مضامین

فدائے ملت ؒ کا گڈا علاقہ میں طوفانی دورہ قسط نمبر 05

ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنوی سابق صدر جمعیت علمائے سنتھال پرگنہ

مرکزی جمعیت علمائے ہند نے ضلع گیا بہار میں بتاریخ 15/تا 17/ اپریل1966ء کوبائیسواں اجلاس عام کرنے کا فیصلہ کیا، اس حوالے سے فراہمی مالیات کے لیے فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی نور اللہ مرقدہ کا 13/ دنوں کاطوفانی دورہ ہوا۔ آپ ؒ 1966ء کے رمضان میں ضلع بھاگلپور میں مقیم تھے۔ چنانچہ عید کا چاند نظر آتے ہی بعد نماز مغرب مہرنا سے پورائیں کے لیے نکلے اور یہیں قیام شب کیا۔ یکم شوال 1385ھ مطابق 24/ جنوری 1966ء کو بعد نماز فجر متصلا پورائیں سے چلمل ہوتے ہوئے بھاگلپور تشریف لائے۔ یہاں عید کی نماز پڑھی اور تقریبا دو بجے دن سنہولی آئے اور شب یہیں قیام کیا۔ 2/ شوال 1385ھ مطابق 25/ جنوری1966ء سنہولی سے علیٰ الصباح رانی ڈیہہ آئے اور ظہر کی نماز ادا کی۔ بعد ازاں جمنی کولہ پہنچے اور رات یہیں ٹھہرے۔ 3/ شوال 1385ھ مطابق 26 جنوری1966ء بروز بدھ بعد ظہر جمنی کولہ سے جہاز قطعہ تشریف لائے اور رات قیام فرمایا۔4/ شوال 1385ھ مطابق 27/ جنوری 1966ء جمعرات کو ناشتہ کے بعد جہاز قطعہ سے خورد سانکھی تشریف لے گئے۔ اسی تاریخ میں بعد نماز ظہر بسنت رائے ہاٹ میں ایک جلسہ رکھا گیا تھا، جس میں حضرت نے شرکت کی اور پھر دگھی کے لیے روانہ ہوگئے۔ رات دگھی میں گذاری۔5/ شوال 1385ھ مطابق28/ جنوری 1966ء جمعہ کو بعد نماز فجر سین پور پہنچے اور ناشتہ کے بعد گڈا دفتر سے ہوتے ہوئے مال پکڑیا اور پھر کھٹنئی آکر نماز جمعہ ادا کی۔پھر بعد نماز عصر کاٹھی کنڈ آئے، یہاں سے تالجھاری آکر مغرب ادا کی اور لکھن پور میں رات قیام فرمایا۔6/ شوال1385ھ مطابق 29/ جنوری 1966ء ناشتہ کے بعد دمکا پہنچے اور پھر واپس کوروڈیہہ آکر قیام شب کیا۔7/ شوال 1385ھ مطابق 30/ جنوری 1966ء کو دوپہر چلنا تشریف لائے اور رات یہیں گذاری۔ 8 / شوال 1385ھ مطابق31/ جنوری1966ء چلنا میں ہی ناشتہ کیا اور سمریا کے لیے روانہ ہوئے۔ شام ہوچکی تھی اس لیے رات یہیں قیام فرمایا۔9/ شوال 1385ھ مطابق یکم/ فروری 1966ء کو سمریا بھاگلپور سے ضلع گیا تشریف لے گئے۔ 10/ شوال1385ھ مطابق 2/ فروری 1966ء کو گیا سے واپس دمکا میں واقع ایکڈارا آئے اوررات یہیں گذاری۔11/ شوال 1385ھ مطابق3/ فروری1966ء کو صاحب گنج کے لیے روانہ ہوئے۔ پھر بعد ظہر پاکوڑ پہنچ کر رات قیام کیا۔ 12/ شوال1385 ھ مطابق4/ فروری 1966ء کو جامتاڑا پہنچے اور نماز جمعہ ادا کی۔ پھر یہاں سے ٹیس جوڑیا آئے اوررات گذاری۔13/ شوال 1385ھ مطابق5/ فروری1966ء کو یہاں سے نکلے اور جامتاڑا ہوتے ہوئے برن پور پہنچے۔ ان تمام مقامات پر چھوٹے بڑے اجلاس ہوتے رہے، جس میں حضرت نے شرکت کی، پرسوز خطاب کیا اور گیا اجلاس میں شرکت کی دعوت دی اور مالی تعاون کے لیے بھی ابھارا، چنانچہ اس کا اہل علاقہ پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوئے اور پوری جمعیت علمائے ضلع سنتھال پرگنہ کی طرف سے (3,923.30)تین ہزار نو سو تئیس روپیے تیس پیسے کی امداد فراہم کی گئی۔ اور پورے سنتھال پرگنہ سے بڑی تعداد میں لوگ اجلاس میں شریک ہوئے۔
چندہ کی تفصیلات
رسید نمبر
نام و پتہ معطیان
رقم
56
محمد مستقیم جامتاڑا
10
57
مسلمانان جام تاڑا
10
58
مسلمانان ٹیس چوڑیا جامتاڑا
20
59
محمد سالک جامتاڑا
5
1365
ناصر میاں جامتاڑا
5
1911
مسلمانان رانی ڈیہہ معرفت مولاناجمال الدین گڈا
100
12
مسلمانان جہاز قطعہ معرفت مولانا عبدالقدوس جہاز قطعہ
505
13
مولانا مظہر الحق قاسمی جہاز قطعہ
10
14
مسلمانان بسنت رائے ہاٹ معرفت مولانا احمد حسین
34۔612
15
مسلمانان دگھی
400
16
مسلمانان سین پور
100
17
مسلمانان گڈا معرفت جمعیۃ دفتر
35
18
مسلمانان مال پکڑیا گڈا
100
1919
مسلمانان کھٹنئی
250
20
حافظ منیر الدین کھٹنئی
30
21
مسلمانان کاٹھی کنڈ لکھن پور دمکا
200
1892
مسلمانان صاحب گنج
250
92
مسلمانان صاحب گنج معرفت اکبر علی
45
94
جمعیۃ علماء پاکوڑ
525
95
ٹیس جوڑیا پوسٹ کنڈھت
501
96
مخلصین جمنی کولہ معرفت ماسٹر محمد اصغر علی گڈا
35
413
عباس انصاری نوا ڈیہہ
18
415
مسلمانان بھیڑا جامتاڑا معرفت شفیع الہدی
20
1151
عبدالغفور جہاز قطعہ
4
52
کوثر علی، کرامت علی وغیرہ جہاز قطعہ
5
53
مولوی حبیب الرحمان جہاز قطعہ
10
54
کوثر علی جہاز قطعہ
14
55
مولانا مظہر الحق وغیرہ
40
1366
ماسٹر محمد شمس الضحیٰ کھٹنئی
46۔63
میزان
3,932.30
نوٹ: یہ وہ تفصیلات ہیں، جن کی رسیدیں ہمیں مل سکیں۔ اس کے علاوہ مسلمانان دیوگھر کے کارکنان نے بھی امدادی رقم بھیجی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: