاون حاصل تھا مامون نے روم و ایران اور ہندوستان وغیرہ سے منطق و فلسفہ کی کتابیں جمع کیں اور ان کے ترجمے کراۓ ان کی اشاعت ہوئی جس کی وجہ سے طرح طرح کے شکوک وشبہات عوام میں پیدا ہونے لگے اور محدثین علماء اپنے اپنے انداز میں ان کا دفاع کرتے تھے، اسی درمیان خلق قرآن کا فتنہ اٹھا اور قاضی احمد بن ابو داؤد اور خلیفہ مامون نے اسکو مستقل تحریک کی صورت میں جاری کیا قاضی احمد بن ابو داؤد بڑا عالم و فاضل اور فصیح و بلیغ آدمی تھا، رئیس المعتزلہ واصل بن عطاء کے شاگرد ھیاج بن اسلمی کی صحبت میں رہ کر اعتزال کی تعلیم حاصل کی اپنی قابلیت کی وجہ سے مامون کے دماغ پر چھا گیا اور اسکو قرآن کے مخلوق ہونے کے عقیدہ کی ترویج و اشاعت پر آمادہ کیا جس کی جڑ یہود و نصارٰی تک پہنچتی ہے اس نے خلق قرآن کا عقیدہ بشر مریسی سے اسنے جہم بن صفوان سے اس نے جعد بن درہم سے اسنے ایان بن سمعان سے اس نے لبید بن اعصم کے بھانجے اور داماد طالوت سے سیکھا تھا یہ لبید بن اعصم وہی یہودی ہے جسنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا تھا اور تورات کے مخلوق ہونے کا عقیدہ رکھتا تھا طالوت زندیق اور بددین شخص تھا اسی نے سب سے پہلے اس موضوع پر کتاب لکھی ، بحوالہ ابن اثیر، ج ٧ ، ص ٢٢٦

دنیا انقلاب کا گہوارہ ہے انسانی خیالات آج کچھ ہے تو کل کچھ یہی حال مذہبی احساسات و معتقدات کا ہے کہ وہ تو اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے اور درست ہے لیکن کچھ کج فہم لوگ اور نادان افراد نے انہیں ہر دور میں بری طرح خراب کیا ہے خلفاء عباسیہ کے دور کا سب سے بڑا فتنہ اعتزال ہے جو یونان کے علوم و فنون کا لازمی نتیجہ تھا ، مامون ہارون رشید کا چھوٹا بیٹا سریر آرائے سلطنت ہوتا ہے اور یونانی دفاتر و اسفار کی تلاش و نقل شروع ہوجاتی ہے عربی زبان میں آنے کے بعد اسے پڑھتا ہے اور فلسطینی خیالات اسے مذہب کی اصل روح سے ہٹا کر مذہب کی ایک بگڑی ہوئی صورت اعتزال کو قبول کرا دیتے ہیں اور وہ اسی طرح دیگر معتزلی علماء کی صحبت میں بیٹھ کر طرح طرح کے مناظرات کراتا ہے اور دین کے متفق علیہ مسئلہ کو رد کرتا ہے مامون کی زندگی کے آخری ایام میں معتزلی علماء کی ایک جماعت نے اسے خلق قرآن کے مسئلہ کی تلقین کی اور علماء امت کو اس کی طرف بلانے کی ترغیب دی مامون نے اس موقع پر علماء بغداد کےنام ایک خط لکھا اور اس میں اس امر کے شواہد خود قرآن سے پیش کئے کہ قرآن مخلوق و محدث ، مامون نے معتزلہ کے برانگیختہ کرنے پر جبرا اس مسلک کی طرف بلایا اور انکار کی صورت میں سختیاں شروع کی ، آمدنی معاش بند کرادی ، ضرب و قتال کی دھمکی دی، بہتوں نے اس کی بات مان لی اور خلق قرآن کے قائل ہو گئے ، لیکن جن ستودہ صفات کیلئے آزمائش مقدر تھی کامیاب نکلنے والے تھے ان سختیوں کے باوجود بھی ثابت قدم رہے ان میں خصوصیت کے ساتھ امام احمد بن حنبل اور محمد بن نوح النیسا پوری ہے ، امام صاحب کو اپنی اس آزمائش کی اطلاع بعض رؤیاے صادقہ کے ذریعہ ہو چکی تھی اور آپ تو اس کیلئے تیار تھے ،
چنانچہ بیہقی نے ربیع سے روایت کیا ہے کہ امام شافعی نے مجھے ایک خط دیکر امام احمد کے پاس بھیجا میں ان کے پاس پہنچا تو وہ نماز فجر پڑھ کر واپس ہو رہے تھے میں نے خط ان کے حوالے کیا آپ نے خط پڑھا اور زاروقطار رونے لگے، میں نے سبب دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ امام شافعی نے اپنے اس خط میں خود اپنے ہی خواب کا ذکر کیا ہے،میں نے پوچھا وہ خواب کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ امام شافعی نے خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ فرما رہے ہیں کہ احمد کو میرا سلام کہو اور مطلع کرو کہ عنقریب خلق قرآن کے مسئلہ میں ان کی آزمائش ہوگی خبردار وہ خلق قرآن کا اقرار نہ کریں ،
امام احمد کے سامنے یہ سب حالات پیش ہو چکے تھے اور آپ اس کیلئے تیار ہی تھے کہ مامون نے معتزلی علماء کی ایک جماعت کے مشورے سے سارے بغداد کے علماء کو اس کی دعوت دی کمزور طبیعتوں نے حکومت و سطوت کے خوف سے گردن طاعت خم کردی لیکن امام احمد اور محمد بن نوح نے سختی سے انکار کیا، چنانچہ خلیفہ کا بلاوا آتا ہے اور یہ دونوں حضرات حاضر دربار ہوتے ہیں لیکن راستہ میں ایک عجیب وغریب واقعہ پیش آتا ہے وہ یہ کہ ایک اعرابی مرد جابر بن عامر سامنے آتا ہے اور کہتا ہے ۔ جناب آپ کی ذات مسلمانوں کیلئے بڑی مغتنم ہے اور آپ پر ایک بڑی آزمائش ہے خدا را مسلمانوں کیلئے باعثِ ملامت نہ بنیں اور ہر گز خلق قرآن کا اقرار نہ کیجیے، امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس دیہاتی کی بات میرے دل کو لگ گئی اور میں نے اس فاسد خلق قرآن پر پورا عزم کرلیا، الغرض ماموں کا دربار لگتا ہے یہ دونوں حضرات ان کے روبرو ہوتے ہیں تھوڑی دیر بعد
مامون کا ایک خادم روتا ہوا آتا ہے اور کہتا ہے ابو عبداللہ معاملہ بڑا سخت ہے ماموں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت کا واسطہ دیکر کہتا ہے کہ اگر احمد نے خلق قرآن کا اقرار نہ کیا تو اس کی گردن اڑادونگا ، اتنا سننا تھا کہ امام صاحب کا ہاتھ آسمان کی جانب اٹھتا ہے اور یوں گویا ہوتے ہیں۔ خدا یا اس فاجر کو تیرے حلم نے بہت مغرور کردیا ہے اب وہ تیرے دوستوں پر بھی تلوار اٹھاتا ہے خدا یا اگر قرآن تیرا کلام غیر مخلوق ہے تو مجھ کو اس پر ثابت قدم رکھ ، میں اس کیلئے ساری مشقتوں کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہوں، یہ بات تمام ہوئی تھی کہ ماموں کی موت کی خبر رات کے حصے میں مشتیہر ہوئ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی لیکن معلوم ہوا کہ معتصم سریر آرائے خلافت ہوا اور محمد بن ابو داؤد اس کا وزیر و قوت بازو اور اب صورتحال اور اور بگڑ گئی ہے، پھر امام صاحب کو پابہ زنجیر کرکے بغداد لآٔے گئے راستہ میں محمد بن نوح کا انتقال ہوا آپ نے نماز جنازہ پڑھائی بغداد پہنچتے ہی آپ کو قید خانہ میں ڈال دیا گیا ، یہ رمضان کا مہینہ تھا ایک روایت کے مطابق آپ اٹھارہ مہینہ دوسری روایت کے مطابق تیس مہینہ قید خانہ میں رہے،
پھر معتصم کا بلاوا آتا ہے اور آپ کو دارالخلافہ پہنچایا جاتا ہے دارالخلافہ پہنچنے کے بعد آپ کو ایک تاریک کمرہ میں بند کر دیا جاتا ہے امام صاحب کو وضو کی ضرورت پڑتی ہے اندھیرے میں ٹٹولنا شروع کردیتے ہیں حسن اتفاق آپ کو ایک لوٹا پانی سے بھرا ہوا مل جاتا ہے آپ وضو کرتے ہیں اور تحری کرکے نماز شروع کردیتے ہیں، اس کے بعد معتصم کے دربار میں لے جایا جاتا ہے بعد سلام امام صاحب یوں گویا ہوتے ہیں،
اے امیر المؤمنین!
آپ کے ابن عم نے کس چیز کی دعوت دی تھی؟ جواب آیا۔ لا الہ الااللہ کی ، پھر امام صاحب نے ابن عباس کی روایت سے وفد عبد القیس والی پوری حدیث پڑھی اور فرمایا یہی چیز تھی جس کی تعلیم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وفد کو دی تھی ،پھر معتصم کہتا ہے!
( اے احمد) اگر ماسبق خلیفہ کی گرفت میں نہ آگئے ہوتے تو میں تم سے تعرض نہ کرتا ،۔ پھر آپ سے قرآن کے بارے میں پوچھا جاتا ہے! آپ جواب دیتے ہیں کہ قرآن علم اللہ ہے اور جسنے اللہ کے علم کو مخلوق کہا اس نے کفر کیا امام صاحب کی زبان سے لفظ۔کفر۔ نکلتا ہے اور تمام درباری مشتعل ہو جاتے ہیں اور معتصم سے کہنے لگتے ہیں کہ اس نے ہم سب کو کافر کہا” لیکن معتصم چنداں توجہ نہیں دیتا ہے اس بات پر کچھ بحث و مباحثہ ہوتا ہے لیکن یہ مناظرہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچا، الغرض مناظرہ دوسرے دن کیلئے ملتوی کر دیا جاتا ہے، دوسرے دن بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو تیسرے دن کیلئے ملتوی کر دیا جاتا ہے تیسرے روز خوب زور و شور سے مناظرہ ہوتا ہے معتزلی علماء قرآن کے حدوث کی مختلف دلیلیں پیش کرتا ہے امام صاحب ان کا بڑی پر حکمت اور ٹھوس دلائل کے ساتھ رد کرتے ہیں جب انہوں نے یہ صورت دیکھی کہ اب ہمارا کوئی چارہ چلنے والا نہیں تو اسحاق بن ابراہیم معتزلی اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ امیر المؤمنین ان کو سخت سزا ہونی چاہیے ایسا نہ ہو کہ یہ چھوڑدیا جاے اتنا سننا تھا کہ معتصم آگ بگولہ ہو جاتا ہے کہ امام صاحب کو سختی سے مخاطب کرکے کہتا ہے کہ اللہ تیرا برا کرے میں نے تجھ کو اپنی طرف لانے کی بڑی کوشش کی لیکن تو بڑا ضدی اور نہ سمجھا نکلا ، پھر حکم دیا کہ ان کے پیڑ میں بیڑیاں ڈال دی جائیں اور ان کے دونوں ہاتھ باندھ دیے جائیں چنانچہ آپ کے ساتھ یہی معاملہ کیا گیا کوڑے مارنے والے بلائے گئے امام صاحب نے اس موقع پر جو کچھ کہا وہ یہ تھا
امیر المؤمنین!
