مضامین

فرقہ پرستی اور دھرم، بھرم کی سیاست

عبدالحمید نعمانی

اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ایک خوبصورت ملک ہے، اس کے باشندوں کی اکثریت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر یقین رکھتی ہے، لیکن بسا اوقات خارجی یلغار اور دباؤ سے، دھرم ،فرقہ کے بھرم کی سیاست کا شکار بھی ہو جاتی ہے، اس کے پیش نظر یہ ضرورت ہوتی ہے کہ ان کو مختلف طریقوں سے فرقہ پرستی اور دھرم ،بھرم کی سیاست کا شکار ہونے سے بچایا جاتا رہے، بھارت اور اس کے باشندوں کی نفسیات کو تھوڑی گہرائی میں جا کر سمجھنے کی ضرورت ہے، عام حالات میں ان پر خوبیاں حاوی رہتی ہیں، اس پر بحال و برقرار رکھے رہنے سے انسانیت اور باہمی فرقہ وارانہ بہتر تعلقات والی خوبیاں قائم رہتی ہیں، یہ حالت کسی بھی تکثیری معاشرے کی بنیاد کا کام کرتی ہے، لیکن اگر دھرم، علاقائیت، جذباتی باتیں کر کے باہمی نفرت اور ردعمل، دوسرے پر تفوق، ردعمل ایک دوسرے کا ڈر پیدا کر دیا جائے تو لوگوں کی ایک بڑی فیصلہ کن تعداد، جاری بہتر باہمی تعلقات کو ترک کر کے وقتی سیاسی کھلاڑیوں کے ہتھے بھی چڑھ جاتی ہے، فرقہ پرستی، نفرت اور اپنے وجود کے ختم ہو جانے کے ڈر کے تحت کئی ساری چیزوں کو نظرانداز کر کے ملک میں قائم و جاری بہتر تعلقات و روایات کے مخالف سمت میں چل پڑتی ہے اور اپنے محافظ کی تلاش میں غلط عناصر کے زیر اثر آجاتی ہے، اس نفسیات کا آج کی تاریخ میں مودی، یوگی، ساہ، نڈا جیسے سیاسی لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں، خاص طور سے انتخابات کے مواقع پر، ایسی حالت میں ضرورت ہوتی ہے کہ بنیادی سوالات و جوابات پیش کر کے حقائق کو سامنے لایا جائے تاکہ فرقہ پرستی اور دھرم کے نام پر بھرم پھیلانے کی راہ مسدود ہو جائے اور عوام منفی پروپیگنڈا کا شکار ہونے سے بچ جائیں،
آر ایس ایس اور بی جے پی کے پاس رام، رام مندر، سناتن دھرم، مذہبی بنیاد پر مسلمانوں کا ریزرویشن، مچھلی، مٹن، مغل، منگل سوتر، راشٹر واد، ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور عام ہندوؤں سے دولت کا ایک حصہ لے کر مسلمانوں کو دے دینا، رام مندر پر تالا ڈال دینا وغیرہ پر بحث کے لیے کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے، اس کے باوجود مودی، یوگی ،ساہ وغیرہ سرکار کی دس سالہ حصولیابیوں اور فلاحی و ترقیاتی کاموں کو عوام کے سامنے پیش کرنے کے بجائے منفی اور نفرت و تقسیم کی سیاست کرنے میں لگے ہوئے ہیں،لیکن یہ حقیقت ہے کہ ملک و قوم اور پبلک سروکار والے ایشوز کے ساتھ ساتھ بی جے پی کی طرف سے پیش کردہ مسائل پر بحث و گفتگو کر کے اس کو بآسانی بے نقاب کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ کام تسلسل و توجہ سے کرنے کا ہے، گزشتہ کچھ دنوں میں ایک الگ طرح کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے، مبینہ سیکولر پارٹیوں کے لیڈروں کو ،سنگھ کی حکمت عملی کے تحت بی جے پی کے لیڈروں، مودی، یوگی، ساہ، وغیرہ ،سناتن دھرم اور رام کے نام پر، خاص طرح کے بیانیے کے ذریعے اپنے ایسے میدان جنگ میں کھینچ کر لے آئے ہیں جہاں خواہی نخواہی ان کو آر ایس ایس کے ہندوتو کے آلات جنگ سے کام لینا پڑتا ہے، سیکولر پارٹیوں کے نمائندہ لیڈروں تک کو بھی بار بار یہ باور کرانے کی ضرورت پڑتی ہے کہ ہم بھی کوئی کم بڑے ہندو اور ہندوتو کے علمبردار نہیں ہیں، انتخابات کے دوران میں مختلف مندروں، مٹھوں میں حاضری لگانے اور پوجا پاٹ کرنے کی تشہیر، کئی طرح کے سوالات کو سامنے لاتی ہے، پوجا پاٹ، مندروں میں حاضری اور اس کی تشہیر ،ظاہر ہے کہ دونوں میں فرق ہے، دونوں کو سنگھ اور بی جے پی ایک مخصوص رنگ میں پیش کر کے اسے اپنی تہذیبی و نظریاتی کامیابیوں سے جوڑ کر پیش کرتے ہیں، اس کا توڑ نکالنا، مبینہ سیکولر پارٹیوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے اور آئندہ بھی مسئلہ بنا رہے گا، اس کا بہتر توڑ گاندھی جی کے فکر و عمل میں ملتا ہے، پنڈت نہرو نے بھی ایک خاص طریقے کے سیکولر اور سماج واد کے ذریعے ایسا حل پیش کیا کہ ہندوتو وادیوں کو اپنا کھیلا کرنے کے لیے کوئی زیادہ جگہ نہیں مل سکی ، سیکولر پارٹیوں خصوصا کانگریس والوں کو کم از کم گاندھی جی کے حوالے سے پورا سچ بولنا چاہیے اور ان کی متعلقہ باتوں کو ان کے صحیح منظر، پس منظر کے ساتھ پیش کرنا چاہیے، اس سے وہ رام کے نام پر بھرم پھیلانے کی زد سے بآسانی نکل سکتے ہیں، اگر راجیو گاندھی، گاندھی جی کو صحیح طور سے سمجھ لیتے تو وہ رام راجیہ کی بات ملک میں کہیں بھی کر سکتے تھے، اجودھیا، فیض آباد میں اس کا اعلان کرنے کی ضرورت نہ ہوتی، اجودھیا، فیض آباد میں رام راجیہ کے اعلان سے ہندوتو وادیوں کے کاز کو تقویت ملی اور ان کو رام کے نام پر بھرم پھیلانے کا سنہری موقع مل گیا،
جنھوں نے گاندھی جی کو مکمل طور سے پڑھا ہے وہ اچھی طرح جانتے ،سمجھتے ہیں کہ گاندھی جی کے نزدیک اجودھیا کے راجا دشرتھ اور کوشلیہ کے بیٹے رام چندر، ایشور، معبود نہیں ہیں، وہ رام اور رام چندر میں فرق کرتے ہیں، ان کے نزدیک نہ تو رام کرشن تاریخی شخصیت ہیں اور نہ رامائن، مہا بھارت تاریخی دستاویز ہیں، اس لیے وہ مثالی نظام حکومت کے ذیل میں حضرات ابو بکر و عمر کا حوالہ دیتے ہیں، گاندھی جی خالق و مخلوق کے متعلق اپنے موقف کو واضح رکھنے کے لیے یہ بھی کہتے ہیں کہ رام، کرشن، غلطیوں سے پرے نہیں ہیں، رام راجیہ کا معنی، عدل و انصاف اور مساوات پر مبنی حکومت الہیہ ہے، (تفصیلات کے لیے دیکھیں، اخبار ہریجن، 27/جلائی 1937، 4/اکتوبر 1947، ینگ انڈیا، 19/مارچ 1925 ،گاندھی وانگمے (کلیات ) جلد 26،صفحہ 331،)
ایک اور موقع پر گاندھی جی نے لکھا ہے
"قادر مطلق محیط کل خدا صرف ایک ہے، میرے رام، میری دعاؤں اور عرض و معروض کے رام، وہ رام نہیں جو اجودھیا کے راجا دشرتھ کے بیٹے تھے، میرا رام دائم، نہ پیدا ہونے والا، بے مثال رام ہے میں صرف اسی کی پوجا کرتا ہوں”، (ہریجن، 20/اپریل 1947)
"رام راجیہ میری مراد، ہندو راج نہیں ہے، رام راجیہ سے میری مراد حکومت الہیہ( ایشوریہ ستا ) ہے، "(ینگ انڈیا،19/ستمبر 1929)
اس تناظر میں رام مندر تحریک، جسم والے رام چندر کو گاندھی جی کے لا جسم رام سے جوڑ کر دیکھنا ،دکھانا پوری طرح غلط ہے، آر ایس ایس کے بانی، ڈاکٹر ہیڈ گیوار نے بھی رام، کرشن کو بھگوان، معبود کے طور پر دیکھنے کو غلط قرار دیا ہے
(دیکھیں ڈاکٹر ہیڈ گیوار کی نایاب تقریر کا مجموعہ، راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ، تتو اور بیوہار )
اس پہلو کو ہم نے انٹر کونٹی ہوٹل میں سابق سربراہ، کے سی سدرشن کے سامنے رکھا تو انہوں نے اقرار کیا تھا کہ حقیقت یہی ہے، اس موقع پر آر ایس ایس کے ترجمان، رام مادھو، وشو ہندو پریشد کے وشنو ہری ڈالمیا، سدھانشو متل، این، کے، شرما، مولانا محمود مدنی، مولانا نیاز احمد فاروقی، وغیرہم بھی موجود تھے، آج کل، آچاریہ پرمود کرشنم کچھ بدلے بدلے سے نظر آ رہے ہیں، لیکن ایک موقع پر ٹوٹل ٹی وی کے ایک پروگرام میں ڈاکٹر ہیڈ گیوار کے حوالے سے رام چندر کے متعلق تصور کے حوالے سے ہماری تائید کی تھی، پروگرام میں وشو ہندو پریشد اور ہندو مہا سبھا کے ترجمان بھی موجود تھے لیکن ان کو ڈاکٹر ہیڈ گیوار کے آدرش اور بھگوان کے نظریے کے بارے میں معلوم نہیں تھا، رام چندر سے متعلق، گاندھی، کبیر اور ڈاکٹر ہیڈ گیوار کے نظریے کی بحوالہ تفصیلات ہماری کتاب، ہندوتو، اہداف و مسائل اور ڈاکٹر ہیڈ گیوار، حیات و تحریک میں موجود ہیں، بعد کے دنوں میں آر ایس ایس اور بی جے پی والے، اپنے سیاسی مقاصد کے تحت، رام چندر کو رام مندر تحریک کے نام پر بالکل الگ رنگ میں پیش کرنے لگے، آریا سماج والے رام چندر کو قریب قریب اصل شکل میں پیش کرتے رہے ہیں، لیکن وہ سنگھ، بی جے پی وغیرہ کے ریلے میں بہ سے گئے ہیں، رام چندر کو الگ اور غلط طریقے سے پیش کرنے کے نمونے، مودی، یوگی کے بیانات و خطابات میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں، ڈاکٹر ہیڈ گیوار کی وفات 1940 اور گاندھی جی کی شہادت جنوری 1948 میں ہوئی تھی، اس دور میں رام اور رام مندر کی تحریک سے متعلق بعد کے دنوں والی باتیں نہیں تھیں، سب کچھ بعد کے دنوں میں سیاسی مقاصد کے تحت کیا گیا اور آج بھی کیا جا رہا ہے، چاروں مٹھوں کے شنکر آچاریوں کے بر خلاف، رام مندر کی تعمیر مکمل ہونے سے پہلے اس کی پران پرتشٹھا کا مقصد، عام انتخابات میں فائدے کے لیے اس کا سیاسی استعمال تھا، اس کی تلافی کے لیے شنکر آچاریہ دوبارہ پران پرتشٹھا پروگرام کرنا چاہتے ہیں، ساتھ ہی انہوں نے ایک سیاسی پارٹی بنا کر اس کے امید وار کو بنارس کے انتخابی دنگل میں بھی اتار دیا ہے، بی جے پی اور مودی جی نے انتخابات میں رام مندر کا استعمال کرنے کا پورا جتن کر لیا تھا لیکن رام مندر پر بے روزگاری اور مہنگائی حاوی ہو گئی، اس نے مودی جی اور بی جے پی کے دیگر لیڈروں کے منصوبے پر پانی پھیر دیا ہے، اس سے وہ گھبراہٹ و بوکھلاہٹ میں مبتلا ہو گئے ہیں، اپنے مقصد و منشاء میں ناکامی کے بعد یہ جھوٹی اور من گھڑت کہانی سنائی جا رہی ہے کہ اگر انڈیا اتحاد بر سر اقتدار آ گیا تو رام مندر پر بلڈوزر چلوا دیا جائے گا، گانگریس، رام مندر پر تالا ڈال دے گی، یہ سراسر جھوٹ اور مندر، مسجد، ہندو مسلم کے درمیان نفرت و تفریق کی آسان راہ سے سیاسی منزل و مقصد تک رسائی کی مذموم سعی ہے، ایسی باتیں کر کے مودی جی نے اپنی معتبریت ختم اور عہدے کے وقار کو مجروح کیا ہے، ان کو معلوم ہے کہ نفرت اور ڈر کی سیاست آسان ہے، اس کے ذریعے، اندھ بھگتی، شخصیت پرستی، محرومی، خوف کی نفسیات، فرقہ پرستی وغیرہ بیماریوں میں مبتلا لوگوں کو بآسانی اپنے ساتھ لایا اور رکھا جا سکتا ہے، ایسے افراد ہی بی جے پی، مودی وغیرہ کی طاقت ہیں دھرم کے نام پر بھرم میں ڈالنے کی پوری پوری کوشش کی جا رہی ہے، اس کے اثرات سے بہت سے لوگ نکلتے نظر آ رہے ہیں لیکن ان کی فیصلہ کن تعداد کے متعلق فی الحال حتمی طور سے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے، عام انتخابات کے نتائج ہی صحیح طور سے معلوم ہو پائے گا کہ کتنے رائے دہندگان، فرقہ پرستی اور دھرم ،بھرم کی سیاست سے باہر نکل پائے ہیں اور کتنے اب بھی اس کے زیر اثر ہیں؟


Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/classes/class-tielabs-filters.php on line 340

Notice: Trying to access array offset on value of type bool in /home/uzvggxsy/public_html/wp-content/themes/jannah/framework/functions/media-functions.php on line 114
Back to top button
Close