کیا اللہ کے رسول نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مؤمن کا خون تین چیزوں کے ارتکاب کئے بغیر حلال نہیں ہے امام صاحب وہ تین چیزیں بیان کرتے ہیں اور مزید یہ بھی فرماتے ہیں کہ کل قیامت کے دن کو یاد کیجئے جب اس بڑے منتقم کے پاس حاضر ہونا پڑیگا اور پل پل کا مواخذہ ہوگا تو آپ کیا جواب دیں گے،
معتصم کو یہ سب باتیں ان کے دل پر گھر کر جاتی ہیں لیکن اشرار جماعت آپ کو ابھارنے لگے الغرض آپ پر کوڑوں کی برسات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے پہلا کوڑا پڑتا ہے تو آپ فرماتے (۔ بسم اللہ) دوسرے پر آپ نے فرمایا۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ تیسرے پر آپ نے فرمایا۔ القرآن کلام اللہ۔۔ پھر متعدد بار آپ سے بات منوانے کی کوشش کرتے آپ سختی سے انکار کردیتے اور کیسے نہ انکار کرتے آپ سے امت کو امیدیں تھی اللہ آپ کے علم کو دنیا میں پھیلانا چاہ رہا تھا آخر کار کوڑا کھاتے کھاتے جب آپ کا جسم بے جان اور بے روح کی طرح ہوگیا تو معتصم نے آپ کو رہا کردیا ،۔ قربان جاؤں امام صاحب کی شخصیت پر دوسروں کی تنقیدیں سنیں مار کھائے قید خانہ میں رہے ان سب کو آپ نے پسند کیا لیکن خلق قرآن کا اقرار گوارہ نہ کیا،

امام صاحب کی وفات حسرت آیات،

امام احمد بن حنبل سے اللہ کو جو کام لینا تھا وہ لیا اور اللہ نے امام صاحب کیلئے جو جو مصیبتیں مقدر کی تھی امام صاحب نے اس کو بخوشی قبول کیا اب وہ وقت قریب تھا کہ اللہ آپ کو ان آزمائشوں کا بدلہ دے چنانچہ آپ اپنی زندگی کا آخری سانس لے رہے تھے اپنے بچوں کو اپنے پاس بلواتے ہیں ان کو کچھ وصیتیں کرتے ہوئے اپنی نظر سے ہمیشہ کیلیے اوجھل کردیتے ہیں پھر آپ وضو کرانے کا حکم دیتے ہیں آپ کو وضو کرایا جاتا ہے اثناء وضو زبان مبارک ذکر اللہ سے سرشار ہے اسی حال میں عالم اسلام کا یہ آفتاب بروز جمعہ 241ھ۔ میں ہمیشہ کیلیے غروب ہو جاتا ہے آپ نے 77 سال کی عمر پائی، خبر پھیلتے ہی سارا بغداد جنازہ کیلئے ٹوٹ پڑتا ہے آپ کے جنازے میں بچے بوڑھے جوان عورتیں سب شامل تھے اور دنیا کے اس مہکتے گلاب کو سپرد خاک کررہے تھے ، لوگوں کی تعداد کے متعلق اختلاف ہے بعض نے چار لاکھ بعض نے چھ لاکھ بعض نے سات لاکھ تک شمار کرایا ہے ، لیکن بہیقی ‌ نے حاکم سے نقل کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت اور اسلام دونون زمانوں میں کسی کے جنازے میں اتنا مجمع نہیں تھا جتنا کہ آپ کے جنازہ میں تھا، بحوالہ= سیرت ائمہ اربعہ=

عالم اسلام کا خراج تحسین و عقیدت،

امام بخاری فرماتے ہیں کہ امام احمد بن حنبل کے اس واقعہ فاجعہ کی خبر جب بصرہ پہنچی تو ابو الولید طیالسی کو کہتے ہوئے سنا۔ اگر احمد بن حنبل بنی اسرائیل میں پیدا ہوتے تو کچھ بعید نہیں کہ وہ نبی ہوتے ، مزنی نے یہ فرمایا۔ دنیا میں پانچ شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے پانچ مواقع پر بے نظیر ہمت ںفس و قربانی کا ثبوت دیا ہے، حضرت ابو بکر صدیق نے اہل ردہ کے مقابلہ میں، حضرت عمر نے بنی ثقیفہ کے موقع پر حضرت عثمان نے محصوری کے زمانہ میں، حضرت علی نے صفیں کے موقع پر اور احمد بن حنبل نے فتنہ خلق قرآن کے موقع پر،
ہلال بن عطاء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت پر چار آدمی کے ذریعہ بڑا احسان کیا ایک امام شافعی کہ جس نے حدیث رسول کو صحیح طور پر سمجھا پھر اس کے مجمل ۔ مفسر۔ خاص و عام۔ ناسخ و منسوخ کو بتایا، اور دوسرے ابو عبیدہ کہ جنہوں نے غریب حدیثوں سے آگاہی بخشی ، تیسرے یحییٰ بن معین کہ جھوٹی حدیثوں سے قوم کو آگاہ کیا، چوتھے امام احمد بن حنبل کہ شدید امتحان کے وقت ثابت قدم رہے،
سچ ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر رہیگا نہ اسکو کوئی ذلیل کرسکتا ہے اور نہ کوئی نقصان پہنچا سکتا جہاں تک میرا خیال ہے کہ امام احمد بن حنبل اسی جماعت میں سے ہیں ، بحوالہ۔ طبقات الشافعی،
مناقب احمد بن حنبل،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close